ایک اور ڈرون حملہ

x boy

محفلین
فواد صاحب کی ڈیجیٹل باتیں ہیں حقیقت سے کوئی تعلق نہیں جسطرح امریکن ہیروس ہیں جیسے بیٹ مین، سپرمین، تھور،آئرن مین وغیرہ یہ سب ڈیجیٹل فکشن ہیں اور سینماء ھالوں تک ٹھیک ہے اور ڈیجیٹل کوریج میں اس طرح کا آوٹ ریج ہوسکتا ہے اسامہ کی بیویاں ملی انکے بیانات، واہ بھئی واہ مان گئے،
اب تک جتنے بھی اٹیک ہوتے ہیں سب سے پہلے بی بی سی خبر دیتا یا سی این این یہ کوئی ہمارے گھر کا نیوز میڈیا نہیں ہے یا ہمارے لوگ ہیں
کون نہیں جانتا کس کو نہیں خبر کہ یہ لوگ مفاد کے بغیر کچھ نہیں کرتے، انہوں آزادی کا نعرہ لگایا لیکن روح زمین کو غلام بنانے کے لئے
اب تو ان کے الائنس بھی رو رہے ہیں کہ امریکہ ہر ملک کی جاسوسی کررہا ہے۔
اللہ پاک نے ہمیں ایک خبر دی تھی جسکا ہم کبھی استعمال نہیں کرتے کہ وہ لوگ ایک قوم ہیں اور مسلمان ایک قوم، اور یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کے بھی دشمن ہیں
مسلمانوں کے معاملے میں اتحاد ہوگا لیکن آپس میں یہ لوگ ساس بہو کی طرح ہیں۔
 
آپ اپنا ریکارڈ درست کرلیں ۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 42 کے مطابق فاٹا میں پاکستان کی کوئی عمل داری نہیں ہے ۔
تو آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل 247 یا 42 میں لکھا ہے کہ فاٹا ریاست پاکستان کا حصہ نہیں ہے؟ نہیں ایسا بالکل نہیں بلکہ وہ ریاست پاکستان کا حصہ ہے، وہاں صرف پاکستان کے قوانین جیسا کہ تعزیرات پاکستان وغیرہ کی عملداری نہیں عدلیہ وہاں کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ وہاں کی حفاظت کرنا حکومت کی ایسے ہی ذمہ داری ہے جیسے باقی پاکستان کی۔
 

ظفری

لائبریرین
تو آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل 247 یا 42 میں لکھا ہے کہ فاٹا ریاست پاکستان کا حصہ نہیں ہے؟ نہیں ایسا بالکل نہیں بلکہ وہ ریاست پاکستان کا حصہ ہے، وہاں صرف پاکستان کے قوانین جیسا کہ تعزیرات پاکستان وغیرہ کی عملداری نہیں عدلیہ وہاں کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ وہاں کی حفاظت کرنا حکومت کی ایسے ہی ذمہ داری ہے جیسے باقی پاکستان کی۔
اس سلسلے میں تفصیلی جواب اس ویک اینڈ پر دےسکوں گا ۔ ویسے میں آپ کے اندازِ تخاطب اور علمی انداز میں بحث کے انداز سے بیحد متاثر ہوا ہوں کہ عموماً لوگ اپنے نکتہِ نظر سے خلاف، بات کو برداشت کرنے کے اتنے متحمل نہیں ہوتے ۔ :)
 

Fawad -

محفلین


تو صاحب جب سب کچھ پاکستان اور پاکستانی تو امریکا کو کیا تکلیف لاحق ہے جو ہر دو دن بعد ڈرون بھیج دیتا ہے ، قربان جاؤں امریکہ تجھ پر ، تجھے پاکستان سے اور پاکستانیوں سے کتنی محبت ہے ، مسلہ ہمارا دہشتگردی ہمارے ملک میں اور طیارے تو بھیجتا ہے ، ایسی محبت تو آج تک نہیں دیکھی

جب پاکستان کے مسائل کو امریکہ نے ہی حل کرنا ہے تو یہ سات لاکھ فوج اور اتنی بڑی کابینہ کا بوجھ پاکستانی عوام پر کیوں ڈال رکھا ہے.....




فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

امريکی حکومت نے ہميشہ يہ موقف اختيار کيا ہے کہ ہم اپنے اسٹريجک اتحاديوں بشمول افغانستان اور پاکستان کے ايک "مشترکہ دشمن" کے خلاف برسرپيکار ہيں۔ آپ بے شمار اردو فورمز پر مختلف موضوعات پر ميری آراء سے يہ تصديق کر سکتے ہيں کہ ہمارا تسلسل کے ساتھ يہی موقف رہا ہے کہ خطے ميں ہماری مشترکہ کاوشيں اور دہشت گردی کے محفوظ ٹھکانوں کا قلع قمع کرنے کے ہمارے حتمی ہدف کا مقصد ہی يہ ہے کہ صرف امريکی شہريوں کو ہی نہيں بلکہ مہذب دنيا کے عام شہريوں کی سيکورٹی اور تحفظ کو يقينی بنايا جائے۔


افغانستان اور پاکستان کی حکومتوں کی جانب سے فراہم کی جانے والی مسلسل سپورٹ اور ہماری مشترکہ کاوشيں اس حقيقت کو واضح کرتی ہيں کہ ہمارے اتحادی اور فريقين ان دہشت گرد گروہوں کے تعاقب کے ضمن ميں ہمارے عزم ميں شامل بھی ہيںاور ان کو تسليم بھی کرتے ہيں جو شہريت کی تفريق سے قطع نظر سينکڑوں بے گناہ شہريوں کی ہلاکت کے ذمہ دار ہيں۔


ٹی ٹی پی کے کوائف اور ان کی جانب سے برسوں پر محيط مظالم کی فہرست پر ايک سرسری سے نگاہ سے ہی شک و شہبہ کا شکار کوئ بھی اس حقيقت پر قائل ہو جائے گا کہ يہ تنظيم صرف پاکستانيوں پر ہی حملوں اور ان کے قتل عام ميں ملوث نہيں ہے بلکہ درجنوں امريکيوں کی ہلاکت کے ليے بھی ذمہ دار ہے۔


اس ميں کوئ شک نہيں ہے کہ ٹی ٹی پی ايک عرصے سے حکومت پاکستان کے خلاف بغاوت کی مرتکب ہو رہی ہے ليکن يہ نہيں بھولنا چاہيے کہ اس تنظيم اور اس کی قيادت نے ايسے کئ بڑے حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے اور اس ضمن ميں منصوبہ بندی اور سپورٹ بھی فراہم کی ہے جن کے نتيجے ميں متعدد امريکی شہری ہلاک ہوئے ہيں۔
مئ 1 2010 کو ٹی ٹی پی نے نيويارک کے مقام ٹائمز اسکوائر ميں ايک کار بم دھماکے کی کوشش کو تسليم کيا، جو فنی خرابی کے باعث پھٹ نا سکا۔ اگر يہ بم پھٹ جاتا تو نيويارک کے بے شمار شہريوں کی ہلاکت اور اس سے بھی کہيں زيادہ کے زخمی ہونے کا احتمال تھا۔


