انٹر نیٹ سے چنیدہ

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
مختلف بیویاں اپنے شوہروں سے لڑتی ہوئیں۔... 😜🙈😂
پائلٹ کی بیوی:
زیادہ مت اُڑو ! سمجھے ؟.
ٹیچر کی بیوی:
مجھے مت سکھاؤ ! یہ اسکول نہیں۔
ڈینٹسٹ کی بیوی:
دانت توڑ کر ہاتھ میں دے دوں گی.
حکیم کی بیوی:
نبض دیکھے بغیر طبیعت درست کر دوں گی.
ڈاکٹر کی بیوی:
تمہارا الٹرا ساؤنڈ تو میں ابھی کرتی ہوں۔
فوجی کی بیوی:
تم اپنے آپ کو بڑی توپ چیز سمجھتے ہو.
انجینئر کی بیوی..
ابھی تمہارا نقشہ بدل دونگی ۔
شاعر کی بیوی:
تمہاری ایسی تقطیع کروں گی کہ ساری بحریں اور نہریں بھول جاؤ گے.
ایم بی اے کی بیوی:
مائنڈ یور اون بزنس۔
وکیل کی بیوی:
تیرا فیصلہ تو میں کرتی ہوں.
ڈرائیور کی بیوی:
گئیر لگا اور نکل یہاں سے.
پولیس مین کی بیوی:
ایسی چھترول کرواؤنگی کہ نانی یاد آجائیگی.
اور مولوی کی بیوی:
ابھی پڑھتی ہوں ختم تمہارا😜😂😄😆 🤣
 

سیما علی

لائبریرین
"چراغ تلے اندھیرا" 💞😍😍💞
کیمبرج سکولوں میں اردو پڑھانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ، انگریزی فکشن پڑھنے والے برگر فیملیز کے چشم و چراغ اردو بھی انگریزی لب و لہجے میں بولتے ہیں۔ مجھے اکثر اردو الفاظ انگریزی میں ترجمہ کر کے سمجھانے پڑتے ہیں۔
یہ دیسی انگریز گرامر اور تخلیقی لکھائی کا تو جنازہ نکال دیتے ہیں، بعض ہونہار تو سُسر کی مونث سُسری ، اور مرد کی جمع "مردُود" میر تقی میر کو " میر یقی میر" لکھتے ہیں اور پھر خفا ہو جاتے ہیں کہ آپ نے نمبر کیوں کاٹ لیے۔

ایک دن تخلیقی ٹاپک تھا اور موضوع تھا
" تفریحی مقام کے دورے کی روداد "
ایک صاحبزادے جس انہماک سے لکھ رہے تھے میرا شک یقین میں بدل رہا تھا کہ اس بار وہ اردو میں خوب جان مار کےآئے ہیں ، تھوڑی دیر بعد پرچہ میرے ہاتھ میں تھا، غور سے پڑھا تو سویوں جیسی لکھائی میں لکھا تھا۔۔۔
" میں ایک بار مری گیا ، وہاں اتنی برف باری ہوئی کہ سردی سے مجھے بخار ہوا ،جو بہت تیز ہوگیا، جس کی وجہ سے مجھے دورے پڑنا شروع ہو گیے ، ابو مجھے ہسپتال لے گیے ، پھر بڑی مشکل سے میرا دورہ ٹھیک ہوا۔
موصوف "تفریحی دورے" کو بیماری والا دورہ سمجھ بیٹھے۔۔۔ مگر ان کا قصور تھوڑی ہے وہ تو میری نااہلی تھی کہ بتا نہ سکی کہ دورے بھی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ۔😡😠
ایک روز محاورات کے استعمال کے بارے میں سیر حاصل لیکچر دینے کے بعد جانچ کی خاطر کچھ محاورات جیسے باغ باغ ہونا، رونگٹے کھڑے ہونا وغیرہ کو جملوں میں استعمال کرنے کو کہا۔ جماعت چونکہ او لیول کی تھی اور مجھے معیاری جملوں کی توقع تھی۔
تیسری نشست پر بیٹھے ایک طالب علم نے فورا ً ہاتھ کھڑا کیا۔میں نے ستائشی نظروں سے اسے دیکھا اور کاپی پکڑ لی ،جملہ لکھا تھا
" ہمارے دروازے پر دستک ہوئی ، میں نے کھولا تو سامنے دو رونگٹے کھڑے تھے۔" 🙁
اس کے بعد جو ہوا پوری کلاس کو رونگٹے کھڑے ہونے کا مطلب سمجھ آ گیا ۔۔۔
خیر یہ تو میرے ہونہار شاگردوں ایک جھلک تھی، مجھے زعم رہا کہ میرے اپنے صاحبزادے( وہ ابھی 4th سٹینڈرڈ میں ہے) کی اردو نسبتاً اچھی ہے، مگر یہ زعم بھی اکثر خاک میں مل جاتا ہے ۔ چند ماہ پہلے TV پر ڈرامہ " ڈائجسٹ رائٹر" دوبارہ نشر کیا جا رہا تھا، بیٹا بھی میرے پاس آکر بیٹھ گیا۔ میں نے یونہی پوچھا آپ کو" ڈائجسٹ رائٹر " کا مطلب پتا ہے ؟
"جی، اس کا مطلب ہے
"ہضم ہونے والی رائٹر "
وہ نہایت آرام سے گویا ہوئے اور ادھر چراغوں میں روشنی نہ رہی ۔
 

