آئی فون خریدنے کے لیے گردہ فروخت کرنے والا نوجوان مستقل معذور ہوگیا

محمداحمد نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 11, 2019

  1. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    20,806
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    آئی فون خریدنے کے لیے گردہ فروخت کرنے والا نوجوان مستقل معذور ہوگیا

    [​IMG]
    آئی فون کے لیے گردہ فروخت ہونے والا نوجوان امراضِ گردہ کا شکار ہوکر معذور ہوچکا ہے۔ فوٹو: اوڈٹی سینٹرل

    بیجنگ: نت نئے آلات اور فون خریدنے کا جنون ایک نوجوان کو عمربھر کے لیے گردے کا مریض بنا کر معذور کرگیا۔ چین سے آنے والی خبر کے مطابق ایک نوجوان نے آئی فون خریدنے کے لیے اپنا گردہ بیچا جس کے کچھ عرصے بعد وہ گردوں کی بیماری میں مبتلا ہوکر ڈائلیسِس کا محتاج ہوکر رہ گیا ہے۔

    آٹھ سال قبل چینی نوجوان ژیاؤ وینگ کی عمر 17 برس تھی جب آئی فون فور ریلیز ہوا اور اس غریب نوجوان نے اسے خریدنے کے لیے بلیک مارکیٹ میں اپنا گردہ فروخت کیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ آٹھ برس سے گردے کے مریض ہوچکے ہیں اور ڈائلیسِس مشین سے اپنا خون صاف کروارہے ہیں۔

    2011 میں آئی فون فور کا شہرہ تھا جو اسٹیٹس کی علامت بن چکا تھا۔ تاہم یہ فون اسکول کے ایک غریب طالب علم ژیاؤ وینگ کی پہنچ سے باہر تھا جس کے بعد اس نے گردہ بیچ کر فون خریدنے کا فیصلہ کیا۔ انسانی اعضا کے ایک اسمگلر کے ہاتھوں اس نے 3200 ڈالر میں اپنا صحت مند عضو فروخت کردیا لیکن اس کے بعد اس کی زندگی تباہ ہوکر رہ گئی ۔

    اسے کہا گیا کہ تھا کہ وہ ایک گردے پر زندہ رہ سکتا ہے لیکن گردہ فروش اسمگلر اسےجہاں لے گئے وہاں کے غیرقانونی آپریشن تھیئٹر میں صفائی کا انتظام نہ تھا اور اس کے زخم میں انفیکشن ہوگیا ۔ وینگ نے یہ خبر گھر والوں کو نہیں دی تھی اور یہ ہوا کہ آخر کار اس کی خراب صحت سب کے سامنے عیاں ہوگئی۔

    انفیکشن پھیل کر اس کے دوسرے گردے کو متاثر کرگیا اور وہ مستقل ڈائلائسِس کا محتاج ہوچکا ہے۔ لیکن کمزوری کی وجہ سے وہ بستر سے اٹھ بھی نہیں سکتا اور بہت مشکل سے دوچار ہے۔ تاہم اس کے والدین نے گردے فروخت کرنے میں معاون مڈل مین کو تلاش کرکے اس پر مقدمہ کردیا جس نے 3 لاکھ 20 ہزار ڈالر ہرجانے کے طور پر دیئے جو اب اس نوجوان کے علاج پر خرچ ہورہے ہیں۔

    چینی سوشل میڈیا پر یہ خبر آنے کے بعد لوگوں نے زیادہ تر اس نوجوان کو قصور وار ٹھہرایا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ انسانی اعضا برقی مصنوعات سے زیادہ اہم ہوتے ہیں جن کی قدر کی جانی چاہیے۔
     
    • غمناک غمناک × 7
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  2. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    20,806
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    یہ ایک بڑی خبر ہے کہ نوجوان نے گردہ بیچ دیا آئی فون خریدنے کے لئے۔

    لیکن بہت سے چھوٹے چھوٹے واقعات ہمارے اردگرد روز مرہ ہوتے رہتے ہیں کہ اس قسم کی گیجٹس خریدنے کے لئے لوگ کیا کیا پاپڑ بیلتے ہیں۔ اُدھار لیتے ہیں، چوری کر لیتے ہیں اور دوسروں کے حق پر ڈاکہ ڈالتے ہیں ۔

