اِس شہر کی اِس رات کے اِس پہر کا منظر از محمد حفیظ الرحمٰن

غزل

محمد حفیظ الرحمٰن

کیا تُم کو نظر آئے گا اِس شہر کا منظر
ہے دھند میں لِپٹا ہوا یہ قہر کا منظر

ہے پیرِ فلک آپ ہی انگشت بدنداں
دیکھا ہے جو اِس قریہٗ بے مہر کا منظر

اِک سمت ہیں سوکھے ہوئے لب، خشک زبانیں
اور دوسری جانب ہے رواں نہر کا منظر

جو ڈوب رہا ہو وہ بیاں کیسے کرے گا
ساحِل کی طرف جاتی ہوئی لہر کا منظر

تا عمر تری یاد سے وابستہ رہے گا
اِس شہر کی اِس رات کے اِس پہر کا منظر​
 
غزل

محمد حفیظ الرحمٰن

کیا تُم کو نظر آئے گا اِس شہر کا منظر
ہے دھند میں لِپٹا ہوا یہ قہر کا منظر

ہے پیرِ فلک آپ ہی انگشت بدنداں
دیکھا ہے جو اِس قریہٗ بے مہر کا منظر

اِک سمت ہیں سوکھے ہوئے لب، خشک زبانیں
اور دوسری جانب ہے رواں نہر کا منظر

جو ڈوب رہا ہو وہ بیاں کیسے کرے گا
ساحِل کی طرف جاتی ہوئی لہر کا منظر

تا عمر تری یاد سے وابستہ رہے گا
اِس شہر کی اِس رات کے اِس پہر کا منظر​
خوبصورت، خوبصورت!!!
 

ایس ایس ساگر

لائبریرین
کیا تُم کو نظر آئے گا اِس شہر کا منظر
ہے دھند میں لِپٹا ہوا یہ قہر کا منظر

ہے پیرِ فلک آپ ہی انگشت بدنداں
دیکھا ہے جو اِس قریہٗ بے مہر کا منظر

اِک سمت ہیں سوکھے ہوئے لب، خشک زبانیں
اور دوسری جانب ہے رواں نہر کا منظر

جو ڈوب رہا ہو وہ بیاں کیسے کرے گا
ساحِل کی طرف جاتی ہوئی لہر کا منظر

تا عمر تری یاد سے وابستہ رہے گا
اِس شہر کی اِس رات کے اِس پہر کا منظر
بہت خوبصورت غزل ہے محمد حفیظ بھائی۔
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔ سلامت رہیں۔ آمین۔
 

Pervez Baqi

محفلین
واہ واہ واہ، حفیظ صاحب بہت کم کہتے ہیں لیکن جب کہتے ہیں تو بے اختیار محبوب خزاں کا مصرعہ یاد آتا ہے۔
کم کہو، اپنا کہو، اچھا کہو۔
کیا خوبصورت غزل ہے۔ چاہے کربلا کا استعارہ ہو یا موجودہ سیاسی اور سماجی صورت حال یا پھر " تا عمر تری یاد سے وابستہ رہے گا" کی قلبی واردات ، زبان و بیان کی تازگی اور خوبصورتی نے روایتی خیالات میں نئی جان ڈال دی ہے۔
 
Top