آوارگی

شاہد شاہنواز

لائبریرین
جستجو نے کسی منزل پہ
ٹھہرنے نہ دیا
پہلا مصرع ٹھیک لگا تو اس کی تقطیع آن لائن دیکھی:
فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن
جواب آیا۔۔۔

لیکن دوسرا مصرع وزن میں نہیں لگا ۔۔۔ اب میں نے اسے تبدیل کیا:
ہم پھرے دہر میں آوارہ خیالوں کی طرح
لیکن یہ اس سے ملتا نہیں، الگ ہی بحر نکلی:
فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن مفعول

سنا ہے بعض بحروں میں آخری رکن کو ایک حرف طویل کیا جائے تو اس کی اجازت ہوتی ہے، لیکن یہاں ہے کہ نہیں؟
اس کے علاوہ یہ سوال بھی ہے کہ شعر کہنے والے کو یہ بات کس حد تک معقول معلوم ہوتی ہے ۔۔۔
دوسرا مصرع ایک بار پھر بھی کہنے کی کوشش کیجئے۔۔۔ کیونکہ جو میں نے لکھا ہے، وہ مکمل معلوم نہیں ہوتا۔۔۔
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے ۔۔۔
لیکن یہ جو ہم لوگ اصلاح کی غرض سے کبھی ایک لفظ اوپر کبھی نیچے بڑھا گھٹا دیتے ہیں، اس سے مصرع بحر میں تو ہوجاتا ہے، لیکن کبھی کبھی
دل سے نکل جاتا ہے۔۔۔ توجہ فرمائیے گا!!
 

الف عین

لائبریرین
ہم پھرے دہر میں آوارہ خیالوں کی طرح
درست مصرع ہے، اور اسی بحر میں گعلن کی جگہ آخر میں مفعول لایا جا سکتا ہے
لیکن دہر میں بھی بھرتی لگتا ہے
ہم تو پھرتے رہے
کافی ہے۔
اگر کسی طرح ’ہم تو بس پھرتے رہے‘ آ سکے تو اور بہتر ہو
 

loneliness4ever

محفلین
جُستجو نے کسی منزل پہ ٹھہرنے نہ دیا
ہم بھٹکتے رہے آوارہ خیالوں کی طرح

بحر:
فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن

جُستجو نے کسی منزل پہ ٹھہرنے نہ دیا
ہم پھرے ہیں سدا آوارہ خیالوں کی طرح

بحر:
فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن
 
Top