ایک غزل تنقید و راہ نمائی کے لیے،'' تُم یا تُو نہیں بولا، بات آپ ہی تک ہے ''

تُم یا تُو نہیں بولا، بات آپ ہی تک ہے
کیوں یقیں ہے پھر مجھ کو، ساتھ، عاشقی تک ہے
خوف کیا دلاتے ہو، رات کے اندھیروں سے
کیا بگاڑ لے گی جو، خود بھی روشنی تک ہے
ظلم خود پہ سہتے ہیں، پھر بھی کچھ نہ کہتے ہیں
ظالموں کا سارا یہ، جور ، عاجزی تک ہے
وقت ہے جو ہاتھوں میں، وہ نکل نہ جانے دو
زندگی یہ کیا جانو، اور کس گھڑی تک ہے
بات بن نہیں پائی، کچھ بھی کر کہ دیکھا ہے
بات سے چلی تھی جو، بات، بات ہی تک ہے
درد تو مٹانا ہے، فہم طاق پر رکھ دوں؟
ٹیس اُٹھ رہی ہے پر، یہ تو بے خودی تک ہے
مختصر رہے، اچھا، گفتگو بھی جاہل سے
کہ شعور انساں کا ، علمُ آگہی تک ہے
عاجزوں کی کیا اظہر، فہم بھی، فراست بھی
رب کی دین ہے تیرا، ہاتھ شاعری تک ہے
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
تُم یا تُو نہیں بولا، بات آپ ہی تک ہے
کیوں یقیں ہے پھر مجھ کو، ساتھ، عاشقی تک ہے
÷÷تم یا تو نہیں کہتا÷کہتے بہتر ہوگا۔۔
خوف کیا دلاتے ہو، رات کے اندھیروں سے
کیا بگاڑ لے گی جو، خود بھی روشنی تک ہے
÷÷کیا بگاڑ لے گی وہ، رات روشنی تک ہے۔۔۔
ظلم خود پہ سہتے ہیں، پھر بھی کچھ نہ کہتے ہیں
ظالموں کا سارا یہ، جور ، عاجزی تک ہے
÷÷پھر بھی کچھ نہیں کہتے ہوسکتا ہے ، قافیہ ملانا ضروری بھی نہیں۔۔۔
÷÷دوسرا مصرع رواں نہیں، ظالموں کا اب سارا جور عاجزی تک ہے ، لیکن مفہوم؟
وقت ہے جو ہاتھوں میں، وہ نکل نہ جانے دو
زندگی یہ کیا جانو، اور کس گھڑی تک ہے
÷÷÷وقت ہے جو ہاتھوں میں اس کو مت نکلنے دو
÷÷÷زندگی کا کیا کہیے، ہوسکتا ہے ، لیکن اور فٹ نہیں بیٹھتا۔۔
÷ جاری ہے۔۔۔
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
بات بن نہیں پائی، کچھ بھی کر کہ دیکھا ہے
بات سے چلی تھی جو، بات، بات ہی تک ہے
÷÷÷بات ہے بس اتنی سی، بات بن نہیں پائی،
لیکن یہاں بات کی تکرار کچھ اور بڑھانے کا سبب بن رہا ہوں، کچھ بھی کر کے دیکھا ہے، بہرحال درست نہیں۔۔۔
درد تو مٹانا ہے، فہم طاق پر رکھ دوں؟
ٹیس اُٹھ رہی ہے پر، یہ تو بے خودی تک ہے
÷÷درد کے مٹانے کوفہم طاق پر رکھ دوں ہوسکتا ہے، لیکن میں اچھا یا برا نہیں کہہ سکتا فی الحال۔۔۔
مختصر رہے، اچھا، گفتگو بھی جاہل سے
کہ شعور انساں کا ، علمُ آگہی تک ہے
۔۔گفتگو ہو جاہل سے مختصر تو اچھا ہے ۔۔۔ فہم و عقل انساں کا علم و آگہی تک ہے
عاجزوں کی کیا اظہر، فہم بھی، فراست بھی
رب کی دین ہے تیرا، ہاتھ شاعری تک ہے
÷÷÷ہم میں ہے بھلا اظہر، فہم کیا فراست کیا
÷÷÷ لیکن دوسرے مصرعے پرمتذبذب ہوں، کیا کہاجائے۔۔۔
 
