امریکا کے انسانیت سوز مظالم

مہوش علی

لائبریرین
میرا مشاہدہ ہے کہ اگر طالبان نے کبھی کسی کے خلاف جنگ کی ہے تو اعلانیہ جنگ کی ہے۔ لہٰذا اگر ان بم دھماکوں وغیرہ میں طالبان کا ہاتھ ہوتا تو ان کے رہنما ان واقعات کی ذمہ داری قبول کر لیتے۔

ویسے میں نے اپنی گزشتہ تحریر میں آپ جیسے لوگوں کے لیے ہی ایک ربط دیا تھا تاکہ جو لوگ صرف مغربی میڈیا پر اعتبار کرتے ہیں وہ حقیقت کو مغرب ہی کے لوگوں کی زبانی سن (یا زیادہ درست الفاظ میں پڑھ) سکیں۔ :
razz:

بھائی جی، لڑکیوں کے کالجز اور سکولوں پر بم دھماکے طالبان کی منشاء و مرضی سے ہو رہے ہیں اور لڑکیوں کے گھر والوں کو دھمکیاں طالبان ہی دے رہے ہیں اور وہ کھلے عام اس بات کو قبول کرتے آئے ہیں۔

بلکہ پاکستان کے طالبان ہی کیا، افغانستان کے طالبان نے جوں ہی کنٹرول ہاتھ میں لیا، پہلے کاموں میں سے ایک یہ تھا کہ لڑکیوں کے تمام کے تمام کالجز اور سکول بند کروائے کہ ان سب جگہوں پر طالبات کا سکول کالجز جانا فحاشی پھیلا رہا تھا۔

باقی جہاں تک روابط کی بات ہے تو کیا میں آپ کو کچھ وراط [بلکہ بہت سے رابط فراہم کروں جہاں طالبان ظلم و ستم کرتے نظر آ رہے ہیں اور بے گناہ غیر ملکیوں کو اغوا کر رہے ہیں اور جو انکی بلیک میلنگ کو نہ مانے اس پر انہیں قتل کر رہے ہیں؟


پہلے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ بچیوں کے سکولوں کو طالبان نہیں بلکہ چھوٹے موٹے تخریب کار گروہ اڑاتے پھرتے ہیں اور یورپ و امریکہ اپنے مفادات کے حصول کے لیے ان کا الزام طالبان کے سر ڈال دیتے ہیں۔
جہاں تک دوسرے اعتراض کا تعلق ہے تو یہ اعتراض ہی سراسر بے بنیاد ہے۔ مجھے نہیں یاد آتا کہ یہاں اس فورم پر کبھی بھی کہیں کسی نے کہا ہو کہ طالبان کے علاقے میں نئے نئے سکول کھل رہے ہیں اور صنعتی ترقی ہو رہی ہے۔ لہٰذا اس کا جواب دینے کی کوشش قطعاً غیر ضروری ہے۔
(ویسے آپس کی بات ہے کہ جب آئے دن امریکی فوج پاکستان کی سرحدوں میں گھس کر دہشت گردی مچاتی پھر رہی ہو تو سکول، ہسپتال اور صنعتیں کیسے قائم ہونگی۔ :-P )

