اِدھر ادھر!!!

شمشاد

لائبریرین
ہمارے پاس آسٹریلین طوطوں کا ایک جوڑا تھا ۔ جن میں سے طوطا اچانک فوت ہو گیا۔ بیچاری طوطی اکیلی رہ گئی۔ بوجہ مصروفیات میں خود مارکیٹ جا نہ سکا اور جس نے بھی دوسرا طوطا لانے کا وعدہ کیا پورا نہ ہوسکا۔ یوں طوطی کئی ماہ سے اکیلی زندگی گذار رہی تھی۔

آج ہم نے "ارینج میرج" کا سوچا اور بالاخر ایک برڈ ہاؤس پہنچے اور ایک برانڈ نیو طوطا لے کر آئے۔ ۔ ۔ تب سے طوطی کے اٹھلانے اور چکرپھیریوں کے تماشے دیکھ رہے ہیں۔ وہ کبھی پر پھیلاتی ہے، کبھی چونچیں مارتی ہے، اور کبھی طوطے کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے آوازیں نکالتی ہے۔

جبکہ طوطا صاحب موڈ میں بیٹھے ہیں۔۔۔

اہلیہ نے میری طرف شکایتی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا، یہ طوطے کے مزاج دیکھ رہے ہیں ۔ جناب سیدھے منہ بات ہی نہیں کر رہے ، وہ بیچاری کتنی کوشش کر رہی ہے۔

مجھے شکایت کا اصل ہدف معلوم تھا ۔ ۔ دنیا میں ہر نر ظالم ہوتا ہے اور ہر مادہ مظلوم ۔

میں نے بیگم کو یاد دلایا کہ اس بیچارے طوطے کو میں سترہ دوسری طوطیوں کے درمیان سے اٹھا لایا ہوں۔ تب سے وہ اسی ایک طوطی کی چیں چیں سن رہا ہے۔ ایسے میں اسے تھوڑا سا منہ بسورنے کا حق تو دیں۔

اس وضاحت کے بعد میری "طوطی" نے چائے کا کپ میز پر پٹخا اور دوسرے کمرے میں چلی گئی۔

131661261_10219764716003395_2185083109541255238_n.jpg
 

سیما علی

لائبریرین
ہمارے پاس آسٹریلین طوطوں کا ایک جوڑا تھا ۔ جن میں سے طوطا اچانک فوت ہو گیا۔ بیچاری طوطی اکیلی رہ گئی۔ بوجہ مصروفیات میں خود مارکیٹ جا نہ سکا اور جس نے بھی دوسرا طوطا لانے کا وعدہ کیا پورا نہ ہوسکا۔ یوں طوطی کئی ماہ سے اکیلی زندگی گذار رہی تھی۔

آج ہم نے "ارینج میرج" کا سوچا اور بالاخر ایک برڈ ہاؤس پہنچے اور ایک برانڈ نیو طوطا لے کر آئے۔ ۔ ۔ تب سے طوطی کے اٹھلانے اور چکرپھیریوں کے تماشے دیکھ رہے ہیں۔ وہ کبھی پر پھیلاتی ہے، کبھی چونچیں مارتی ہے، اور کبھی طوطے کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے آوازیں نکالتی ہے۔

جبکہ طوطا صاحب موڈ میں بیٹھے ہیں۔۔۔

اہلیہ نے میری طرف شکایتی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا، یہ طوطے کے مزاج دیکھ رہے ہیں ۔ جناب سیدھے منہ بات ہی نہیں کر رہے ، وہ بیچاری کتنی کوشش کر رہی ہے۔

مجھے شکایت کا اصل ہدف معلوم تھا ۔ ۔ دنیا میں ہر نر ظالم ہوتا ہے اور ہر مادہ مظلوم ۔

میں نے بیگم کو یاد دلایا کہ اس بیچارے طوطے کو میں سترہ دوسری طوطیوں کے درمیان سے اٹھا لایا ہوں۔ تب سے وہ اسی ایک طوطی کی چیں چیں سن رہا ہے۔ ایسے میں اسے تھوڑا سا منہ بسورنے کا حق تو دیں۔

اس وضاحت کے بعد میری "طوطی" نے چائے کا کپ میز پر پٹخا اور دوسرے کمرے میں چلی گئی۔

