ایک ادنیٰ کاوش تنقید و تبصرہ کیلئے ،'' مچلتی آرزوؤں کو ابھی اک نام دینا ہے''


مچلتی آرزوؤں کو ابھی اک نام دینا ہے
اُسے بدنام کرنا ہے، اُسے الزام دینا ہے

بہت پی کر ہے بے قابو، کروں تو کیا میں ساقی ہوں
مرا بس کام ہے اتنا جو مانگے جام دینا ہے

یہ باتیں منحصر ہیں کھیتیوں کی ہی طبیعت پر
اُنہیں دینا ہے پانی صبح کو یا شام دینا ہے

اُنہی کے دل میں جو آئے، عطا کر دیں ہمیں اُجرت
ہماری مانگ پر کب آجروں نے کام دینا ہے

میں اُس کی دھمکیوں سے ڈر کے بھاگوں تو مجھے کہنا
نہ بن پایا اگر کچھ بھی، مچا کہرام دینا ہے

مرے کُچھ خواب ہیں جن کی مجھے تعبیر پانی ہے
اُسی ہی سلسلے میں کُچھ امر انجام دینا ہے

بچا رکھا ہے مُشکل وقت کی خاطر تُجھے اظہر
ابھی موقع نہیں آیا تُجھے آرام دینا ہے​
 

مرے کُچھ خواب ہیں جن کی مجھے تعبیر پانی ہے
اُسی ہی سلسلے میں کُچھ امر انجام دینا ہے
لفظ امر کو غلط باندھا ہے ۔ ’کچھ امر‘ کو ’امر کچھ ‘ سے تبدیل کرکے اس سقم کو دور کیا جاسکتا ہے ، لیکن دوسرے مصرع کا مضمون بھی کچھ مزیدار نہیں۔ نظرِ ثانی فرمائیے
 
مچلتی آرزوؤں کو ابھی اک نام دینا ہے
اُسے بدنام کرنا ہے، اُسے الزام دینا ہے

بہت پی کر ہے بے قابو، کروں تو کیا میں ساقی ہوں
مرا بس کام ہے اتنا جو مانگے جام دینا ہے

یہ باتیں منحصر ہیں کھیتیوں کی ہی طبیعت پر
اُنہیں دینا ہے پانی صبح کو یا شام دینا ہے

اُنہی کے دل میں جو آئے، عطا کر دیں ہمیں اُجرت
ہماری مانگ پر کب آجروں نے کام دینا ہے

میں اُس کی دھمکیوں سے ڈر کے بھاگوں تو مجھے کہنا
نہ بن پایا اگر کچھ بھی، مچا کہرام دینا ہے

مرے کُچھ خواب ہیں جن کی مجھے تعبیر پانی ہے
اُسی ہی سلسلے میں امر کُچھ انجام دینا ہے

بچا رکھا ہے مُشکل وقت کی خاطر تُجھے اظہر
ابھی موقع نہیں آیا تُجھے آرام دینا ہے​
 
لفظ امر کو غلط باندھا ہے ۔ ’کچھ امر‘ کو ’امر کچھ ‘ سے تبدیل کرکے اس سقم کو دور کیا جاسکتا ہے ، لیکن دوسرے مصرع کا مضمون بھی کچھ مزیدار نہیں۔ نظرِ ثانی فرمائیے
یوں کہا جائے تو جناب؟
مرے کُچھ خواب ہیں جن کی مجھے تعبیر پانی ہے
کہانی موڑ پر لا کر اسے انجام دینا ہے
 
مچلتی آرزوؤں کو ابھی اک نام دینا ہے
اُسے بدنام کرنا ہے، اُسے الزام دینا ہے

بہت پی کر ہے بے قابو، کروں تو کیا میں ساقی ہوں
مرا بس کام ہے اتنا جو مانگے جام دینا ہے

یہ باتیں منحصر ہیں کھیتیوں کی ہی طبیعت پر
اُنہیں دینا ہے پانی صبح کو یا شام دینا ہے

اُنہی کے دل میں جو آئے، عطا کر دیں ہمیں اُجرت
ہماری مانگ پر کب آجروں نے کام دینا ہے