حد ہو گئی، کبھی بہانہ ہے کہ این جی اوز کے سکول ہیں اس لیے انہیں اڑا کے طالبان نے ثواب کمایا ہے، اور اب یہ بہانہ کہ دوسرے گروپ ہیں۔
بھائی جی، یہ سب چھوٹے گروپ بھی طالبان کی اس لاقانونیت کی وجہ سے ہیں کہ جنہوں نے پاک افواج کا علاقے میں قتل کیا اور پھر جا کر شہریوں کی پیچھے جا کر چھپ گئے۔ ان طالبان کی شہہ پا کر اب یہ چھوٹے گروپ بھی جرائم میں اپنا حصہ پورا کر رہے ہیں۔
بہرحال، جہاں تک آپ کے اس عذر کا تعلق ہے کہ یہ طالبان نہیں بلکہ چھوٹے گروہ ہیں، تو معذرت کہ طالبان کی پوری تاریخ ۔۔۔ افغانستان سے لیکر پاکستان تک اس بات کی گواہ ہے کہ طالبان کے نزدیک طالبات کا سکول کالجز جانا فحاشی پھیلانا ہے۔
اور امریکی افواج نے ہفتے قبل پاکستان کی سرزمین پر دھشت گردوں کے خلاف کاروائی کی ہے، لہذا آپ کا یہ بہانہ بنانا کہ امریکی افواج کے باعث طالبان نے کوئی سکول، کالجز، صنعتیں نہیں لگائیں یہ ایک انتہائی لغو عذر ہے جسکا آپکو خود اندازہ ہونا چاہیے۔


نوٹ : ویسے یہ ٹاپک تو اس رپورٹ کے بارے میں ہے جو مغربی ذریعے سے منظر عام پر آئی اور جو امریکا کے چہرے پر پڑا انسان دوستی کا پردہ اٹھاتی ہے لیکن "تان " وہیں طالبان اور اسکولوں اور کالجوں کو اڑانے پر آکر ختم ہوگئی چہ خوب است!

اگر یہ میری اُس بات کا جواب ہے جہاں میں نے کہا تھا کہ طالبان کے جرائم کا دفاع کرنے میں آپ لوگوں کی تمام "تان" اس بات پر ختم ہوتی ہے کہ امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا ہے تو۔۔۔۔۔۔۔۔ تو یہ فرق ملحوظِ خاطر رہے کہ میں نے آپ کی تانیں لگانے سے قبل ہی امریکہ کے گناہوں کو گناہ مانتی ہوں جبکہ طالبان کے جرائم کے متعلق میری تانوں کو آپ ڈکار مارے بنا ہضم کر جاتے ہیں اور آج تک آپ لوگوں نے طالبان کے جرائم کو جرائم نہیں مانا بلکہ کبھی این جی اوز، اور اب کبھی چھوٹے گروہوں کی آڑ میں ہمیشہ دفاع کیا۔

////////////////////////

اور طالبان کی وجہ سے آج پاک زمین پر ہر جرم کر کے ان قبائلی علاقوں میں بھاگ جانا عام ہے اور پاک افواج کسی مجرم کا بال بیکا نہیں کر سکتی۔

انہی طالبان کی وجہ سے 25 معصوم عیسائیوں کو عبادت کرتے ہوئے دھڑلے سے دن دھاڑے اغوا کر لیا جاتا ہے اور طالبانی علاقوں میں ان دہشت گردوں کو جو Save Heaven ملی ہوئی ہے وہاں لے جایا جاتا ہے۔ اب کون ہے جو ان معصوموں کے اغوا کاروں کو ان کھلی دہشت گردی پر سزا دے؟

انہی طالبان کی وجہ سے ہزاروں غیر ملکی ازبک پاکستانی سرزمین پر برسوں دہشت گرد کاروائیاں کرتے رہے اور طالبان جھوٹ بولتے رہے کہ پاک زمین پر کوئی غیر ملکی نہیں۔ اور ان غیر ملکیوں کے وجود کو طالبان اتنے سالوں کی کذب بیانی کے بعد صرف اُس وقت قبول کرتے ہیں جب خود انکی جنگ ان سے چھڑ جاتی ہے۔

یاد رکھئیے، یہ ازبک دہشت گرد اور یہ چھوٹے گروہ اسی طالبان کی وجہ سے پاک زمین پر موجود ہیں اور انکی کاروائیاں طالبان کی روش سے متاثر ہو کر ہی ہیں۔ اب آپ ان چھوٹے گروہوں کے نام پر طالبان کا دفاع بند کریں اور حقیقت کو دیکھنا شروع کریں کہ جبتک پاک فوج ان علاقوں کو طالبان سے نجات نہیں دلا دیتی اُس وقت تک طالبان بمع ان گروہوں کے دھشت گردی کرتے رہیں گے۔