131661261_10219764716003395_2185083109541255238_n.jpg
بھیا آپ بھی نا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟،،،
 
محمد ناصر صدیقی کی تحریر؛

اس نے کرسچن ہیگن کی ایجاد کردہ گھڑی کو دیکھا ۔ نماز کا وقت قریب تھا ۔ وہ اٹھا اور ایڈی بوئر کی ایجاد کردہ جیکٹ پہنی ، ڈیملر اور میبچ کا ایجاد کردہ موٹر سائیکل نکالا اور مسجد کی جانب روانہ ہو گیا ۔
وہاں پہنچ کر ہالسے ٹیلر کے ایجاد کردہ واٹر کولر سے فلٹر شدہ صاف پانی پیا اور کلارکس والوں کے جوتے اتار کر وضو کرنے لگا ۔۔بینجامن موغن کے ایجاد کردہ گیزر کی وجہ سے گرم پانی آ رہا تھا اور اسے کوئی مشکل پیش نہیں آ رہی تھی ۔ اس کے بعد وہ مسجد کے اندرونی گیٹ کی طرف گیا اور رابرٹ ہاومن کا ایجاد کردہ شیشے کا دروازہ کھولا ۔ ایڈیسن کا ایجاد کردہ بلب آن کیا ۔ بینجامن فریکلن کی ایجاد کردہ بجلی کی مدد سے بلب روشن ہو گیا اور مسجد میں ایسے روشنی ہو گئی جیسے سورج کی وجہ سے باہر تھی ۔ مسجد میں جا بجا فلپ ڈائل کے ایجاد کردہ پنکھے لگے تھے مگر سردی کی وجہ سے انھیں آن نہیں کیا گیا ۔ سامنے ولس کیریر کا ایجاد کردہ اے سی بھی لگا ہوا تھا مگر اس نے چارلس بیکر کا ایجاد کردہ ہیٹر آن کیا اور جیمز ویسٹ کے ایجاد کردہ مائیکروفون پہ اذان دینے لگا ۔ ایڈورڈ کیلگ اور چیسٹر رائس کے ایجاد کردہ لاوڈ سپیکر کی وجہ سے آواز دور دور تک سب مسلمانوں تک پہنچ رہی تھی۔ اس نے میڈ ان چائنہ جائے نماز پہ نماز پڑھی اور دعا کےلیے ہاتھ اٹھائے :
"یا اللہ کافروں کو نیست و نابود کر اور مسلمانوں کو ان پہ غلبہ عطا فرما ..."
یہ سن کر اس کے کندھوں پہ بیٹھے فرشتے قہقے لگانے لگے ۔
 
ایک عالم اپنے ایک شاگرد کو ساتھ لئے کھیتوں میں سے گزر رہے تھے۔
چلتے چلتے ایک پگڈنڈی پر ایک بوسیدہ جوتا دکھائی دیا۔ صاف پتہ چل رہا تھا کہ کسی بڑے میاں کا ہے۔ قریب کے کسی کھیت کھلیان میں مزدوری سے فارغ ہو کر اسے پہن کر گھر کی راہ لیں گے۔ شاگرد نے جنابِ شیخ سے کہا؛ حضور! کیسا رہے گا کہ تھوڑی دل لگی کا سامان کرتے ہی۔۔۔۔ں۔ جوتا ادھر ادھر کر کے خود بھی چھپ جاتے ہی۔۔۔۔ں۔ وہ بزرگوار آن کر جوتا مفقود پائیں گے تو ان کا ردِ عمل دلچسپی کا باعث ہو گا۔
شیخ کامل نے کہا؛ بیٹا اپنے دلوں کی خوشیاں دوسروں کی پریشانیوں سے وابستہ کرنا کسی طور بھی پسندیدہ عمل نہی۔ں۔ بیٹا تم پر اپنے رب کے احسانات ہی۔۔۔۔ں۔ ایسی قبیح حرکت سے لطف اندوز ہونے کے بجائے اپنے رب کی ایک نعمت سے تم اس وقت ایک اور طریقے سے خوشیاں اور سعادتیں سمیٹ سکتے ہو۔ اپنے لئے بھی اور اس بیچارے مزدور کے لئے بھی۔ ایسا کرو کہ جیب سے کچھ نقد سکے نکالو اور دونوں جوتوں میں رکھ دو۔ پھر ہم چھپ کے دیکھیں گے جو ہو گا۔ بلند بخت شاگرد نے تعمیل کی اور استاد و شاگرد دونوں جھاڑیوں کے پیچھے دبک گئے۔

