پانچویں سالگرہ ایک صفحہ کتنی دیر میں ۔ ۔ ۔

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
صفحہ : 28

Tadbeer_page_0032.jpg

 
صفحہ 28
اپنی مانکی ابتدائی تعلیم دینداری کا خیال نہ آ جاتا۔
طرز معاشرت جس طرح پر شروع زندگی میں قائم ہو جاتا ہے ،ویسا ہی عمر بھر رہتا ہے ۔ سادُوی کا قول ہے کہ جب تک چاہو زندہ رہو لیکن زندگی کے پہلے بیس سال نتائج سے مالا مال ہیں ۔جب ڈاکٹر والکاٹ مرض الموت مین گرفتار ہوا تو اوسکے دوستون نے اوس سے پوچہا کہ اس حالت مین تمہارے واسطے کونسا امر مسرت بخش ہوسکتاہے۔اوس نے جواب دیا کہ پیشاب کا عود کرآنا اور حسرت و مایوسانہ الفاظ مین ازسرنوجوان ہونے کی خواہش ظاہر کی تاکہ اپنی حالت درست کرے لیکن افسوس کہ یہہ تمنا اوس نے ایسے وقت مین کی جب اوسکی زندگی موت کی زنجیر ونمین جکڑی ہوئی تہی۔
گر بڑی فن موسیقی کا تاثیر طرز معاشرت درست کرنے کے غوروفکر بہت ضروری خیال کرتا ہے اور فی الحقیقت اوسکا خیال بہت صیح ہے کیونکہ بچون پر بہ نسبت باپ کے مان کا اثر ہوتا ہے ۔جس طرح صبح کی لطیف و خوشگوار ہوا دماغ و طبیعت کو شگفتہ اور تروتازہ کر دیتی ہے اوسی طرح مانکی ابتدائی تعلیم بچون مین آیندہ زندگی کے واسطے خوش خلقی ،مہربانی استقلال اور راستبازی پیداکردیتی ہے۔کسی جگہ نیک نہاد ،راستبازاور کفایت شعار عورت کا رہنا اوس جگہ کے واسطے نیکیون اور مسرتون کاباعث ہے۔ ایسی عورت سے خاندان کے ہر شخص کو فائدہ پہونچ سکتا ہے اور اوسکی موجودگی ہر طرح کے اطمینان اور تسلی کا سبب ہے۔
پس اس قسم کا گہر صرف بچپن ہی کے واسطے نہین مفید ہے بلکہ ہر حالت کے لئے عمدہ ہے ،وہان ہر شخص کم عُمر سُن صبروتحمل اور انجام فرایض کا طریقہ بخوبی حاصل کر سکتا ہے ۔ ازاک والٹن ہربرٹ کی مانکو
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ 29

لکہتا ہے کہ وہ ایسی عمدگی اور خوش سلیقگی سے خاندان کی خبرگیری کرتی اور ایسے اخلاق و محبت سے بچونکو تعلیم دیتی کہ وہ سب ہر وقت اوسکے ساتہہ رہنادلسے پسند کرتے تہے۔

اخلاق کا سچا مدرسہ گویا گہر کی تعلیم ہے اور اوسکی معلمہ عملی طور پر عورتین ہین۔ انہین کی تعلیم سے انسان مین ہمدردی کا مادہ پیدا ہوتا ہے۔ برک کا قول ہے کہ جو شخص کسی سوسایٹی کی ہمدردی کرتا ہے اوسکو پبلک یعنے عام خلق اللہ کا بڑا ہمدرد سمجہنا چاہئے۔ اور جس شخص کو اپنے گہر کی محبت ہے اوسکو اپنے ملک سے بہی دوستی ہے۔ لیکن جسقدر گہر طرز معاشرت کے درست کرنے مین مفید ہوتا ہے اوسی درجہ مین مضر بہی ہوتا ہے۔ عالم طفولیت سے لیکر زمانہ شباب تک انکی جہالت سے طرز معاشرت مین نامتناہی نقصانات واقع ہو جاتے ہین۔ اگر کسی بچے کی تعلیم کوئی نالائق اور جاہل عورت کرے تو آیندہ زندگی مین اس خرابی کا کوئی معقول علاج نہین ہو سکتا۔

نیپولین بونا پارٹ ہمیشہ کہا کرتا تہا کہ بچونکی آیندہ زندگی کا دارومدار باالکل اونکی مان پر منحصر ہے۔ وہ اپنی نسبت لکہتا ہے کہ مجہکو یہ انتہاے ترقی محض مادری تعلیم کی وجہ سے حاصل ہوئی۔ بونا پارٹ کی سوانح عمری لکہنے والا بیان کرتا ہے کہ اوسکے اوپر کسی کا رعب و داب نہین تھا بجز اوسکی مانکے جسکی شفقت آمیز تعلیم اور محبت انگیز تنبیہ کو نپولین دلسے پسند کرتا اور ہمیشہ اوسکی اطاعت کرتا۔