ٹی ٹی پی کی جانب سے پاکستان سے باہر ايک اور اہم حملہ دسمبر 30 2009 کو کامبيٹ آؤٹ پوسٹ چيپ مين ميں کيا گيا۔ ٹی ٹی پی نے جارڈن کے ايک جہادی کو بھيجا جس کے بارے ميں سی آئ اے کا خيال تھا کہ وہ اس وقت کے القائدہ کے نمبر 2 ليڈر ايمن الظواھری کے حدود واربعہ کے بارے ميں معلومات فراہم کرے گا۔ ليکن طالبان کے تہرے ايجنٹ نے بيس پر پہنچنے کے بعد خودکش جيکٹ سے خود کو اڑا ديا جس کے نتيجے ميں سی آئ اے کے 7 عہديدار، ايک سيکورٹی اہلکار اور جارڈن کی انٹيلیجينس کے ايک افسر ہلاک ہو گئے۔ بعد ميں منطر عام پر آنے والی ايک ويڈيو ميں ٹی ٹی پی کے ليڈر کو خودکش حملہ آور کے ساتھ ديکھا گيا جس ميں وہ حملے کی منصوبہ بندی کے بارے ميں فخر سے بات چيت کر رہے تھے۔


http://images.smh.com.au/2010/01/10/1027542/420-taliban-video-420x0.jpg


اس کے بعد امريکہ نے تحريک طالبان پاکستان کو ايک بيرونی دہشت گرد تنظيم قرار دے کر اس کی قيادت کو دہشت گرد قرار ديا۔ اس ضمن ميں امريکی اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کی جانب سے جو بيان جاری کيا گيا اس ميں ٹی ٹی پی کو القائدہ سے منسلک قرار ديا گيا۔


"تحريک طالبان پاکستان اور القائدہ کے درميان ايک مضبوط رشتہ قائم ہے۔ ٹی ٹی پی، القائدہ سے نظرياتی رہنمائ ليتی ہے جبکہ القائدہ افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر پختون علاقوں ميں محفوظ ٹھکانوں کے ليے ٹی ٹی پی پر انحصار کرتی ہے۔"

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
http://www.facebook.com/USDOTUrdu
 

Fawad -

محفلین
امریکہ خود مذاکرات کے لئے قطر میں ان کو دفاتر کھولنے دیتا ہے ہمیں امن کی طرف قدم نہیں بڑھانے نہیں دیتا ۔



فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


ہم نے ہميشہ يہ موقف اختيار کيا ہے کہ افغانستان ميں دائمی اور طويل المدت امن کا قيام ہمارا حتمی ہدف ہے۔ اور اس مقصد کے حصول کو يقينی بنانے کے ليے ہم سياسی پليٹ فارم ميں وسعت اوران دہشت گرد عناصر کو محدود کرنے کے ليے افغانيوں کے اپنے ہم وطنوں کے ساتھ مل بيٹھ کر بات چيت کے عمل کا خيرمقدم کرتے ہيں جو اپنے سياسی اثر ورسوخ ميں اضافے کے ليے بے گناہ شہريوں کو نشانہ بنا رہے ہيں۔ ليکن سياسی دائرے کی توسيع کا عمل اور عوامی سياسی دھڑوں سے پرتشدد دہشت گردوں کو الگ کرنا ان عناصر کے خلاف سيکورٹی کاروائيوں کے متوازی جاری رہنا چاہیے جو اپنے اثرورسوخ ميں اضافے کے ليے بے گناہ شہريوں کو دانستہ ہلاک کرنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہيں۔ شايد آپ بھول رہے ہيں کہ اس وقت بھی ساٹھ ہزار کے قريب امريکی فوجی افغانستان ميں موجود ہيں جو 43 آئ ايس اے ايف کی اتحاديوں اور شراکت داروں سے منسلک عالمی افواج کے ساتھ مل کر افغانستان ميں کام کر رہے ہیں۔ يہ بھی نہيں بھولنا چاہيے کہ ہزاروں کی تعداد میں امريکی اور اتحادی فوجی بھی افغانستان ميں ہلاک ہو چکے ہيں۔


