اعتبار ساجد ایسا نہیں کہ ہم کو محبت نہیں مِلی۔ اعتبار ساجد

شیزان

لائبریرین
ایسا نہیں کہ ہم کو محبت نہیں مِلی​
ہم جیسی چاہتے تھے وہ قُربت نہیں مِلی​
​
ملنے کو زندگی میں کئی ہمسفر ملے​
لیکن طبیعتوں سے طبیعت نہیں ملی​
​
چہروں کے ہر ہجوم میں ہم ڈُھونڈتے رہے​
صُورت نہیں ملی کہیں سیرت نہیں ملی​
​
وہ یک بیک ملا تو بہت دیر تک ہمیں​
الفاظ ڈُھونڈنے کی بھی مُہلت نہیں ملی​
​
اُس کو گِلہ رہا کہ توجہ نہ دی اُسے​
لیکن ہمیں خُود اپنی رفاقت نہیں ملی​
​
ہر شخص زندگی میں بہت دیر سے مِلا​
کوئی بھی چیز حسبِ ضرُورت نہیں ملی​
​
اعتبار ساجد​
​
"تمہیں کتنا چاہتے ہیں" سے انتخاب​
​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top