ایک تاثر !

محمد خرم یاسین نے 'محفل چائے خانہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 8, 2018

  1. محمد خرم یاسین

    محمد خرم یاسین محفلین

    مراسلے:
    2,003
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    فیض کی نظم "تنہائی" پڑھتے ہوئے اس بات کا شدت سے احساس ہوتا ہے کہ وہ اس وقت کسی ٹرانس کی حالت میں ہوں گےجب انھوں نے یہ کہی۔ ہر مصرعہ اپنی جگہ ایک عنوان ہے، ایک افسانہ ہے اور ایک مکمل غزل سے زیادہ مزہ دیتا ہے۔ اس نظم کو تحت اللفظ پڑھنا ایک ایسی آرٹ ہے جو اردو دان طبقے کی علمیت کی قلعی بھی کھول دیتا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:

    پھر کوئی آیا دلِ زار! نہیں کوئی نہیں
    راہرو ہوگا!کہیں اور چلا جائے گا
    ڈھل چکی رات، بکھرنے لگا تاروں کا غبار
    لڑکھڑانے لگے ایوانوں میں خوابیدہ چراغ
    سو گئی راستہ تک تک کے ہر اِک راہگزار
    اجنبی خاک نے دھندلادئیے قدموں کے سراغ
    گل کروشمعیں، بڑھا دو مے و مینا و ایاغ
    اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کردو
    اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا

    خرم!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  2. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    2,789
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    InLove
    واقعی فیض کی یہ نظم ایک شاہکار ہے!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  3. محمد خرم یاسین

    محمد خرم یاسین محفلین

    مراسلے:
    2,003
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    بے شک !
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر