1. اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں فراخدلانہ تعاون پر احباب کا بے حد شکریہ نیز ہدف کی تکمیل پر مبارکباد۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    $500.00
    اعلان ختم کریں

اقبال عظیم اپنے مرکز سے اگر دور نکل جاؤ گے۔ (اقبال عظیم)

اَبُو مدین نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 16, 2017

  1. اَبُو مدین

    اَبُو مدین معطل

    مراسلے:
    695
    اپنے مرکز سے اگر دور نکل جاؤ گے
    خواب ہو جاؤ گے، افسانوں میں ڈھل جاؤ گے

    اب تو چہروں کے خد و خال بھی پہلے سے نہیں
    کس کو معلوم تھا تم اتنے بدل جاؤ گے

    اپنے پرچم کا کہیں رنگ بھلا مت دینا
    سرخ شعلوں سے جو کھیلو گے تو جل جاؤ گے

    دے رہے ہیں تمہیں جو لوگ رفاقت کا فریب
    ان کی تاریخ پڑھو گے تو دہل جاؤ گے

    اپنی مٹی ہی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو
    سنگ مرمر پہ چلو گے تو پھسل جاؤ گے

    خواب گاہوں سے نکلتے ہوئے ڈرتے کیوں ہو
    دھوپ اتنی تو نہیں ہے کہ پگھل جاؤ گے

    تیز قدموں سے چلو اور تصادم سے بچو
    بھیڑ میں سست چلو گے تو کچل جاؤ گے

    ہم سفر ڈھونڈو نہ رہبر کا سہارا چاہو
    ٹھوکریں کھاؤ گے تو خود ہی سنبھل جاؤ گے

    تم ہو اک زندۂ جاوید روایت کے چراغ
    تم کوئی شام کا سورج ہو کہ ڈھل جاؤ گے

    صبح صادق مجھے مطلوب ہے کس سے مانگوں
    تم تو بھولے ہو، چراغوں سے بہل جاؤ گے

    (اقبال عظیم)
     
    آخری تدوین: ‏فروری 16, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
  2. منہاج علی

    منہاج علی محفلین

    مراسلے:
    81
    کمال ہے بھئی
     
  3. منہاج علی

    منہاج علی محفلین

    مراسلے:
    81
    کیا لطیف اور دل کش شاعری ہے
     

اس صفحے کی تشہیر