امريکی حکومت کو پاکستان ميں سياسی افہام وتفہيم کے عمل پر کوئ تحفظات نہيں ہيں۔ ہمارا نقطہ صرف يہ ہے کہ بنيادی مقصد اور حتمی ہدف دہشت گردی کے ان محفوظ ٹھکانوں کا خاتمہ ہونا چاہیے جن کے سبب سرحد کے دونوں جانب بے گناہ شہری ہلاک ہو رہے ہيں، نا کہ ان کے مطالبات کو تسليم کر کے انھيں آزادانہ اپنی کاروائيوں کی اچازت دينا جيسا کہ سال 2008 ميں سوات ميں ديکھنے ميں آيا تھا۔


ہم پاکستان کی قيادت کے ساتھ گفتگو اور ڈائيلاگ کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہیں تا کہ دہشت گردی کے اس عفريت کا خاتمہ ممکن ہو سکے جس نے سرحد کے دونوں جانب عام شہريوں کی زندگی اجيرن کر رکھی ہے۔ يہ کوئ دھمکی يا دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی ہرگز نہیں ہے۔


اس ضمن ميں دھمکی خيز رويہ، مطالبات اور منفی انداز ميں جذبات کا اظہار بات چيت کے بنيادی مقاصد اور اصل روح کے منافی ہے۔


پاکستان کے ساتھ بات چيت کا مقصد ہرگز يہ نہيں ہے کہ پاکستانی قيادت کو ان اقدامات کے لیے مجبور کيا جائے جنھيں وہ اپنے حق ميں بہتر نہيں سمجھتے۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
http://www.facebook.com/USDOTUrdu
 

Fawad -

محفلین
دیکھیں کیا بنتا ہے یہ تو واضح ہے کہ امریکہ پاکستان میں امن ہونے نہیں دے گا۔
فواد




فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

امريکہ کو ايسے کسی "امن مذاکرات" کو سبو تاز کرنے کی کوئ ضرورت نہيں ہے جو دہشت گردی کی اس لہر کو روک سکيں جس کا شکار صرف پاکستانی ہی نہيں بلکہ دنيا بھر ميں بے گناہ شہری ہو رہے ہيں۔ ليکن ديرپا امن صرف اسی صورت ميں ممکن ہے جب مجرموں کا تعاقب کيا جائے اور غير متشدد گروہوں کو قائل کيا جائے کہ جائز سياسی عزائم کے حصول کے ليے سياسی پليٹ فارم کا استعمال ہی واحد قابل عمل طريقہ کار ہے۔ يہ سوچ کہ مجرموں کے ساتھ ان حالات ميں غير مشروط معاہدے کيے جائيں جبکہ وہ بدستور اپنے خونی ايجنڈوں پر کاربند ہوں اور پھر ان کے مطالبات بھی تسليم کر ليے جائيں، ديرپا امن کی جانب نہيں بڑھا جا سکتا ہے۔انسانی تاريخ کے ارتقاء ہی سے ايک فعال نظام انصاف کے لیے يہی بنيادی اصول رہا ہے۔


ايسے فريقين جو ايک تسلیم شدہ قانونی اور سياسی فريم ورک کے اندر رہتے ہوئے ايسے تنازعات کے حل کے ليے امن مذاکرات اور معاہدے کريں جو سياسی نوعيت کے ہوں تو يقينی طور پر ايسے مذاکراتی عمل ميں کوئ مظائقہ نہيں ہے۔


ليکن يہاں پر بات ايک ايسے گروہ کی ہو رہی ہے جسے حکومت پاکستان تمام تر ثبوتوں کے ساتھ دہشت گرد تسليم کر چکی ہے اور بار بار کی اپيلوں اور مطالبات کے باوجود وہ اب بھی پاکستان کے شہريوں اور مسلح افواج پر بدستور حملے کر رہے ہيں۔


