انٹر نیٹ سے چنیدہ

سیما علی

لائبریرین
دو عورتیں آفس میں ایک دوسرے سے بات چیت اس طرح کر رہی تھی

میری تو کل شام اچھی گزری

آپ کی کیسی رہی ؟؟

بہت بری میرے میاں گھر آئے تین منٹ میں کھانا کھایا اور سو گے

تم سناؤ تمھاری کیسی گزری ؟؟

‏پہلی عورت بہت ہی زبردست میرے میاں گھر آئے وہ مجھے کھانے کے لیے باہر لے گئے کھانے کے بعد ہم نے لمبی واک کی جب ہم گھر آئے تو ہم نے سارے گھر کو کینڈل سے روشن کیا یہ سب بالکل خواب سا لگ رہا تھا

‏دوسری طرف ان دونوں کے شوہر آفس میں آپس میں بات کر رہے تھے

میاں نمبر ون : دوسرے سے آپ کی شام کیسی گزری ؟؟

میاں نمبر ٹو : بہت اچھی میں گھر گیا کھانا میز پر تھا کھایا اور سو گیا آپ سناؤ ؟؟

‏میاں نمبر ون : بہت مشکل تھی یار میں گھر گیا کھانا بھی نہیں پکا تھا کیونکہ میں نے بجلی کا بل ادا نہیں کیا تھا تو گھر کی بجلی کٹی ہوئی تھی پھر مجھے باہر کھانے کے لیے بیوی کو لے جانا پڑا کھانے کا بل اتنا زیادہ بنا تھا کہ واپس گھر آنے کے لیے کرایہ ہی نہیں بچا تھا ‏تو پھر ہمیں گھنٹوں چل کر آنا پڑا

جب گھر آئے سارا گھر اندھیرے میں ڈوبا تھا تو روشنی کے لیے موم بتیاں جلانی پڑیں

سبق " حقیقت چاہے کچھ بھی ہو پیش کرنے کا انداز اعلی ہونا چاہے😁😂😋🤣
 

سیما علی

لائبریرین
😇😇 بھولنا سیکھیں 😇😇

ایک بوڑھا آدمی کانچ کے برتنوں کا بڑا سا ٹوکرا سر پر اٹھائے شہر بیچنے کے لئے جارہا تھا۔ چلتے چلتے اسے ہلکی سی ٹھوکر لگی تو ایک کانچ کا گلاس ٹوکرے سے پھسل کر نیچے گر پڑا اور ٹوٹ گیا۔

بوڑھا آدمی اپنی اسی رفتار سے چلتا رہا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔___ پیچھے چلنے والے ایک اور راہگیر نے دیکھا تو بھاگ کر بوڑھے کے پاس پہنچا اور کہا: " بابا جی! آپ کو شاید پتہ نہیں چلا، پیچھے آپ کا ایک برتن ٹوکرے سے گر کر ٹوٹ گیا ہے"
بوڑھا اپنی رفتار کم کیے بغیر بولا: " بیٹا مجھے معلوم ہے "
راہگیر: " حیران ہو کر بولا__، بابا جی! " آپ کو معلوم ہے تو رکے نہیں "
بوڑھا؛ " بیٹا جو چیز گر کر ٹوٹ گئی اس کے لیے اب رکنا بےکار ہے،___ بالفرض میں اگر رک جاتا،__ ٹوکرا زمیں پر رکھتا،___ اس ٹوٹی چیز کو جو اب جڑ نہیں سکتی کو اٹھا کر دیکھتا، __ افسوس کرتا، __ پھر ٹوکرا اٹھا کر سر پر رکھتا تو میں اپنا ٹائم بھی خراب کرتا، __ٹوکرا رکھنے اور اٹھانے میں کوئی اور نقصان بھی کر لیتا اور شہر میں جو کاروبار کرنا تھا __ افسوس اور تاسف کے باعث وہ بھی خراب کرتا۔ ___ بیٹا، میں نے ٹوٹے گلاس کو وہیں چھوڑ کر اپنا بہت کچھ بچا لیا ہے"
۔
۔
۔
ہماری زندگی میں کچھ پریشانیاں، غلط فہمیاں، نقصان اور مصیبتیں بالکل اسی ٹوٹے گلاس کی طرح ہوتی ہیں کہ جن کو ہمیں بھول جانا چاہیے، چھوڑ کر آگے بڑھ جانا چاہیے۔