یہہ بھی اکثر دیکہا گیا ہے کہ اگر کسی بچے کا باپ آوارہ و بدچلن ہے اور مان زیرک و ہوشیار ہے تو اوس خاندان مین خرابی نہین واقع ہو سکتی اور اوس خاندان کے بچے عزت و وقعت کے ساتہہ زندگی بسر کر سکتے ہین لیکن جب اسکے برعکس حالت
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ 30

ہوتی ہے یعنی مان آوارہ و بدچلن ہو تو گویا باپ کیسا ہی نیک چلن ہو لیکن بہر بچونکی آیندہ زندگی کا طرز معاشرت درست ہونا باالکل شاذ و نادر قیاس کیا جاتا ہے۔

باوجودیکہ بچون پر مادری تعلیم کا بہت زیادہ اثر ہوتا ہے لیکن اونکی کوششین اسوجہ سے پوشیدہ رہتی ہین کہ وہ نہایت آسانی اور خاموشی سے اپنی اندرونی تعلیم کا فرض استقلال اور ثابت قدمی کے ساتہہ پورا کرتی ہین۔ اور بڑے بڑے لوگونکی سوانح عمری لکہنے والون نے بہی اون کامیابیونکا مطلق ذکر نہین کیا جو اون لوگونکی مانکو اونہین سچائی اور بہلائی کی جانب رجوع کرنے مین حاصل ہوتین ہین۔ پس کیا اونکی محنتونکا یہی صلہ ہے۔ ہرگز نہین۔ اگرچہ اونکی جانکاہیونکا کچہہ بہی ذکر نہین کیا جاتا لیکن تاہم اونکے کوششونکے نتائج ہمیشہ کے واسطے قایم ہوتے جاتے ہین۔

اگرچہ کوئی عورت ۔۔۔۔۔۔ مقابلہ کی مصنف۔ دوربین اور دودکش کی موجد نہین ہوئی لیکن اونکا مرتبہ ان مصنفون اور موجدون کے بہ نسبت اسوجہ سے بہت زیادہ ہے کہ اونہین کے بدولت ان تصنیفات اور ایجاد کی قابلیت حاصل ہوئی جسکا شمار دنیا کے بہترین لغات مین ہے۔ ڈی میسٹر اپنے خطوط مین اپنی مانکو نہایت عزت اور محبت کے الفاظ سے یاد کرتا ہے۔ اوسکا قول ہے کہ میری مان فرشتہ خصلت تہی جسکو انسان کی شکل مین باریتعالے نے پیدا کیا تہا۔ اور جسقدر عمدگیان اور بہنائیان مجہے حاصل ہوئین وہ میری مان کی وجہ سے۔

جارج واشنگٹن اپنے باپ کی موت کے وقت صرف گیارہ برس کا تہا۔ اوسکے باپ کی وفات کے بعد صرف ایک بیوہ مان اوسکی پرورش کرنے والی رہگئی۔ اوسکی مان ایسی قابلیت اور لیاقت کی عورت تہی کہ شاذ و نادر ایسی عورتین ہوتی ہین۔ شوہر کے بعد اوسکو یکایک بچونکی تعلیم و تربیت امور خانہ داری انتظامات
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ 31

جائداد کے بندوبست کی دقتین پیش آ گئین۔ لیکن اوس نے نہایت دانشمندی اور استقلال سے ان سب مشکلونکا سامنا کیا اور پوری کامیابی حاصل کی۔ اوسکی دانشمندی بیدار مخزی۔ کوشش و مستقل مزاجی نے جملہ مہمات اور مشکلات پر فتحیابی کی۔ اوسکی محنت اور مشقت کا یہہ صلہ حاصل ہوا کہ اوس نے اپنے بچونکو دنیا مین بڑے اعزاز و افتخار کے مرتبہ پر دیکہا جو فی الحقیقت اونکے واسطے اسوجہ سے قابل فخر ہے کہ وہی اونکی معلمہ تہی۔

نیپولین کا مانکا حال اوپر بیان ہو چکا ہے۔ ڈیوک آف ولنگٹن کی مان بہی کچہہ اوس سے کم نہین تہی اگرچہ اوسکا شوہر صرف ایک سال زندہ رہا اور ڈیوک نے بہی جملہ امور مین اپنے مانکی پوری تقلید کی۔ کہ ڈیوک کی مان اوسے بیوقوف سمجہا کرتی تہی اور خدا جانے کیون بہ نس بت دوسرے لڑکونکے اوس سے کم محبت کرتی تہی لیکن ڈیوک کے آیندہ زندگی کے واقعات اوسکے مانکے واسطے باعث افتخار ہوئے۔

