ایک اور آسکر ایوارڈ شرمین عبید چنائے کے نام!

arifkarim

معطل
ایک اور آسکر ایوارڈ شرمین عبید چنائے کے نام

160229042949_sharmeen_chinoy_oscar_640x360_reuters_nocredit.jpg

پاکستانی فلمساز اور ہدایتکارہ شرمین عبید چنائے نے اپنی مختصر دستاویزی فلم ’دا گرل اِن دا ریور: پرائس فار فوگیونیس‘ کے لیے آسکر ایوارڈ حاصل کر لیا ہے۔
یہ ان کے کریئر کا دوسرا اکیڈمی ایوارڈ ہے۔ انھوں نے سنہ 2012 میں دستاویزی فلم ’سیونگ فیس‘ کے لیے بھی آسکر ایوارڈ جیتا تھا۔
امریکی شہر لاس اینجلس میں منعقدہ 88ویں اکیڈمی ایوارڈز میں ’غیرت کے نام پر قتل‘ کے موضوع پر بنائی جانے والی اس فلم کا مقابلہ چار دیگر فلموں سے تھا۔
اس فلم کو شرمین عبید چنائے فلمز اور ایچ بی او نے مشترکہ طور پر تیار کیا تھا۔
یہ دستاویزی فلم صبا نامی 18 سالہ لڑکی کی کہانی ہے جسے اس کے رشتے داروں نے غیرت کے نام پر قتل کرنے کی کوشش کے بعد مردہ سمجھ کر دریا میں پھینک دیاتھا مگر وہ معجزانہ طور پر بچ گئی تھی۔
زندہ بچنے کے بعد اس نے ہسپتال کے ڈاکٹروں اور پولیس کےساتھ مل کر اپنا مقدمہ لڑا مگر پھر دباؤ میں آ کر حملہ آوروں کو معاف کر دیا تھا۔
ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد شرمین عبید چنائے نے کہا کہ پرعزم خواتین کی محنت کا نتیجہ کامیابی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انھیں خوشی ہے کہ ان کی فلم کی وجہ سے پاکستان میں ’غیرت کے نام پر قتل‘ کا مسئلہ اجاگر ہوا ہے اور یہ ان کے لیے کسی بھی ایوارڈ سے بڑھ کر ہے۔
آسکرز کے لیے نامزدگی کے بعد شرمین عبید چنائے نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بھی کہا تھا کہ یہ فلم غیرت کے نام پر قتل کے مقدمات معاف کرنے کا اختیار ختم کرنے کی مہم کا حصہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آسکرز جیتنے سے زیادہ خوشی انھیں اس بات کی ہوگی کہ جب پاکستان کی قومی اسمبلی ’اینٹی آنر کرائم بِل 2014‘منظور کر دے گی۔
خیال رہے کہ آسکر ایوارڈ جیتنے والیاس فلم کا پریمیئر پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے وزیرِ اعظم ہاؤس میں منعقد کروایا تھا۔
فلم کے پریمیئر کے موقع پر نواز شریف نے کہا تھا کہ شرمین عبید چنائے نے غیرت کے نام پر قتل کے موضوع پر فلم بنا کر ایک ایسے چیلنجنگ موضوع کا انتخاب کیا ہے جس نے معاشرے کے تاریک پہلوؤں پرروشنی ڈالی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’غیرت کے نام پر قتل، غیرت نہیں بلکہ سنگین جرم ہے اور اس قابل نفرت اقدام کے تدارک کے لیے موجودہ حکومت ہر ممکن کوشش کرے گی۔
http://www.bbc.com/urdu/entertainment/2016/02/160229_sharmeen_chinoy_second_oscar_zs
 

یاز

محفلین
بہت اچھی خبر ہے یہ تو۔ سب پاکستانیو کو مبارک باد

اب فخریہ طور پہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کم از کم تین آسکر ایوارڈ تو پاکستان یا پاکستانی جیت ہی چکے ہیں۔
 