بات بن نہیں پائی، کچھ بھی کر کہ دیکھا ہے
بات سے چلی تھی جو، بات، بات ہی تک ہے
÷÷÷بات ہے بس اتنی سی، بات بن نہیں پائی،
لیکن یہاں بات کی تکرار کچھ اور بڑھانے کا سبب بن رہا ہوں، کچھ بھی کر کے دیکھا ہے، بہرحال درست نہیں۔۔۔
درد تو مٹانا ہے، فہم طاق پر رکھ دوں؟
ٹیس اُٹھ رہی ہے پر، یہ تو بے خودی تک ہے
÷÷درد کے مٹانے کوفہم طاق پر رکھ دوں ہوسکتا ہے، لیکن میں اچھا یا برا نہیں کہہ سکتا فی الحال۔۔۔
مختصر رہے، اچھا، گفتگو بھی جاہل سے
کہ شعور انساں کا ، علمُ آگہی تک ہے
۔۔گفتگو ہو جاہل سے مختصر تو اچھا ہے ۔۔۔ فہم و عقل انساں کا علم و آگہی تک ہے
عاجزوں کی کیا اظہر، فہم بھی، فراست بھی
رب کی دین ہے تیرا، ہاتھ شاعری تک ہے
÷÷÷ہم میں ہے بھلا اظہر، فہم کیا فراست کیا
÷÷÷ لیکن دوسرے مصرعے پرمتذبذب ہوں، کیا کہاجائے۔۔۔
بہت شکر گزار ہوں جناب اس قدر تفصیل سے روشنی ڈالی آپ نے، کچھ تبدیلیاں کی ہیں ، دیکھیے تو

تُم یا تُو نہیں کہتے، بات آپ ہی تک ہے
پھر بھی اپنے ناتے میں، کچھ تو عاشقی تک ہے
خوف کیا دلاتے ہو، رات کے اندھیروں سے
کیا بگاڑ لے گی وہ، رات روشنی تک ہے
ظلم جو بھی سہتے ہیں، پھر بھی کچھ نہیں کہتے
ظالموں کا بس چلتا ، ان کی خامشی تک ہے
وقت ہے جو ہاتھوں میں، اُس کو مت نکلنے دو
ہاتھ آیا ہر لمہہ صرف رخصتی تک ہے
بات ہے بس اتنی سی، بات بن نہیں پائی
بات سے چلی تھی جو، بات، بات ہی تک ہے
درد کے مٹانے کو ، فہم طاق پر رکھ دوں؟
ٹیس سُنتے آئے ہیں ، صرف بے خودی تک ہے
گفتگو ہو جاہل سے مختصر تو اچھا ہے
فہمُ عقل انساں کا ، علمُ آگہی تک ہے
شعر کہ نہ پاؤں میں، پر کروں تو کیا اظہر
شاعری سے اب رشتہ، میری زندگی تک ہے
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
تُم یا تُو نہیں کہتے، بات آپ ہی تک ہے
پھر بھی اپنے ناتے میں، کچھ تو عاشقی تک ہے
÷÷درست
خوف کیا دلاتے ہو، رات کے اندھیروں سے
کیا بگاڑ لے گی وہ، رات روشنی تک ہے
÷÷رات کیا بگاڑے گی؟ وہ تو روشنی تک ہے ۔۔۔ شاید مزید بہتر ہو۔۔۔
ظلم جو بھی سہتے ہیں، پھر بھی کچھ نہیں کہتے
ظالموں کا بس چلتا ، ان کی خامشی تک ہے
÷÷÷ظلم جو بھی سہتے ہیں، اس پہ کچھ نہیں کہتے ہوسکتا ہے یا پھر ظلم ہم بھی سہتے ہیں، تم سے کچھ نہیں کہتے۔۔۔
÷÷دوسرا مصرع کمزور ہے۔۔۔
وقت ہے جو ہاتھوں میں، اُس کو مت نکلنے دو
ہاتھ آیا ہر لمہہ صرف رخصتی تک ہے
÷÷ نہیں جناب، پہلے جو مصرع ثانی اس شعر کا تھا، وہی اچھا ہے، صرف تھوڑی سی تبدیلی کی ہے، دیکھئے:
وقت ہے جو ہاتھوں میں، اس کو مت نکلنے دو
زندگی کا کیا کہیے، یہ بھی کس گھڑی تک ہے
÷÷÷اس میں اگر تبدیلی کی ضرورت ہے بھی تو میں سمجھتا ہوں کہ صرف ’’اس کو مت نکلنے دو‘‘ میں ہوسکتی ہے یعنی وہاں تم کا سا اندازَ تخاطب ہے، دوسرے مصرعے میں آپ جناب کا سا تکلم۔۔۔ لیکن یہاں جوں کا توں رہنے دیں تب بھی جائز ہے۔۔۔