سیما علی

لائبریرین
🧨 نفس🧨
مولانا روم ایک سپیرے کی داستان بیان فرماتے ہیں۔۔
وہ سانپوں کی تلاش میں جنگلوں اور بیابانوں میں برفباری کے بعد سانپوں کی تلاش میں نکلا ۔۔
ایک جگہ اسے سے بہت بڑا مردہ اژدھا نظر آیا تو اس کے دل نے سوچا کہ اس کو کسی طرح شہر لے جاؤں اور اس پر ٹکٹ لگا دوں ‏تو بہت پیسے کماؤں گا ۔۔
تو پھر وہ بڑی مشکل اور تکلیف سے اس کو کھینچ کر شہر لے آیا
لوگوں نے جب سنا تو شہر کا شہر امڈ آیا ۔ اژدھا جو اصل میں مردہ نہیں تھا برفباری میں ٹھنڈک کی وجہ سے اس کا جسم سن ہوگیا تھا ہجوم کی گرمی نے اور سورج کی حرارت میں اسے پھر سے ٹھیک کر دیا اور اس نے ‏حرکت کرنا شروع کر دی
ہجوم نے جب یہ دیکھا تو تو بھاگ کھڑے ہوئے جس کا جدھر منہ ہوا دور پڑا ۔
سپیرا۔۔ جو اژدھے کے پاس کھڑا تھا ۔۔۔۔۔
اس نے جیسے ہی بھاگنے کی کوشش کی تو اژدھے نے منہ کھولا اور سپیرے کو نگل لیا ، قریب ہی ایک بڑی عمارت میں بل کھا کر یوں زور لگایا کہ سپرے کی ہڈیاں بھی سرمہ بن گئیں
مولانا روم یہ واقعہ سنا کے یوں فرماتے ہیں کہ
"ہمارا ‎نفس بھی ایک اژدھے ہی کی طرح ہے اسے کبھی مردہ تصور نہیں کرنا وسائل نہ ہونے کی بنا پر یہ ٹھٹھرا ہوا نظر آتا ہے"
اللہ کریم کی اطاعت سے بغاوت اور دنیا پرستی وہ دو حرارتیں ہیں جو اسے متحرک کردیتی ہیں۔
‏اسلئے استغفار کیا کریں اور اللہ سے نفس کی قید سے بچنے کی دعا کیا کریں۔
 

سید عمران

محفلین
’’ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﭘﺮ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﮐﺘﻨﺎ ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺍﺭﺗﮯ ﮨﯿﮟ؟ ‘‘
ﺳﻮﺍﻝ ﺑﮩﺖ ﺁﺳﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﻣﺨﺘﺼﺮ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺑﮭﯿﺎﻧﮏ، ﺍﻟﻢ ﻧﺎﮎ ﺍﻭﺭ ﺗﮩﻠﮑﮧ ﺧﯿﺰ ﺗﮭﺎ۔ ﺑﺰﻧﺲ ﻣﯿﻨﺠﻤﻨﭧ ﮐﮯ ﻃﻠﺒﮧ ﮐﻮ ﮨﺪﻑ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﺮﺍﭼﯽ ﮐﮯ ﭘﻮﺵ ﻋﻼﻗﮯ ’’ ﮈﯾﻔﻨﺲ ‘‘ ﮐﮯ 10 ﺍﯾﺴﮯ ﻋﺎﻟﯽ ﺷﺎﻥ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﮐﺮﯾﮟ ﺟﻦ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﮐﻢ ﺍﺯ ﮐﻢ 50 ﮐﺮﻭﮌ ﺭﻭﭘﮯ ﮨﻮ۔ ﺍﻥ 10 ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮑﺎﻥ ﺳﮯ ﯾﮩﯽ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮﻧﺎ ﺗﮭﺎ : ’’ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﭘﺮ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﮐﺘﻨﺎ ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺍﺭﺗﮯ ﮨﯿﮟ؟ ‘‘ ﺍﺱ ﺳﺮﻭﮮ ﭘﺮ ﮐﺌﯽ ﺩﻥ ﻟﮓ ﮔﺌﮯ۔ ﻣﺎﻟﮑﺎﻥ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﺍﺗﻨﯽ ﺁﺳﺎﻥ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ۔ ﺟﺲ ﺷﺨﺺ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﻭﮦ ﭘﮩﻠﮯ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ۔ ﺟﺐ ﺳﺮﻭﮮ ﻣﮑﻤﻞ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﺘﺎﺋﺞ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﻦ ﺗﮭﮯ۔ 50 ﮐﺮﻭﮌ ﺭﻭﭘﮯ ﮐﮯ ﻭﺳﯿﻊ ﻭ ﻋﺮﯾﺾ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮑﺎﻥ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺍﻥ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﻟﯽ ﺷﺎﻥ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﮌﮬﮯ ﭼﺎﺭ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﮨﯽ ﺭﮎ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺟﺐ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﺍﺗﻨﺎ ﮐﻢ ﻭﻗﺖ ﮐﯿﻮﮞ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﺗﻮ ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﺎ ﻣﺘﻔﻘﮧ ﺟﻮﺍﺏ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻭﻗﺖ ﮔﮭﺮ ﭘﺮ ﮔﺰﺍﺭﯾﮟ ﺗﻮ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﮔﮭﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺧﺮﺍﺟﺎﺕ ﭘﻮﺭﮮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺳﮑﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﭘﮭﺮ ﯾﮧ ﮔﮭﺮ ﺑﯿﭽﻨﺎ ﭘﮍﯾﮟ ﮔﮯ۔
ﺍﯾﮏ ﺍﺭﺏ ﭘﺘﯽ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﻮﻧﭽﮑﺎ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ : ﺗﻢ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺁﺋﮯ ﮨﻮ؟ ﺍﺳﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﮐﺎﻟﺞ ﺁﻑ ﺑﺰﻧﺲ ﻣﯿﻨﺠﻤﻨﭧ ﮐﮯ ﻃﻠﺒﮧ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﮐﺎﻟﺞ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺳﮯ ﻣﻼ۔ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ : ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺷﺘﮧ 24 ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺱ ﻭﺳﯿﻊ ﻭ ﻋﺮﯾﺾ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﻣﺎﮨﺎﻧﮧ ﺧﺮﭺ 25 ﻻﮐﮫ ﺭﻭﭘﮯ ﮨﮯ۔ ﭘﭽﮭﻠﮯ 24 ﺳﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ 17 ﺳﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮨﻮﭨﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺎﻡ ﮐﯿﺎ۔ ﮐﺒﮭﯽ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺧﯿﺎﻝ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺭﮨﺎﮨﻮﮞ؟ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ، ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﮐﺘﻨﺎ ﻭﻗﺖ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ؟ ﺑﯿﻮﯼ، ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﻘﻮﻕ ﭘﻮﺭﯼ ﻃﺮﺡ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﻧﮩﯿﮟ؟
ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﻣﺤﻨﺖ ﺿﺮﻭﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﻮﮔﯽ۔ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﯿﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﺳﮑﺘﺎ۔ ﻣﮕﺮ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻣﻄﻠﺐ ﺗﻮ ﮨﺮﮔﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﮨﯽ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﻤﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﺑﻨﺎﻟﯿﮟ۔ ﻋﺰﯾﺰ، ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﻘﻮﻕ ﻓﺮﺍﻣﻮﺵ ﮐﺮﺩﯾﮟ۔ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺗﺮ ﺗﻮﺍﻧﺎﺋﯿﺎﮞ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﮐﺴﯽ ﻋﻈﯿﻢ ﻣﻘﺼﺪ ﭘﺮ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺁﭖ ﻏﻮﺭ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﭘﺘﮧ ﭼﻠﮯ ﮔﺎ ﮐﮧ ﮨﺮ ﺍﻣﯿﺮ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﻼﭦ ﻧﮧ ﺑﮑﮯ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﯿﻨﮏ ﺍﮐﺎﺅﻧﭧ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﯽ ﻧﮧ ﺁﺋﮯ ۔ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺧﺮﺍﺟﺎﺕ ﭘﻮﺭﮮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻭﮦ ﻧﺌﯽ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﻤﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﮐﯿﺎ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺗﻤﺎﻡ ﺗﺮ ﺗﮓ ﻭ ﺩﻭ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺻﺮﻑ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﺮﻭﻗﺖ ﺍﮐﺎﺅﻧﭧ ﺑﮭﺮﮮ ﺭﮨﯿﮟ، ﮐﺌﯽ ﺷﮩﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﺌﯽ ﭘﻼﭦ ﻣﻠﮑﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﺁﺟﺎﺋﯿﮟ۔ ﺁﺋﯿﮯ ! ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﯽ ﮨﺪﺍﯾﺎﺕ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﯿﺠﺌﮯ ! ۔
ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺁﺧﺮﺕ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﮮ ﯾﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﺧﺮﺕ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﮐﺮﺩﮮ۔ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺩﻧﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮﺕ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺣﺼﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﻟﯿﺘﺎ ‏( ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻦ ﺳﮑﺘﺎ ‏) ‏( ﺍﺻﻼﺡ ﺍﻟﻤﺎﻝ ﻻﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﺩﻧﯿﺎ، ﺑﺎﺏ ﺍﺻﻼﺡ ﺍﻟﻤﺎﻝ، ﺭﻗﻢ ﺍﻟﺤﺪﯾﺚ : 49 ‏)
 

