اڑتی ہے جو گرد پاؤں کی ٹھوکر سے

شمشاد

لائبریرین
آپ کے اس اقتباس سے ایک سوال اٹھتا ہے کہ قرآن میں پانچ غیب کا ذکر آیا ہے ( پتا نہیں آپ کو یہ معلوم بھی ہے کہ یا نہیں ) ۔۔۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ " دنیا میں آنے والے بچے کی جنس کا صرف اللہ کو علم ہے ۔ " ۔۔۔۔ اب ساری دنیا جانتی ہے کہ اب بچے کی جنس کا تعین ہوجاتا ہے ۔ اسے آپ کیا کہیں گی ۔ ؟ :confused:

مجھے آپ کی بات سے اختلاف ہے۔ بچے کی جنس کا علم صرف اللہ کو ہی ہے اور یہ اسی کے اختیار میں ہے کہ لڑکا پیدا کرنا ہے یا لڑکی۔ انسان کو تو جنس کا اس وقت پتہ چلتا ہے جب بچے کے خدوخال نمایاں ہو جاتے ہیں۔
 

ظفری

لائبریرین
مجھے آپ کی بات سے اختلاف ہے۔ بچے کی جنس کا علم صرف اللہ کو ہی ہے اور یہ اسی کے اختیار میں ہے کہ لڑکا پیدا کرنا ہے یا لڑکی۔ انسان کو تو جنس کا اس وقت پتہ چلتا ہے جب بچے کے خدوخال نمایاں ہو جاتے ہیں۔

شمشاد بھائی ۔۔۔ میں نے اپنی پہلی پوسٹ میں بڑے واضع الفاظ میں لکھا تھا کہ " اسباب سے ماوراء کسی چیز کو جان لینا ، " غیب " ہے ۔" اب خود ہی بتائیں کہ جو بات آپ کہہ رہے ہیں ۔ میری بات اس سے کہاں متصادم ہے ۔ ؟
دوسری بات یہ کہ جو بات میں نے زونی کو گوشوار کی ہے اس میں غیب کے اصل مقام کے تعین کے بارے میں اشارہ دینا مقصود تھا کہ مادرِ رحم میں شروع کے 120 دنوں جو کچھ ہوتا ہے اس کا صرف اللہ کو ہی علم ہوتا ہے ۔ یعنی یہ چیز " اسباب سے ماوراء ہے " ۔ کیونکہ انسانی شکل 120 دن بعد وجود میں آتی ہے ۔ اس کے بعد ہی ممکن ہے کہ عالمِ اسباب میں سے کوئی چیز لیکر اس انسانی شکل کا مشاہدہ کرلیا جائے ۔ مگر زونی نے میری بات کو سمجھے بغیر اپنا اعتراض جڑ دیا ۔ اور سب سے دلچسپ بات یہ کہ وہ ہمیشہ وہی بات کہہ دیتی ہے جو ایک مختلف طریقے سے میں کہہ رہا ہوتا ہوں ۔ لہذاٰ آج میں نے سوچا کہ کم از کم اس موضوع پر کچھ باتیں کلئیر کرلیں جائیں ۔ اور قبل اس کے کہ یہ سوال یا اعتراض وہاں سے آتا ۔ آپ نے ہی وہی اعتراض کردیا ۔ سو مجھے مجبورا ً اپنی پوسٹ کا یہ حصہ دکھانا پڑا کہ میں نے بھی یہی بات کہی ہے ۔
آپ نے جس بات کا ذکر کیا ہے وہ انسانی ارتقاء کی بہترین مثال ہے ۔ جسے قرآن نے بھی بڑے واضع انداز میں بیان کیا ہے ۔ اس پرگفتگو پھر کبھی صحیح ۔ :)
 