کیوں؟؟؟؟؟

کیونکہ یہ وہ بوجھ ہوتے ہیں جو

آپ کی رفتار کم کر دیتے ہیں
آپ کی مشقت بڑھا دیتے ہیں
آپ کے لیے نئی مصیبتیں اور پریشانیاں گھیر لاتے ہیں
آپ سے مسکراہٹ چھین لیتے ہیں
آگے بڑھنے کا حوصلہ اور چاہت ختم کر ڈالتے ہیں۔

اس لیے اپنی پریشانیوں، مصیبتوں اور نقصانات کو بھولنا سیکھیں اور آگے بڑھ جائیں۔
صرف سمجھانے کے لیے لیے ایک فرضی کہانی ھے اور ایک نصحیت و سبق حاصل کرنے کے لیے ہے کہانی پر زور نہ دیں پیغام سمجھیں۔
 

سید عمران

محفلین
کمال تحریر 👍
میچیورٹی کسے کہتے ہیں۔؟
میچیورٹی کیا ہے ؟
میچیورٹی کسی انسان میں کس وقت آتی ہے ؟

‏میچورٹی کا ایک لیول یہ ہوتا ہے کہ آپ وضاحت دینا چھوڑ دیتے ہیں اور خاموش ہوجاتے ہیں، بحث نہیں کرتے اگر کوئی آپکو برا بھلا بھی کہہ دے تو آپ مسکرا کر آگے بڑھ جاتےہیں....
اسکا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ سچ میں ویسے ہی ہوتے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ وہ بات آپکے لیے اہمیت ہی نہیں رکھتی۔
یاد رکھیں۔۔
گاڑی کے پیچھے کچھ فاصلے تک ہی کتا بھونکتا اور دوڑتا رہتا ہے،
نہ ہی کتا آپ سے گاڑی چھیننا چاہتا ہے
نہ گاڑی میں بیٹھنا چاہتا ہے
اور نہ ہی اسے گاڑی چلانی آتی ہے

ایسے ہی زندگی کے سفر میں کچھ اسی عادت کے لوگ بنا کسی مقصد کے آپ کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔
اس لئے جب آپ اپنی منزل پر رواں دواں ہوں اور لوگ آپ کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کریں تو ان سے الجھنے کے بجائے اپنی منزل کی طرف متوجہ رہیں..
یاد رکھیں،
آپ کو تلخ نہیں ہونا،
آپ کو بدلہ لینے والا نہیں بننا۔
آپ کو چالیں چلنے والا،
جال بچھانے والا بھی نہیں بننا۔
آپ کو ایسا بھی نہیں ہونا کہ آپ شاطر کہلائیں۔
اور ایسا بھی نہیں کرنا کہ آپ گڑھے کھودیں۔

آپ کو لگے زخم ہیں، دل پر ہیں اور روح پر بھی ہیں،
لیکن ان کے لیے مرہم بدلہ لے کر تیار نہ کریں۔
مرہم آسمانی ہی اچھے ہوتے ہیں۔
مرہم رحمانی ہی شفاء دیتے ہیں۔
چھوڑ دیں جو ہوا، جانے دیں جس نے جو کیا۔
اپنے پیچھے دروازے بند کر کے آگے بڑھ جائیں۔
زخم دینے والوں، تکلیف پہنچانے والوں،
روح کو روند دینے والوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر اپنا حال ٹھیک کریں۔ کیونکہ آپ کو وہ نہیں بننا جو حالات آپ کو بنا رہے ہیں۔ آپ کو وہ بننا ہے جو اعمال بناتے ہیں۔