یاز

محفلین

میر ظفر علی

246010-mirzafarali-1397649500-573-640x480.jpg

نیویارک: اداکاری کی دنیا کے اس سب سے بڑے ’’آسکر‘‘ ایوارڈز کو حاصل کرنے والی پاکستانی ہدایتکارہ شرمین عبید چنائے کو آج پاکستان کا ہر فنکار جانتا ہے لیکن ملک کا ایک سپوت ایسا بھی ہے جو یہ اعزاز 3 مرتبہ حاصل کرچکا ہے لیکن وطن عزیز میں ایسے بہت کم لوگ ہیں جو انہیں جانتے ہیں اور وہ ہیں ویژول ایفیکٹ ٹیکنالوجی کے ماہر میر ظفر علی۔
گزشتہ برس دنیا بھر میں ریلیز ہونے والی ہالی ووڈ کی انیمیٹڈ فلم ’’فروزن‘‘ نے اپنی کہانی اور اسپیشل ویژول کے باعث باکس آفس اور ناظرین کے دلوں میں خوب جگہ بنائی، یہ فلم باکس آفس پر اپنی آمدنی کے علاوہ کئی شعبوں میں میں ریکارڈ بناچکی ہے۔ خاص طور پر فلم کے کردار شہزادی ایلسا کے برفانی محل کو فلم کے ناظرین اور مبصرین نے خوب سراہا۔ کمپیوٹر ایفیکٹس کی مدد سے اس محل کو حقیقت کا رنگ دینے والے کو آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ قارئین شائد یہ سمجھیں کہ اس میں کیا خاص بات ہے ہر سال کسی نہ کسی فلم کو یہ ایوراڈ ملتا ہے تو جناب خاص بات یہ ہے کہ اس فلم کے اسپیشل ویژول ایفیکٹس پاکستانی ماہر میر ظفر علی کی تخلیق تھے اور انہوں نے اس شعبے میں آسکر ایوارڈ پہلی بار نہیں لیا بلکہ تیسری بار حاصل کیا ہے۔
کراچی سے تعلق رکھنے والے میر ظفر علی نے اپنی ابتدائی تعلیم روشنیوں کے شہر میں ہی حاصل کی ، اسی شہر میں انہوں نے سافت ویئر انجینئیرنگ کی ڈگری حاصل کی جس کے بعد انہوں نے امریکی ریاست جارجیا کے ساوانا کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن سے ویژول ایفیکٹس کی تعلیم مکمل کی۔ اپنے کام کی بدولت انہوں نے پہلا آسکر ایوارڈ 2008 میں فلم “دی گولڈن کمپاس” اور دوسرا “لائف آف پائی” میں ویژول ایفیکٹس کے شعبے میں حاصل کیا تھا۔ صرف ان تین فلموں میں ہی نہیں بلکہ وہ ’’دی دے آفٹر ٹومورو‘‘، ’’اسپائڈر مین 3‘‘، ’’گھوسٹ رائڈر‘‘ اور ’’ایکس مین‘‘ جیسی شہرہ آفاق فلموں میں بھی اپنے کمالات دکھا چکے ہیں۔
حوالہ: ایکسپریس نیوز
 

زیک

مسافر
میر ظفر علی

246010-mirzafarali-1397649500-573-640x480.jpg

نیویارک: اداکاری کی دنیا کے اس سب سے بڑے ’’آسکر‘‘ ایوارڈز کو حاصل کرنے والی پاکستانی ہدایتکارہ شرمین عبید چنائے کو آج پاکستان کا ہر فنکار جانتا ہے لیکن ملک کا ایک سپوت ایسا بھی ہے جو یہ اعزاز 3 مرتبہ حاصل کرچکا ہے لیکن وطن عزیز میں ایسے بہت کم لوگ ہیں جو انہیں جانتے ہیں اور وہ ہیں ویژول ایفیکٹ ٹیکنالوجی کے ماہر میر ظفر علی۔
گزشتہ برس دنیا بھر میں ریلیز ہونے والی ہالی ووڈ کی انیمیٹڈ فلم ’’فروزن‘‘ نے اپنی کہانی اور اسپیشل ویژول کے باعث باکس آفس اور ناظرین کے دلوں میں خوب جگہ بنائی، یہ فلم باکس آفس پر اپنی آمدنی کے علاوہ کئی شعبوں میں میں ریکارڈ بناچکی ہے۔ خاص طور پر فلم کے کردار شہزادی ایلسا کے برفانی محل کو فلم کے ناظرین اور مبصرین نے خوب سراہا۔ کمپیوٹر ایفیکٹس کی مدد سے اس محل کو حقیقت کا رنگ دینے والے کو آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ قارئین شائد یہ سمجھیں کہ اس میں کیا خاص بات ہے ہر سال کسی نہ کسی فلم کو یہ ایوراڈ ملتا ہے تو جناب خاص بات یہ ہے کہ اس فلم کے اسپیشل ویژول ایفیکٹس پاکستانی ماہر میر ظفر علی کی تخلیق تھے اور انہوں نے اس شعبے میں آسکر ایوارڈ پہلی بار نہیں لیا بلکہ تیسری بار حاصل کیا ہے۔
کراچی سے تعلق رکھنے والے میر ظفر علی نے اپنی ابتدائی تعلیم روشنیوں کے شہر میں ہی حاصل کی ، اسی شہر میں انہوں نے سافت ویئر انجینئیرنگ کی ڈگری حاصل کی جس کے بعد انہوں نے امریکی ریاست جارجیا کے ساوانا کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن سے ویژول ایفیکٹس کی تعلیم مکمل کی۔ اپنے کام کی بدولت انہوں نے پہلا آسکر ایوارڈ 2008 میں فلم “دی گولڈن کمپاس” اور دوسرا “لائف آف پائی” میں ویژول ایفیکٹس کے شعبے میں حاصل کیا تھا۔ صرف ان تین فلموں میں ہی نہیں بلکہ وہ ’’دی دے آفٹر ٹومورو‘‘، ’’اسپائڈر مین 3‘‘، ’’گھوسٹ رائڈر‘‘ اور ’’ایکس مین‘‘ جیسی شہرہ آفاق فلموں میں بھی اپنے کمالات دکھا چکے ہیں۔
حوالہ: ایکسپریس نیوز
فروزن کو تو ویژول ایفکٹس کا آسکر نہیں ملا تھا۔ گولڈن کمپس اور لائف آف پائی کو ملا تھا ۔ اگرچہ یہ ایوارڈ پوری ٹیم کا ہوتا ہے مگر صرف چار لوگوں کا نام لکھا ہوتا ہے اور ان میں میر ظفر علی کا ذکر نہیں۔
 