زونی

محفلین
شمشاد بھائی ۔۔۔ میں نے اپنی پہلی پوسٹ میں بڑے واضع الفاظ میں لکھا تھا کہ " اسباب سے ماوراء کسی چیز کو جان لینا ، " غیب " ہے ۔" اب خود ہی بتائیں کہ جو بات آپ کہہ رہے ہیں ۔ میری بات اس سے کہاں متصادم ہے ۔ ؟
دوسری بات یہ کہ جو بات میں نے زونی کو گوشوار کی ہے اس میں غیب کے اصل مقام کے تعین کے بارے میں اشارہ دینا مقصود تھا کہ مادرِ رحم میں شروع کے 120 دنوں جو کچھ ہوتا ہے اس کا صرف اللہ کو ہی علم ہوتا ہے ۔ یعنی یہ چیز " اسباب سے ماوراء ہے " ۔ کیونکہ انسانی شکل 120 دن بعد وجود میں آتی ہے ۔ اس کے بعد ہی ممکن ہے کہ عالمِ اسباب میں سے کوئی چیز لیکر اس انسانی شکل کا مشاہدہ کرلیا جائے ۔ مگر زونی نے میری بات کو سمجھے بغیر اپنا اعتراض جڑ دیا ۔ اور سب سے دلچسپ بات یہ کہ وہ ہمیشہ وہی بات کہہ دیتی ہے جو ایک مختلف طریقے سے میں کہہ رہا ہوتا ہوں ۔ لہذاٰ آج میں نے سوچا کہ کم از کم اس موضوع پر کچھ باتیں کلئیر کرلیں جائیں ۔ اور قبل اس کے کہ یہ سوال یا اعتراض وہاں سے آتا ۔ آپ نے ہی وہی اعتراض کردیا ۔ سو مجھے مجبورا ً اپنی پوسٹ کا یہ حصہ دکھانا پڑا کہ میں نے بھی یہی بات کہی ہے ۔
آپ نے جس بات کا ذکر کیا ہے وہ انسانی ارتقاء کی بہترین مثال ہے ۔ جسے قرآن نے بھی بڑے واضع انداز میں بیان کیا ہے ۔ اس پرگفتگو پھر کبھی صحیح ۔ :)




ہو سکتا ھے کہ آپ بھی وہی بات کر رہے ہوں جو میں کر رہی ہوں فرق یہ ھے کہ میں اپنے زاویہء نظر سے دیکھ رہی ہوں اور آپ اپنے ،خیر اس بات کو فرصت میں ڈسکس کروں گی :)
 
ہاں جی ! یہ زاویہ والی بات اچھی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم بھی عقل کی جیومٹری میں نالائق ہیں۔۔۔۔ اسی لئے زاویہ اکثر غلط ڈگری کے ہو جاتے ہیں
 

زونی

محفلین
آپ کے اس اقتباس سے ایک سوال اٹھتا ہے کہ قرآن میں پانچ غیب کا ذکر آیا ہے ( پتا نہیں آپ کو یہ معلوم بھی ہے کہ یا نہیں ) ۔۔۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ " دنیا میں آنے والے بچے کی جنس کا صرف اللہ کو علم ہے ۔ " ۔۔۔۔ اب ساری دنیا جانتی ہے کہ اب بچے کی جنس کا تعین ہوجاتا ہے ۔ اسے آپ کیا کہیں گی ۔ ؟ :confused:



آپکے اس سوال کا جواب تو شمشاد بھائی نے دے ہی دیا ھے کہ کم از کم پہلے تین ماہ تک تو جنس کا تعین نہیں ہو سکتا لیکن اسکے بعد انسان اسباب پیدا کر کے اس کا ادراک حاصل کر لیتا ھے لیکن لڑکا یا لڑکی کی پیدائش کا اختیار تو اسبان کے راستے حاصل نہیں کیا گیا ،یہی میں بھی کہنا چاہ رہی تھی کہ انسانی اسباب انسانی عقل تک ہی محدود ہیں اسکے آگے اسکا اختیار نہیں ھے کیا یہ بات سہی نہیں ھے:rolleyes:
 
وہی تو کر رہے ہیں اجکل محفل پر۔۔۔۔ ہم نے جدید پوستس کرنا بند کر دی ہیں۔۔۔۔ خواہ مخواہ مناظرہ والی کیفیات پیدا ہو جاتی ہیں نا !
 

شمشاد

لائبریرین
یونس بھائی ابھی سے ہمت ہار گئے۔
بھائی جی آپ اپنا کام جاری رکھیں۔ ہمیں انتظار رہے گا۔
 
Top