ان کی آنکھوں کی نذر

عظیم خواجہ

محفلین
ترے پائے، تری بوٹی، تری چانپوں کا سرور
موت نے تجھ کو نہیں چکھا تو چکھا کیا ہے
کھا گئے تیری سری بھی تیری زلفوں کے اسیر
تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے
 
آخری تدوین:

شکیب

محفلین
تیرے پائے تیری بوٹی تیری چانپوں کا سرور
خونی الفاظ کو اگر ی حذف کرکے لکھیں تو قانون انہیں معاف کرسکتا ہے۔۔۔
ترے، تری
آپ کے دیے ہوئے خونی الفاظ سے شعر کا وزن " فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلات" ہوگیا ہے۔۔۔میں نے شروع کرتے وقت یوں ہی پڑھا تھا، دوسرے مصرع پر نظر پڑی تو اسے درست کیا۔
دوبارہ پڑھنے کی مشقت کا 'عذاب' سہا ہے میں نے
 

عظیم خواجہ

محفلین
خونی الفاظ کو اگر ی حذف کرکے لکھیں تو قانون انہیں معاف کرسکتا ہے۔۔۔
ترے، تری
آپ کے دیے ہوئے خونی الفاظ سے شعر کا وزن " فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلات" ہوگیا ہے۔۔۔میں نے شروع کرتے وقت یوں ہی پڑھا تھا، دوسرے مصرع پر نظر پڑی تو اسے درست کیا۔
دوبارہ پڑھنے کی مشقت کا 'عذاب' سہا ہے میں نے
ارے جناب یہ غلطی ہوگئ۔ دوبارا پڑھنے کی مشقت :)۔ معافی چاہتا ہوں۔
 

عظیم خواجہ

محفلین
خونی الفاظ کو اگر ی حذف کرکے لکھیں تو قانون انہیں معاف کرسکتا ہے۔۔۔
ترے، تری
آپ کے دیے ہوئے خونی الفاظ سے شعر کا وزن " فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلات" ہوگیا ہے۔۔۔میں نے شروع کرتے وقت یوں ہی پڑھا تھا، دوسرے مصرع پر نظر پڑی تو اسے درست کیا۔
دوبارہ پڑھنے کی مشقت کا 'عذاب' سہا ہے میں نے
معلومات اور اصلاح کا بےحد شکریہ فقیر شکیب احمد صاحب۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
عظیم خواجہ صاحب ! اپنی اس نظم کا عنوان " بکرے کی ماں کے نام " رکھ دیجیئے ۔ :):):)
اس طرح کے کسی حوالے کے بغیر تو یہ نظم نہایت ہی خوفناک معلوم ہوتی ہے ۔ زلفوں کے ذکر سے تو کچھ کچھ آدم خوری کی نقشہ کشی ابھرتی ہے اس میں ۔ :biggrin:
 
Top