ایک غزل تبصرہ، تنقید، اصلاح کے لیے،'' دیدہ و دل بھی فرش راہ کیے''

دیدہ و دل بھی فرش راہ کیے
دوست ایسے کہ پھر بھی آہ کیے
ڈھونڈ پائے نہ اپنی منزل وہ
اور کھوٹی مری بھی راہ کیے
خود تو اُجڑے مگر ستم اُس پر
گلُ گلزار بھی تباہ کیے
کیسے لاوں میں شاہد الفت؟
چاند تاروں کو ہم گواہ کیے
تیری رحمت کے سامنے کیا ہیں
عمر بھر جس قدر گناہ کیے
لوگ اظہر کے تھے تمنائی
اور وہ تھا تری ہی چاہ کیے
 
چند تبدیلیاں
دیدہ و دل بھی فرش راہ کیے
دوست ایسے کہ آہ، آہ کیے
ڈھونڈ پائے نہ اپنی منزل وہ
اور کھوٹی مری بھی راہ کیے
لُٹ رہا تھا جو باغباں اُس نے
گُلُ گُلزار بھی تباہ کیے
کیسے لاوں میں شاہد ِالفت؟
چاند تاروں کوہم گواہ کیے
تیری رحمت کے سامنے کیا ہیں
عمر بھر میں نے جوگناہ کیے
لوگ اظہر کے تھے تمنائی
اور وہ تھا تری ہی چاہ کیے
 

الف عین

لائبریرین
دیدہ و دل بھی فرش راہ کیے​
دوست ایسے کہ آہ، آہ کیے​
÷÷ مطلع واضح نہیں​
ڈھونڈ پائے نہ اپنی منزل وہ​
اور کھوٹی مری بھی راہ کیے​
÷÷درست​
لُٹ رہا تھا جو باغباں اُس نے​
گُلُ گُلزار بھی تباہ کیے​
÷÷گل و گلزار مراد ہےے کیا؟ یہ شعر بھی واضح نہیں۔​
کیسے لاوں میں شاہد ِالفت؟​
چاند تاروں کوہم گواہ کیے​
÷÷ہم گواہ کئے درست نہیں گرامر کی رو سے۔ اس سے یوں لگتا ہے کہ عرصہ ہوا چاند تاروں کو گواہ کئے، لیکن۔۔۔​
تیری رحمت کے سامنے کیا ہیں​
عمر بھر میں نے جوگناہ کیے​
÷÷درست​
لوگ اظہر کے تھے تمنائی​
اور وہ تھا تری ہی چاہ کیے​
درست، تری ہی کی جگہ ’تمہاری‘ کیا جا سکتا ہے​
 
دیدہ و دل بھی فرش راہ کیے​
دوست ایسے کہ آہ، آہ کیے​
÷÷ مطلع واضح نہیں​
یوں دیکیے تو جناب
دیدہ و دل بھی فرش راہ کیے
دوست ہر لطف پر بھی آہ کیے
ڈھونڈ پائے نہ اپنی منزل وہ​
اور کھوٹی مری بھی راہ کیے​
÷÷درست​
لُٹ رہا تھا جو باغباں اُس نے​
گُلُ گُلزار بھی تباہ کیے​
÷÷گل و گلزار مراد ہےے کیا؟ یہ شعر بھی واضح نہیں۔​
جی کچھ تبدیل کرتا ہوں
لوٹنے آئے باغباں کو مگر
گُل بھی گُلزار کے تباہ کیے
کیسے لاوں میں شاہد ِالفت؟​
چاند تاروں کوہم گواہ کیے​
÷÷ہم گواہ کئے درست نہیں گرامر کی رو سے۔ اس سے یوں لگتا ہے کہ عرصہ ہوا چاند تاروں کو گواہ کئے، لیکن۔۔۔​
جی اگر بس گواہ کیے کہیں تو؟
کیسے لاوں میں شاہد ِالفت؟
چاند تاروں کوبس گواہ کیے
تیری رحمت کے سامنے کیا ہیں​
عمر بھر میں نے جوگناہ کیے​
÷÷درست​
لوگ اظہر کے تھے تمنائی​
اور وہ تھا تری ہی چاہ کیے​
درست، تری ہی کی جگہ ’تمہاری‘ کیا جا سکتا ہے​
جی بہت بہتر رہے گا
لوگ اظہر کے تھے تمنائی
اور وہ تھا تُمہاری چاہ کیے