زیک

مسافر
فروزن کو تو ویژول ایفکٹس کا آسکر نہیں ملا تھا۔ گولڈن کمپس اور لائف آف پائی کو ملا تھا ۔ اگرچہ یہ ایوارڈ پوری ٹیم کا ہوتا ہے مگر صرف چار لوگوں کا نام لکھا ہوتا ہے اور ان میں میر ظفر علی کا ذکر نہیں۔
البتہ فروزن کو بیسٹ اینیمیٹڈ فیچر کا ایوارڈ ملا تھا۔ یہ علم نہیں کہ یہ ایوارڈ فلم پر کام کرنے والے تما لوگوں کے لئے گنا جاتا ہے یا نہیں۔
 

یاز

محفلین
فروزن کو تو ویژول ایفکٹس کا آسکر نہیں ملا تھا۔ گولڈن کمپس اور لائف آف پائی کو ملا تھا ۔ اگرچہ یہ ایوارڈ پوری ٹیم کا ہوتا ہے مگر صرف چار لوگوں کا نام لکھا ہوتا ہے اور ان میں میر ظفر علی کا ذکر نہیں۔

آپ کا یہ مراسلہ پڑھ کر میں نے بھی نیٹ پہ تاک جھانک کی ہے تو یہی اندازہ ہوا کہ واقعی نام لے کر میر ظفر علی کو آسکر نہیں ملا۔ وہ شاید پوری ٹیم کو ملتا ہو گا اور میرے خیال میں ٹیم خاصی بڑی ہوتی ہو گی۔ شاید بیسیوں یا پچاسوں افراد پر مشتمل ہوتی ہو۔ اس ضمن میں میر ظفر علی کے متعلق آرٹیکل میں وکی پیڈیا نے سب سے عمدہ الفاظ استعمال کئے ہیں۔
He is the first Pakistani to have been connected with an Academy Award-winner for Best Visual Effects
 

Fawad -

محفلین
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

ستم ظريفی ديکھيں کہ کئ پاکستانی رائے دہندگان کی جانب سے امريکی حکومت اور معاشرے کو اس بات کے ليے ہدف تنقيد بنايا جا رہا ہے کہ ايک پاکستانی فلم ميکر کو ان کی کاوشوں اور اپنے پيشے ميں اعلی مہارت کے اظہار کے ليے ايوارڈ سے کيوں نوازا گيا ہے، اس ليے نہيں کہ انھيں اس اعزاز سے محروم کيا گيا جو کہ آپ طور پر اس طرح کے ايوارڈز کے بعد تنقيد کی وجہ بنتی ہے۔

اردو فورمز پر پاکستان کی ايک فلم ميکر کو آسکر ايوارڈ ديے جانے کے بعد شديد ردعمل اور بے شمار پيغامات حيران کن ہيں۔ کچھ رائے دہندگان اسے مسلمانوں کو بالعموم اور پاکستانيوں کو بالخصوص بدنام کرنے کے ليے امريکی سازش اور جامع منصوبہ بندی قرار دے رہے ہيں۔ اس ضمن ميں لکھے گئے کئ کالمز اور بے شمار تنقیدی جملے بغير حقائق کی تحقيق کيے مقبول عام جذبات کو ايک خاص رخ پر ڈالنے کے ضمن ميں ايک واضح مثال ہے۔