سید عمران

محفلین
سفر کرتے ہوئے الٹی کیوں آتی ہے؟
بہت سے افراد نے میں یہ مسئلہ پایا جاتا ہے ہے کہ سفر کرتے ہوئے ان کو گاڑی میں الٹیاں آتی ہیں اس کنڈیشن کو موشن سکنس ( motion sickness) کہتے ہیں
موشن سکنس کی وجہ کیا ہے؟
موشن سکنس کی وجہ دوران سفر کان کے اندرونی حصے انر آئیر (inner ear) میں ایکلوبیرم (equilibrium) کا بیلنس نہ ہونا ہے کیونکہ کان ہمارے جسم کا بیلنس بھی برقرار رکھتا ہے سفر کے دوران ہماری آنکھوں کے سامنے تیزی سے منظر تبدیل ہو رہا ہوتا ہے لیکن ہمارے کان سے یہ تاثر جا رہا ہوتا ہے کہ ہم ساکن ہیں اس طرح ہماری باڈی کا ایکلوبیرم (equilibrium) برقرار نہیں رہتا اور دماغ معدے کو الٹے سیدھے پیغام بھیجنا شروع کر دیتا ہے جس سے ہمیں چکر یا الٹی آتی ہے۔
حل (solution)
دوران سفر گاڑی میں کسی طرح کانوں کو بند رکھیں اکثر ایسا ممکن نہیں ہوتا تو اس صورت میں کوشش کریں کہ گاڑی کی فرنٹ والی سیٹ لیں اور دوسری سمتوں کے شیشوں کی بجائے گاڑی کی فرنٹ سکرین کی سے آگے کی طرف دیکھیں کیونکہ وہاں سے منظر قدرے آہستہ آہستہ تبدیل ہوتا ہے۔
 
آخری تدوین:

سیما علی

لائبریرین
بغداد کے مشہور شراب خانے کے دروازے پر دستک ہوئ, شراب خانے کے مالک نے نشے میں دُھت ننگے پاؤں لڑکھڑاتے ہوئے دروازہ کھولا تو اُس کے سامنے سادہ لباس میں ایک پر وقار شخص کھڑا تھا مالک نے اُکتائے لہجہ میں کہا معذرت چاہتا ہوں سب ملازم جا چکے ہیں یہ شراب خانہ بند کرنے کا وقت ہے آپ کل آئیے گا اس سے پہلے کہ مالک پلٹتا اجنبی نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا مجھے بشر بن حارث سے ملنا ہے اُس کے نام بہت اہم پیغام ہے شراب خانے کے مالک نے چونک کر کہا بولیے ! میرا نام ہی بشر بن حارث ہے
اجنبی نے بڑی حیرت سے سر سے لے کر پاؤں تک سامنے لڑکھڑاتے ہوئے شخص کو دیکھا اور بولا کیا آپ ہی بشر بن حارث ہیں ؟؟ مالک نے اُکتائے ہوئے لہجے میں کہا کیوں کوئ شک ؟؟ اجنبی نے آگے بڑھ کر اُس کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور بولا سُنو بشر بن حارث ! خالقِ ارضِ وسما نے مجھے کہا ہے کہ میرے دوست بشر بن حارث کو میرا سلام عرض کرنا اور کہنا جو عزت تم نے میرے نام کو دی تھی وہی عزت رہتی دنیا تک تمہارے نام کو ملے گی اتنا سُننا تھا کہ بشر بن حارث کی نگاہوں میں وہ منظر گھوم گیا جب اک دن حسبِ معمول وہ نشے میں دُھت چلا جا رہا تھا کہ اُس کی نظر گندگی کے ڈھیر پر پڑے اک کاغذ پر پڑی جس پر اسم " اللہ " لکھا تھا, بشر نے کاغذ کو بڑے احترام سے چوما صاف کر کے خوشبو لگائی اور پاک جگہ رکھ دیا اور کہا اے مالکِ عرش العظیم یہ جگہ تو بشر کا مقام ہے تمہارا نہیں بس یہی ادا بشر بن حارث کو " بشر حافی رحمت اللہ علیہ" بنا گئی۔ جس وقت آپ کو یہ پیغام ملا آپ اس وقت ننگے پاؤں تھے اور پھر آپ نے ساری زندگی ننگے پاؤں گزار دی آپ جن گلیوں سے گزرتےتھے ان گلیوں میں چوپائے بھی پیشاب نہیں کر تے تھے کہ آپ کے پاؤں گندے نہ ہو ں۔ وہی بشر حافی رحمت اللہ علیہ جس کے متعلق اپنے وقت کے امام احمد بن حنبل رحمت اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے لوگوں جس اللہ کو احمد بن حنبل رحمت اللہ علیہ مانتا ہے
بشر حافی رحمت اللہ علیہ اُسے پہچانتا ہے۔
کوشش کریں کہ کہیں اخبار یا کاغذ کے کسی ٹکڑے پر اللہ پاک یا نبی پاک صلی اللہ علیہ و الہ و سلم یا مقدس ہستیوں کا نام نظر آئے تو اسے کسی پاک جگہ پر رکھ دیا کریں۔۔۔۔۔۔۔
 

سیما علی

لائبریرین
کبوتروں_کی_گُنبدِ_خضریٰ_سے_محبت_کا_عالم

قُطبِ مدینہ حضرت علامہ مولانا ضِیاءالدین احمد مدنی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں:
" ایک مرتبہ اِنتظامیہ نے مسجدِ نبوی شریف ﷺ کے حرم کو صاف سُتھرا رکھنے کے لیے فیصلہ کیا کہ حرم شریف میں کبوتروں کے لیے دانہ نہ ڈالا جائے ، اس طرح کبوتر دانے کی تلاش کے لیے دوسری جگہوں پر منتقل ہو جائیں گے ۔ اس حُکم پر عمل کیا گیا اور کئی دن تک دانہ نی ڈالا گیا ۔ مگر کبوتروں کی گُنبدِ خضریٰ سے محبت کا یہ عالم تھا کہ بُھوک سے مر رہے تھے مگر آستانہء محبوب ﷺ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تھے ۔ اہلِ مدینہ نے اپنی آنکھوں سے یہ عشقُ محبت بھرا منظر دیکھا ۔ پھر دنیا میں یہ بات شُہرت پکڑ گئی تو لوگوں نے حکومت کو تار دیے اور اِصرار کیا ، تب حکومت نے پھر حسبِ سابق کبوتروں کو دانہ ڈالنا شروع کیا ۔
( انوارِ قُطبِ مدینہ ، صفحہ ٥٤ )
*یہ تمنّا ھے تیرے ﷺ شہر کے اندر ھوتا*
*میں تیرے ﷺ گُنبدِ خضریٰ کا کبوتر ھوتا*
 

سید عمران

محفلین
کبوتروں_کی_گُنبدِ_خضریٰ_سے_محبت_کا_عالم

قُطبِ مدینہ حضرت علامہ مولانا ضِیاءالدین احمد مدنی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں:
" ایک مرتبہ اِنتظامیہ نے مسجدِ نبوی شریف ﷺ کے حرم کو صاف سُتھرا رکھنے کے لیے فیصلہ کیا کہ حرم شریف میں کبوتروں کے لیے دانہ نہ ڈالا جائے ، اس طرح کبوتر دانے کی تلاش کے لیے دوسری جگہوں پر منتقل ہو جائیں گے ۔ اس حُکم پر عمل کیا گیا اور کئی دن تک دانہ نی ڈالا گیا ۔ مگر کبوتروں کی گُنبدِ خضریٰ سے محبت کا یہ عالم تھا کہ بُھوک سے مر رہے تھے مگر آستانہء محبوب ﷺ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تھے ۔ اہلِ مدینہ نے اپنی آنکھوں سے یہ عشقُ محبت بھرا منظر دیکھا ۔ پھر دنیا میں یہ بات شُہرت پکڑ گئی تو لوگوں نے حکومت کو تار دیے اور اِصرار کیا ، تب حکومت نے پھر حسبِ سابق کبوتروں کو دانہ ڈالنا شروع کیا ۔
( انوارِ قُطبِ مدینہ ، صفحہ ٥٤ )
*یہ تمنّا ھے تیرے ﷺ شہر کے اندر ھوتا*
*میں تیرے ﷺ گُنبدِ خضریٰ کا کبوتر ھوتا*
مدینہ کے ہر چیز میں مکہ سے دوگنی برکات نظر آتی ہیں۔۔۔
کیوں کہ زائرین مسافروں کو یہاں اللہ کی میزبانی بھی ملتی ہے اور اللہ کے رسول کی میزبانی بھی!!!
 