    اس قسم کی چیزیں معاشرے کو تحریص سے بھر دیتی ہیں۔ ان کے اشتہار اس طرح بنائے جاتے ہیں کہ اگر آپ کے پاس یہ چیز نہیں ہے تو آپ دنیا کے سب سے فضول انسان ہیں۔

    لوگ ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے لئے حرص کے راستے پر چل پڑتے ہیں۔ یہیں سے حسد اور رقابت جنم لیتی ہے اور جس سے نہ جانے کیا کیا ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ جس کی توجیح عام طور پر لوگوں کو تلاش کرنا مشکل ہو جاتی ہے کہ کسی شخص کے کسی منفی فعل کے پیچھے کیا کیا محرکات ہو سکتے ہیں۔

    پتہ نہیں ہماری کیسے چان چھوٹے گی ان بیوپاریوں سے ۔
     
    • متفق متفق × 10
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • غمناک غمناک × 1
  3. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    10,277
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    بہت افسوسناک۔
    میں سمجھتی ہوں کہ یہ نوجوان ابھی عمر کی جس منزل پہ تھا۔۔۔یہ کوئی سمجھداری کی عمر نہیں ہوتی۔ اسی عمر میں الٹے سیدھے فیصلے اور خودکشی تک کر لیتے ہیں نوجوان۔
    چلن تو ہمارے معاشرے کو اپنا بدلنا چاہیے۔ ہمیں خود کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ سٹیٹس کی دوڑ سے نکلیں۔ سادگی اپنائیں۔
    اپنے ادارہ میں الحمداللہ۔ الحمداللہ۔ ہم نے برانڈ کی دوڑ شروع ہونے نہیں دی۔ تھوڑا سا کوئی ایسا کرنے لگتا ہے تو کوئی میرے جیسا اپنا لباس دکھاتا ہے کہ یہ میں نے فٹ پاتھ برانڈ سے لیا ہے۔ یہ دیکھو پٹھان سے کپڑا لے کے فنکاری کی ہے۔ یہ چادروں والی دکان سے تول میں چادر لے کے بنایا گیا سوٹ ہے۔
    اس طرح ایک دوسرے سے سادگی اپنانے کا حوصلہ ملتا ہے ۔
    اس نوجوان کے لیے دعائیں ہیں کہ اللہ اسے صحتِ کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے۔ اور انسانی اعضاء کا کاروبار کرنے والوں کو عبرت ناک سزا دے۔ آمین!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
    • زبردست زبردست × 2
  4. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    20,806
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    بالکل!

    افسوس تو اُن لوگوں پر ہوتا ہے کہ جو اپنے رویّے سے کچی عمر کے بچوں کو حرص و ہوس کے رستے پر ڈال دیتے ہیں۔

    واہ! کیا خوبصورت بات ہے۔ گو کہ اس میں اپنی انا کا خون ہوتا ہے لیکن معاشرے میں سدھار کےلئے بہت عمدہ طریقہ ہے۔

    میں بھی یہ طریقہ آزماؤں گا ان شاءاللہ۔

    آمین۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    20,806
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    اتنے سادہ لوگ کہاں ملتے ہیں آج کل۔

    آج کل تو برانڈ کا نام لیے بغیر لوگ کپڑوں ، جوتوں اور دیگر اشیاء کا ذکر تک نہیں کرتے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 2
  6. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    20,806
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    ایک اور چیز بڑی عجیب دیکھنے کو ملتی ہے کہ آج کل کپڑوں پر اتنا بڑا بڑا برانڈ کے نام لکھا ملتا ہے کہ جیسے ڈیزائن کی اصل تھیم ہی یہ ہو۔

    میں ایسے لوگوں کو کہتا ہوں کہ تم اپنے تئیں یہ برانڈ اپنی جیب سے خرید کر خوش ہو رہے ہو۔ حالانکہ میرے حساب سے تم یہ لباس پہن کر کمپنی کی پبلیسٹی کر رہے اور کمپنی کو تمہیں اس بات کی ادائیگی کرنا چاہیے۔