ایک بات اور، جب طالبان نہ تھی تو ان چھوٹے گروہوں کے نام پر کوئی سکول یا کالج بموں سے نہیں اڑایا جاتا تھا، کوئی عیسائیوں کو یوں اغوا کر کے علاقہ غیر میں نہیں لے جاتا تھا، کوئی ازبک دہشت گرد نہیں تھے، کوئِی بھی پاکستان میں جرم کر کے علاقہ غیر کو Save Heaven نہیں سمجھتا تھا [بلکہ شاید سمجھتا ہو، مگر آجکل یہ رجحان زیادہ ہے کیونکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان علاقوں میں بالکل ہی بے بس بو گئے ہیں] جو کار پاکستان میں چوری ہوتی ہے وہ طالبان کے ان علاقوں میں بغیر لائسنس و ٹیکس کے مٹر گشت کر رہی ہوتی ہے اور کوئی کچھ نہیں پوچھ سکتا کوئی قانون نافذ نہیں کر سکتا۔ ۔۔۔۔۔۔ اور جبتک طالبان سے یہ علاقہ آزاد کروا کر حکومت کی رٹ قائم نہیں کی جاتی اُس وقت تک طالبان ان تمام فتنوں کو شیر مادر پلاتی رہے گی۔
 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم
محترمہ مہوش صاحبہ مجھے تو بہت افسوس ہوتا ہے ایک طرف ماضی کی ماؤں اور بہنوں کے واقعات پڑھتا ہوں اور دوسری طرف اعتدال پسند روشن خیالو کو ! اممممممممممممممممممممممممممممممممممممممممممممم ایک حقیقی واقعہ پیش نظر ہے