بات ہے بس اتنی سی، بات بن نہیں پائی
بات سے چلی تھی جو، بات، بات ہی تک ہے
÷÷ٹھیک۔تکرار لفظی کو عیب سمجھا جاتا ہے، لیکن عیوب شاعری کی درد سری اساتذہ تک۔
درد کے مٹانے کو ، فہم طاق پر رکھ دوں؟
ٹیس سُنتے آئے ہیں ، صرف بے خودی تک ہے
÷÷درست
گفتگو ہو جاہل سے مختصر تو اچھا ہے
فہمُ عقل انساں کا ، علمُ آگہی تک ہے
÷÷درست
شعر کہ نہ پاؤں میں، پر کروں تو کیا اظہر
شاعری سے اب رشتہ، میری زندگی تک ہے
÷÷ردیف کے ساتھ بات واضح نہیں لگ رہی، ہوسکتا ہے درست ہو، لیکن جو میرا خیال ہے وہ یہ ہے کہ شاعر کہنا چاہتا ہے کہ میں شعر نہ کہوں تو اور کیا کروں؟ حالانکہ شعر کہنا مشکل معلوم ہوتا ہے ۔ پھر بھی شاعری سے اب میرا رشتہ زندگی بھر کا ہے۔ لیکن مقطعے میں یہ بات اسی طرح کہنا ممکن نہیں کہ ردیف ’’تک ہے‘‘ لانا ضروری ہے، اس لیے بات واضح نہیں۔
 
تُم یا تُو نہیں کہتے، بات آپ ہی تک ہے
پھر بھی اپنے ناتے میں، کچھ تو عاشقی تک ہے
÷÷درست
خوف کیا دلاتے ہو، رات کے اندھیروں سے
کیا بگاڑ لے گی وہ، رات روشنی تک ہے
÷÷رات کیا بگاڑے گی؟ وہ تو روشنی تک ہے ۔۔۔ شاید مزید بہتر ہو۔۔۔
ظلم جو بھی سہتے ہیں، پھر بھی کچھ نہیں کہتے
ظالموں کا بس چلتا ، ان کی خامشی تک ہے
÷÷÷ظلم جو بھی سہتے ہیں، اس پہ کچھ نہیں کہتے ہوسکتا ہے یا پھر ظلم ہم بھی سہتے ہیں، تم سے کچھ نہیں کہتے۔۔۔
÷÷دوسرا مصرع کمزور ہے۔۔۔
وقت ہے جو ہاتھوں میں، اُس کو مت نکلنے دو
ہاتھ آیا ہر لمہہ صرف رخصتی تک ہے
÷÷ نہیں جناب، پہلے جو مصرع ثانی اس شعر کا تھا، وہی اچھا ہے، صرف تھوڑی سی تبدیلی کی ہے، دیکھئے:
وقت ہے جو ہاتھوں میں، اس کو مت نکلنے دو
زندگی کا کیا کہیے، یہ بھی کس گھڑی تک ہے
÷÷÷اس میں اگر تبدیلی کی ضرورت ہے بھی تو میں سمجھتا ہوں کہ صرف ’’اس کو مت نکلنے دو‘‘ میں ہوسکتی ہے یعنی وہاں تم کا سا اندازَ تخاطب ہے، دوسرے مصرعے میں آپ جناب کا سا تکلم۔۔۔ لیکن یہاں جوں کا توں رہنے دیں تب بھی جائز ہے۔۔۔

بات ہے بس اتنی سی، بات بن نہیں پائی
بات سے چلی تھی جو، بات، بات ہی تک ہے
÷÷ٹھیک۔تکرار لفظی کو عیب سمجھا جاتا ہے، لیکن عیوب شاعری کی درد سری اساتذہ تک۔
درد کے مٹانے کو ، فہم طاق پر رکھ دوں؟
ٹیس سُنتے آئے ہیں ، صرف بے خودی تک ہے
÷÷درست
گفتگو ہو جاہل سے مختصر تو اچھا ہے
فہمُ عقل انساں کا ، علمُ آگہی تک ہے
÷÷درست
شعر کہ نہ پاؤں میں، پر کروں تو کیا اظہر
شاعری سے اب رشتہ، میری زندگی تک ہے
÷÷ردیف کے ساتھ بات واضح نہیں لگ رہی، ہوسکتا ہے درست ہو، لیکن جو میرا خیال ہے وہ یہ ہے کہ شاعر کہنا چاہتا ہے کہ میں شعر نہ کہوں تو اور کیا کروں؟ حالانکہ شعر کہنا مشکل معلوم ہوتا ہے ۔ پھر بھی شاعری سے اب میرا رشتہ زندگی بھر کا ہے۔ لیکن مقطعے میں یہ بات اسی طرح کہنا ممکن نہیں کہ ردیف ’’تک ہے‘‘ لانا ضروری ہے، اس لیے بات واضح نہیں۔
جی تبدیل کیے دیتا ہوں، ایسے دیکھیے تو

