ایک غزل

GULLFAM SOHAIB ASLAM نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 17, 2020

  1. GULLFAM SOHAIB ASLAM

    GULLFAM SOHAIB ASLAM محفلین

    مراسلے:
    37
    ہر حال میں مرتے ہیں
    ہم عشق سے ڈرتے ہیں

    دو روز سوا ان کے
    مشکل سے گزرتے ہیں

    اب چشم سے آنسو کئی
    ہر روز بکھرتے ہیں

    ہے واسطہ کسی سے گر
    کیوں اس سے مکرتے ہیں

    ہم لفظِ محبت کی
    آواز سے ڈرتے ہیں

    ہم اسم سے ان کے ہی
    ہر سانس کو بھرتے ہیں

    برہم ہو کے شکوہ بھی
    گلفام سے کرتے ہیں
     
  2. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    9,222
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    یہ غزل بہتر ہے اور بحر میں ہے۔ البتہ کچھ اشعار میں مسئلہ ہے
    اس مصرع کو یوں کرسکتے ہیں

    اب آنکھ سے آنسو بھی
    ہر روز بکھرتے ہیں

    پہلے مصرع کو یوں کرسکتے ہیں

    ہے واسطہ ان سے گر

    بہتر ہوتا کہ اسم کے بجائے "نام" استعمال کرلیتے
     
  3. GULLFAM SOHAIB ASLAM

    GULLFAM SOHAIB ASLAM محفلین

    مراسلے:
    37
    کافی اچھی رہنمائی فرمائی ہے محترم آپ نے بھیت بھیت شکریہ .اللہ آپ کو عزت و برکت عطا فرماے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. GULLFAM SOHAIB ASLAM

    GULLFAM SOHAIB ASLAM محفلین

    مراسلے:
    37
    غزل
    بحر:حزج مربع اخرب سالم

    ہر حال میں مرتے ہیں
    ہم عشق سے ڈرتے ہیں

    دو روز سوا ان کے
    مشکل سے گزرتے ہیں

    اب چشم سے آنسو بھی
    ہر روز بکھرتے ہیں

    ہے واسطہ کسی سے وہ
    کیوں اس سے مکرتے ہیں

    ہم لفظِ محبت کی
    آواز سے ڈرتے ہیں

    ہم نام سے ان کے ہی
    ہر سانس کو بھرتے ہیں

    برہم ہو کے شکوہ بھی
    گلفام سے کرتے ہیں
     
  5. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    9,222
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    اس شعر میں اب بھی سقم ہے۔
     

اس صفحے کی تشہیر