کام ختم ہوا، بڑے میاں نے آن کر جوتے میں پاؤں رکھا ۔۔۔ تو سکے جو پاؤں سے ٹکرائے تو ایک ہڑبڑاہٹ کے ساتھ جوتا اتارا تو وہ سکے اس میں سے باہر آ گئے۔ ایک عجیب سی سرشاری اور جلدی میں دوسرے جوتے کو پلٹا تو اس میں سے سکے کھنکتے باہر آ گئے۔ اب بڑے میاں آنکھوں کو ملتے ہی۔۔۔۔ں، دائیں بائیں نظریں گھماتے ہی۔۔۔۔ں۔ یقین ہو جاتا ہے کہ خواب نہی۔ں، تو آنکھیں تشکر کے آنسوؤں سے بھر جاتی ہی۔۔۔۔ں۔ بڑے میاں سجدے میں گر جاتے ہی۔۔۔۔ں۔ استاد و شاگرد دونوں سنتے ہی۔۔۔۔ں کہ وہ اپنے رب سے کچھ یوں مناجات کر رہے ہی۔۔۔۔۔۔۔۔ں۔
میرے مولا! میں تیرا شکر کیسے ادا کروں، تو میرا کتنا کریم رب ہے۔ تجھے پتہ تھا کہ میری بیوی بیمار ہے، بچے بھی بھوکے ہی۔۔۔۔ں، مزدوری بھی مندی جا رہی ہے ۔۔۔ تو نے کیسے میری مدد فرمائی۔ ان پیسوں سے بیمار بیوی کا علاج بھی ہو جائے گا، کچھ دنوں کا راشن بھی آ جائے گا۔ ادھر وہ اسی گریہ و زاری کے ساتھ اپنے رب سے محو مناجات تھے اور دوسری طرف استاد و شاگرد دونوں کے ملے جلے جذبات اور ان کی آنکھیں بھی آنسوؤں سے لبریز تھیں۔ کچھ دیر کے بعد شاگرد نے دست بوسی کرتے ہوئے عرض کیا؛ استاد محترم! آپ کا آج کا سبق کبھی نہی۔ں بھول پاؤں گا۔ آپ نے مجھے مقصدِ زندگی اور اصل خوشیاں سمیٹنے کا ڈھنگ بتا دیا ہے۔ شیخ جی نے موقعِ مناسب جانتے ہوئے بات بڑھائی، بیٹا! صرف پیسے دینا ہی عطا نہیں بلکہ باوجود قدرت کے کسی کو معاف کرنا ﻋﻄﺎﺀ ہے۔ مسلمان بھائی بہن کے لئے غائبانہ دعا ﻋﻄﺎﺀ ہے۔ مسلمان بھائی بہن کی عدم موجودگی میں اس کی عزت کی حفاظت ﻋﻄﺎﺀ ہے.
جزاک اللہ خیرا
(کاپی)
 
کستوری، دنیا کی مہنگی ترین خوشبو ہے اور کستوری کی جائے تولید ہرن کی ناف ہے۔ جس ہرن کی ناف میں یہ کستوری بنتی ہے وہ خود اس خوشبو کو سونگھ کر مسحور ہو جاتا ہے اور شنید ہے کہ بعد از طعام ہرن اپنا تمام وقت اس کستوری کو کھوجنے میں صحرا میں بھٹکتا رہتا ہے، مگر اس چیز سے لا علم رہتا ہے کہ وہ خوشبو اس کی اپنی ناف میں سے آرہی ہے۔
ہرن کی لا علمی پر آپ یقینا ہنسیں یہ آپ کا حق ہے مگر خدا نے ایسا کام صرف ہرن کیساتھ ہی نہیں کر رکھا، بلکہ گھوڑا وہ طاقت ہے جو طاقت کو ناپنے کا بھی معیار ہے، یہ موٹر اتنے ہارس پاور کی ہے یہ تو سن رکھا ہو گا آپ نے مگر روایت ہے کہ بروز قیامت گھوڑے کو پتہ چلے گا کہ اس کے پاس کتنی طاقت تھی؟
آپ گھوڑے پر بھی ہنسنے میں حق بجانب ہیں مگر ایسا کام صرف گھوڑے کیساتھ بھی نہیں آپ کیساتھ بھی ہے اور میرے ساتھ بھی، کیونکہ حدیث سرور دو عالم صلى الله عليه وآله وسلم ہے جس نے اپنے آپ کو پا لیا، اس نے اپنے رب کو پا لیا، مگر خود تک
کی رسائی اور معرفت نہ مجھے ہے اور نہ آپ کو۔۔۔