تُم یا تُو نہیں کہتے، بات آپ ہی تک ہے
پھر بھی اپنے ناتے میں، کچھ تو عاشقی تک ہے
خوف کیا دلاتے ہو، رات کے اندھیروں سے
رات کیا بگاڑے گی، وہ تو روشنی تک ہے
کیوں تُو ظلم سہتا ہے، اور چپ ہی رہتا ہے
ظالموں کا تجھ پر بس، تیری خامشی تک ہے
وقت ہے جو ہاتھوں میں، فائدہ اُٹھا لیجیے
زندگی کا کیا کہیے، یہ بھی کس گھڑی تک ہے
بات ہے بس اتنی سی، بات بن نہیں پائی
بات سے چلی تھی جو، بات، بات ہی تک ہے
درد کے مٹانے کو ، فہم طاق پر رکھ دوں؟
ٹیس سُنتے آئے ہیں ، صرف بے خودی تک ہے
گفتگو ہو جاہل سے مختصر تو اچھا ہے
فہمُ عقل انساں کا ، علمُ آگہی تک ہے
دل کا حال کیا ہو گا، جانتا نہیں اظہر
بس مجال اُس کی تو، وصف ظاہری تک ہے
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
کیوں تُو ظلم سہتا ہے، اور چپ ہی رہتا ہے
ظالموں کا تجھ پر بس، تیری خامشی تک ہے
÷÷ ظالموں کا بس تجھ پر تیری خامشی تک ہے ۔۔۔
وقت ہے جو ہاتھوں میں، فائدہ اُٹھا لیجیے
زندگی کا کیا کہیے، یہ بھی کس گھڑی تک ہے
÷÷درست ۔۔۔
دل کا حال کیا ہو گا، جانتا نہیں اظہر
بس مجال اُس کی تو، وصف ظاہری تک ہے
÷÷÷جو اڑان ہے اس کی، وصفِ ظاہری تک ہے ۔۔۔
 
تُم یا تُو نہیں کہتے، بات آپ ہی تک ہے
پھر بھی اپنے ناتے میں، کچھ تو عاشقی تک ہے
خوف کیا دلاتے ہو، رات کے اندھیروں سے
رات کیا بگاڑے گی، وہ تو روشنی تک ہے
کیوں تُو ظلم سہتا ہے، اور چپ ہی رہتا ہے
ظالموں کا بس تجھ پر ، تیری خامشی تک ہے
وقت ہے جو ہاتھوں میں، فائدہ اُٹھا لیجیے
زندگی کا کیا کہیے، یہ بھی کس گھڑی تک ہے
بات ہے بس اتنی سی، بات بن نہیں پائی
بات سے چلی تھی جو، بات، بات ہی تک ہے
درد کے مٹانے کو ، فہم طاق پر رکھ دوں
ٹیس سُنتے آئے ہیں ، صرف بے خودی تک ہے
گفتگو ہو جاہل سے مختصر تو اچھا ہے
فہمُ عقل انساں کا ، علمُ آگہی تک ہے
دل کا حال کیا ہو گا، جانتا نہیں اظہر
جو اُڑان ہے اُس کی ، وصف ظاہری تک ہے
 