میں اُس کی دھمکیوں سے ڈر کے بھاگوں تو مجھے کہنا
نہ بن پایا اگر کچھ بھی، مچا کہرام دینا ہے

مرے کُچھ خواب ہیں جن کی مجھے تعبیر پانی ہے
کہانی موڑ پر لا کر اُسے انجام دینا ہے

بچا رکھا ہے مُشکل وقت کی خاطر تُجھے اظہر
ابھی موقع نہیں آیا تُجھے آرام دینا ہے​
 

الف عین

لائبریرین
آج کل ساری ادنیٰ کوششیں کر رہے ہو، اعلیٰ کیوں چھوڑ دیں؟؟
کہرام اور شام قوافی والے اشعار تو محض قافیہ استعمال کرنے کی کوشش یا تک بندی ہے، ان کو تو نکال ہی دو۔
مطلع بھی بہت واضح نہیں۔
بہت پی کر ہے بے قابو، کروں تو کیا میں ساقی ہوں
رواں نہیں دوسرا نصف۔ کون بے قابو ہے؟ یہ واضح نہیں ہوتا۔ یا جنرل بات کہی جا رہی ہے تو ’ہیں‘ ہونا چاہئے۔
نصف دوم کو ’کروں بھی کیا، کہ ساقی ہوں‘ کیا جا سکتا ہے

اُنہی کے دل میں جو آئے، عطا کر دیں ہمیں اُجرت
ہماری مانگ پر کب آجروں نے کام دینا ہے
۔۔’انہی‘ کیوں؟ یہاں مطلب ’ان کے دل میں جو بھی آئے‘ ہے نا؟
؎جو ان کے دل میں آئے، وہ عطا کر۔۔۔
بہتر ہو گا۔
دوسرے مصرع کا پنجابی محاورہ چاہو تو بدل دو، ورنہ پاکستان میں توچلتا ہی ہے (نے دینا ہے بجائے ’کو دینا ہے‘ کے)

مرے کُچھ خواب ہیں جن کی مجھے تعبیر پانی ہے
کہانی موڑ پر لا کر اُسے انجام دینا ہے
۔۔’پانی‘ سے مراد آب بھی ہو سکتی ہے۔ اس لفظ کو بدل دیا جائے تو اچھا ہے۔
بہت سے خواب ہیں جن کی ابھی تعبیر باقی ہے
ہو سکتا ہے
دوسرا مصرع بھی پہلی صورت ہی بہتر تھی، کچھ تبدیلی کر کےمثال کے طور پر
اسی باعث مجھے کچھ کام ابھی انجام دینا ہے
 
مدیر کی آخری تدوین:
آج کل ساری ادنیٰ کوششیں کر رہے ہو، اعلیٰ کیوں چھوڑ دیں؟؟
کہرام اور شام قوافی والے اشعار تو محض قافیہ استعمال کرنے کی کوشش یا تک بندی ہے، ان کو تو نکال ہی دو۔
مطلع بھی بہت واضح نہیں۔
بہت پی کر ہے بے قابو، کروں تو کیا میں ساقی ہوں
رواں نہیں دوسرا نصف۔ کون بے قابو ہے؟ یہ واضح نہیں ہوتا۔ یا جنرل بات کہی جا رہی ہے تو ’ہیں‘ ہونا چاہئے۔
نصف دوم کو ’کروں بھی کیا، کہ ساقی ہوں‘ کیا جا سکتا ہے

اُنہی کے دل میں جو آئے، عطا کر دیں ہمیں اُجرت
ہماری مانگ پر کب آجروں نے کام دینا ہے
۔۔’انہی‘ کیوں؟ یہاں مطلب ’ان کے دل میں جو بھی آئے‘ ہے نا؟
؎جو ان کے دل میں آئے، وہ عطا کر۔۔۔
بہتر ہو گا۔
دوسرے مصرع کا پنجابی محاورہ چاہو تو بدل دو، ورنہ پاکستان میں توچلتا ہی ہے (نے دینا ہے بجائے ’کو دینا ہے‘ کے)

