آپ کا بچہ خاندان کا سب سے اہم فرد نہیں ہونا چاہیے

فاخر رضا نے 'اردو ادب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 21, 2018

  1. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    3,443
    آپ کا بچہ خاندان کا سب سے اہم فرد نہیں ہونا چاہیے
    جون روسمونڈ
    نیپلس ڈیلی نیوز، ۱ جنوری ۲۰۱۷

    حال ہی میں، میں نے ایک شادی شدہ جوڑے سے، جن کے تین بچے تھے ،پوچھا (وہ بچے ابھی لڑکپن کی عمر میں تھے) مجھے بتائیے کہ آپ کے گھر والوں میں سب سے سب سے زیادہ اہمیت کس کو حاصل ہے ؟ اس بہادر صدی کے تمام عظیم ماں باپ کی طرح انہوں نے جواب دیا: ہمارے بچے
    میں نے پوچھا :کیوں آپکے بچوں میں ایسا کیا ہے کہ آپ ان کو یہ مقام عطا کرتے ہیں ،اور اس صدی کے تمام عظیم والدین کی طرح وہ ہمارا جواب دینے سے قاصر تھے (سوائے جذباتی باتوں کے) لہذا ان کی بات کا میں نے ہی جواب دیا۔ میں نے کہا :ایسی کوئی معقول وجہ نہیں ہےجس وجہ سے آپ کے بچے گھر کے سب سے اہم افراد قرار پائیں۔
    اس کے بعد میں نے انہیں بتایا کہ ان کے بچوں کے ساتھ اگر تمام نہیں تو زیادہ تر مسائل اسی وجہ سے ہیں کہ ہم اپنے بچوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ آپ کا خاندان ، آپ کی عائلی زندگی اور آپ کا گھر ان بچوں کی وجہ سے وجود رکھتا ہے ، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ دراصل بچے آپ کی وجہ سے وجود رکھتے ہیں، اور وہ جس طرح سے زندگی گزار رہے ہیں، وہ ایک مستحکم خاندان کی وجہ سے ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ آپ کے بچے والدین کے بغیر نہ اچھا کھا سکتے تھے، نہ خوبصورت کپڑے پہن سکتے تھے ، نہ اتنے اچھے گھر میں رہ سکتے تھے، نہ اپنی چھٹیاں انجوائے کر سکتے تھے۔ آپ کے بغیر ان بچوں کی زندگی جو اس وقت نسبتا بے فکری کی زندگی ہے (باوجودیکہ وہ کبھی ہنگاموں سے باز نہیں آتے) ، پریشانیوں اور ضروریات کا مجموعہ ہوتی۔ یہ اس معاملے کا بنیادی نکتہ ہے۔
    میری عمر کے افراد یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ یہ اس معاملے کا بنیادی نکتہ ہے کیونکہ جب ہم بچے تھے تو ہم یہ بات اچھی طرح سمجھتے تھے کہ ہمارے خاندانوں میں سب سے زیادہ اہمیت ہمارے والدین کو حاصل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے والدین کی عزت کیا کرتے تھے ،اور یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے والدین کی طرف دیکھتے تھے۔ جی ہاں امریکہ میں ایک وہ وقت تھا کہ جب بچے سیکنڈ کلاس شہری ہوتے تھے
    ہمارے اوپر یہ بات بھی بہت واضح تھی کہ ہمارے والدین کی شادیاں ان کے ہمارے ساتھ رشتے سے زیادہ اہم تھیں۔ اسی لیے نہ ہم ان کے بستر پر سوتے تھے، نہ ان کی باتوں میں مداخلت کرتے تھے۔ خاندان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانا، ہماری اسکول کے بعد کی مصروفیات سے زیادہ اہم ہوتا تھا۔ ہم سے بات کرنے کی نسبت ، امی اور ابو آپس میں بہت زیادہ بات کرتے تھے ۔
    چونکہ ہمیں اپنے والدین کی طرف سے بہت اہمیت نہیں ملی، لہذا ہم بہت جلد اپنے پیروں پر کھڑے ہوگئے ۔ آج کل کے بچوں سے بہت پہلے۔
    آرمی میں سب سے اہم شخص جرنل ہوتا ہے۔ کسی کو ادارے میں سب سے اہم شخص اس ادارے کا سی ای او ہوتا ہے ۔ کلاس میں سب سے اہم شخص کلاس ٹیچر ہوتا ہے، اور خاندان میں سب سے اہم والدین ہوتے ہیں ۔
    بچے کی تربیت میں سب سے اہم عنصر انہیں معاشرے کا ایک ذمہ دار شہری بنانا ہے۔ تربیت کا بنیادی مقصد تمام مضامین میں اے گریڈ لینا ، بہترین کھلاڑی ہونا ، اولمپک کی تیراکی کی ٹیم میں شامل ہونا ، کسی بلند پائے کی یونیورسٹی میں داخلہ لینا یا نیوروسرجن بننا نہیں ہونا چاہیے ۔ تربیت کا بنیادی مقصد معاشرے اور ثقافت کو مضبوط کرنا ہونا چاہیے۔ ہمارا بچہ ہمارے لیے سب سے اہم ہے یہ جملہ آپکے بچے کو بگاڑنے کی طرف پہلا قدم ہے۔ نہ آپ یہ چاہتے ہیں نہ آپکا بچہ( اپنی لاعلمی میں )یہ چاہتا ہے اور نہ ہی امریکا کو اس سے کوئی فائدہ ہوگا۔
    (یہ مضمون آج ترجمہ کیا ہے۔ اس ترجمے پر بھی تنقید کیجیئے شکریہ)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
    • زبردست زبردست × 6
    • متفق متفق × 1
  2. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    3,443
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    10,183
    فاخر بھیا! عمدہ شراکت ہے۔ ترجمہ بھی رواں اسلوب میں ہے۔
     