الف عین

لائبریرین
شاہد کے زادہ تر مشوروں سے متفق ہوں، اس لئے غزک اب درست تو کگ رہی ہے، لیکن مجھے مفہوم کے لھاظ سے اب بھی کچھ باک ہے، خاص کر ان شعروں میں
تُم یا تُو نہیں کہتے، بات آپ ہی تک ہے
پھر بھی اپنے ناتے میں، کچھ تو عاشقی تک ہے
مفہوم واضح نہیں۔​
درد کے مٹانے کو ، فہم طاق پر رکھ دوں
ٹیس سُنتے آئے ہیں ، صرف بے خودی تک ہے
بے خودی کا فہم سے کیا تعلق؟ ویسے بھی بات الٹی ہو گئی ہے، یہی مراد تو ہے نا کہ درد کا احساس صرف اسی وقت تک ہے، جب تک کہ ہوش سلامت ہیں!! اس لحاظ سے تو فہم کی جگہ ہوش بہتر ہو گا۔ لیکن دوسرا مصرع الٹی ہی بات کہہ رہا ہے، ’صرف ہوش ہی تک ہے‘ ہو سکتا ہے، لیکن پہلے مصرع میں کچھ اور لانا ہو گا ہوش یا فہم کی جگہ۔​
ہاں، یہ شعر​
وقت ہے جو ہاتھوں میں، فائدہ اُٹھا لیجیے​
زندگی کا کیا کہیے، یہ بھی کس گھڑی تک ہے​
پچھلی صورت ہی بہتر تھی۔​
وقت ہے جو ہاتھوں میں، اس کو مت نکلنے دو
زندگی کا کیا کہیے، یہ بھی کس گھڑی تک ہے
دوسرا مصرع تبدیل کیا جا سکتا ہے،
زندگی کا پوچھو کیا، جانے کس گھڑی تک ہے
 
شاہد کے زادہ تر مشوروں سے متفق ہوں، اس لئے غزک اب درست تو کگ رہی ہے، لیکن مجھے مفہوم کے لھاظ سے اب بھی کچھ باک ہے، خاص کر ان شعروں میں
تُم یا تُو نہیں کہتے، بات آپ ہی تک ہے
پھر بھی اپنے ناتے میں، کچھ تو عاشقی تک ہے
مفہوم واضح نہیں۔​
درد کے مٹانے کو ، فہم طاق پر رکھ دوں
ٹیس سُنتے آئے ہیں ، صرف بے خودی تک ہے
بے خودی کا فہم سے کیا تعلق؟ ویسے بھی بات الٹی ہو گئی ہے، یہی مراد تو ہے نا کہ درد کا احساس صرف اسی وقت تک ہے، جب تک کہ ہوش سلامت ہیں!! اس لحاظ سے تو فہم کی جگہ ہوش بہتر ہو گا۔ لیکن دوسرا مصرع الٹی ہی بات کہہ رہا ہے، ’صرف ہوش ہی تک ہے‘ ہو سکتا ہے، لیکن پہلے مصرع میں کچھ اور لانا ہو گا ہوش یا فہم کی جگہ۔​
ہاں، یہ شعر​
وقت ہے جو ہاتھوں میں، فائدہ اُٹھا لیجیے​
زندگی کا کیا کہیے، یہ بھی کس گھڑی تک ہے​
پچھلی صورت ہی بہتر تھی۔​

وقت ہے جو ہاتھوں میں، اس کو مت نکلنے دو


زندگی کا کیا کہیے، یہ بھی کس گھڑی تک ہے


دوسرا مصرع تبدیل کیا جا سکتا ہے،


زندگی کا پوچھو کیا، جانے کس گھڑی تک ہے
یوں دیکھ لیجیے جناب

تُم یا تُو نہیں کہتے، بات آپ ہی تک ہے
کیا معاملہ سارا۔ صرف دل لگی تک ہے
خوف کیا دلاتے ہو، رات کے اندھیروں سے
رات کیا بگاڑے گی، وہ تو روشنی تک ہے
کیوں تُو ظلم سہتا ہے، اور چپ ہی رہتا ہے
ظالموں کا بس تجھ پر ، تیری خامشی تک ہے
وقت ہے جو ہاتھوں میں، اُس کو مت نکلنے دو
زندگی کا پوچھو کیا، جانےکس گھڑی تک ہے
بات ہے بس اتنی سی، بات بن نہیں پائی
بات سے چلی تھی جو، بات، بات ہی تک ہے
درد کے مٹانے کو ، ہوش طاق پر رکھ دوں
ٹیس سُنتے آئے ہیں ، صرف بے خودی تک ہے
گفتگو ہو جاہل سے مختصر تو اچھا ہے
فہمُ عقل انساں کا ، علمُ آگہی تک ہے
دل کا حال کیا ہو گا، جانتا نہیں اظہر
جو اُڑان ہے اُس کی ، وصف ظاہری تک ہے
 