سید عمران

محفلین
آپ کا بچہ :
۔"" "" "" "

۵ سال تک آپ کا کھلونا.!
١٠ سال تک آپ کا خادم..!!
١۵ سال کا ہونے سے پہلے، پہلے آپ اسے اپنا دوست بنا لیں ورنہ دشمن تو وہ بن ہی جائے گا...!!!

مجھے بھی یہ بات بہت سخت لگی تھی کہ پندرہ سال کا ہونے پر ہمارا بچہ ہمارا دشمن کیوں بن جائے گا..؟

فرمایا آپ کا بچہ پہلے پانچ سال آپ کا کھلونا ہوتا ہے۔ سارے گھر کا لاڈلا ہر ایک کی آنکھ کا تارا ۔ آپ اسے بھرپور وقت دیتے ہیں اور وہ آپ کو بھرپور پیار دیتا ہے۔ ماں باپ اس کی نظر میں دنیا کے سب سے مہربان بہادر، ذہین، دولت مند، انسان ہوتے ہیں ۔

پھر
اسکول میں داخلہ ہو جاتا ہے۔ گھر میں چھوٹا بہن بھائی آ چکا ہوتا ہے۔ آپ کی مصروفیات بڑھ جاتی ہیں۔ پہلے بچے کو ملنے والا وقت تقسیم ہو جاتا ہے۔ اسکول میں دوست بن جاتے ہیں۔ کچھ اساتذہ اچھے لگتے ہیں۔ آپ یعنی ماں باپ بچے کی پسندیدہ شخصیات کی فہرست میں تیسرے چھوتے نمبر پر چلے جاتے ہیں۔

دس سال بعد ایک بار پھر ٹاپ ٹین کی لسٹ بدلتی ہے۔ پہلے نمبر پر دوست، پھر کوئی ٹیچر، فلم، ٹی وی کا کوئی فنکار، کرکٹ، فٹبال کا کوئی کھلاڑی آ جاتا ہے۔

پندرہ سال کا ہوتے ہوتے بچہ ماں باپ کی نصیحتیں سن سن کر مار پٹائی، ڈانت کھا کھا کر بیزار ہو چکا ہوتا ہے۔ اور اس عمر میں اکثر ٹین ایج بچے ماں باپ کو اپنا دشمن سمجھنے لگتے ہیں۔ اپنی آزادی کا دشمن، اپنی خواہشات کا دشمن، اپنے فرینڈز کا دشمن. ....!
ایک بات نوٹ کر لیجیئے،
یہ مسئلہ صرف آپ کا یعنی ہمارے وطن یا اس خطہ کا نہیں ہے، بلکہ ساری دنیا کے ٹین ایج بچوں اور ان کے پیرنٹس کا ہے۔ اگر ہم مغرب میں بچوں اور پیرنٹس کے مسائل جان لیں تو ہمارے ہوش اڑ جائیں۔ پھر یقین جانیں ہم صبح شام، دن رات اپنے بچوں کے صدقے واری جائیں۔ لیکن اس بات سے مطمئن ہو کر بیٹھ نہیں سکتے، بہتری لانی ہو گی۔ بچوں کے ساتھ تعلقات میں روز بروز اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔

چند آسان آسان ٹپس عرض کرتا ہوں۔ بچے بڑے ہوتے ہیں تو ان کے مسائل بھی بڑے ہو جاتے ہیں۔ اس لئے اب ان سے؛
• تو تو میں میں بند کر دیں۔
• ان ٹین ایج بچوں کو مکمل فرد سمجھیں۔
• دلیل سے بات کریں، توجہ سے ان کی بات سنیں۔
• غصّہ کرنا چھوڑ دیں، اس سے پہلے کہ بچے آپ سے بات کرنا چھوڑ دیں۔
• تسلیم کریں دنیا کے ساری ٹین ایج بچے اس عمر میں ایسے ہی ہوتے ہیں۔ آپ بھی کم و بیش ایسے ہی تھے، میں بھی ایسا ہی تھا۔
• حوصلہ افزائی کیجیئے، بچوں کی اور ان کے کام کی۔ مثلاً، آپ نے اچھے رزلٹس کے لئے جو مستقل مزاجی سے محنت کی ہے یہ بات قابل تعریف ہے۔
• بچوں کی اسٹرینتھ پہچان کر ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ یعنی نوٹ کیجئے کون سا کام آپ کے بچے خود بخود انتہائی محنت لگن اور ذمہ داری سے کرتے ہیں۔ اس خوبی کی تعریف کیجیئے ۔
• بچہ سچ بولتا ہے، نماز کی پابندی کرتا ہے، وقت کی اہمیت کا احساس کرتا ہے۔ تو جم کر بھرپور انداز میں ایپریشئیٹ کیجیئے۔
• بچوں کی کامیابیوں کو سیلیبریٹ کریں۔
• ایک وقت میں ایک بچے کے ساتھ لونگ ڈرائیو پر جائیں۔ اس دوران آپ صرف سوال کیجیئے۔ نوے فیصد سے زیادہ وقت بچے کو بولنے دیں۔ اپنے پاس مائک صرف دس فیصد وقت رکھیں۔ نصیحت نہیں سوال کریں ۔ بچہ آپ کی بات سنجیدگی سے نہ سنتا ہو تو خاندان کے کسی فرد یا ٹیچر جن سے وہ انسپائر ہو، کی مدد لینی چاہیئے۔ ان کے ذریعے حکمت کے ساتھ موٹیویٹ کیجیئے۔
• ہر ایک ٹین ایج بچے کو ایڈوینچر، تھرل، کی طلب ہوتی ہے۔ کچھ ایسے ایونٹ آرگنائز کیجیئے جس میں بچوں کی یہ فطری طلب پوری ہو جائے۔ مثلاً، تیراکی، ہائکنگ، کشتی رانی، سائیکلنگ، گارڈننگ، ڈیزرٹ سفاری، کسی نہ کسی آؤٹ ڈور کھیل کے لئے سامان، مواقع اور اجازت فراہم کریں۔
 

سید عمران

محفلین
یہ پوسٹ پڑھنے کے بعد آئندہ کوئی ہمیں دال کھلانے کا سوچے بھی نہیں!!!