    • متفق متفق × 2
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    26,399
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    بالکل متفق۔
    پرسوں دفتر میں بھی کچھ اسی سے ملتے جلتے موضوع پر گفتگو ہوئی تھی اور اس میں اس رائے کا اظہار کیا تھا کہ نہ تو ان میں احساسِ برتری پیدا ہونے دیا جائے اور نہ ہی احساسِ کمتری۔
    جو عادت یا کام ان کا اچھا ہو اس پر اس کے مطابق حوصلہ افزائی کی جائے اور جو عادت یا کام غلط یا برا ہو، اس پر مناسب انداز سے سرزنش کی جائے۔ اس کو یہ نہ سکھایا جائے کہ تمھاری سرزنش سے تمھاری سبکی ہوتی ہے۔ ہم میں سے بہت سے والدین یہی سوچ کر دوسروں کے سامنے بچے کو غلطی پر سرزنش نہیں کرتے کہ بچے پر برا اثر پڑے گا۔ جبکہ ایسا نہیں ہے، البتہ سرزنش نہ کرنے سے اس کی تربیت پر برا اثر ضرور پڑے گا۔
    بچے کی خوبیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا اور اس لغزشوں سے صرفِ نظر کرنا ہمارے معاشرے میں عام ہوتا جا رہا ہے۔ اور یہی بچے کی تربیت میں خرابی کا آغاز ثابت ہو رہا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • متفق متفق × 3
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  5. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    15,310
    جھنڈا:
    Pakistan
    بہت اچھا مضمون ہے..
    ان شاء اللہ بچوں کے حوالے سے لکھنے کا ارادہ ہے...
    لیکن پہلے بڑوں سے تو نمٹ لیا جائے!!!
    :terror::terror::terror:
    ویسے جب ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اور تربیت کے انداز کو دیکھتے ہیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے!!!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • دوستانہ دوستانہ × 2
    • متفق متفق × 2
  6. شاہد شاہ

    شاہد شاہ محفلین

    مراسلے:
    2,568
    یہ بہت اہم نکتہ ہے۔ کاش اور بھی والدین اسکو سمجھ کر اسپر عمل کرتے۔
     
    • متفق متفق × 2
  7. ابو ہاشم

    ابو ہاشم محفلین

    مراسلے:
    891
    یعنی بچے کو اس کی اوقات میں رکھا جائے!
    اور اس طرح دبا کر رکھنے کے نتائج؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  8. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    3,443
    میری ناچیز رائے میں ہر ایک کو ہی اسکی اوقات میں رکھنا چاہیے، نتیجہ یہ ہے کہ تقسیم عادلانہ ہوگی. کسی کے حقوق سلب نہیں ہونگے.
     