مرے کُچھ خواب ہیں جن کی مجھے تعبیر پانی ہے
کہانی موڑ پر لا کر اُسے انجام دینا ہے
۔۔’پانی‘ سے مراد آب بھی ہو سکتی ہے۔ اس لفظ کو بدل دیا جائے تو اچھا ہے۔
بہت سے خواب ہیں جن کی ابھی تعبیر باقی ہے
ہو سکتا ہے
دوسرا مصرع بھی پہلی صورت ہی بہتر تھی، کچھ تبدیلی کر کےمثال کے طور پر
اسی باعث مجھے کچھ کام ابھی انجام دینا ہے
اُستاد محترم اگر یوں کہا جائے تو کچھ بہتری نظر آتی ہے کیا؟


مچلتی آرزوؤں کو ابھی اک نام دینا ہے
دعا کہہ دے گی پورا کر، اُسے پیغام دینا ہے

بہت پی کر ہیں بے قابو، کروں بھی کیا کہ ساقی ہوں
مرا بس کام ہے اتنا جو مانگے جام دینا ہے

اُسے پھولوں سے رغبت ہے، لئے ہاتھوں میں گُل اپنے
محبت لکھ کے ماتھے پر، گُلابی شام دینا ہے


جو اُن کے دل میں آئے وہ عطا کر دیں ہمیں اُجرت
ہماری مانگ پر کب آجروں کو کام دینا ہے


تُمہاری مُسکُراہٹ کہہ رہی ہے جال ڈالو گے
یہ طے ہے بے وفائی کا مجھے الزام دینا ہے


بہت سے خواب ہیں جن کی ابھی تعبیر باقی ہے
صبح دم رات کی باتوں کو اک انجام دینا ہے


بچا رکھا ہے مُشکل وقت کی خاطر تُجھے اظہر
ابھی موقع نہیں آیا تُجھے آرام دینا ہے​
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
اب بہتر ہو گئی ہے۔
لیکن
بہت سے خواب ہیں جن کی ابھی تعبیر باقی ہے
صبح دم رات کی باتوں کو اک انجام دینا ہے
دوسرے مصرع میں صبح کا تلفظ غلط ہے۔ سحر دم کیا جا سکتا ہے۔ لیکن باتوں کو انجام دینا نہیں کہا جاتا۔ کام انجام دیا جاتا ہے، یا فیصلے کو انجام دئے جاتا ہے
سحر دم خواب کی باتوں پہ کام انجام دینا ہے
کیسا رہے گا۔ خود مجھے زیادہ پسند تو نہیں آیا۔ کچھ مزید سوچو۔
 
اب بہتر ہو گئی ہے۔
لیکن
بہت سے خواب ہیں جن کی ابھی تعبیر باقی ہے
صبح دم رات کی باتوں کو اک انجام دینا ہے
دوسرے مصرع میں صبح کا تلفظ غلط ہے۔ سحر دم کیا جا سکتا ہے۔ لیکن باتوں کو انجام دینا نہیں کہا جاتا۔ کام انجام دیا جاتا ہے، یا فیصلے کو انجام دئے جاتا ہے
سحر دم خواب کی باتوں پہ کام انجام دینا ہے
کیسا رہے گا۔ خود مجھے زیادہ پسند تو نہیں آیا۔ کچھ مزید سوچو۔
یوں کہا جائے تو جناب ؟

مچلتی آرزوؤں کو ابھی اک نام دینا ہے
دعا کہہ دے گی پورا کر، اُسے پیغام دینا ہے

بہت پی کر ہیں بے قابو، کروں بھی کیا کہ ساقی ہوں
مرا بس کام ہے اتنا جو مانگے جام دینا ہے

اُسے پھولوں سے رغبت ہے، لئے ہاتھوں میں گُل اپنے
محبت لکھ کے ماتھے پر، گُلابی شام دینا ہے

جو اُن کے دل میں آئے وہ عطا کر دیں ہمیں اُجرت
ہماری مانگ پر کب آجروں کو کام دینا ہے

تُمہاری مُسکُراہٹ کہہ رہی ہے جال ڈالو گے
یہ طے ہے بے وفائی کا مجھے الزام دینا ہے

بہت سے خواب ہیں جن کی ابھی تعبیر باقی ہے
نہیں معلوم اب کیا کیا مجھے انجام دینا ہے

بچا رکھا ہے مُشکل وقت کی خاطر تُجھے اظہر
ابھی موقع نہیں آیا تُجھے آرام دینا ہے​
 
Top