(کاپی)
 
"جمعہ گُل"

میں جب تین سال کا تھا تو ٹھٹھرتی سردی میں ایک دن دادا نے سکول میں داخل کروا کر عمر پانچ سال لکھوا دی کہ سرکاری سکول میں اس وقت پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کا داخلہ ممنوع ہوتا تھا۔ جب کہ میرا یار جمعہ گُل اپنی اماں کی گرم گود میں بیٹھ کر چائے پراٹھے ٹھونستا رہا۔
میں ٹاٹ پر بیٹھ کر صبح سے دُوپہر تک الف سے اللہ اور ب سے بکری کے راگ الاپتا رہا اور جُمعہ گُل گلے میں غلیل ڈال کر گاؤں کے درختوں میں پرندے مارتا رہا۔ ہم سارا سارا دن اُستاد رحیم گل کی سوٹیاں اپنی پشت پر کھاتے رہے، تاکہ کل کو مُعاشرے میں ایک مقام بنا سکیں اور جُمعہ گُل اپنے باپ کے کندھے پر بیٹھ کر گاؤں کے میلے لُوٹتا رہا۔
ہم سکول سے چُھٹی ہونے کے بعد گندم کی کٹائیوں میں اماں کا ہاتھ بٹاتے رہے اور جُمعہ گُل کھیت کی مُنڈیر پر بیٹھ کر جوانی کے گیت گاتا رہا۔
ہم جب آنسو بھری آنکھوں سے جُمعہ گل کی طرف دیکھتے تو دل کا حال جان کر اماں بولتیں۔بیٹا تم ایک دن بڑا افسر بنے گا اور جُمعہ گل جیسے لوگ تیرے نوکر بنیں گے۔
سکول سے کالج،کالج سے یونیورسٹی ہماری قسمت میں صرف کتابوں کا ڈھیر چاٹنا رہ گیا جب کہ جُمعہ گُل گاؤں کا لُچا لفنگا بن کر جوانی کے مزے لُوٹتا رہا۔ اِدھر ہم نے پی ایچ ڈی تھیسز جمع کروا کر گویا علامہ بننے کی ٹھان لی۔ تو اُدھر گاؤں میں جُمعہ گُل نے بغل سے پستول کا ہولسٹر ہٹا کر کندھے پر کلاشنکوف رکھنی شروع کردی۔ پھر ہم نے پیچھے کبھی مُڑ کر نہیں دیکھا۔ کہاں کا جُمعہ گُل اور کہاں کا عارف خٹک۔
ہم بقول اماں کے واقعی افسر بن گئے۔اور گاؤں سے اپنا ناطہ ٹوٹ گیا۔ اپنی افسری، شہری بیوی اور بچوں میں ایسا کھو گئے۔کہ یاد بھی نہیں رہتا تھا کہ جُمعہ گُل کیا کررہا ہوگا۔ اماں کی باقی ساری باتیں بالکل سچ ثابت ہوچُکی تھی۔بس کبھی کبھار اُن کی یہ بات دل کے دروازے پر دستک دے کر بےچین کر دیتی کہ جُمعہ گُل تمہارا نوکر بنے گا۔ شاید اماں کی بات سے زیادہ یہ خود کی ایک خواہش تھی۔جو شعور سے لاشعور تک کا فاصلہ پاٹتے ہوئے تحت الشعور میں پنجے جا گاڑ بیٹھی تھی۔اور پھر میں کیمبرج میں پڑھتے اپنے بچوں کو ہر وقت یہی راگ سُنانے لگتا۔کہ بیٹا عارف خٹک بنو،جُمعہ گُل مت بنو۔میرے بچے مجھ سے پوچھتے کہ پاپا ہُو اِز جمعہ گل؟
اور میرا جواب ہمیشہ یہی ہوتا،کہ میرا نوکر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالوں بعد گاؤں جانا ہوا۔ بیوی بچے ساتھ تھے۔ گاؤں بھی پھیل کر جیسے چھوٹا سا شہر بن گیا ہو۔ کافی لوگ اب اجنبی تھے میرے لئے۔ ایک دن پیغام آیا کہ جُمعہ گُل نامی بندے نے اہلِ خانہ سمیت دعوت پر بُلایا ہے۔ میرے اندر ایک کمینی سی خوشی در آئی۔کہ جُمعہ گُل کو دکھاؤں گا کہ پڑھائی لکھائی اور اُستاد رحیم داد کی سوٹیوں نے مُجھے کہاں سے کہاں تک پُہنچا دیا ۔اور وہ سدا کا لُچا لفنگا آج بھی دو وقت کی روٹی کے لئے مر رہا ہے۔ بیگم کو تاکید کی کہ پانچ ہزار اس کی بیوی کو تھما دینا۔رات کو اپنی 4000 سی سی گاڑی میں بیٹھ کر جُمعہ گُل کے گھر پُہنچا۔تو سناٹے میں آگیا۔شہر میں تین سو گز بنگلے والا افسر چار ہزار گز وسیع بنگلے کو دیکھ کر حیرت سے دانتوں میں اُنگلی دبائے رہ گیا۔جس پر "جُمعہ گُل پیلس" کا نیم پلیٹ اُس کا مُنہ چڑھا رہا تھا۔ بنگلے کے اندر چار وی ایٹ لینڈ کروزرز ایک شان سے کھڑی تھیں۔ واسکٹ پہنے جُمعہ گُل گرمجوشی سے آگے بڑھ کر میرے گلے لگ گیا۔کہ ڈاکٹر صاب بڑے آدمی بن گئے۔بُھول گئے ہم جیسے غریب اور ان پڑھوں کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری بیوی اور بچے مُنہ کھولے حیرانگی سے بنگلے کو دیکھ رہے تھے۔ اور جُمعہ گُل بتا رہا تھا،کہ اماں کی دعاؤں سے وہ آج پاکستان کا سب سے بڑا ٹرانسپورٹر بن گیا ہے۔ اچانک میرے بیٹے نے انگریزی میں مُجھ سے پُوچھا کہ بابا یہ وہی جُمعہ گُل ہے جو آپ کا نوکر بن رہا تھا؟میری خاموشی پر چھوٹے والے بیٹے نے انگریزی میں کہا.