جن لوگونکا کا نام ذیل مین درج کیا جاتا ہے اونکی مان بہی نہایت لایق و فایق نہین اور اونہین کی تعلیم کا اثر ہے کہ ان لوگونکی شہرت بطور یادگار آج تک باقی ہے۔ بیکن۔ ارسکن۔ بروہم۔ کینگ۔ کرن۔ پریسیڈنٹ اڈس ہربرٹ۔ پیلی۔ اولسلی۔

گینگ کی مان کو کچہہ ایسی خداداد قابلیت تہی کہ ہر شخص کو حسرت ہوتی تہی جس مجمع مین وہ جا کر شریک ہو جاتی تہی وہان اوسکی بڑی تعظیم ہوتی اوسکی لیاقت آمیز اور دانشمندانہ گفتگو سے لوگونکو بہت کچہہ تعجب ہوتا تہا۔ کرن بہی اپنی مان کی دانشمندی اور لیاقت کی تعریف و توصیف کرتا ہے اور لکہتا ہے کہ اگر مجہے دینا مین کسی چیز پر فخر ہو سکتا ہے تو وہ صرف میرے مانکی علمی قابلیت ہے۔
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ 32

پریسیڈنٹ آدمس ایک مرتبہ لڑکیونکے مدرسہ مین امتحان لینے کی غرض سے گیا۔ اونمین سے کسی کی اسپیچ نے اوسکے دل پر ایسا غیر معمولی اثر ڈالا کہ اوسے اپنے مانکی موثرانہ تعلیم یاد آ گئی۔ پریسیڈنٹ اون لڑکیون سے کہنے لگا کہ دنیا کی بیش بہا نعمتونمین سے جو مجہے نصیب ہوئی انمین سے ایک گرانبہا نعمت یہ تہی کہ میری مان نے مجہے تعلیم کیا جسکا شکریہ مین کسی طرح نہین ادا کر سکتا بجز اسکے کہ مین عزت کے ساتہہ اوسے یاد کرون۔

شعر اور انشا پردازونکی طبیعت پر بہی اونکی مانکی تعلیم کا بہت کچہہ اثر ہوا جسکی تصدیق اون اشخاص کے نامونسے ہوتی ہے جو ذیل میں درج کئے جاتے ہین۔ گرے تہامسن۔ سادوی۔ اسکاٹ۔ بلور۔ گوپتہہ۔ گرے کے مزاج مین محبت کا مادہ محض اوسکی مانکی وجہ سے پیدا ہوا کیونکہ اوسکا باپ نہایت تنک مزاج آدمی تہا۔ گرے فی الحقیقت ایک زنانہ منش آدمی تہا کیونکہ وہ ذرا شرماؤ اور بزدل تہا لیکن اس سے کسی قسم کا الزام اوسکے اوپر نہین عذر کیا جا سکتا۔

گرے کی مان جب مر گئی تو اوس نے سنگ لحد پر یہہ عبارت کندہ کرا دی "ایک مہربان اور خبرگیران مان جسکی متعدد اولاد مین سے صرف مین ہی ایسا نصیب تھا کہ زندہ رہا۔"

ایک فرانسسی مورخ دیباجہ تاریخ مین اپنی مانکی یاد مین مرقومہ ذیل فقرات لکہتا ہے۔ مین اس کتاب میں مضامین لکہہ رہا ہون لیکن میرے دماغ مین ایک عورت کے ایسے سنجیدہ خیالات متمکن ہوئے ہین کہ مین اونہین کبہی فراموش نہین کر سکتا۔ تیس برس ہوئے کہ وہ عورت مجہسے غایب ہو گئی اور اوسوقت مین باالکل بچہ تہا۔ جس وقت تک وہ میری نگاہونمین زندہ معلوم ہوتی ہے۔ وہ عسرت کی حالت مین میری شریک رہی لیکن فراغدستی کے وقت شامل نہوسکی۔ مین نے
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ 33

لڑکپن مین اوسے رنجیدہ کیا لیکن اب اوسے تسلی نہین دیسکتا۔ مجہے اب اوسکی ہڈیون تک کی خبر نہین۔ اوسکی موت کے وقت مین اس درجہ تنگدست تہا کہ دفن کیواسطے زمین بہی نہین خرید کر سکا۔"

"مجہے معلوم ہوتا ہے کہ مین اوس عورت کا بیٹا ہون جسکے خیالات اور مقولات کی یاد سے اپنی مان کو اپنے سامنے پاتا ہون اور وہ میرے مانکا خون ہے جو مجہہ مین اپنے بزرگون کی ہمدردی کے واسطے جوش مار رہا ہے اور اونکی یاد دلا رہا ہے جو اب دنیا مین نہین ہین۔"