    • متفق متفق × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. ابو ہاشم

    ابو ہاشم محفلین

    مراسلے:
    891
    بچے کا اعتماد ختم ہو جائے گا جو کہ زندگی میں اہم ترین چیزوں میں سے ایک ہے
     
    • متفق متفق × 1
  10. شاہد شاہ

    شاہد شاہ محفلین

    مراسلے:
    2,568
    اعتماد تب ختم ہوگا اگر بات بات پر نوک ٹوک کی جائے۔ غلطی پر سزا جبکہ اچھا کام کرنے پر انعام دیا جانا چاہیے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  11. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    3,443
    بچے کو اگر ایک مرتبہ کسی چیز سے منع کریں تو ہمیشہ کریں اور اگر ایک دفعہ ایک چیز کی اجازت دیں تو ہمیشہ دیں. جب تک ہم اپنے آپ کو ڈسپلن نہیں کریں گے تب تک کوئی بھی نہیں کرے گا
    دوسرے یہ کہ گھر میں تو آپ اسے پچکار کر رکھ سکتے ہیں مگر وہ ہمیشہ pampered بچہ ہی بنے رہے گا
    تیسرے یہ کہ دنیا بڑی ظالم ہے اس میں اعتماد اچھی چیز ہے اور over confidence بہت بری چیز
    اعتماد اپنے بچے کو ضرور دیں مگر اسے اسکی حیثیت ضرور بتائیں تاکہ اسے اسکا رول معلوم رہے
     
    • متفق متفق × 4
    • زبردست زبردست × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    10,183
    اس لڑی میں مثبت انداز میں مکالمہ ہوا۔ صرف اتنی سی گزارش ہے کہ بچوں کے ساتھ شروع سے ایسا معاملہ کیا جائے تو ٹھیک ہے، تاہم، اگر ان کی تربیت میں شروع سے کجی یا کمی رہ گئی ہو تو پھر یہ نسخے کسی قدر ترمیم کے ساتھ آزمائے جائیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 2
  13. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    3,443
    یہ بات اہم ہے کہ بچوں سے بات کی جائے، ان سے ان کے مسائل ڈسکس کئے جائیں. ہمارے گھر میں عام طور پر ایک میٹنگ ہوتی ہے جسمیں سب کا ایک ووٹ ہوتا ہے. میں عام طور پر غیر جانبدار رہتا ہوں. باقی پانچ افراد کی ووٹنگ ہوتی ہے. یہ ان معاملات پر ہوتا ہے جن میں فیصلے کا کوئی مثبت اور منفی اثر نہیں ہوتا. مثلاً چھٹیاں گزارنے کہاں جائیں. بجٹ میں پہلے ہی بتا دیتا ہوں
    کچھ معاملات میں مداخلت برداشت نہیں کی جاسکتی مثلاً یہ کہ اب پاکستان واپس جانا ہے اور وہاں ہی رہنا ہے. اس معاملے میں اگر بچوں کے کہنے پر چلے تو کبھی واپس نہیں جاسکتے. لہٰذا اس معاملے میں ان کو سننا پڑے گا. اس طرح انہیں احساس بھی ہوگا کہ گھر میں زیادہ اہمیت کسے حاصل ہے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1
  14. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    3,443
    کچھ عرصہ پہلے یہ مضمون لکھا تھا سوچا یہاں شیئر کردوں ہوسکتا ہے پہلے بھی کیا ہو مگر لنک نہیں ملا اس لئے دوبارہ لکھ دیا امید ہے بچوں کو معاشرے کا مفید فرد بنانے میں یہ مضمون بھی کام آئے گا