بصرہ میں کچھ عبادت گزار بیباں تھیں جن میں سے ایک کا نام ابراھیم الھاشمیہ تھا انہی دنوں دشمنوں نے مسلمانوں کی کسی سرحد پر حملہ کر دیا اس حملے سے دفاع کے لئے مجاہدین کی ضرورت تھی [ایک عالم دین بزرگ ]عبدالواحد بن زید بصری رحمہ اللہ نے لوگوں میں جذبہ جہاد پیدا کرنے کے لئے تقریر کے دوران ۔۔۔۔۔۔۔حور عین کاتذکرہ چھیڑا اور ان کے اوصاف بیان فرمائے اور ان کی شان میں چند اشعار پڑھے [جن کا مفہوم یہ ہے] وہ نوجوان لڑکیاں ہیں ۔ نازو نخرے میں پلی ہوئیں خوبصورت چال چلنے والی ۔ ان سے وہ سب کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے جس کی چاہت کی جائے وہ حسن پاکیزگی سے بنی ہیں اور ہر تمنا اورہر خواہش ان سے پوری کی جا سکتی ہے وہ خوبصورت جسم والی کالی آنکھوں والی ہیں اور مشک کی خوشبو ان کے رخساروں سے چھلکتی ہے ان کے چہروں پر خوشی کی چمک اور ناز و نعمت کی دمک رقصاں رہتی ہے جب نرگسی باغوں میں پیالوں کا دور چل رہاہوگا اور وہاں کی ہوا میں خوشبو مہک رہی ہو گی تب وہ اپنے پیغام دینے والے[خاوندوں] کو اپنی خوبصورت آواز میں کہتی ہیں اور ان کی آواز میں ایسی محبت بھری ہوتی ہے جو سچی اور دل کو خوش کرنے والی ہے۔ اے میرے محبوب میں تمہارے علاوہ کسی کو نہیں چاہتی اور جب تمہاری دنیا سے جدائی ہوگی تب ہمارے ملاپ کا آغاز ہوگاتم ان لوگوں کی طرح مت ہوجاناجو منزل کے قریب پہنچ کر سر کشی اختیار کر لیتے ہیں ۔ اے محبوب مجھے غافل لوگ پیغام نکاح نہیں دے سکتے مجھے تو وہ لوگ پیغام دیتے ہیں جو اللہ کے سامنے گڑاگڑنے والے ہوتے ہیں ۔ یہ اشعار سن کر مجمع [شوق آخرت میں ] بیقرار ہو گیا اور وہ خاتون اچانک کھڑی ہو گئیں اور کہنے لگیں اے ابو عبیدہ [یہ شیخ عبدالواحد کی کنیت ہے ]کیا تم میرے بیٹے ابراہیم کو نہیں جانتے بصرہ کے بڑے بڑے مالدارلوگوں نے اس کے لئے اپنی لڑکیوں کے پیغام بھیجے مگر میں نے کسی لڑکی کو پسند نہیں کیا لیکن آج آپ نے جس لڑکی [یعنی حور عین ]کا تذکرہ کیا وہ مجھے پسند آئی ہے اور میں اسے اپنی دلہن بنانا چاہتی ہوں مہربانی کر کے آپ دوبارہ اس کی خوبیاں اور اس کا حسن جمال بیان فرمائیں ۔ یہ سن کر شیخ عبدالواحد رحمہ اللہ نے پھر حور عین کی خوبیاں بیان فرمائیں اور پھر یہ اشعار پڑھے [جن کا مفہوم یہ ہے ]
ان کے چہرے کے نورسے اصلی نور پیدا ہوتا ہے اور ان کے خوشبو دار بدن سے لگنے والی ہوا عطر کے مقابلے میں فخر کرتی ہے اگر وہ پتھروں اور کنکریوں پر اپنا جوتا رکھ دیں تو بارش کے بغیر مشرق ومغرب سر سبز وشاداب ہو جائیں اگر تم ان کی کمر کو گرہ لگانا چاہو تو ریحان کی سبزپتوں والی ڈالی کی طرح تم آسانی سے گرہ لگا لو گے اگر وہ اپنا لعاب سمندر میں ڈال دیں تو زمین کے لوگ ان سمندروں کومزے سے پی جائیں قریب ہے کہ آنکھ کی جھپک ان کے نازک رخساروں کو زخمی کردے اور دل کے خیالات ان کی پیشانی پر پڑھے جائیں۔
یہ اشعارسن کر لوگوں کا شوق اور بے چینی اور زیادہ بڑھ گئی اور خاتون دوبارہ کھڑی ہوئیں اور کہنے لگیں مجھے یہ لڑکی پسند آئی ہے میں دس ہزار دینار مہر دے کر اسے اپنے بیٹے کی دلہن بنانا چاہتی ہوں ۔اے شیخ عبدالواحد میرے بیٹے کا اس لڑکی سے نکاح کرا دیجئے وہ اس لڑائی میں آپ کے ساتھ نکلے گا ممکن ہے اللہ تعالی اسے شہادت نصیب فرما دے اور قیامت کے دن میری اور اپنے والد کی شفاعت کا ذریعہ بن جائے ۔ شیخ عبدالواحد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اے خاتون اگر آپ نے اپنے بیٹے کو جہاد میں بھیج دیا تو وہ بھی کامیاب ہوجائے گا اور آپ اور اس کا والد بھی بڑی کامیابی پائیں گے ۔پھر اس خاتون نے اپنے بیٹے کو آواز دی ۔ بیٹا ابراہیم !