ايک طرف تو کچھ رائے دہندگان فورمز پر امريکہ کو اس بنياد پر ہدف تنقید بناتے ہيں کيونکہ ان کی دانست ميں ہماری پاليسيوں اور اقدامات کی بدولت انسانی جانوں کا زياں ہوا ہے۔ ليکن دوسری جانب دہشت گردی ميں ملوث طالبان اور القائدہ کے ان عناصر سے "امن مذاکرات" کو خوش آئند قرار ديتے ہيں جنھوں نے اپنی واضح کردہ پاليسی اور ايجنڈے کے مطابق ہزاروں کی تعداد ميں بے گناہ شہريوں کو ہلاک کيا ہے۔ ياد رہے کہ يہ وہی دہشت گرد گروپ ہيں حکومت پاکستان کی جانب سے متعدد بار کيے جانے والے مطالبات کے باوجود پچھلے کئ برسوں سے پاکستان کے ہر شہر ميں بے گناہ شہريوں کو بغير کسی تفريق کے قتل کر رہے ہيں۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
http://www.facebook.com/USDOTUrdu
 

x boy

محفلین
جب موبتی یا دیا بجھنے لگتا ہے تو ٹمٹمتا ہے ابھی امریکہ کا بھی وہی حال ہونے جارہا ہے روح زمین پر کوئی بھی کافی عرصے تک ظلم یا حکم نہیں چلاسکا،
اگر تاریخ اٹھا لے تو ہمیں یہی معلوم ہوتا ہے، گر چہ تاریخ میں لٹ مٹ بہت ہیں لیکن تاریخ یہی کہتی ہے
حقیقت یہی ہے کہ بڑے بڑے سیٹیلائٹ لگاکر جاسوسی کرتے ہیں اور پھرجن ملکوں میں دولت ہوتی ہے وہاں اندرونی سازش کرواکر فساد برپا کرتا ہے پھر امن کے نام پر اس ملک کی گلیوں گلیوں میں خون کی ہولی کھیلتا ہے اس ہولی میں ڈائریکٹ یا انڈایکریکٹ شمولیت کرتا ہے۔ اب تو ان کمینوں کو خوف اتنا ہے کہ پرائیوٹ سیکوریٹی کمپنیز کی مدد لیتے ہیں
انتھی۔


http://epaper.jehanpakistan.com/E-Paper/khi/071113/openlink.asp?ddir=071113&im=p13-07.jpg
 
آخری تدوین:

Fawad -

محفلین
فواد صاحب کی ڈیجیٹل باتیں ہیں حقیقت سے کوئی تعلق نہیں جسطرح امریکن ہیروس ہیں جیسے بیٹ مین، سپرمین، تھور،آئرن مین وغیرہ یہ سب ڈیجیٹل فکشن ہیں اور سینماء ھالوں تک ٹھیک ہے اور ڈیجیٹل کوریج میں اس طرح کا آوٹ ریج ہوسکتا ہے اسامہ کی بیویاں ملی انکے بیانات، واہ بھئی واہ مان گئے،
اب تک جتنے بھی اٹیک ہوتے ہیں سب سے پہلے بی بی سی خبر دیتا یا سی این این یہ کوئی ہمارے گھر کا نیوز میڈیا نہیں ہے یا ہمارے لوگ ہیں
کون نہیں جانتا کس کو نہیں خبر کہ یہ لوگ مفاد کے بغیر کچھ نہیں کرتے، انہوں آزادی کا نعرہ لگایا لیکن روح زمین کو غلام بنانے کے لئے
اب تو ان کے الائنس بھی رو رہے ہیں کہ امریکہ ہر ملک کی جاسوسی کررہا ہے۔
اللہ پاک نے ہمیں ایک خبر دی تھی جسکا ہم کبھی استعمال نہیں کرتے کہ وہ لوگ ایک قوم ہیں اور مسلمان ایک قوم، اور یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کے بھی دشمن ہیں
مسلمانوں کے معاملے میں اتحاد ہوگا لیکن آپس میں یہ لوگ ساس بہو کی طرح ہیں۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