ایک شخص کی شادی ہوئی تو باوجود مال دار و صاحبِ ثروت ہونے کے بیگم کے نان نفقہ کے حوالے سے بڑی کنجوسی سے کام لیتا۔ کھانے پینے کے حوالے سے موصوف کو دال کے علاوہ کوئی اور کھانا سوجھتا ہی نہیں تھا، خود تو دال پر گزارا کرتا، ساتھ میں بیوی کو بھی اسی ایک سالن پر گزارا کرنے پر مجبور کر دیا۔ تنگ آکر جب کبھی بیوی دال کے علاوہ کچھ اور سبزی، گوشت لانے کا کہتی تو جوابا بری طرح ڈانٹ ڈپٹ کر خاموش کروا دیتا اور دال کے فوائد گنوانا شروع کر دیتا۔
ایک دن بیوی اپنے مائیکے گئی تو اس کے بھائیوں نے بہن کے اترے چہرے، پھیکی پڑتی رنگت اور نقاہت زدہ جسم کو دیکھ کر اندازہ لگایا کہ بہن خوش نہیں ہے۔ وجہ دریافت کرنے پر پہلے پہل تو بہن نے بات ٹالنا چاہی، مگر بھائیوں کے اصرار پر شوہر کی کنجوسی اور دال کا قصہ سنا ڈالا۔ بھائیوں نے کہا کہ : اس کا معاملہ ہم پر چھوڑ دو، بس یہ نیند کی گولی لے جا کر اس کے کھانے میں ڈال دینا۔
بہن نے واپس گھر آ کر شوہر کے لیے اس کی من پسند ڈش ( دال) بنائی اور وہ نیند کی گولی اس کے سالن میں ڈال کر اسے کھلا دی۔
اب شوہر جیسے ہی نیند کی گہری وادیوں میں اترا تو اس عورت کے بھائیوں نے آ کر پہلے اسے کفن میں لپیٹا، پھر اس کی چار پائی اک اندھیرے، تاریک کمرے میں لے گئے۔
جیسے ہی وہ نیند کی وادیوں کی سیر سے واپس آیا تو اپنے آپ کو کفن میں ملفوف پا کر سمجھا کہ شاید اس کی موت ہو چکی ہے۔ اس کے اس گمان کو یقین میں بدلنے کے لیے عورت کے دو بھائی ( دنیاوی) منکر، نکیر بن کر حاضر ہوئے اور سوالات کا سلسلہ شروع کیا : من ربک؟ " ( تیرا رب کون ہے؟)
بخیل : ربی اللہ
" ما دینک؟ " ( تیرا دین کونسا ہے؟)
" دینی الإسلام"
" من الرجل الذی بعث فیکم؟ " ( نبی کون ہیں؟)
" محمد ﷺ "

جب ان تین سوالوں کے جواب دے چکا تو ایک چوتھا سوال داغا گیا : دنیا میں کھانا کیا کھاتے تھے؟"
اب کی بار جواب دیا : میں نے تو دال کے علاوہ کوئی کھانا چکھا ہی نہیں کبھی۔"
اب اس جواب پر یہ کہتے ہوئے اس کی پکڑ ہو گئی کہ : دال کے علاوہ کبھی کچھ کیوں نہیں کھایا؟ جبکہ اللہ نے فرمایا : ہمارے عطا کردہ پاکیزہ رزق میں سے خوب جی بھر کر کھاؤ پیو۔" لہذا اب تمہاری سزا یہ ہے کہ تمہیں قیامت تک کوڑے مارے جائیں، اور یہ کہ کر اس پر کوڑوں کی ایسی برسات کی گئی کہ بیچارہ بے ہوش ہو گیا۔
اب فوراً اسے واپس اسی جگہ لِٹا دیا جہاں سویا تھا اور واپس کپڑے تبدیل کر دیے۔
جیسے ہی اسے ہوش آیا تو درد سے کراہتے ہوئے بیوی کو سامنے دیکھ کر حیرانی کے عالم میں بولا : ہیں....! میں زندہ ہوں؟ "
ہاں، تمہیں کیا ہونا تھا بھلا؟... ٹھہرو میں دال بنا کر لاتی ہوں۔" بیوی یہ کہ کر مڑنے ہی لگی تھی کہ فورا اس نے چلاتے ہوئے آواز دی: نہییییییییں! دال نہیں، دال کا عذاب بڑا سخت ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : ہمارے دیے ہوئے پاکیزہ رزق میں سے خوب کھاؤ پیو " اس لیے میں گوشت لے کر آتا ہوں آج وہ پکائیں گے۔"

( عربی سے اردو)
 