شاہد کے زادہ تر مشوروں سے متفق ہوں، اس لئے غزک اب درست تو کگ رہی ہے، لیکن مجھے مفہوم کے لھاظ سے اب بھی کچھ باک ہے، خاص کر ان شعروں میں
تُم یا تُو نہیں کہتے، بات آپ ہی تک ہے
پھر بھی اپنے ناتے میں، کچھ تو عاشقی تک ہے
مفہوم واضح نہیں۔​
درد کے مٹانے کو ، فہم طاق پر رکھ دوں
ٹیس سُنتے آئے ہیں ، صرف بے خودی تک ہے
بے خودی کا فہم سے کیا تعلق؟ ویسے بھی بات الٹی ہو گئی ہے، یہی مراد تو ہے نا کہ درد کا احساس صرف اسی وقت تک ہے، جب تک کہ ہوش سلامت ہیں!! اس لحاظ سے تو فہم کی جگہ ہوش بہتر ہو گا۔ لیکن دوسرا مصرع الٹی ہی بات کہہ رہا ہے، ’صرف ہوش ہی تک ہے‘ ہو سکتا ہے، لیکن پہلے مصرع میں کچھ اور لانا ہو گا ہوش یا فہم کی جگہ۔​
ہاں، یہ شعر​
وقت ہے جو ہاتھوں میں، فائدہ اُٹھا لیجیے​
زندگی کا کیا کہیے، یہ بھی کس گھڑی تک ہے​
پچھلی صورت ہی بہتر تھی۔​

وقت ہے جو ہاتھوں میں، اس کو مت نکلنے دو


زندگی کا کیا کہیے، یہ بھی کس گھڑی تک ہے


دوسرا مصرع تبدیل کیا جا سکتا ہے،


زندگی کا پوچھو کیا، جانے کس گھڑی تک ہے
بلکہ اگر مطلع یوں کہیں تو کیسا رہے گا جناب

راستہ محبت کا، چل کہ آپ ہی تک ہے
اور جو ہے سب جاناں، صرف دل لگی تک ہے
خوف کیا دلاتے ہو، رات کے اندھیروں سے
رات کیا بگاڑے گی، وہ تو روشنی تک ہے
کیوں تُو ظلم سہتا ہے، اور چپ ہی رہتا ہے
ظالموں کا بس تجھ پر ، تیری خامشی تک ہے
وقت ہے جو ہاتھوں میں، اُس کو مت نکلنے دو
زندگی کا پوچھو کیا، جانےکس گھڑی تک ہے
بات ہے بس اتنی سی، بات بن نہیں پائی
بات سے چلی تھی جو، بات، بات ہی تک ہے
درد کے مٹانے کو ، ہوش طاق پر رکھ دوں
ٹیس سُنتے آئے ہیں ، صرف بے خودی تک ہے
گفتگو ہو جاہل سے مختصر تو اچھا ہے
فہمُ عقل انساں کا ، علمُ آگہی تک ہے
دل کا حال کیا ہو گا، جانتا نہیں اظہر
جو اُڑان ہے اُس کی ، وصف ظاہری تک ہے
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
راستہ محبت کا، چل کہ آپ ہی تک ہے
اور جو ہے سب جاناں، صرف دل لگی تک ہے
÷÷راستہ چل کے آپ ہی تک ہے بہرحال درست نہیں ہے کہ اس سے گمان گزرتا ہے کہ راستہ خود چل رہا ہے، آپ اس پر نہیں چلتے۔ تو یوں ہوسکتاہے: راستہ محبت کا صرف آپ ہی تک ہے ۔۔۔ اور جاناں سے مجھے خدا واسطے کا بیر ہے، چاہے یہ درست ہی کیوں نہ ہو، اس لیے مجھے تو اچھا نہیں لگ رہا، لیکن اس کی جگہ کیا ہونا چاہئے، یہ مشورہ بھی نہیں دوں گا، کہ بہرحال برا مجھے لگ رہا ہے، ضروری نہیں کہ واقعی برا ہو۔​
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
بلکہ اگر مطلع یوں کہیں تو کیسا رہے گا جناب

وقت ہے جو ہاتھوں میں، اُس کو مت نکلنے دو
زندگی کا پوچھو کیا، جانےکس گھڑی تک ہے
÷÷زندگی کا قصہ کیا، جانے کس گھڑی تک ہے ۔۔۔
بات ہے بس اتنی سی، بات بن نہیں پائی
بات سے چلی تھی جو، بات، بات ہی تک ہے
درد کے مٹانے کو ، ہوش طاق پر رکھ دوں
ٹیس سُنتے آئے ہیں ، صرف بے خودی تک ہے
÷÷اس شعر سے مطمئن نہیں ہوں، لیکن بہتر صورت بھی علم میں نہیں فی الحال۔۔۔
 
Top