ميں چاہوں گا کہ آپ فيصلہ کن انداز ميں بيانات دينے سے قبل تھورا سے توقف کر کے حقائق کا بھی جائزہ لے ليا کريں۔ اگر آپ بھول گئے ہيں تو ميں آپ کو ياد دلا دوں کہ اسامہ بن لادن کی بيويوں کو امريکيوں نے نہيں بلکہ پاکستانی حکام نے اپنی تحويل ميں ليا تھا اور انھوں نے اس کی تصديق بھی کی تھی۔ اس وقت پاکستان کے ميڈيا پر دکھائے جانے والے ٹاک شوز کا بغور جائزہ لیں تو آپ پر عياں ہو گا کہ پاکستان کے پرنٹ اور اليکٹرانک ميڈيا کے تمام اہم اداروں نے واقعات کے اس تسلسل کو رپورٹ بھی کيا تھا اور ان کی تصديق بھی کی تھی جو اس موضوع کے حوالے سے ميں نے اپنی گزشتہ پوسٹ ميں بيان کيے ہيں۔


http://www.awaztoday.com/News-Talk-...l-on-US-Operation-Kill-Osama-in-Pakistan.aspx


http://www.dailymail.co.uk/news/art...dens-wife-talks-moving-cave-terror-chief.html

آپ يقينی طور پر يہ توقع نہيں کر سکتے کہ پاکستان کا تمام ميڈيا ہمارے اشاروں پر کام کرتا ہے۔ اگر ايسا ہوتا تو گزشتہ چند سالوں کے دوران سينکڑوں کی تعداد ميں ان کہانيوں کا وجود ہی نا ہوتا جن ميں امريکہ کو غلط انداز ميں ولن کے طور پر پيش کيا گيا ہے، کيونکہ ان ميں سے اکثر کی تشہير اور اشاعت پاکستانی ميڈيا پر ہی کی گئ ہے اور انھی کا جواب ميں فورمز پر برسوں سے دے رہا ہوں۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
http://www.facebook.com/USDOTUrdu
 

x boy

محفلین
طالبان ہماری فوجی قیادت سے نہیں بلکہ ڈرون سے ڈرتے ہیں۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ فوج لڑنے کو تیار ہے لیکن سیاستدان ڈرگئے ہیں۔ مان لیتے ہیں کہ موجودہ سیاستدان جنگ لڑنے کوتیار نہیں ہیں لیکن 2001 سے یعنی جب سے یہ جنگ شروع ہوئی ہے، تب سے کس کی پالیسیاں چل رہی ہیں؟ پیپلزپارٹی کے حکمران تو اتنے بزدل اور کمزور تھے کہ میموگیٹ کو بھی نہ سنبھال سکے۔ پیپلزپارٹی کی قیادت اسی میں خوش تھی کہ اسے کھل کر لوٹ مار کرنے دی جائے باقی جو ادارہ کرنا چاہتا ہے، کرتا رہے۔ اسی دور میں ایک ریاست کے اندر کئی ریاستوں، جو پہلے سے چل رہی تھیں، نے پوری طاقت سے سراٹھایا اور وہ آرام سے سب کچھ دیکھتے رہے۔

جب سے طالبان نے ڈرون حملوں کے بعد دھمکیاں دی ہیں، حکومت میں ہرطرف دہشت پھیلی ہوئی ہے۔ وزیراعلیٰ سے لیکر وزیراعظم تک سب بنکرز میں چھپ گئے ہیں۔ کوئی ایک بھی نہیں جو باہر نکل کر قوم کی اس طرح رہنمائی کرے جیسے جنگ عظیم دوم میں چرچل نے کی تھی۔ ہمارے یہاں الٹ ہورہا ہے، سب خاموش، اپنے اپنے حفاظتی بنکرز میں، ہمارے ٹیکسوں سے اکٹھے کئے گئے اربوں روپے کی سیکیورٹی ان کی اور ان کے بچوں کی حفاظت پر تعینات جبکہ خوفزدہ قوم اپنے قاتل کے انتظار میں ہے۔

کالم : روف کلاسرا
 
Top