پاپا میں بھی جُمعہ گُل بنوں گا۔ ۔..

(کاپی)
 
50 سال کی عمر میں بدصورتی اور خوبصورتی کا فرق ختم ہو جاتا ہے۔ اپنے زمانے کے حسین ترین انسان کے چہرے پر بھی جھریاں نظر آنے لگتی ہے۔
60 سال کی عمر میں بڑے عہدے اور چھوٹے عہدے کی حیثیت ختم ہو جاتی ہے۔ سر پھرے بیوروکریٹ کو ریٹائرمنٹ کے بعد دفتر کا چپڑاسی چوکیدار بھی سلام نہیں کرتا۔
70 سال کی عمر میں چھوٹے گھر اور بڑے گھر کا فرق ختم ہوجاتا ہے۔ گھٹنوں کی درد اور کمر کی تکلیف کی وجہ سے صرف بیٹھنے کی جگہ ہی تو چاہئیے۔
80 سال کی عمر میں پیسے کی قدر و قیمت ختم ہوجاتی ہے۔ اگر اکاونٹ میں کروڑوں اور جیب میں لاکھوں روپے بھی ہوں، تو کونسا سکھ خریدلو گے؟
90 سال کی عمر میں سونا اور جاگنا ایک برابر ہو جاتا ہے۔ جاگ کر بھی کیا تیر مار لو گے؟
لہذا آج سے ہی اپنی زندگی کے ایک ایک پل کو اللہ کی رضا میں صرف کرو اور ہر حال میں اللہ پاک کا شکر ادا کرتے رہو۔
( پس تم اللہ کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاٶ گے)
 
Top