تاسف اک دیا اور بجھا۔۔۔ ڈاکٹر محمد حسن

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

الف عین

لائبریرین
دلی کی اردو دنیا کے پاس دار ڈاکٹر محمد حسن بھی چل بسے۔ کل مختلف ذرائع سے ای میلس ملیں کہ ڈاکٹر محمد حسن 25 اپریل کی رات اس دیار فانی سے کوچ کر گئے۔ ان للہ و انا الیہ راجعون۔
مرحوم جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں شعبہ اردو سے رٹائر ہوئے تھے۔ اس سے پہلے مرحوم علی گڑھ، لکھنؤ اور دہلی یونیورسٹی میں بھی رہے لیکن آخر 15 سال جے این یو میں گزارے۔ مارکسسٹ نظرئےکے لئے وہ ہمیشہ یاد کئے جائیں گے لیکن موصوف دوسراے مکاتب فکر کا بھی احترام کرتے تھے۔
مراد آباد میں 1926 میں پیدا ہوئے محمد حسن اردو کے محقق، نقاد کے علاوہ اردو تھئیٹر میں بھی دلچسپی رکھتے تھے۔ بلکہ ہر موضوع کے ایسے استاد تھے کہ کوئی موضوع اچھوتا نہیں چھوڑا تھا، اردو میں ماس میڈیا کمیونیکیشن کا ایک کورس شروع کیا تو اس کی درسی کتابیں اردو میں نہیں ملیں تو ڈاکٹر محمد حسن نے خود ہی درسی کتاب لکھ دی۔
مرحوم کے ڈراموں کی ایک ای بک یہاں بھی دستیاب ہے۔
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔۔۔
 

الف عین

لائبریرین
افسانہ نگار رضوان الحق کے بیان سے ایک اقتباس
When I joined JNU as a student he was already retired, though he was everywhere and part of every discussion at Centre of Indian Languages. His position for Urdu students was just like Nazir Akbarabadi in Habib Tanveer's Agra Bazar.
He was one of the most Versatile personality of the Urdu world, He was known as critic, play write, theatrics, poet, Literary Historian, Novelist and Activist for Promotion of Urdu
.
 

شمشاد

لائبریرین
انا للہ و انا الیہ راجعون۔

اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ مرحوم پر اپنی بے شمار رحمتیں نازل فرمائے۔
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top