"رب کا بندہ بننے کی کوشش کریں"
بندہِ مومن۔۔۔
یعنی ایک بہترین انسان
 

سید عمران

محفلین
صاحبِ تحریر خود اپنی تحریر کو کمال تحریر کہہ رہے ہیں۔۔۔
یعنی اس معاملہ میں بالکل ہم پر گئے ہیں۔۔۔
بولے تو اپنے منہ میاں مٹھو بننے میں۔۔۔
یہاں ہمیں اعتراض ہے کہ لوگ باگ اس معصومانہ محاورہ کو طنز کے طور پر کیوں یوز کرتے ہیں۔۔۔
اگر اس محاورہ کے طنزیہ زہر کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے تو کیا حشر ہوگا، ہم ذرا ٹرائی کرکے دیکھتے ہیں۔۔۔
اگر اب کے ہم یوں کہا کریں بھیا کے منہ میاں مٹھو تو کیسا لگے گا؟؟؟
جبکہ صورت حال یہ ہے کہ آج کل بھیا کے ’’بھاؤ‘‘چڑھے ہوئے ہیں، کسی کو منہ نہیں لگاتے۔۔۔
ایک بار سیٹھ نے منہ لگانے کی کوشش کی تو منہ کی کھانی پڑی ، بدلہ میں سیٹھ نے بھیا کی سیلری کھالی۔۔۔
اب بھیا ہر ایک کو کھانے کو دوڑ رہے ہیں۔۔۔
آج سے آپ بھی اس محاورہ میں اپنے منہ کی جگہ اپنی کسی من پسند شخصیت کے منہ کے یوز کو ٹرائی کرکے دیکھیں۔۔۔
نتائج خاطر خواہ حوصلہ افزا ہوں تو ہمیں بھی انفارم کریں!!!
 

سیما علی

لائبریرین
روح کو روند دینے والوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر اپنا حال ٹھیک کریں۔ کیونکہ آپ کو وہ نہیں بننا جو حالات آپ کو بنا رہے ہیں۔ آپ کو وہ بننا ہے جو اعمال بناتے ہیں۔

"رب کا بندہ بننے کی کوشش کریں"
بندہِ مومن۔۔۔
یعنی ایک بہترین انسان
پروردگار رحم فرمائے ۔۔اور ہمیں اپنا بندہِ مومن بننے کی توفیق عطا فر مائے آمین ۔۔۔۔
 

سیما علی

لائبریرین
ﻧﺌﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﺟﻮﺍﮞ ﺳﺎﻝ ﭘﮍﻭﺳﻦ ﻣﺤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﺑﺎﺩ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺗﯿﻦ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﭽﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺷﻮﮨﺮ ﺷﮑﻞ ﮨﯽ ﺳﮯ ﺧﺮﺍﻧﭧ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﻣﺰﺍﺝ ﻟﮕﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﭘﮍﻭﺳﻦ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮨﯽ ﻣﺤﻠﮯ ﮐﮯ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺗﺮ ﮨﻤﺪﺭﺩﯾﺎﮞ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮﮔﺌﯿﮟ ...

ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﻣﺤﻠﮯ ﮐﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺎ ﺟﺎﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ۔ ملک ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺯﺍ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﮕﻤﺎﺕ ﮐﮯ ﺗﻮﺳﻂ ﺳﮯ ﭘﺘﺎ ﭼﻼ ﮐﮧ ﻧﺌﯽ ﭘﮍﻭﺳﻦ ﮐﺎ ﺷﻮﮨﺮ ﺗﻨﺪ ﺧﻮ ﺍﻭﺭ ﺷﮑﯽ ﮨﮯ۔ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺷﻮﮨﺮ ﺳﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﮈﺭﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﯾﮧ ﺳﻨﺘﮯ ﮨﯽ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﺮﺩ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﮐﯽ ﻧﮕﺎﮨﯿﮟ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﭨﮫ ﮔﺌﯿﮟ۔ ﺩﻝ ﮨﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺷﮑﻮﮦ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﯿﺮﮮ ﻧﺎﻗﺪﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﮮ ﺩﯾﺌﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻧﺌﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﭘﮍﻭﺳﻦ ﺳﺒﺰﯼ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﭘﺮ ملک ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﻣﻠﯽ۔ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﺳﻼﻡ ﮐﯿﺎ۔ ملک ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﭘﺮ ﻧﺎﺯ ﮨﻮﺍ۔ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ملک ﺻﺎﺣﺐ ﺑﺮﺍ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺩﺭﮐﺎﺭ ﮨﮯ۔ ملک ﺻﺎﺣﺐ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺑﺎﻭﻟﮯ ﺳﮯ ﮨﻮﮔﺌﮯ۔ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﻋﺎﻡ ﮔﮭﺮﯾﻠﻮ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮩﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ملک ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ۔

