ایک غزل.اصلاح کے لئے۔۔۔ - جین آئے تو کیا کیا جائے ؟۔

ایک غزل کافی دنوں سے اصلاح اور مشوروں کی پکار لگا رہی تھی سو آج احباب کے روبرو پیش کر رہا ہوں ۔ استاد محترم جناب الف عین سر اور ارکان محفل سے توجہ کی درخواست ہے ۔
ارکان :فاعلاتن مفاعلن فِعْلن
چین آئے تو کیا کیا جائے ؟
وقت کچھ دشت میں جیا جائے ؟

آؤ پھر اس کو یاد کرتے ہیں
دل کو بے چین کر لیا جائے

ایک تصویر کتنا بولے گی؟
ساتھ اک شعر لکھ دیا جائے

جامِ مستی سے، چال سے اپنی
وہ جو چھلکائے، تو پیا جائے!

لمس ہونٹوں کا جن کے عنقا ہے
آم ان کا چرا لیا جائے!

جی یہ کرتا ہے چہرہءِ گُل کو
دونوں ہاتھوں میں بھر لیا جائے

اس کی یادوں کے اُرزوں پُرزوں سے
دل کو خالی ہی کر لیا جائے

اس محبت سے باہمی غم سے
کچھ لیا جائے کچھ دیا جائے

زندگی سے ہنسی مذاق کریں
آج پھر غم کو دل دیا جائے !

ہنس کے دیتی ہے زندگی تَرغِیب
کچھ تو مر کر بھی جی لیا جائے

بے ضمیری کے قیمتی پتھر !؟
ان کو سینے پہ رکھ دیا جائے !

کچھ بھی کرنے کو اب نہیں کاشف
ادھڑا کُرتا ہی چل سِیا جائے

شکریہ ۔
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
اچھی غزل ہے پسند آئی ۔ دو چار معروضات
وقت کچھ دشت میں جیا جائے ؟
ابلاغ درست نہیں ہوتا۔ الفاظ بدل دو۔ کچھ وقت جیا جائے، کچھ پل جیا جائے تو درست ہو جاتا ہے۔ لیکن ’دشت میں‘ کے بعد یہ ہونا چاہیے۔
ارزوں پرزوں؟؟ یہ کون سا محاورہ ہے۔ کل پرزوں تو سنا ہے۔
محاورہ ہے کہ کچھ نہیں تو ادھیڑ کر سیا کر۔ یعنی ادھیڑنا خود ایک بیکاری میں وقت گزارنے کا شغل ہے۔ تم نے تو وقت گزاری سے پہلے ہی، اپنی مصروفیت میں کرتا پھاڑ ڈالا ہے!! جس سے لگتا ہے کہ جنوں کی طرف اشارہ ہے۔
کچھ ادھیڑا، تو کچھ سیا جائے
ہو سکتا ہے
 
اچھی غزل ہے پسند آئی ۔ دو چار معروضات
وقت کچھ دشت میں جیا جائے ؟
ابلاغ درست نہیں ہوتا۔ الفاظ بدل دو۔ کچھ وقت جیا جائے، کچھ پل جیا جائے تو درست ہو جاتا ہے۔ لیکن ’دشت میں‘ کے بعد یہ ہونا چاہیے۔
ارزوں پرزوں؟؟ یہ کون سا محاورہ ہے۔ کل پرزوں تو سنا ہے۔
محاورہ ہے کہ کچھ نہیں تو ادھیڑ کر سیا کر۔ یعنی ادھیڑنا خود ایک بیکاری میں وقت گزارنے کا شغل ہے۔ تم نے تو وقت گزاری سے پہلے ہی، اپنی مصروفیت میں کرتا پھاڑ ڈالا ہے!! جس سے لگتا ہے کہ جنوں کی طرف اشارہ ہے۔
کچھ ادھیڑا، تو کچھ سیا جائے
ہو سکتا ہے
بہت بہت شکریہ سر !
ان شا اللہ وقت ملتے ہی اس غزل پر دوبارہ کام کروں گا۔
جزاک اللہ
 
Top