سیما علی

لائبریرین
عطا ء اللہ عیسٰی خیلوی اور نودولتیا کلچر
اکبر شیخ اکبر کا تجزیہ و تجویز۔123
میرے چچا مرحوم شیخ علی میاں عوامی گلوکاروں عطاء اللہ عیسٰی خیلوی اور منصور ملنگی کے بہت بڑے مداح تھے۔ اب تو دیہاتوں میں بھی گاڑیاں عام ہو چکی ہیں، اس وقت بہت سارے گاؤں میں بھی صر ف چند انتہائی خوشحال زمینداروں کے پاس موٹر سائیکل ہوتے تھے۔ چچا بڑی شان سے اپنے موٹر سائیکل پہ علاقہ میں سفر کرتے۔ ان کے موٹر سائیکل کی صفائی ستھرائی کے لیے ایک ملازم مقرر تھا۔ بعد میں تو انھوں نے ایک شخص کوموٹر سائیکل کا باقاعدہ ڈرائیور مقرر کیا۔ خیر۔ ریڈیو کا سیٹ عموماً لوگ لاہور یا ملتان سے منگواتے اور ٹیپ ریکارڈر سعودیہ عرب حج کے لیے جانے والے کسی صاحب کے ذمہ لگا دیا جاتا وہ آتے ہوئے جاپانی ٹیپ ریکارڈر لیتا آتا۔ چچا نے بھی منگوا لیا اور اپنے پسندیدہ گلوگاروں کی کیسیٹیں بھی خرید لائے جو ہر بازار میں نہیں ملتی تھیں۔ اب دن کے اوقات تواپنی فصلوں کی دیکھ بھال اور علاقہ کے عوام کے تنازعات کو ایک ہی دن کے پنچایتی فیصلوں کے ذریعے حل کرنے میں گزر جاتا۔ اس وقت دیہات کے عوام میں چھوٹے چھوٹے معاملات پہ عدالتوں کی طرف رجوع کرنے کا رجحان بہت کم تھا۔ لوگ پنچایتی فیصلوں کے ذریعے بڑے بڑے تنازعات اور جائیدادوں اور رشتوں کے جھگڑے ایک ہی دن میں حل کر لیتے۔ رات کو چچا ڈیرہ اوطاق پہ ٹیپ ریکارڈر پہ منصور ملنگی کا گایا ہوا گیت ”نی اِ ک پُھل موتیے دا مار کے جگا سوہنیے“ یا عطاء اللہ عیسٰی خیلوی کا گایا ہوا گیت ”بال بتیوں نی ماہی ساکوں مار سنگلاں نال“سنتے۔
چندی پور گاؤں کا جو کونا گاؤں کے پاس گزرتی سڑک کے ساتھ جا لگتا وہاں اسی سالہ بوڑھی خاتون ماسی گُھکی کا گھر تھا۔ گھر کیا تھا ایک مٹی کا بنا کچا کمرہ جس کے اردگرد کوئی چار دیواری نہ تھی۔ کمرے کے باہر مٹی کا چولہا اور سامنے بیر ی کا بہت بڑا درخت۔ کمرہ میں دو ہی افراد رہتے۔ ماسی گُھکی اور اور اس کا نوّے سالہ شوہر۔ تعلیمی اداروں کی تعطیلات میں راقم بہاول پور سے چندی پور چلا جاتا۔ ماسی گُھکی کے پاس ایک بہت پرانا ٹیپ ریکارڈر تھا اور ٹوٹل صرف ایک کیسٹ وہ بھی عطاء اللہ عیسٰی خیلوی کی۔ سارا دن وہ کیسٹ ٹیپ ریکارڈر پہ چلتی رہتی۔ میں بھی کبھی کبھی وہاں جا کے بیر ی کے نیچے پڑی چارپائی پہ بیٹھ جاتا۔ گیت چل رہا ہوتا۔ ”کس دیس پیا ہمیں چھوڑ گئے۔ پیا لوٹ کے آنا بھول گئے“۔عشق کا کوئی روگ تو تھا نہیں لیکن عیسٰی خیلوی کے گانے کا انداز اور اس گیت کے میوزک میں کوئی جادو تھا میں کافی دیر تک اسے سنتا رہتا۔ چندی پور بس سٹاپ پہ ٹریکٹر وں کی ورکشاپ کے مستری کے کانوں میں جیسے ہی عطاء اللہ عیسٰی خیلوی کے گانے کے بول پڑتے اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے۔ اس نے علاقہ یزمان کی کسی خاتون کے ساتھ عشق و محبت کی شادی کی۔ بعد میں وہ شادی قائم نہ رہ سکی۔ خاتون واپس چلی گئی اور مستری صاحب اس کی یاد میں عیسٰی خیلوی کے غمگین گانے سنتے رہتے اور روتے رہتے ساتھ ساتھ ٹریکٹر وں کے فالٹ درست کرنے کا کام بھی کرتے رہتے۔ اچھا، میری نانی امّاں بھی عطاء اللہ عیسٰی خیلوی کو سنتے ہوئے رو پڑتی تھیں۔ میں نے پوچھا، نانی امّاں آپ کیوں روتی ہوتو وہ کہتیں کہ جب یہ بچھڑنے کے غمگین بول بولتا ہے تو مجھے تمہاری مرحومہ ماں اور تمہاری مرحومہ خالہ یاد آ جاتی ہیں۔
گزرے سال 2021میں سوشل میڈیا پہ قوال برادران کی کچھ ویڈیوز نظروں کے سامنے گزریں جس میں وہ ایک ہی قوالی ”دل غلطی کر بیٹھا ہے“ بار بار گا رہے ہوتے اورقیمتی کپڑوں میں ملبوس کچھ نوجوان ان پہ کرنسی نوٹوں کی بارش کر رہے ہوتے اور ساتھ ساتھ جھوم رہے ہوتے۔
آج 3جنوری2022کو خبریں سننے دیکھنے کے لیے ایک ٹی وی چینل آن کیا تو ہیڈ لائن تھی ”عطاء اللہ عیسٰی خیلوی کے ساتھ گانا گانے کی ضد پہ نوجوانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑے“۔عیسٰی خیلوی تقریب چھوڑ کر چلے گئے۔ عرض ہے کہ پاکستان اور جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں ابھرنے والی نئی مڈل کلاس کے نام پہ ایک نیا کلچر وجود میں آ رہا ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ تو مہذب ہیں لیکن کچھ نئی نئی ملنے والی دولت کے نشہ میں چُور ہیں۔ چاچا مُنّا بہا ول پور کی سڑکوں پہ اپنا موٹر رکشہ مخصوص لائن میں چلا رہا ہوتا ہے لیکن سائیڈ میں جگہ ہونے کے باوجود عقب سے آنے والی کاروں سے بار بار اور مسلسل ہارن بجائے جاتے ہیں گویا چاچا مُنا کو کہہ رہے ہوتے ہیں ”اوئے غریب آدمی اپنا رکشہ سڑک سے نیچے اتارو“۔ اس پہ چاچا مُنّا بڑا چیں بچیں ہوتا ہے تو میں اُسے کہتا ہوں ”چاچا! بار بار ہارن دینے والے کا مائنڈ سیٹ یہ ہے کہ اُس نے کار خریدتے وقت سڑک بھی ساتھ خرید لی ہے لہذا تم غریبوں کو کوئی حق نہیں سڑک پہ آنے کا۔“
جنوبی ایشیا میں یہ جو کروڑوں افراد پہ مشتمل نئی مڈل کلا س وجود میں آئی یہ ایک مثبت معاشی تبدیلی بھی ہے لیکن اسی مڈل کلاس کا کچھ حصّہ مجرمانہ مائنڈ سیٹ کا حامل ہو کر اپنے روّیوں سے معاشرے میں عدم توازن بھی پیدا کر رہا ہے۔ اصل میں ان کے اندر ایک سوچ پائی جاتی ہے کہ وہ اپنی دولت سے پولیس، عدالت اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں، افسران اور سرکاری اہلکاروں کو خرید سکتے ہیں۔ یہ خرید سکتے ہیں یا نہیں یہ تو الگ موضوع ہے لیکن یہ ایک کُھلی حقیقت ہے کہ یہ نو دولتیے اپنی دولت کے زور پہ اور قیمتی تحفے تحائف دے کر کچھ پولیس افسران، ججوں، سول بیوروکریٹس یہاں تک کہ فوجی افسران کے ساتھ بھی اپنے تعلقات قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ سوائے چین کے جنوبی ایشیا کے دیگر تقریباً تمام ممالک میں آپ کو قانون کی خلاف ورزیاں اس لیے عام نظر آتی ہیں کہ ایسا کرنے والے خود کو طاقتور سمجھتے ہیں اور قانون کی خلاف ورزی میں فخر اور ایک گونہ تسکین محسوس کرتے ہیں۔
اگر آپ جنوبی ایشیا بشمول انڈیا اور پاکستان کے نو دولتیا کلچر کا تقابل امریکہ اور یورپ کی مڈل کلاس کے ساتھ کرتے ہیں تو آپ کو واضح فرق یہ ملے گا کہ وہاں قانون امیر غریب سب کے لیے برابر ہے۔ آپ چاہے دولت کے جتنے بھی ذخائر رکھتے ہیں۔ قیمتی گاڑیوں کے مالک ہیں۔ آپ کو قانون کا اتنا ہی احترام کرنا ہو گا جتنا وہاں کے عام لوگ کرتے ہیں۔ گو کہ زیادہ پُرامید تو نہیں ہوں پھر بھی جنوبی ایشیا کے ممالک کی مقامی مقتدرہ قوتوں کو مشورہ دوں گا کہ اگر آپ اپنے ملک میں بدنظمی، انتشار، ناانصافی، ظلم اور عد م توازن کا خاتمہ چاہتے ہیں تو پھر آپ اپنے قانون نافذ کرنے والے اداروں خاص طور پہ پولیس افسران اور ججوں کا مائنڈ سیٹ ایسا بنا دیں کہ جہاں کسی غریب آدمی سے کوئی غلطی ہو جانے پہ قانون فوراً حرکت میں آ جاتا ہے وہاں مڈل اور اپر کلاس کے لیے بھی کسی قسم کی گنجائش یا معافی نہ ہو۔ جہاں تک جنوبی ایشیامیں مڈل کلاس کے پھیلاؤ کا تعلق ہے تو یہ ایک اچھی بات ہے کہ غربت کم ہو اور لوگ خوشحال ہوں لیکن جو لوگ نئی نئی دولت ملنے کے زعم میں مجرمانہ ذہینت کے حامل ہو جائیں پھر ان کو کنٹرول کرنے کے لیے قانون کا نفاذ بلا تفریق دولت مند و غیر دولتمند ہو۔۔۔۔۔۔
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
آئندہ کوئی ہمیں دال کھلانے کا سوچے بھی نہیں!!!