گویا اب صورتحال کچھ یوں ہے​
دیدہ و دل بھی فرش راہ کیے
دوست ہر لطف پر بھی آہ کیے
ڈھونڈ پائے نہ اپنی منزل وہ
اور کھوٹی مری بھی راہ کیے
لوٹنے آئے باغباں کو مگر
گُل بھی گُلزار کے تباہ کیے
کیسے لاوں میں شاہد ِالفت؟
چاند تاروں کوبس گواہ کیے
تیری رحمت کے سامنے کیا ہیں
عمر بھر میں نے جوگناہ کیے
لوگ اظہر کے تھے تمنائی
اور وہ تھا تُمہاری چاہ کیے
 
مطلع کا فاعل کون ہے؟ واضح نہیں۔
دونوں نئی ترامیم بھی مناسب نہیں۔
تینوں اشعار تبدیل کیے دیتا ہوں جناب

وہ جو لطفُ کرم پہ آہ کیے
تُم بھی بیٹھے تھے کن کی چاہ کیے
دوست اب زخم کیوں نہیں دیتے
اب تو مدت ہوئی ہے واہ کیے
سب کو پوچھا تھا، بزم میں تُم نے
اس طرف کیوں نہیں نگاہ کیے
کیسے لاوں میں شاہد ِالفت؟
چاند تاروں کوبس گواہ کیے
تیری رحمت کے سامنے کیا ہیں
عمر بھر میں نے جوگناہ کیے
لوگ اظہر کے تھے تمنائی
اور وہ بیٹھا تھا تری چاہ کیے
 

الف عین

لائبریرین
نہیں عزیزم، بات نہیں بن رہی۔ ردیف محض ان مصرعوں میں درست ہے:
تُم بھی بیٹھے تھے کن کی چاہ کیے
اب تو مدت ہوئی ہے واہ کیے
عمر بھر میں نے جوگناہ کیے
اور وہ بیٹھا تھا تیری چاہ کیے (تری نہیں)
ان پر غور کرو، معلوم ہوا کہ جس میں ’نے‘ آتا ہے، یا جہاں ‘ہوئے‘ مخفی ہے، کئے ہوئے کی جگہ محض کئے، صرف وہاں ہی درست ہے۔ باقی گرامر کی رو سے غلط ہیں۔ نثر کر کے دیکھ لیا کرو، تم نے کیوں نگاہ کئے‘ کیا درست ہو سکتا ہے
 
نہیں عزیزم، بات نہیں بن رہی۔ ردیف محض ان مصرعوں میں درست ہے:
تُم بھی بیٹھے تھے کن کی چاہ کیے
اب تو مدت ہوئی ہے واہ کیے
عمر بھر میں نے جوگناہ کیے
اور وہ بیٹھا تھا تیری چاہ کیے (تری نہیں)
ان پر غور کرو، معلوم ہوا کہ جس میں ’نے‘ آتا ہے، یا جہاں ‘ہوئے‘ مخفی ہے، کئے ہوئے کی جگہ محض کئے، صرف وہاں ہی درست ہے۔ باقی گرامر کی رو سے غلط ہیں۔ نثر کر کے دیکھ لیا کرو، تم نے کیوں نگاہ کئے‘ کیا درست ہو سکتا ہے
اُستاد محترم ردیف ہی تبدیل کیے دیتا ہوں، اب دیکھیے تو جناب

وہ جو لطفُ کرم پہ آہ کریں
ہم بھی پاگل انہی کی چاہ کریں
دوستو زخم کیوں نہیں دیتے
رنج پائیں، تُمہاری واہ کریں
چھوڑ دیں ڈور کچھ نصیبوں پر
فیصلے خود بھی گاہ گاہ کریں
اُس کی رحمت پہ شک نہیں کوئی
اپنے اعمال پر نگاہ کریں
لوٹنا باغباں کو جب ٹہرا
گلُ گلزار کیوں تباہ کریں
لوگ اظہر کے ہوں تمنائی
اور منزل تُمہاری راہ کریں
 

الف عین

لائبریرین
ہاں، یوں ردیف بہتر ہے۔اگرچہ اب بھی کچھ اشعار میں ’کرے‘ درست ہے اور کچھ میں ’کریں‘اور کچھ میں ‘کرو‘۔ ۔ اس پر تم خود غور کرو اور تبدیل کرو۔
مقطع اب کیا ہو گیا ہے؟ کیا مکمل بدل دیا ہے یا تائپو ہے؟
 
Top