ایم فل / پی ایچ ڈی مقالے کا عنوان کیسے چنا جائے

حسیب احمد حسیب نے 'تعلیم و تدریس' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 14, 2019

  1. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    2,761
    آپ خالی ذہن کے ساتھ تحقیق کے اصولوں کے مطابق تحقیق کیجیے. اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ حسن ہے
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1
  2. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    11,214
    جھنڈا:
    Pakistan
    صحیح کہا۔۔۔
    ایسا ہی ہونا چاہیے اور ایسا ہی ہوتا ہے !!!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. ابو ہاشم

    ابو ہاشم محفلین

    مراسلے:
    759
    حیرت ہے تحقیق اور بغیر مقصد کے؟
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. حسیب احمد حسیب

    حسیب احمد حسیب محفلین

    مراسلے:
    522
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Question
    تحقیق کے حوالے سے شاید اردو محفل میں ہی کہیں میرا مضمون موجود ہے،
    یہاں کچھ بنیادی نکات بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں
    تحقیق سوال سے جنم لیتی ہے اسکے پیچھے جستجو ہوتی ہے
    کیا ، کیوں ، کیسے ، کس لیے ، کس طرح ، کب ، کیوں نہیں ؟
    سوال تحقیق جنم لیتا ہے دلچسپی سے
    مثال کے طور پر میری دلچسپی اسلامی سیاست کے حوالے سے رہی ہے ، اسلام کی نگاہ میں سیاست کیا ہے اسکے پیچھے شریعت کی کون سی نصوص ہیں ، مسلمانوں کی سیاست کیا رہی ہے ، ہماری سیاست کا عروج و زوال کیونکر ہوا
    میرے اس سوال نے مجھے کتب سے رجوع کرنے پر مجبور کیا اور جیسے جیسے میں مطالعہ کرتا گیا بہت سے سوالوں کے جواب ملے اور بہت سے نئے سوال پیدا ہوئے پھر اس نئے سوال کا جواب اور پھر اس جواب سے ایک نیا سوال۔

    دوسری جانب جب میں متعدد حوالوں سے کسی نتیجے پر پہنچا تو میں نے یہ دیکھنے کی کوشش کی کہ کیا کسی اور نے بھی یہ نتیجہ نکالا ہے اور اگر نکالا ہے تو اسکے پاس اسکی دلیل کیا ہے،
    اسی ادھیڑ بن نے مجھے شاہ ولی اللہ دہلوی رح تک پہنچایا پھر سوال یہ پیدا ہوا کہ شاہ صاحب رح نے کس طرح اپنے سے پچھلوں کے کام کو آگے بڑھایا، آگے مزید یہ سوال پیدا ہوا کہ برصغیر پاک و ہند پر انکی شخصیت و افکار کے کیا اثرات ہوئے پھر مزید یہ سوال پیدا ہوا کہ برصغیر میں استعمار کی آمد کے بعد سیاسی فکر میں کیا تبدیلی آئی اور ہمارے اہل علم کہاں تک شاہ صاحب رح سے منسلک رہے اور کہاں ان پر استعمار کے اثرات ہوئے اور اگر ہر دو کا تقابلی مطالعہ کیا جائے تو کیا نتیجہ نکلتا ہے اور وہ نتیجہ مستقبل کیلئے کون سے در وا کر سکتا ہے۔

    یہ صرف ایک ادنیٰ سی مثال ہے کہ جس سے ہم یہ سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں کہ تحقیق کا دائرہ کہاں سے شروع ہوتا ہے اور آپ کو کہاں تک لے جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں آپ کیا کام کر سکتے ہیں یا دنیا کے سامنے کون سا نیا پہلو پیش کرسکتے ہیں کہ جو انکی نگاہوں سے اوجھل رہا ہو۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    11,214
    جھنڈا:
    Pakistan
    عرصہ دراز کے بعد آپ کو یہاں دوبارہ متحرک دیکھ کر خوشی ہورہی ہے!!!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  6. حسیب احمد حسیب

    حسیب احمد حسیب محفلین

    مراسلے:
    522
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Question
    بہت شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  7. ابو ہاشم