ایک شخص کی شادی ہوئی تو باوجود مال دار و صاحبِ ثروت ہونے کے بیگم کے نان نفقہ کے حوالے سے بڑی کنجوسی سے کام لیتا۔ کھانے پینے کے حوالے سے موصوف کو دال کے علاوہ کوئی اور کھانا سوجھتا ہی نہیں تھا،
اچھا!!!!!
پھر اتنی کنجوسی آپ نے کس لیے کی تھی؟؟؟
 

سید عمران

محفلین
اچھا!!!!!
پھر اتنی کنجوسی آپ نے کس لیے کی تھی؟؟؟
پہلے تو دلائل کی روشنی میں یہ ثابت کریں کہ یہ والے مذکورہ کنجوس ہم ہی تھے یا اس والے مذکورہ کنجوس سے ہماری کوئی قریبی یا بعیدی نسبت تھی۔۔۔
پھر بتاتے ہیں آپ کو اپنی کنجوسیوں کے باے میں!!!
:timeout::timeout::timeout:
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
پہلے تو دلائل کی روشنی میں یہ ثابت کریں کہ یہ والے مذکورہ کنجوس ہم ہی تھے یا اس والے مذکورہ کنجوس سے ہماری کوئی قریبی یا بعیدی نسبت تھی۔۔۔
پھر بتاتے ہیں آپ کو اپنی کنجوسیوں کے باے میں!!!
:timeout::timeout::timeout:
آپ کی کارگزاری سے پہلے جو ڈسکلیمر ہے وہی آپ کی چغلی کھا رہا ہے 😂
 

سید عمران

محفلین
آپ کی کارگزاری سے پہلے جو ڈسکلیمر ہے وہی آپ کی چغلی کھا رہا ہے 😂
پہلی بات تو یہ کہ وہ ڈسکلیمر نہیں ہے۔۔۔
عرف عام میں اسے وارننگ کہتے ہیں۔۔۔
دوسری بات یہ ہے کہ آخر میں بتایا گیا ہے کہ عربی سے اردو ترجمہ کیا گیا ہے۔۔۔
اور اس کے ساتھ ہی ڈھول کے پول کھل گئے ہیں!!!
 
Top