ملک ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺩﻟﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﭼﮭﭙﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﻣﺘﺎﻧﺖ ﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ۔ ﺟﯽ ﻓﺮﻣﺎﯾﺌﮯ۔ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﺎﻡ ﮐﮯ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﺷﮩﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﭘﮍﮬﯽ ﻟﮑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﮐﮯ ﺍﯾﮉﻣﯿﺸﻦ ﮐﯽ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﻤﺎﺋﯽ ﺩﺭﮐﺎﺭ ﺗﮭﯽ۔
ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﯾﻮﮞ ﺳﮍﮎ ﭘﮧ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻭﻗﺖ ﮨﻮﮔﺎ ﺗﻮ ﭼﻨﺪ ﻣﻨﭧ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺩﯾﮟ۔ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﻞ ﮨﯽ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺩﺍﺧﻠﮧ ﮐﺮﻭﺍ ﺩﻭﮞ۔ ملک ﺻﺎﺣﺐ ﭼﻨﺪ ﻣﻨﭧ ﮐﯿﺎ ﺻﺪﯾﺎﮞ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﺗﯿﺎﺭ ﺗﮭﮯ۔ ﻓﻮﺭﺍ ﮐﮩﺎ ﺟﯽ ﺿﺮﻭﺭ۔ ﺁﯾﯿﮯ۔

ملک ﺻﺎﺣﺐ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﮯ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﺍﺑﮭﯽ ﺻﻮﻓﮯ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﯽ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺑﺎﮨﺮ ﺍﺳﮑﻮﭨﺮ ﮐﮯ ﺭﮐﻨﮯ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺁﺋﯽ۔ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮔﮭﺒﺮﺍ ﮔﺊ۔ ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺷﻮﮨﺮ ﺁﮔﺌﮯ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻗﺘﻞ ﮨﯽ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﺎ ﮨﮯ۔ ﻭﮦ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻨﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻡ ﮐﯿﺠﯿﮯ۔ ﯾﮧ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﮐﺎ ﮈﮬﯿﺮ ﮨﮯ۔ ﺁﭖ ﯾﮧ ﻧﯿﻼ ﺩﻭﭘﭩﮯ ﮐﺎ ﮔﮭﻮﻧﮕﮭﭧ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﭙﮍﮮ ﺍﺳﺘﺮﯼ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﺩﻭﮞ ﮔﯽ ﮐﮧ ﺍﺳﺘﺮﯼ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﺎﺳﯽ ﮐﺎﻡ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔

ملک ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﮔﮭﻮﻧﮕﮭﭧ ﮐﺎﮌﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺘﺮﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ۔ ﺗﯿﻦ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺗﮏ ﺍﺳﺘﺮﯼ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﺟﺐ ﺗﮏ ﻭﮦ ﺧﺮﺍﻧﭧ ﺷﺨﺺ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺭﮨﺎ۔ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﺷﻮﮨﺮ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮔﯿﺎ۔ ﭘﺴﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﺍﺑﻮﺭ، ﺗﮭﮑﻦ ﺳﮯ ﭼﻮﺭ ملک ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮉﮬﺎﻝ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﮯ۔
ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻠﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻣﺮﺯﺍ ﺻﺎﺣﺐ ﺁﺗﮯ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﯿﮯ۔ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﺘﻨﯽ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﮨﻮ۔ ﺑﻮﻟﮯ ﺗﯿﻦ ﮔﮭﻨﭩﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺳﺘﺮﯼ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ۔