    ابو ہاشم محفلین

    مراسلے:
    759
    مقالےکے حوالے سے چند سوالات

    1 مقالے کے ضروری اجزاء کون کونسے ہوتے ہیں یعنی اس کا فارمیٹ کیا ہوتا ہے ؟
    2 مقالہ آپ thesis کو کہ رہے ہیں یا research paper کو؟ ان دونوں میں فرق کی وضاحت ہو سکتی ہے؟
    3 مقالے کی ضخامت کتنی ہوتی ہے؟
    4 کسی موضوع پر مقالہ لکھنے اور کتاب لکھنے میں کیا فرق ہے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  8. حسیب احمد حسیب

    حسیب احمد حسیب محفلین

    مراسلے:
    522
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Question

    1۔ مقالے کے ضروری اجزاء میں سب سے پہلے مقالے کا خلاصہ (abstract) لکھا جاتا ہے کہ جو موضوع کا تعین کرتا ہے ، اس کے بعد (synopsis) تشکیل دیا جاتا ہے کہ جو ہمیں ابواب ، عنوانات ، حوالہ جات اور مقالے کی وسعت و اہمیت سے متعلق معلومات فراہم کرتا ہے، ایک مقالہ بنیادی مقدمہ ، درست حوالہ جات اور آخر میں پیدا ہونے والے سوال کو سامنے لاتا ہے۔
    2۔ مقالہ (thesis) ہے یا ہمارے یہاں جب مقالہ لکھا جاتا ہے تو وہ (thesis) ہوتا ہے ریسرچ پیپر یا ریسرچ آرٹیکل ایک مقالے کا جز ہوتا ہے بعض اوقات یہ ایک مستقل مقالے کی شکل بھی اختیار کر لیتا ہے۔
    3۔ مقالے کی ضخامت سائنس ، سوشل سائنس اور ہیومینیٹیز کے اعتبار سے مختلف ہو سکتی ہے اسی طرح ایم اے ، ایم ایس اور پی ایچ ڈے مقالے کی ضخامت میں فرق ہوتا ہے ، معمول کے مطابق ایم فل کا مقالہ کم از کم دوسو صفحات اور پی ایچ ڈی مقالہ کم از کم ساڑھے تین سو صفحات پر مشتمل ہوتا ہے لیکن یہ کوئی پابند اصول نہیں ہے میں نے ہزار سے اوپر صفحات کے مقالے بھی دیکھے ہیں اور ڈیڑھ سو صفحات کے مقالے بھی۔
    4۔ مقالہ کتابی شکل میں آسکتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر کتاب مقالہ بھی ہو ، کتاب لکھنے کیلئے یہ امر ضروری نہیں کہ اس میں تحقیق یا معیار تحقیق کو سامنے رکھا جائے ، مثال کے طور کتاب مکمل فکشن ہو سکتی ہے لیکن مقالہ فکشن نہیں ہو سکتا ، کتاب چاہے تو تخیل کی دنیا میں سفر کرے لیکن مقالہ حقائق کو بیان کرنے کا پابند ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  9. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    2,761
    Dissertation کا کیا ترجمہ ہے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  10. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,934
    اردو میں اسے مقالہ ہی کہا جاتا ہے، تاہم، یہ ماسٹرز لیول کا مقالہ نہیں، بلکہ، پی ایچ ڈی مقالہ ہوتا ہے۔ یہ الگ بات کہ ہمارے ہاں ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے لیے بس مقالہ کا لفظ ہی بولا جاتا ہے۔ ایک جگہ Dissertation کا ترجمہ 'نبند مقالہ' پڑھا ہے تاہم، خدا جانے، اس کا مفہوم کیا ہے؟ کوئی فارسی دان جانے!
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  11. حسیب احمد حسیب

    حسیب احمد حسیب محفلین

    مراسلے:
    522
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Question
    ہمارے یہاں عام طور ہر تھیسز کی اصطلاح ہی استعمال ہوتی ہے کبھی اسے ریسرچ پیپر یا Dissertation بھی کہا جاتا ہے لیکن تھیسز کے مترادف کے طور پر ہی۔
     

اس صفحے کی تشہیر