جس طرح مانکی تعلیم سے شاعرانہ اور عالمانہ خیال بچونکے دماغ مین جلوہ افروز ہو جاتے ہین اوسیطرح مذموم و قبیح خیالات بہی نقشبندی کر لیتے ہین اور اسکی تصدیق و تطبیق لارڈ بایرن کے حالات سے کرنی چاہئے کیونکہ اگرچہ وہ ایک نام برآوردہ شخص تہا لیکن اوسکی مانکی تلون مزاجی۔ سختی ۔ اور خود پسندی نے بایرن پر ایسا اثر کیا کہ وہ بہی ایک ضدی۔ سرکش اور مغلوب الغیظ ہو گیا۔ بایرن مین بہی اپنی مانکے مانند بداطواریان موجود تہین اور جب ان دونونمین لڑائی ہوتی اور بایرن مانکے سامنے سے بہاگتا تو وہ منجنیق لیکر اوسکا تعاقب کرتی۔ یہہ برتاؤ ایسا فطرت کے خلا تہا جس نے بایرن کی زندگی پر بڑا ناپاک اثر ظاہر کیا اور اوسکی مانکی زہرالود تربیت نے اپنا پورا اثر پیدا کیا۔

بچونکو ابتدا مین علم حساب کی بہت ضرورت ہے اس سے اونکا دماغ درست ہوتا ہے اور اصول اونکے ذہن نشین ہوتے ہین۔ برایٹ کا قول ہے کہ لڑکیونکو علم حساب کی بہت کم تعلیم دیجاتی ہے جسکی ناواقفیت سے اونکو بے انتہا نقصانات اوٹہانے پڑتے ہین یعنی جب وہ جوان ہوئین اور اپنے شوہرونکے گہر گئین تو اصول حساب کی عدم واقفیت سے وہ اپنے اخراجات کا صحیح طور
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ 34

پر اندازہ کر کے قلمبند نہین کر سکتین اور نہ اوس سے کوئی نتیجہ نکلانے کے قابل ہوتی ہین۔ اس جہالت سے اونہین مالی نقصان بہت کچہہ اوٹہانے پڑتے ہین۔ اور انتظام خانہ داری مین طرح طرح کی دقتین پیش آتی ہین جنکا انصرام صرف اسی اصول کی واقفیت سے بخوبی ہو سکتا ہے اور چونکہ اس سے وہ باالکل نابلد ہوتی ہین تو بے انتظامی اور ضرورت سے زیادہ صرف کرنیکا بوجہ اونہین اوٹہانا پڑتا ہے جو اونکے خاندان مین اطمینان اور ۔۔۔۔۔ الحالی پیدا کرتے ہین بہت کچہہ مانع و سدراہ ہوتا ہے۔

قدرت نے جس فیاضی سے عقل مردونکو دی ہے اوسی طرح عورتونکو بہی اور اس بخشش سے یہ مقصود ہے کہ قرینہ سے اسکو استعمال اور صرف کرنا چاہئے نہ کہ وجود معطل کی طرح یہ قوت بیکار کر دی جائے۔

عورت کو صرف ایک ناسمجھ خادمہ نہین خیال کرنا چاہیے اور قیاس کرنا چاہئے کہ وہ محض مردونکی دل بستگی کے واسطے پیدا کی گئین ہین۔ بلکہ اونکے ذمہ بہی ایسے فرایض اور جوابدہی کے کام متعلق کئے گئے ہین جنکے تکمیل کے واسطے اونکے دماغ مین بہی ایسی قابلیت کی ضرورت ہے جیسی اونکی دل مین ہمدردی ہے۔ عورتونسے صرف یہی نہین غرض ہے کہ وہ ناز و ادا۔ عشوہ و کرشمہ مین جسے اگرچہ عالم شباب مین اونکی حسن ہین ۔۔۔۔۔ اور خوبصورتی مین بانکپن آ جاتا ہے کامیابی حاصل کرین بلکہ فی الحقیقت سچی زندگی کے واسطے یہہ سب انداز باالکل فضول اور بے مصرف ہین۔

قدیم روم مین اوس عورت کی بڑی تعریف تہی جو کچہہ ۔۔۔۔۔۔ جانتی تہی۔ ہمارے وقت مین بہی عورتونکے واسطے صرف اسقدر علم کافی سمجہا گیا ہے کہ کمسٹری کے متعلق فقط اونہین کہانا پکانا سیکہہ لینا چاہئے اور جغرافیہ اتنا جاننا چاہئے کہ اپنے مکان کے مختلف کمرے پہچان سکین۔ اور بایرن جسکو عورتونکے ساتہہ بہت کم ہمدردی تہی لکہتا ہے کہ اونکا کتاب خانہ صرف دو کتابونسے محدود ہونا چاہئے ایک انجیل
 
Top