انڈین سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دے دیا

جاسم محمد نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 6, 2018

  1. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    16,408
    انڈین سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دے دیا
    6 ستمبر 2018
    انڈیا کی سپریم کورٹ نے ملک میں ہم جنس پرستی کو جرائم کے زمرے سے خارج کرنے کا تاریخی فیصلہ سنا دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت اب ملک میں ہم جنس پرستوں کا جنسی تعلق جرم نہیں رہا ہے۔
    یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے سنایا جو چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں قائم کیا گیا تھا۔
    جمعرات کو سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں سنہ 2013 کے ایک عدالتی فیصلے کو کالعدم قرار دیا ہے۔ اس فیصلے میں ہم جنس پرستی کو جرم کے زمرے میں شامل کرنے والے قانون کو آئین کی روشنی میں درست قرار دیا گیا تھا۔
    دہلی میں بی بی سی کے نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں پانچ ججوں کے ایک آئینی بنچ نے ہم جنسی پرستی سے متعلق اپنے اہم فیصلے میں کہا کہ ’ایک ہی صنف کے دو بالغ لوگوں کے درمیان باہمی رضامندی سے جنسی تعلق جرم نہیں ہے‘۔
    نامہ نگار کے مطابق عدالت عظمیٰ نے کہا کہ انتخاب کرنے کا ہر فرد کو بنیادی حق حاصل ہے اور قانون کی دفعہ 377 فرد کے اس حق سے متصادم ہے۔ تاہم عدالت نے اس دفعہ کی اس شق کو برقرار رکھا ہے جس کے تحت جانوروں کے ساتھ جنسی عمل کو جرم مانا گیا ہے۔
    ‏سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’کسی فرد کا جنسی رجحان اس کا انفرادی اور فطری معاملہ ہے اور جنسی رجحان کی بنیاد پر کسی سے تفریق برتنا اس شحص کے اظہار آزادی کے حق کی خلاف ورزی ہے۔‘
    ‏عدالت نے مزید کہا کہ 'فرد کے انتخاب کا احترام آزادی کی روح ہے۔ ہم جنس پرست برادری کو ملک کے دیگر شہریوں کی طرح آئین کے تحت برابر کا حق حاصل ہے۔ دفعہ 377 کی شقوں کے تحت مرد اور مرد یا عورت اور عورت کے درمیان سیکس کو جرم قرار دیا گیا تھا جو کہ فرد کی آزادی اظہار کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ '
    برطانوی دور میں بننے والے اس قانون کے تحت ایک ہی صنف کے دو افرار کے درمیان سیکس جرم تھا اور اس کے لیے دس برس تک کی قید کی سزا ہو سکتی تھی۔ اس دفعہ کا استعمال سزا کے لیے اگرچہ شاذ و نادر ہی ہوتا تھا، لیکن ہم جنس پرستوں کو ہراساں کرنے کے لیے اکثر اس کا استعمال کیا جاتا تھا۔
    اس فیصلے پر ہم جنس پرستوں اور حقوق انسانی کی تنظیموں نے زبردست خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ملک کے مذہبی رہنما ہم جنسیت کے خلاف ہیں۔ معاشرے میں بھی ایک بڑی تعداد ہم جنس پرستی کے رشتوں کو قبول نہیں کرتی اور اسے غیر فطری سمجھتی ہے۔
    سیاسی جماعتیں بھی معاشرے کے رحجان کے پیش نظر کوئی واضح موقف اختیار کرنے سے گریز کرتی رہی ہیں۔ خود حکومت نے سپریم کورٹ میں کوئی پوزیشن نہ لیتے ہوئے اسے عدالت عظمی کی دانش پر چھوڑ دیا تھا۔
    ‏عدالت عظمی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کوئی بھی معاشرہ اکثریت کی اخلاقیات سے نہیں چلتا ۔ عدالت نے کہا کہ ’ایک آئینی معاشرہ تخلیق کرنے کا بنیادی مقصد اس معاشے کو ایک روشن خیال معاشرے میں تبدیل کرنا ہے۔‘
    انڈیا میں تعزیرات ہند کی دفعہ 377 کے تحت ہم جنس پرستی جرم تھی لیکن انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کا دیرینہ الزام ہے کہ پولیس یہ شق ہم جنس پرستوں کو پریشان کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔
    اس دفعہ کو پہلی مرتبہ 1994 میں چیلینج کیا گیا تھا اور 24 برس اور متعدد اپیلوں کے بعد یہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔
    سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست پانچ ہم جنس پرستوں نے دائر کی تھی جن کا کہنا تھا کہ وہ خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔
    خیال رہے کہ سنہ 2009 میں دلی ہائی کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں کہا تھا کہ دو بالغ اگر اپنی مرضی سے کوئی رشتہ قائم کرتے ہیں تو اسے جرم نہیں کہا جاسکتا لیکن چار سال بعد سنہ 2013 میں سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔
    ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے کہا تھا کہ دہلی ہائی کورٹ نے ہم جنس پرستی کو جرم کے زمرے سے نکال کر غلطی کی تھی۔
    ہائی کورٹ کے فیصلے کو ہندو، عیسائی اور مسلم مذہبی تنظیموں نے چیلنج کیا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ ہم جنس پرستی غیر فطری عمل ہے اور اسے جرم کے زمرے میں ہی شامل رہنا چاہیے۔
    اس فیصلے پر انڈیا کی نامور شخصیات نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ بالی وڈ فلم ساز و ہدایت کار کرن جوہر نے اسے ایک 'تاریخی فیصلہ 'قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ملک کو آج اس کی آکسیجن واپس مل گئی ہے۔‘