    جب کہ میری خواہش ہوتی ہے کہ درزی اپنے نام کا چھوٹا سا ٹیگ بھی لگائے تو وہ بھی مجھ سے پوچھ کر لگائے۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • متفق متفق × 2
  7. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    10,277
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    بالکل ایسا ہے۔ ہمارے شہر میں پہلے برانڈز نہیں تھے اور زندگی کافی پُرسکون تھی۔ اب تو کوئی تحفہ دیتا ہے تو ساتھ ہی یہ بھی بتاتا ہے کہ یہ فلاں برانڈ کا ہے۔
    اس پہ ایک دھاگہ شروع کرتے ہیں۔ کیا خیال ہے؟
     
    • متفق متفق × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. فرحت کیانی

    فرحت کیانی لائبریرین

    مراسلے:
    10,849
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    بالکل شروع کریں۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  9. فرحت کیانی

    فرحت کیانی لائبریرین

    مراسلے:
    10,849
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    دراصل بات وہی ہے جو آپ نے اپنی دوسری پوسٹ میں لکھی ہے۔ چیزوں کی اس قدر پبلسٹی کی جاتی ہے کہ لگتا ہے یہاں دنیا ختم ہے۔ اب کچے ذہن ہوں تو وہی کچھ کرتے ہیں جیسا اس نوجوان نے کیا اور خود اپنی اور اپنے خاندان کی زندگی مشکل کر ڈالی۔ اور ذہنی طور پر پختہ بھی اس مارکیٹنگ (پروپیگنڈا) سے متاثر ہو کر ایک rat race کا حصہ بن جاتے ہیں جس میں یا تو صرف احساس کہتری ہوتا ہے یا احساس کمتری۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    20,806
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    بالکل شروع کریں۔ :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  11. عبدالقیوم چوہدری

    عبدالقیوم چوہدری محفلین

    مراسلے:
    15,249
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    تین چار روز قبل امی جان کی طبعیت کچھ خراب ہوئی تو ہسپتال لے گئے۔ ایمرجنسی میں ساتھ والے بیڈز پر یکے بعد دیگرےدو نوجوان لڑکیاں (20، 21 سال) لائیں گئیں۔ ایک نے تیزاب پیا تھا اور دوسری نے کوئی کیمیکل۔ تفصیلات پتا کیں تو ایک جو غیر شادی شدہ تھی اس نے اپنے رشتے پر والدین میں جھگڑا ہوتا دیکھا تو زہر پی لیا۔ دوسری شادی شدہ اور دو بچیوں کی ماں تھی، ساس نے کچھ کہا تو کیمیکل کی بوتل پی گئی۔
    اللہ جانے ان نوجوانوں کو مسائل کا حل خود کشی میں کیوں نظر آنے لگ گیا ہے۔
     
    • غمناک غمناک × 5
  12. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    13,916
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    چوہدری جی عدم تحفظ اور احساس محرومی دن با دن بڑھتی نظر آرہی ہے ۔لوگ ذہنی کشمکش کا شکار ہو کر اپنی زندگیاں تباہ برباد کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔موجود وقت اور حالات میں زندگی گزرنا ایساہوگیا ہے جیسے نومن تلوں سے تیل ۔
     
    • متفق متفق × 1
    • غمناک غمناک × 1
  13. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    20,806
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    بات یہ نہیں ہے بلکہ اصل بات تربیت کی ہے۔

    آج کل کے والدین بچوں کو بہت ناز و نعم میں رکھتے ہیں اور اُن کو مشکلیں جھیلنے کے لئے تیار نہیں کرتے۔

    نتیجتاً اُن کو جیسے ہی کوئی مشکل درپیش آتی ہے وہ راہِ فرار تلاش کرنے لگتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • متفق متفق × 1
  14. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    13,916
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    یہ بھیا یہ بات بھی کافی حد تک درست کہی ۔ بے جا ناز ونعم پچے کی تربیت پر کافی زیادہ اچر اندازہ ہوتے ہیں ۔ اس سے بچہ بد اخلاق اور ضد بھی ہوجاتا ہے ۔
     
    • متفق متفق × 2

اس صفحے کی تشہیر