ایک ادنیٰ سی کاوش، تنقید، تبصرہ اور رہنمائی کیلئے،'' پیجئے اور پلائیں ہم کو''


پیجئے اور پلائیں ہم کو
آئیں دور لے جائیں ہم کو

دائیں دُشمن کو رکھ لیجئے
رکھ لیجئے پر بائیں ہم کو

گُم ہیں آپ کے اندر کب سے
جائیں ڈھونڈ کے لائیں ہم کو

آسانی سے مل جائیے گا
تھوڑی دور بھگائیں ہم کو

اُنکو دینا جُرم پہ اُنکے
راحت اور سزائیں ہم کو

دُشمن نوچیں دوست بھی نوچیں
بوٹی بوٹی کھائیں ہم کو

رب سے دور نہ رہئے اظہر
مانگیں بس اور پائیں ہم کو​
 

الف عین

لائبریرین
یہ تو واقعی ادنیٰ سی کاوش ہے، تمہاری انکساری ہی نہیں۔ کہ تم اس سے اچھی شاعری کرتے ہو۔ بہر حال ۔۔۔
پیجئے اور پلائیں ہم کو
آئیں دور لے جائیں ہم کو
جب پوری غزل میں آئیں جائیں کا استعمال ہے تو یہاں پیجئے کی بجائے اسی انداز سےپی لیں‘ کہنا بہتر ہو گا۔ لیکلن دوسرا مصرع بہر حال بدلنے کی ضرورت ہے۔’ے جائیں‘ بطعر ’لجائیں‘ تقطیع ہو رہا ہے۔لے‘ کو بطور فع آنا چاہئے۔

گُم ہیں آپ کے اندر کب سے
جائیں ڈھونڈ کے لائیں ہم کو
۔۔اندر ہی گم ہیں تو کہاں جانے کا کہا جا رہا ہے؟؟

آسانی سے مل جائیے گا
تھوڑی دور بھگائیں ہم کو
÷÷مفہوم سمجھ نہیں سکا۔ جائیے گا بھی ’جئیے گا‘ تقطیع ہو رہا ہے۔ یہ بھی غلط ہے۔

اُنکو دینا جُرم پہ اُنکے
راحت اور سزائیں ہم کو
۔۔ان کو کیا دیا جائے؟ یہ تو کچھ بتایا ہی نہیں۔ ’ان کو‘ زائد ہے شاید۔یوں ہو سکتا ہے
ان کا جرم اگر ہے، دیجے
راحت اور سزائیں۔۔
اگرچہ یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ جرم پر راحت کون دیتا ہے؟ سزا کی خلاف انعام کہا جا سکتا ہے، راحت نہیں۔
باقی دو تین اشعار درست ہیں
 
یہ تو واقعی ادنیٰ سی کاوش ہے، تمہاری انکساری ہی نہیں۔ کہ تم اس سے اچھی شاعری کرتے ہو۔ بہر حال ۔۔۔
پیجئے اور پلائیں ہم کو
آئیں دور لے جائیں ہم کو
جب پوری غزل میں آئیں جائیں کا استعمال ہے تو یہاں پیجئے کی بجائے اسی انداز سےپی لیں‘ کہنا بہتر ہو گا۔ لیکلن دوسرا مصرع بہر حال بدلنے کی ضرورت ہے۔’ے جائیں‘ بطعر ’لجائیں‘ تقطیع ہو رہا ہے۔لے‘ کو بطور فع آنا چاہئے۔

گُم ہیں آپ کے اندر کب سے
جائیں ڈھونڈ کے لائیں ہم کو
۔۔اندر ہی گم ہیں تو کہاں جانے کا کہا جا رہا ہے؟؟

آسانی سے مل جائیے گا
تھوڑی دور بھگائیں ہم کو
÷÷مفہوم سمجھ نہیں سکا۔ جائیے گا بھی ’جئیے گا‘ تقطیع ہو رہا ہے۔ یہ بھی غلط ہے۔

اُنکو دینا جُرم پہ اُنکے
راحت اور سزائیں ہم کو
۔۔ان کو کیا دیا جائے؟ یہ تو کچھ بتایا ہی نہیں۔ ’ان کو‘ زائد ہے شاید۔یوں ہو سکتا ہے
ان کا جرم اگر ہے، دیجے
راحت اور سزائیں۔۔
اگرچہ یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ جرم پر راحت کون دیتا ہے؟ سزا کی خلاف انعام کہا جا سکتا ہے، راحت نہیں۔
باقی دو تین اشعار درست ہیں
اُستاد محترم یوں دیکھ لیجئے از راہ کرم


پیجئے اور پلائیں ہم کو
لے کر دور تو جائیں ہم کو

دائیں دُشمن کو رکھ لیجئے
رکھ لیجئے پر بائیں ہم کو

اپنے آپ سے مل پائیں ہم
جائیں ڈھونڈ کے لائیں ہم کو


آسانی سے آپ نہ ملنا
تھوڑی دور بھگائیں ہم کو

اچھے کام پہ راحت عنقا
ناقص کی ہوں سزائیں ہم کو


دُشمن نوچیں دوست بھی نوچیں
بوٹی بوٹی کھائیں ہم کو

رب سے دور نہ رہئے اظہر
مانگیں بس اور پائیں ہم کو​
 
اساتذہ بہتر رائے دے سکتے ہیں لیکن ہماری ناقص رائے میں دوسرا شعر یوں درست ہوسکتا ہے۔

اس سے بچنے کیلئے یوں کہہ لیا جائے تو؟

آئیں اور پلائیں ہم کو
لے کر دور ہی جائیں ہم کو

دائیں دُشمن کو رکھ لینا
رکھ لینا پر بائیں ہم کو

اپنے آپ سے مل پائیں ہم
جائیں ڈھونڈ کے لائیں ہم کو

آسانی سے آپ نہ ملنا
تھوڑی دور بھگائیں ہم کو

اچھے کام پہ راحت عنقا
ناقص کی ہوں سزائیں ہم کو

دُشمن نوچیں دوست بھی نوچیں
بوٹی بوٹی کھائیں ہم کو

رب سے دور نہ رہئے اظہر
مانگیں بس اور پائیں ہم کو​
 
تھوڑی تبدیلی

آئیں اور پلائیں ہم کو
لے کر دور تو جائیں ہم کو


دائیں دُشمن کو رکھ لینا
رکھ لینا پر بائیں ہم کو

اپنے آپ سے مل پائیں ہم
جائیں ڈھونڈ کے لائیں ہم کو

آسانی سے آپ نہ ملنا
تھوڑی دور بھگائیں ہم کو

اچھے کام پہ راحت عنقا
ناقص کی ہوں سزائیں ہم کو

دُشمن نوچیں دوست بھی نوچیں
بوٹی بوٹی کھائیں ہم کو

رب سے دور نہ رہئے اظہر
مانگیں بس اور پائیں ہم کو​
 
Top