    دوستی کیجیے صحت مند رہیے
    السلام علیکم

    روائتی دوستی میں دوست کو باقاعدہ سنبھالنا پڑتا تھا اور دوستی قائم رکھنے کے لئے کافی پاپڑ بیلنے پڑتے تھے. دوست کا روٹھ جانا ایک مسئلہ ہوتا تھا جس میں والدین تک شامل ہوجاتے تھے اور دوستیاں دوبارہ کراتے تھے. پوری پوری فلمیں اس موضوع پر بنی ہیں.
    یہاں میں وہ بنیادی اخلاقی اصول لکھوں گا جن کا ہونا دوستی قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے
    آپ دیکھیں گے کہ یہ اصول ایک لڑکپن سے گزرتے فرد کے لئے زندگی گزارنے میں کتنے معاون ثابت ہوتے ہیں
    Developmental psychology میں یہ اصول کہیں کہیں ملتے ہیں
    Empathy
    Thankfulness
    Self pity
    Forgiveness
    اپنے دوست کی ہر ممکن مدد کے لئے تیار ہونا
    اپنے دوست کا شکرگزار ہونا
    انکساری برتنا اور غرور سے پرہیز
    اپنے دوست کی غلطیاں معاف کردینا
    ان سب اصولوں کو اگر برتا جائے تو انسان اس معاشرے میں ایک fit انسان اور قابل قدر دوست کی طرح زندگی گزار سکتا ہے
    دوست انسان کو بہت سی نفسیاتی بیماریوں سے بچاتے ہیں اور اس کے لئے کوئی بھی قیمت ادا کی جاسکتی ہے
    ایک بچے میں یہ خصوصیات خود بخود نہیں آتیں بلکہ اس کے لئے والدین کو بھی محنت کرنا پڑتی ہے
    آج جبکہ سوشل میڈیا بچوں کو شدت پسندی، جارہیت، تشدد اور دہشت گردی کی طرف لے جارہا ہے، والدین کی ذمے داری ہے کہ اپنے بچوں کے اچھے دوست بنوائیں اور ان کی دوستی برقرار رکھنے کے لئے ان کی مندرجہ بالا اصولوں کی روشنی میں مدد کریں
    اپنے بچوں کو سمجھائیں کہ دوستی کسی کی فرینڈ ریکویسٹ قبول کرنے اور ناراضگی پر انفرینڈ کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک serious matter ہے
    مغرب میں رہنے والوں کو اس بات کا زیادہ اندازہ ہوگا کہ اپنے بچوں کو شدت پسندی سے بچانا کتنا مشکل ہوتا جارہا ہے. اب انہیں دوبارہ اپنے اخلاقی اقدار کی طرف پلٹنا ضروری ہوگیا ہے، اور یہ اصول ان کے لیے ایک اچھا سرمایہ ثابت ہوسکتے ہیں.
    ان اصولوں میں ایک اور اضافہ کرلیں اور وہ یہ ہے کہ اپنے بچوں کو self identity اورpurpose of life کی طرف متوجہ کریں. اس طرح جب وہ اپنے دوست بنائیں گے تو یہ ضرور دیکھیں گے کہ کونسا دوست ان کے مقصد زندگی کے حصول کے لیے معاون ہے اور کون نقصان دہ
    مذہبی ہونا انسان کو مقصد زندگی فراہم کرتا ہے، اسے اس دنیا کی بے ثباتی کی طرف متوجہ کرتا ہے اور اسے خالق حقیقی کے بنائے ہوئے اصولوں پر زندگی گزارنے پر اکساتا ہے. اپنے بچوں کو مذہب سے متعارف کرائیں تاکہ وہ ان معاملات میں کسی فسادی کے ہتھے نہ چڑھ جائیں. یاد رکھیں ہر شخص کسی نہ کسی عمر میں مذہب کی طرف متوجہ ہوتا ہے مگر صحیح رہنمائی کا فقدان اسے کنفیوز کردیتا ہے
    میری کوشش ہوگی کہ ان تمام باتوں پر الگ الگ سیر حاصل گفتگو ہو
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  15. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    3,443
    میرے خیال میں انسان کے لئے مضر چیزوں میں سے ایک مضر ترین چیز self centered ہونا ہے
    ہر انسان اپنی ذات سے محبت کرتا ہے اسی لئے اپنا اور اپنے سے جڑے لوگوں اور اشیاء کا خیال رکھتا ہے. جہاں یہ ایک مفید عمل ہے وہیں اگر یہ حد سے بڑھ جائے تو معاشرے پر برے اثرات کا باعث بنتا ہے. انسان اپنی ذات کو فائدہ پہنچانے کے لئے دوسروں کو نقصان پہنچانے سے بھی باز نہیں آتا
    اس کا توڑ یہ ہے کہ اپنے بچوں سے لوگوں کی مدد کرائیے ان کے ہاتھ سے صدقہ خیرات کرائیے
    اس طرح وہ نہ صرف خوشی، حقیقی خوشی محسوس کریں گے بلکہ اپنی ذات کے محور سے بھی باہر نکلیں گے
    اگر آپ کے پاس پیسے نہ ہوں تو کوئی بات نہیں، بچوں کو ساحل پر لے جائیں اور وہاں سے کوڑا کرکٹ جمع کریں. بالآخر انہیں کسی کی مدد کرنے پر اکسائیں تاکہ وہ معاشرے کا مفید شہری بن سکے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  16. شاہد شاہ

