اک نئی غزل

امان زرگر

محفلین
غم کا احوال اک نئے ڈھب سے
آج کرتا ہے دل بیاں سب سے
اے ہنر کچھ دکھا اثر اب تو
داغِ دل چاک ہے مرا کب سے
اک جنوں اب ہے بس مرے ہمراہ
اب مرا راستہ جدا سب سے
آس کا بجھ چلا دیا دل میں
دشتِ وحشت کو ہے گلہ شب سے
سب کو بھائے ہے جانِ گلشن ہے
گل کو نسبت ہے یار کے لب سے
 
آخری تدوین:
اچھی غزل ہے۔
اے ہنر کچھ دکھا اثر اب تو
داغِ دل چاک ہے مرا کب سے
بھائی داغ نہیں دامن چاک ہوتے ہیں، زخم چاک ہوتے ہیں، ایک بار غور فرما لیں۔

غم کا احوال اک نئے ڈھب سے
آج کرتا ہے دل بیاں سب سے
یہاں بھی تشنگی محسوس ہوتی کیونکہ اگر آپ اس نئے ڈھب کا کچھ اشارہ دیں تو شعر اور خوبصورت ہو جائے۔
اچھی غزل کے لئے ڈھیروں داد !
 

امان زرگر

محفلین
اچھی غزل ہے۔

بھائی داغ نہیں دامن چاک ہوتے ہیں، زخم چاک ہوتے ہیں، ایک بار غور فرما لیں۔

غم کا احوال اک نئے ڈھب سے
آج کرتا ہے دل بیاں سب سے
یہاں بھی تشنگی محسوس ہوتی کیونکہ اگر آپ اس نئے ڈھب کا کچھ اشارہ دیں تو شعر اور خوبصورت ہو جائے۔
اچھی غزل کے لئے ڈھیروں داد !
غم کا احوال ہو بیاں ڈھب سے
دل نے سیکھا ہے صحبت شب سے
 

الف عین

لائبریرین
غم کا احوال ہو بیاں ڈھب سے
دل نے سیکھا ہے صحبت شب سے
اس سے تو اصل شعر ہی بہتر تھا اور با معنی۔ اس کو تو سمجھ ہی نہیں سکا
اے ہنر کچھ دکھا اثر اب تو
داغِ دل چاک ہے مرا کب سے
کاشف کی بات درست ہے۔ دوسرا مصرع شاید میں یوں کہتا
زخم دل ہے مرا ہرا کب سے

اک جنوں اب ہے بس مرے ہمراہ
اب مرا راستہ جدا سب سے
÷÷پہلے مصرع میں ’اب‘ کی نشست بدل کر دیکھیں شاید کچھ بہتری آئے۔

آس کا بجھ چلا دیا دل میں
دشتِ وحشت کو ہے گلہ شب سے
÷÷ بجھ چلا‘ صوتی طور پر کچھ کرخت لگتا ہے۔ بہتر شاید یوں ہو
آس کی شمع گل ہوئی دل میں

سب کو بھائے ہے جانِ گلشن ہے
گل کو نسبت ہے یار کے لب سے
÷÷جان گلشن ہے‘ کا فقرہ اجنبی محسوس ہوتا ہے۔
اس سبب سے ہی سب کو بھائے ہے
یا
اس سبب سے ہی سب کو بھاتا ہے
 

امان زرگر

محفلین
اک جنوں اب ہے بس مرے ہمراہ
اب مرا راستہ جدا سب سے
÷÷پہلے مصرع میں ’اب‘ کی نشست بدل کر دیکھیں شاید کچھ بہتری آئے۔
اک جنوں بس ہے اب مرے ہمراہ​
اب مرا راستہ جدا سب سے
شاید آپ کی مراد اس طرح تھی یا میں کم فہم سمجھ نہیں سکا۔۔​
 

امان زرگر

محفلین
اساتذہ اور دیگر احباب کا شکر گزار ہوں۔۔۔ اصلاح کے بعد غزل پیش خدمت ہے سر الف عین
غم کا احوال اک نئے ڈھب سے
آج کرتا ہے دل بیاں سب سے
اے ہنر کچھ دکھا اثر اب تو
زخمِ دل ہے مرا ہرا کب سے
اک جنوں بس ہے اب مرے ہمراہ
اب مرا راستہ جدا سب سے
آس کی شمع گل ہوئی دل میں
دشتِ وحشت کو ہے گلہ شب سے
اس سبب سے ہی سب کو بھائے ہے
گل کو نسبت ہے یار کے لب سے
 
آخری تدوین:
Top