    سیکشن 377 کیا ہے؟
    یہ 157 سال پرانا برطانوی دور حکومت کا ایک قانون ہے جس کے تحت مخصوص جنسی روابط کو 'غیرقدرتی جرائم' قرار دیا گیا ہے اور اس کی سزا دس سال قید ہے۔
    اس قانون کے مطابق 'کسی مرد، خاتون یا جانور کے ساتھ قدرتی اصولوں کے خلاف جنسی تعلق کا قیام' جرم ہے۔
    ہم جنس پرست کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس قانون کا استعمال ہم جنس پرست اور ٹرنس جینڈر کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کو ہراساں کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
    مساوی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان نے بھی یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ایسے کسی قانون کی موجودگی صنفی بنیادوں پر امتیازی سلوک کا ثبوت ہے۔

    دنیا بھر میں ہم جنس پرستی کی صورتحال
    اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں 76 ممالک ایسے ہیں جہاں ہم جنس پرستی کے خلاف امتیازی قوانین رائج ہیں۔
    کچھ ممالک میں ہم جنس پرستی کی سزا موت ہے۔
    تاہم حالیہ چند برسوں میں ہم جنس پرستی کی قبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ آسٹریلیا نے حال ہی میں ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی طور پر تسلیم کیا ہے جبکہ برمودا میں ہم جنس پرستوں کی شادیوں کے خلاف قانون کو تبدیل کیا گیا ہے۔
    موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2017 تک دنیا بھر میں 25 کے قریب ممالک میں ہم جنس پرستانہ تعلق کو قانونی طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔
     
  2. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    16,408
    یہاں ہندوستان سے اردو دان ہیں؟ وہ کیا کہتے ہیں اس فیصلہ پر؟
     
  3. عبداللہ محمد

    عبداللہ محمد مدیر

    مراسلے:
    10,022
    جھنڈا:
    Pakistan
    اُن کو چھوڑیں آپ بتائیں پُرانا اوتار کب لگا رہے ہیں- :p
     
    • پر مزاح پر مزاح × 5
  4. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    16,408
    ہمیں تو پہلے پتا تھا کرن جوہر کی آکسیجن کیوں کم ہے۔
     
  5. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,711
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    اچھا فیصلہ ہے۔ چند معاملوں میں انڈیا پاکستان سے بہت آگے ہے۔
     
  6. عبداللہ محمد

    عبداللہ محمد مدیر

    مراسلے:
    10,022
    جھنڈا:
    Pakistan
    'چند' شدید زیادتی ہو گی-
     
  7. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    16,408
    پاکستان امریکہ یا بھارت جیسی سیکولر ریاست نہیں ہے۔ کل اوریا مقبول جان کا کلپ دکھایا تھا۔
     
  8. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    16,408
    بھارت ہر لحاظ پاکستان سے آگے ہے: آبادی، کرپشن، لوٹ کھسوٹ، غربت، پسماندگی وغیرہ
    نیز ان کے پاس کپتان کی جگہ چائے والا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,711
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    جی ڈی پی فی کس 40 فیصد زیادہ۔ ہیومن ڈیویلپمنٹ انڈیکس بھی بہتر
     
  10. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    16,408
    بی جی پی حکومتوں کی پالیسیوں کا کمال ہے۔ ساتھ ساتھ ہر سال بڑھتی انتہا پسندی کا فیکٹر بھی ملا۔
     
  11. ابن عادل

    ابن عادل محفلین

    مراسلے:
    318
    فطرت سے بغاوت کے اس فیصلے پر صرف اچھے برے کے تبصرے سے تو کام نہیں چلے گا ۔ یوں محسوس ہورہا ہے کہ ہم جنس پرستی نہ ہوئی جوتے کا ڈیزائن ہوا کہ اب اچھا ہے پرانا نامناسب تھا ۔ کم از کم اس حوالے سے تو ذمہ دارانہ رویہ اپنایا جائے ۔ باقی رہے دنیا کے معیارات ترقی اور اس کے پیمانے تو یہ معاملہ اخلاقی پہلو سے تعلق رکھتا ہے اس کا مادی ترقی سے تقابل زندگی کرنا ناواقفیت کی علامت ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ اس معاملے میں مذہب کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے بجائے فطرت سے بغاوت کی جارہی ہے اور نیچریت کے علمبردار اس کے حامی و انصار ہیں جب کہ مذہب کے نام لیوا مخالف ۔۔۔۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  12. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    16,408
    فطرت سے بغاوت کے دلائل کیا مذہب سے نہیں لئے گئے؟
     
  13. شکیب

    شکیب محفلین

    مراسلے:
    1,633
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Breezy
    ہمارے ہاں کامٹی میں تو سب اپنے میں ہی مگن رہے لیکن خبروں کے مطابق ناگپور (ضلع) میں خوب بغلیں بجائی گئیں... مجھے تو حیرت ہے کہ lgbt کمیونٹی کے افراد کی تعداد کو دیکھ کر... اکا دکا کی توقع تھی، لیکن پتہ چلا کافی لوگ "سیدھے" نہیں ہیں...
     
  14. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    16,408
    آپ کے ملک کی آبادی بھی تو ماشاءاللہ ٹھیک ٹھاک ہے۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  15. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,711
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
  16. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    16,408
    اس پر ہنسنا ہے یا رونا؟
     

اس صفحے کی تشہیر