    شاہد شاہ محفلین

    مراسلے:
    2,568
    مجھے پاکستان کی صورت حال معلوم نہیں البتہ یہاں مغرب میں اس کے توڑ کیلئے اسکول سے قبل بچوں کو پری اسکول یا نرسری میں جانا لازمی ہوتا ہے۔ یہاں پڑھائی سے زیادہ بچوں کی باہمی سماجی صلاحیتیں تعمیر کی جاتی ہیں تاکہ انکی بنیاد میں میں میں کی بجائے ہم ہم ہم پر ڈھالی جا سکے۔
    یوں بچے کھیل کھیل میں ایک دوسرے کیساتھ نیک برتاؤ، اپنی اشیا اور کھلونوں کی شیرنگ وغیرہ سیکھ لیتے ہیں۔ اس طرح آگے اسکول لائف میں دوست بنانے میں آسانی ہوتی ہے اور خود اعتمادی کی کمی کا سامنا نہیں ہوتا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  17. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    15,310
    جھنڈا:
    Pakistan
    پاکستان کا کیوں نہیں معلوم؟؟؟
    ساری عمر تو یہیں پڑھا ہے!!!
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  18. شاہد شاہ

    شاہد شاہ محفلین

    مراسلے:
    2,568
    حالیہ صورت معلوم نہیں۔ اسکول سے قبل نرسری بھیجنا کتنا عام ہے اور وہاں کیا پڑھایا جاتا ہے؟ بچوں پر تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ اسکول سے قبل نرسری میں کچھ عرصہ گزارنے والے بچے اسکول لائف میں زیادہ جلدی اور آسانی سے سیٹ ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ انکی سوشل صلاحیتیں دوسرے بچوں سے بہتر ہوتی ہیں۔ یہ بچے کی ساخت کو پختہ کرنے، اسمیں قوت اعتماد بڑھنے اور مقابلہ کی لگن کیساتھ ساتھ دوسروں کیساتھ مل جل کر کام کرنے کا شوق بھی اجاگر کرتی ہے۔ جو بچے ان سے محروم رہتے ہیں وہ ذہین و فہیم ہونے کے باوجود اسکول اور بعد میں پیشہ ورانہ زندگی میں مختلف سوشل مسائل کا شکار بن سکتے ہیں
     
  19. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    3,443
    کیا پاکستان کے مدارس کے بچے معاشرے کی تعمیر میں کردار ادا کرنے کے لئے تیار کیے جارہے ہیں
    کیا یہ بچے پڑھ لکھ کر معاشرے کے مفید شہری بن رہے ہیں
    کیا ان بچوں کے والدین ان بچوں سے اپنے بڑھاپے میں مستفید ہوتے ہیں
    مجھے مدارس کے تعداد اور اس ذریعہ تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی تعداد کا کچھ اندازہ ہے، اگر یہ بچے پاکستان کو بہتر پاکستان بنانے میں اپنا کردار ادا کریں تو چند دن میں تبدیلی آسکتی ہے
    نارتھ ناظم آباد کراچی میں کم از کم تیس چالیس مدرسے ہوں گے اور ان میں کم از کم تین چار ہزار بچے پڑھ رہے ہوں گے، اگر یہ بچے ایک یوم صفائی منائیں تو پورا نارتھ ناظم آباد ہیرے کی طرح چمکنے لگے گا
    ہمیں ہر شخص کو مفید شہری بنانا ہے
    آپ کو اس لئے مخاطب کیا کہ آپ اندر کا حال مجھ سے بہتر جانتے ہوں گے
     
    • متفق متفق × 2
  20. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    15,310
    جھنڈا:
    Pakistan
    جذبہ اچھا ہے۔۔۔
    لیکن مدارس سے کہیں زیادہ تعداد اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں کی ہے۔۔۔
    شہر صاف کرنا طلباء کا نہیں بلدیہ کا کام ہے۔۔۔
    مدارس، اسکول، کالج کا کام تعلیم اور تربیت دونوں دینا ہے۔۔۔
    ان اداروں میں تربیت کا تو دور دور تک نام نہیں۔۔۔
    اور تعلیم کا جو حال ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے۔۔۔
    ہر شعبہ زوال پذیر ہے!!!
     
    • متفق متفق × 3

اس صفحے کی تشہیر