ﻣﺮﺯﺍ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺗﺎﺳﻒ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﮯ۔ ﺟﺲ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﮐﮯ ﮈﮬﯿﺮ ﮐﻮ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺗﯿﻦ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺍﺳﺘﺮﯼ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ، ﮐﻞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮨﯽ ﭼﺎﺭ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺩﮬﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﮐﯿﺎ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻧﯿﻼ ﺩﻭﭘﭩﮧ ﺍﮌﮬﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ؟؟؟؟
🥲🥲🥲🥲🥲🥲
 

سید عمران

محفلین
ﻧﺌﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﺟﻮﺍﮞ ﺳﺎﻝ ﭘﮍﻭﺳﻦ ﻣﺤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﺑﺎﺩ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺗﯿﻦ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﭽﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺷﻮﮨﺮ ﺷﮑﻞ ﮨﯽ ﺳﮯ ﺧﺮﺍﻧﭧ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﻣﺰﺍﺝ ﻟﮕﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﭘﮍﻭﺳﻦ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮨﯽ ﻣﺤﻠﮯ ﮐﮯ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺗﺮ ﮨﻤﺪﺭﺩﯾﺎﮞ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮﮔﺌﯿﮟ ...

ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﻣﺤﻠﮯ ﮐﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺎ ﺟﺎﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ۔ ملک ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺯﺍ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﮕﻤﺎﺕ ﮐﮯ ﺗﻮﺳﻂ ﺳﮯ ﭘﺘﺎ ﭼﻼ ﮐﮧ ﻧﺌﯽ ﭘﮍﻭﺳﻦ ﮐﺎ ﺷﻮﮨﺮ ﺗﻨﺪ ﺧﻮ ﺍﻭﺭ ﺷﮑﯽ ﮨﮯ۔ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺷﻮﮨﺮ ﺳﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﮈﺭﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﯾﮧ ﺳﻨﺘﮯ ﮨﯽ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﺮﺩ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﮐﯽ ﻧﮕﺎﮨﯿﮟ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﭨﮫ ﮔﺌﯿﮟ۔ ﺩﻝ ﮨﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺷﮑﻮﮦ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﯿﺮﮮ ﻧﺎﻗﺪﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﮮ ﺩﯾﺌﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻧﺌﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﭘﮍﻭﺳﻦ ﺳﺒﺰﯼ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﭘﺮ ملک ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﻣﻠﯽ۔ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﺳﻼﻡ ﮐﯿﺎ۔ ملک ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﭘﺮ ﻧﺎﺯ ﮨﻮﺍ۔ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ملک ﺻﺎﺣﺐ ﺑﺮﺍ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺩﺭﮐﺎﺭ ﮨﮯ۔ ملک ﺻﺎﺣﺐ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺑﺎﻭﻟﮯ ﺳﮯ ﮨﻮﮔﺌﮯ۔ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﻋﺎﻡ ﮔﮭﺮﯾﻠﻮ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮩﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ملک ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ۔

ملک ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺩﻟﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﭼﮭﭙﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﻣﺘﺎﻧﺖ ﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ۔ ﺟﯽ ﻓﺮﻣﺎﯾﺌﮯ۔ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﺎﻡ ﮐﮯ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﺷﮩﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﭘﮍﮬﯽ ﻟﮑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﮐﮯ ﺍﯾﮉﻣﯿﺸﻦ ﮐﯽ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﻤﺎﺋﯽ ﺩﺭﮐﺎﺭ ﺗﮭﯽ۔
ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﯾﻮﮞ ﺳﮍﮎ ﭘﮧ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻭﻗﺖ ﮨﻮﮔﺎ ﺗﻮ ﭼﻨﺪ ﻣﻨﭧ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺩﯾﮟ۔ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﻞ ﮨﯽ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺩﺍﺧﻠﮧ ﮐﺮﻭﺍ ﺩﻭﮞ۔ ملک ﺻﺎﺣﺐ ﭼﻨﺪ ﻣﻨﭧ ﮐﯿﺎ ﺻﺪﯾﺎﮞ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﺗﯿﺎﺭ ﺗﮭﮯ۔ ﻓﻮﺭﺍ ﮐﮩﺎ ﺟﯽ ﺿﺮﻭﺭ۔ ﺁﯾﯿﮯ۔