سب سے پہلی بات تو يہ ہے کہ جو کوئ بھی ان انتہائ پيچيدہ اور طويل مراحل سے واقف ہے جو اس ايوارڈ کے ضمن ميں وضع کيے گئے ہيں وہ اس حقيقت سے انکار نہيں کر سکے گا کہ امريکی حکومت، ہماری خارجہ پاليسی اور يہاں تک امريکی عوام کی خواہشات اور امنگوں کا بھی حتمی نتائج پر اثرانداز ہونے کا کوئ امکان نہيں ہوتا۔ ہزاروں کی تعداد ميں فلم کے متعلقہ شعبوں سے منسلک ماہرين، اساتذہ اور تکنيکی معلومات کو سمجھنے والے اہم افراد اس سارے عمل ميں شامل ہوتے ہيں۔ ايوارڈ کی تقريب سے قبل کسی کو بھی جيتنے والوں کے ناموں کا علم نہيں ہوتا۔ يہ تاثر کہ امريکی حکومت سميت کوئ بھی ايک مخصوص لابی اپنے مخصوص سياسی ايجنڈے يا خارجہ پاليسی کے حوالے سے عوام کی رائے کو ايک خاص رخ پر ڈالنے کے ليے اس ايوارڈ کے نتائج ميں ردوبدل کر سکتی ہے، بالکل غلط اور بے بنياد ہے۔

ماضی ميں ايسی درجنوں مثالیں موجود ہيں جب آسکر ايوارڈ جيتنے والی فلموں کے موضوعات اور ان کو بنانے والے ماہرين نے برملا امريکی حکومت کی پاليسيوں پر شديد تنقيد کی ہے، بلکہ بعض موقعوں پر تو ايسے موضوعات بھی سامنے آئے جو مقبول عوامی رائے سے متصادم اور روايات کے برخلاف تھے۔ ليکن ان فلموں اور ان کو بنانے والے ماہرين کو موضوعات کی وجہ سے نہيں بلکہ تکنيکی مہارت اور بہترين کاوش کی بدولت ايوارڈ سے نوازا گيا۔

ايک پاکستانی فلم ميکر کا اس ايوارڈ کو جيتنا ان اصولوں سے ہٹ کر نہيں ہے۔ انھيں اپنی قابليت اور بہترين تکنيکی صلاحيتوں کو کاميابی سے بروئے کار لانے کی بدولت ايوارڈ ديا گيا۔ امريکی حکومت کی جانب سے ان کے کام کی پشت پنائ يا حمايت کا اس سارے عمل سے کوئ تعلق نہيں ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu


USDOTURDU_banner.jpg
 

arifkarim

معطل
اردو فورمز پر پاکستان کی ايک فلم ميکر کو آسکر ايوارڈ ديے جانے کے بعد شديد ردعمل اور بے شمار پيغامات حيران کن ہيں۔ کچھ رائے دہندگان اسے مسلمانوں کو بالعموم اور پاکستانيوں کو بالخصوص بدنام کرنے کے ليے امريکی سازش اور جامع منصوبہ بندی قرار دے رہے ہيں۔ اس ضمن ميں لکھے گئے کئ کالمز اور بے شمار تنقیدی جملے بغير حقائق کی تحقيق کيے مقبول عام جذبات کو ايک خاص رخ پر ڈالنے کے ضمن ميں ايک واضح مثال ہے۔
مغربی ایوارڈز کسی مسلمان کو اور پھر کسی عورت کو ملیں۔ اس سے بڑی بدنامی اور کیا ہوگی؟ ڈاکٹر عبدالسلام سے لیکر ملالہ تک سب اس بدنامی کا مزہ چکھ چکے ہیں۔
 

یاز

محفلین
یاسر پیرزادہ صاحب نے 2 مارچ کے روزنامہ جنگ میں شرمین عبید کو ملنے والے ایوارڈ کے ضمن میں کالم لکھا ہے۔
لنک

06_10.gif
 

یاز

محفلین
جیسے ابنِ انشاء نے اپنی ایک کتاب (اردو کی آخری کتاب ہے شاید) میں کچھ یوں لکھا ہے کہ "پہلے سورج زمین کے گرد گھومتا تھا، پھر سائنسدانوں نے زمین کو سورج کے گرد گھمانا شروع کر دیا"۔

اسی طرح میرے جیسا دل جلا اگر کبھی مستقبل میں پاکستان کی تاریخ (یا شاید حال) لکھے تو کچھ یوں لکھے گا "پاکستان میں پہلے نہ خواتین کے چہرے پہ تیزاب پھینکا جاتا تھا، نہ غیرت کے نام پہ قتل ہوا کرتے تھے۔ پھر شرمین عبید نے پہلے خواتین کے چہرے پہ تیزاب پھینکنا (یا پھنکوانا) شروع کیا، پھر غیرت کے نام پہ خواتین کو قتل کرنا یا کروانا بھی شروع کیا۔ شرمین عبید کے ان مذموم افعال سے مملکتِ خدادادِ پاکستان پوری دنیا میں بدنام وغیرہ ہوئی"۔ وغیرہ وغیرہ
 
Top