اہلِ خرد کی منطق انھی کا کمال ہے ٭ راحیلؔ فاروق

اہلِ خرد کی منطق انھی کا کمال ہے
جس کو جواب کہتے ہیں وہ بھی سوال ہے

باتوں کی ریل پیل ہے بھیدوں کا کال ہے
نقد و نظر کی خیر کہ ردی کا مال ہے

دیکھا بڑے بڑوں کا عروج و زوال ہے
لیکن نہ پوچھ دل کا جو ہجراں میں حال ہے

اے تو کہ تجھ کو گزرے ہوؤں کا ملال ہے
ایک آج کل بھی شہر میں مائی کا لال ہے

منبر کا ایک درس ہی کافی ہے ساقیا
جب زندگی حرام ہو سب کچھ حلال ہے

غارت ہوئے ہیں آپ سے پہلے بھی آپ سے
جس کو چلن سمجھتے ہیں صاحب وہ چال ہے

تقدیر کے مذاق پہ ہنسنا نہیں محال
روتے ہوؤں کے سامنے ہنسنا محال ہے

آ ایک دوسرے کو سنبھالیں کہ عشق کا
آدھا نشہ جنون ہے آدھا جمال ہے

اچھے رہے وہ لوگ جو پی کر بہک گئے
سرمایۂِ فقیہ فقط قیل و قال ہے

دل آپ کا ہے آپ کے دل میں جو آ گیا
ہم تو یہی کہیں گے کہ اچھا خیال ہے

ان کے کرم سے شکوہ ہے راحیلؔ شکر ہے
یہ بھی کرم ہے ورنہ ہماری مجال ہے

راحیلؔ فاروق
 

یاسر شاہ

محفلین
Top