ملک ﺻﺎﺣﺐ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﮯ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﺍﺑﮭﯽ ﺻﻮﻓﮯ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﯽ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺑﺎﮨﺮ ﺍﺳﮑﻮﭨﺮ ﮐﮯ ﺭﮐﻨﮯ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺁﺋﯽ۔ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮔﮭﺒﺮﺍ ﮔﺊ۔ ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺷﻮﮨﺮ ﺁﮔﺌﮯ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻗﺘﻞ ﮨﯽ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﺎ ﮨﮯ۔ ﻭﮦ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻨﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻡ ﮐﯿﺠﯿﮯ۔ ﯾﮧ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﮐﺎ ﮈﮬﯿﺮ ﮨﮯ۔ ﺁﭖ ﯾﮧ ﻧﯿﻼ ﺩﻭﭘﭩﮯ ﮐﺎ ﮔﮭﻮﻧﮕﮭﭧ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﭙﮍﮮ ﺍﺳﺘﺮﯼ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﺩﻭﮞ ﮔﯽ ﮐﮧ ﺍﺳﺘﺮﯼ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﺎﺳﯽ ﮐﺎﻡ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔

ملک ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﮔﮭﻮﻧﮕﮭﭧ ﮐﺎﮌﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺘﺮﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ۔ ﺗﯿﻦ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺗﮏ ﺍﺳﺘﺮﯼ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﺟﺐ ﺗﮏ ﻭﮦ ﺧﺮﺍﻧﭧ ﺷﺨﺺ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺭﮨﺎ۔ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﺷﻮﮨﺮ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮔﯿﺎ۔ ﭘﺴﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﺍﺑﻮﺭ، ﺗﮭﮑﻦ ﺳﮯ ﭼﻮﺭ ملک ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮉﮬﺎﻝ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﮯ۔
ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻠﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻣﺮﺯﺍ ﺻﺎﺣﺐ ﺁﺗﮯ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﯿﮯ۔ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﺘﻨﯽ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﮨﻮ۔ ﺑﻮﻟﮯ ﺗﯿﻦ ﮔﮭﻨﭩﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺳﺘﺮﯼ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ۔

ﻣﺮﺯﺍ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺗﺎﺳﻒ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﮯ۔ ﺟﺲ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﮐﮯ ﮈﮬﯿﺮ ﮐﻮ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺗﯿﻦ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺍﺳﺘﺮﯼ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ، ﮐﻞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮨﯽ ﭼﺎﺭ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺩﮬﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﮐﯿﺎ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻧﯿﻼ ﺩﻭﭘﭩﮧ ﺍﮌﮬﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ؟؟؟؟
🥲🥲🥲🥲🥲🥲
پیارے بڑے بچو! ہمیں اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ کبھی کسی خوبصورت پڑوسن کے گھر نہیں جائیں۔۔۔
موقع محل دیکھ کر اسے اپنے گھر بلائیں!!!
 

سید عمران

محفلین
بڑے لوگوں کی بڑی باتیں۔۔۔۔

(شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کی سوانح ْ۔یادیں ۔ْ)

سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے ہمیں معمول کے مطابق جو پروٹوکول دیا جاتا تھا مجھے اپنی سادگی پسند طبیعت کی وجہ سے اس کے بعض پہلو گراں معلوم ہوتے تھے لیکن عملی طور پر میں اس کی ضرورت کا قائل تھا کیونکہ وہ عدالت عظمی کے وقار کا تقاضہ تھا مثلاً جب ہماری گاڑی جس پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہراتا تھا پولیس کے کسی اہلکار کے سامنے آتی تو وہ اٹینشن کی پوزیشن میں آ کر سلامی دیا کرتا تھا۔
ایک مرتبہ ہماری بینچ کا اجلاس کراچی کے ہائی کورٹ کی عمارت میں ہو رہا تھا عدالتی کام سے فارغ ہو کر جب میں اپنے جھنڈے والی کار میں بیٹھ کر ہائی کورٹ سے روانہ ہوا تو پولیس کے اہلکار حسب معمول سلامی دیتے رہے ہائی کورٹ سے نکلنے کے بعد میرے ڈرائیور نے بتایا کہ اس کے گھر میں کوئی فوری ضرورت پیش آگئی ہے اور وہ مجھے گھر پہنچا کر واپس شہر آئے گا میں نے سوچا کہ اس بے چارے کو یہ ناگہانی ضرورت درپیش ہے اور اگر یہ مجھے دارالعلوم پہنچا کر واپس بس میں آئے گا تو بہت دیر ہو جائے گی اس لیے میں نے اس سے کہا کہ وہ یہیں سے اپنے گھر چلا جائے اور گاڑی پر سے جھنڈا اتار کر مجھے گاڑی دیدے میں خود کار چلا کر دارلعلوم چلا جاؤں گا ڈرائیور شروع میں اس پر تیار نہیں تھا لیکن میں نے اصرار کرکے اسے آمادہ کر لیا۔ اس نے گاڑی سے جھنڈا اتارا اور میں نے ڈرائیور کی سیٹ پر آکر گاڑی خود چلانی شروع کر دی چونکہ مدت سے خود گاڑی چلانے کی نوبت نہیں آئی تھی اس لیے تھوڑا تکلف ضرور ہوا لیکن پھر روانی آ گئی البتہ اب یہ یاد نہیں رہا تھا کی کونسی سڑک یکطرفہ (ون وے) ہے اور کون سی دو رویہ۔ چنانچہ میں نے صدر کے علاقے میں گاڑی ایک ایسی سڑک پر موڑ دی جو ون وے تھی اور وہاں موڑنا ٹریفک کے قاعدے کے خلاف تھا ابھی میں اس سڑک پر توڑا ہی سا مڑا تھا کہ مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا اور میں اس غلطی کی تلافی کی فکر کر ہی رہا تھا کہ ایک ٹریفک کانسٹیبل نے مجھے روک کر بڑی غصیلے لہجے میں کہا نظر نہیں آتا کہ یہ ون وے ہے میں نے گاڑی روکی اور اس سے کہا واقعی مجھ سے غلطی ہوگئی ہے مجھے یاد نہیں رہا تھا کہ یہ سڑک ون وے ہے اس نے پھر سخت لہجے میں کہا یاد نہیں رہا تھا تو یہ بورڈ نظر نہیں آرہا میں نے پھر معذرت کی لیکن اس نے میرا چالان لکھنا شروع کر دیا میں نے کہا کہ واقعی مجھ سے غلطی ہوئی ہے آپ بیشک چالان کر دے اتنے میں کوئی شخص جو مجھے پہچانتا تھا وہاں مجھے دیکھ کر رکا اور اس نے پولیس والے سے کہا کہ یہ سپریم کورٹ کے جج ہے تم ان سے کیوں الجھ رہے ہو اسے جب یہ پتا چلا کہ میں سپریم کورٹ کا جج ہو تو اس کی حالت غیر ہوگئی وہ بڑی لجاجت کے ساتھ میرے پاس آیا اور معافی مانگنے لگا میں نے کہا کہ تم نے اپنا فرض ادا کیا ہے اس لیے تم نے کوئی غلطی نہیں کی البتہ جب بھی ایسا واقعہ پیش آئے تو اپنا لہجہ سخت نا کیا کرو چالان کرنا تمہاری ذمہ داری ہے لیکن چالان اخلاق کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے اس کے بعد میں نے اسے چالان لکھنے کیلئے کہا تو ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہوگیا کہ سر میں یہ گستاخی نہیں کر سکتا میں نے کہا یہ گستاخی نہیں ہے تمہارا فرض ہے کہ چالان کرو آخرکار میں نے اسے چالان کرنے پر مجبور کر ہی لیا ۔
کسی بڑے عہدے پر پہنچنے کے بعد اس قسم کے واقعات سے اللہ تعالی انسان کو اس کی حقیقت یاد دلاتے رہتے ہیں ۔
 
Top