ایم ایم اے میں تحریک لبیک یا رسول اللہ اور پاکستان عوامی تحریک کو شامل کرنے کی کوشش جاری

الف نظامی نے 'سیاست' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 16, 2018

  1. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    34,469
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Cheeky
    رائٹ ونگ پاپولسٹ؟
     
    • متفق متفق × 1
  2. شاہد شاہ

    شاہد شاہ محفلین

    مراسلے:
    2,568
    کیسی باتیں کرتے ہیں۔ لیفٹ رائٹ لیفٹ رائٹ کی سیاست تو آج بھی جوں کی توں قائم ہے
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
    • متفق متفق × 1
  3. شاہد شاہ

    شاہد شاہ محفلین

    مراسلے:
    2,568
    پاپولسٹ
     
  4. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    34,469
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Cheeky
    کونسل اور کنونشن مسلم لیگز کے بارے میں کیا خیال ہے؟
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  5. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی مدیر

    مراسلے:
    20,866
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    یوں کہہ لیجیے کہ اب سرے سے موجود نہیں۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  6. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    6,449
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    یوں کہیے کہ اصل سیاست لفٹ رائٹ، لفٹ رائٹ کی ہی رہ گئی ہے۔ انہی کی لاٹھی انہی کی بھینس۔
     
    • متفق متفق × 2
  7. عبدالقیوم چوہدری

    عبدالقیوم چوہدری محفلین

    مراسلے:
    14,711
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    یعنی اردو محفل ہو گئی ہیں. :battingeyelashes:
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  8. عبدالقیوم چوہدری

    عبدالقیوم چوہدری محفلین

    مراسلے:
    14,711
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    'کی ہی رہ گئ ہے' بہت زیادہ اضافی ہے.
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  9. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    13,482
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    یہ غلط فہمی تو میں بالکل نہیں رکھتا کہ نون لیگ اور پی ٹی آئی کی ٹاپ قیادتیں اسلام کے لیے ذرا فکرمند ہیں، نہ میں یہ گمان رکھتا ہوں کہ اِس تہذیبی معرکے میں دینِ محمدؐ کے لیے اِن دونوں کو ادنیٰ درجے کی کوئی پریشانی یا کوئی تشویش ہو سکتی ہے۔ البتہ یہ میں ادراک رکھتا ہوں کہ ان دونوں قیادتوں کو اپنی اپنی پارٹی میں موجود اس عنصر کو کھو دینے کی پریشانی حد سے بڑھ کر ہو سکتی ہے جو بہرحال اسلام کے لیے پریشان ہوتا ہے اور جس کے لیے اس ملک میں اسلامی تہذیب کو پسپا ہوتا یا لبرل اور قادیانی ایجنڈا کو پیش قدمی کرتا دیکھنا ناقابل برداشت ہے۔ بطور اسلامی سیکٹر، یہ خاموش عنصر اس ملک میں میری بہت بڑی سٹرینتھ (strength) ہے اور اس سے کام لے کر مجھے اس تہذیبی معرکے میں کئی ایک ہدف سر کرنے اور کئی ایک بلائیں اپنے دین اور امت سے دفع کرنی ہیں۔ یہ بات میرے لیے اضافی طور پر خوش آئند ہے کہ ان دو بڑی پارٹیوں کی ٹاپ قیادتیں کسی بھی معنیٰ میں کوئی نظریاتی قیادتیں نہیں۔ ان کے نظریاتی ہونے پر میں ضرور خوش ہوتا اگر یہ اسلامی ہوتیں۔ ہاں غیر اسلامی ہوں اور پوری طرح نظریاتی ہوں، اس سے مہلک آفت اِس ملک اور قوم کے حق میں بھلا کیا ہو گی؟
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  10. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    13,482
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اپنی کتاب ’’تحریک اسلامی کامیابی کی شرائط‘‘ میں بہت ہی دل پذیر انداز میں لکھا تھا:
    ’’دنیا میں جو نظامِ زندگی بھی قائم ہے اُن کو اعلیٰ درجے کے ذہین اور ہوشیار لوگ چلا رہے ہیں اور ان کی پشت پر مادّی وسائل کے ساتھ عقلی اور فکری طاقتیں اور علمی و فنی قوتیں کام کر رہی ہیں۔ ان کے مقابلے میں ایک دوسرے نظام کو قائم کر دینا اور کامیابی کے ساتھ چلا لینا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ یہ بسم اللہ کے گنبد میں رہنے والوں کے کرنے کا کام نہیں ہے۔ سادہ لوح خواہ کتنے ہی نیک اور نیک نیت ہوں اس سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتے، اس کے لیے گہری بصیرت اور تدبّر کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے دانشمندی اور معاملہ فہمی درکار ہے۔ اس کام کو وہی لوگ کر سکتے ہیں جو موقع شناس اور باتدبیر ہوں اور ان کی زندگی کے مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ حکمت ان کے سب اوصاف کے لیے ایک جامع لفظ ہے اور اس کا اطلاق دانائی کے متعدد مظاہر پر ہوتا ہے۔ یہ حکمت ہے کہ آدمی انسانی نفسیاتی سمجھ رکھتا ہو اور انسانوں سے معاملہ کرنا جانتا ہو۔ لوگوں کے ذہنوں کو اپنی دعوت سے متاثر کرنے اور ان کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنے کے طریقوں سے واقف ہو۔ ہر شخص کو ایک ہی لگی بندھی دعا دیتا نہ چلا جائے بلکہ ہر ایک کے مزاج اور مرض کی صحیح تشخیص کر کے علاج کرے۔ یہ بھی حکمت ہے کہ آدمی اپنے کام کو اور اُس کے کرنے کے طریقوں کو جانتا ہو۔ یہ بھی حکمت ہے کہ آدمی اس وقت کے حالات پر نظر رکھتا ہو، مواقع کو سمجھتا ہو اور یہ جانتا ہو کہ کس موقع پر کیا تدبیر کی جانی چاہیے۔ حالات کو سمجھے بغیر اندھا دھند قدم اٹھا دینا، بے موقع کام کرنا اور موقع پر چوک جانا غافل لوگوں کا کام ہے اور ایسے لوگ خواہ کتنے ہی پاکیزہ مقصد کے لیے کتنی ہی نیکی اور نیک نیتی کے ساتھ کام کر رہے ہوں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ ان سب حکمتوں سے بڑھ کر بڑی حکمت یہ ہے کہ آدمی دین میں سمجھ اور معاملات ِ دنیا کی بصیرت رکھتا ہو۔ محض احکام اور مسائلِ شریعت سے واقف ہونا اور آنے والے حادثوں پر چسپاں کر دینا کسی مفتی کے لیے تو کافی ہو سکتا ہے مگر بگڑے ہوئے معاشرے کو درست کرنے اور نظام زندگی کو جاہلیت کی بنیادوں سے اکھاڑ کر ازسرِ نو قائم کرنے کے لیے کافی نہیں ہو سکتا۔ ‘‘
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1

اس صفحے کی تشہیر