انتخابِ باقی صدیقی

نوید صادق

محفلین
خبر کچھ ایسی اُڑائی کسی نے گاؤں میں
اُداس پھرتے ہیں ہم بیریوں کی چھاؤں میں

غموں کی بھیڑ میں اُمید کا وہ عالم ہے
کہ جیسے ایک سخی ہو کئی گداؤں میں
 

نوید صادق

محفلین
یوں بھی ہونے کا پتا دیتے ہیں
اپنی زنجیر ہلا دیتے ہیں

پہلے ہر بات پہ ہم سوچتے تھے
اب فقط ہاتھ اُٹھا دیتے ہیں

ایک دیوار اُٹھانے کے لئے
ایک دیوار گرا دیتے ہیں
 

نوید صادق

محفلین
ان کا یا اپنا تماشا دیکھو
جو دکھاتا ہے زمانہ دیکھو

یا کسی پردے میں گم ہو جاؤ
یا اُٹھا کر کوئی پردہ دیکھو

دوستی خونِ جگر چاہتی ہے
کام مشکل ہے تو رستہ دیکھو

سادہ کاغذ کی طرح دل چپ ہے
حاصلِ رنگِ تمنا دیکھو

اپنی نیت پہ نہ جاؤ باقی
رخ زمانے کی ہوا کا دیکھو
 

نوید صادق

محفلین
داغِ دل ہم کو یاد آنے لگے
لوگ اپنے دئے جلانے لگے

اب تو ہوتا ہے ہر قدم پہ گماں
ہم یہ کیسا قدم اُٹھانے لگے

رخ بدلنے لگا فسانے کا
لوگ محفل سے اُٹھ کے جانے لگے

ایک پل میں وہاں سے ہم اُٹھے
بیٹھنے میں جہاں زمانے لگے

اپنی قسمت سے ہے مفر کس کو
تیر پر اُڑ کے بھی نشانے لگے
 

نوید صادق

محفلین
گھر میں تھا دشت نوردی کا خیال
دشت میں آئے تو گھر یاد آیا

گر پڑے ہاتھ سے کاغذ باقی
اپنی محنت کا ثمر یاد آیا
 

نوید صادق

محفلین
کشتیاں ٹوٹ گئی ہیں ساری
اب لئے پھرتا ہے دریا ہم کو

گھر کو یوں دیکھ رہے ہیں جیسے
آج ہی گھر نظر آیا ہم کو

یاد آئی ہیں برہنہ شاخیں
تھام لے اے گلِ تازہ ہم کو

لے گیا ساتھ اُڑا کر باقی
ایک سوکھا ہوا پتا ہم کو
 

نوید صادق

محفلین
زندگی جرم بنی جاتی ہے
جرم کی کوئی سزا ہے کہ نہیں

دوست ہر عیب چھپا لیتے ہیں
کوئی دشمن بھی ترا ہے کہ نہیں
 
Top