ایک اُلجھن میں ہوں گھِرا جاناں

احمد علی

محفلین
ایک اُلجھن میں ہوں گھِرا جاناں
تُو ہے میرا کہ میں تراجاناں

دُور تُجھ سے میں رہ نہیں سکتا
پاس آؤ نہ تم ذرا جاناں

نا مکمل ہے زندگی تُجھ بن
ایک تُو ہی تو ہے مرا جاناں

تیری دُوری یونہی گُھلا دے گی
یہ سراپا ہرا بھرا جاناں

خال و خد اس قدر قیامت ہیں
تُو ہے انساں کہ اَپسرا جاناں

لوگ کہتے ہیں جو بھی کہنے دو
میں تو تیرا ہوں بس ترا جاناں

ڈور یادوں کی یوں الجھی احمد
ہاتھ آتا نهیں سِرا جاناں
 
آخری تدوین:

نیرنگ خیال

لائبریرین
خال و خود اس قدر قیامت ہیں
تُو ہے انساں کہ اَپسرا جاناں

میں نے ساری عمر خال وخد ہی پڑھا ہے۔ یہ ٹائپو ہے یا میں ہی غلط پڑھتا رہا ہوں۔۔۔ :)

اس قدر خوبصورت کلام پر بہت سی داد قبول فرمائیے۔
 

احمد علی

محفلین
خال و خود اس قدر قیامت ہیں
تُو ہے انساں کہ اَپسرا جاناں

میں نے ساری عمر خال وخد ہی پڑھا ہے۔ یہ ٹائپو ہے یا میں ہی غلط پڑھتا رہا ہوں۔۔۔ :)

اس قدر خوبصورت کلام پر بہت سی داد قبول فرمائیے۔

پسند آوری کا شکریہ۔۔۔۔۔۔۔

اور آپ کی اطلاع پر غزل کے خدوخال میں تدوین کر دی گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔:biggrin:

اطلاع فراہم کرنے پر اک بار پھر شُکریہ:notworthy:
 

الف عین

لائبریرین
قوافی پر غور کرو، مکسور اور مفتوح ایک ساتھ نہیں باندھے جا سکتے۔ تِرا، مِرا میں مکسور ہیں، زیر ما قبل را، جب کہ اپسرا وغیرہ میں مفتوح، یعنی را سے قبل زبر۔
مقطع تو بحر سے بھی خارج ہے۔
 

احمد علی

محفلین
قوافی پر غور کرو، مکسور اور مفتوح ایک ساتھ نہیں باندھے جا سکتے۔ تِرا، مِرا میں مکسور ہیں، زیر ما قبل را، جب کہ اپسرا وغیرہ میں مفتوح، یعنی را سے قبل زبر۔
مقطع تو بحر سے بھی خارج ہے۔

نشان دہی کا بہت شُکریہ جناب الف عین صاحب۔۔۔۔۔ دوبا رہ غور کرتا ہوں۔۔۔۔۔
 

نایاب

لائبریرین
اک اچھی کوشش
بہت دعائیں
اب منتظر کہ
کب ہو اصلاح مکمل
تاکہ پہنچاؤں اسے " جاناں " تک ۔۔۔۔
 
Top