آواز سن کر مجمع میں سے ایک نوجوان تیزی سے کھڑا ہوگیااور کہنے لگا میں حاضر ہوں امی جان خاتون نے کہا اے بیٹے کیا تو اس لڑکی [یعنی حور عین ]کو اس شرط پر بیوی بنانے کے لئے تیار ہے کہ تو اپنی جان اللہ کے راستے میں قربان کرے گا اور گناہوں میں واپس نہیں لوٹے گا ؟ جوان کہنے لگا امی جان ! اللہ کی قسم میں بخوشی اس شادی پر راضی ہوں یہ سن کر وہ خاتون کہنے لگیں ۔
اے میر ے پروردگار تو گواہ رہنا کہ میں نے اپنے بیٹے کی شادی اس لڑکی سے اس شرط پر کر دی ہے کہ میرا بیٹا اپنی جان تیری راہ میں قربان کرے گا اور گناہوں کی طرف کبھی نہیں لوٹے گا ۔ اے ارحم الراحمین! میری طرف سے اسے قبول فرما لیجئے۔
اس کے بعد وہ خاتون گھر گئیں اور دس ہزار دینار لا کر شیخ عبدالواحد کو دیئے اور فرمانے لگیں یہ اس لڑکی کا مہر ہے ۔ آپ اپنے لئے اور دوسرے مجاہدین کے لئے اس سے سامان جہاد خریدیں۔ پھر وہ واپس ہو گئیں اور انہوں نے اپنے بیٹے کے لئے عمدہ گھوڑا خریدا اور بہترین اسلحہ اسے دیا پھر جب شیخ عبداالواحد اس لشکر کو لے کر روانہ ہوئے تو ابراہیم بھی دوڑتا ہوا ساتھ نکلا اور کچھ قرآن مجید کے قاری اس کے ارد گرد یہ آیت پڑھتے ہوئے جا رہے تھے ۔
ان اللہ اشتری من المومنین انفسہم واموالہم بان لہم الجنۃ ۔(سورۃ توبہ۔111)
(ترجمہ ) بے شک اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کی جان اور مال کو جنت کے بدلے خرید لیا ہے۔
وہ خاتون بھی لشکر کو رخصت کرنے کے لئے نکلیں جب وہ واپس ہونے لگیں تو انہو ں نے اپنے بیٹے کو کفن اور خوشبو دی اور فرمایا اے پیارے بیٹے جب دشمن سے مقابلے کے لئے نکلنا تو یہ کفن باندھ لینااور خوشبو لگا لینا اور اللہ کے راستے میں لڑتے ہوئے کوتاہی مت کرنا پھر انہوں نے اسے سینے سے لگایا اور اس کی پیشانی کا بوسہ لیا اور فرمایا پیارے بیٹے میری دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ اب ہم دونوں کو قیامت کے میدان میں ہی ملائے۔ عبدالواحد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب ہم محاذ پر پہنچ گئے اور جنگ کا اعلان ہو گیا تو کچھ لوگ آگے لڑنے کے لئے نکلے ان میں ابراہیم سب سے آگے تھا اس نے بہت سارے دشمنوں کو قتل کیا مگر پھر دشمنوں نے اسے گھیر کر شہید کردیا ۔جب ہم بصرہ کی طرف واپس آنے لگے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ابراہیم کی والدہ کو اس کے بیٹے کی شہادت کی خبر نہ کرنا کہیں ایسا نہ ہو وہ غم میں اپنا اجر ضائع کر بیٹھے جب ہم بصرہ پہنچ گئے تو لوگ آکرہم سے ملنے لگے ۔ ان لوگوں میں ابراہیم کی والدہ بھی تھیں ۔ انہوں نے جیسے ہی مجھے دیکھا فرمانے لگیں اے ابو عبیدہ ! اگر اللہ تعالیٰ نے میرا ہدیہ قبول کر لیا ہے تو میں خوشی مناؤں ۔ اور اگر واپس لوٹا دیا ہے تو مجھ سے تعزیت کی جائے ۔
میں نے کہا!
بخدا اللہ تعالیٰ نے تمہارا ہدیہ قبول کر لیا ہے اور تمہارا بیٹا حقیقی زندگی پا کر شہداء کے ساتھ کھا پی رہا ہے ۔ یہ سنتے ہی وہ شکر اداء کرتی ہوئی سجدے میں گر گئیں اور کہنے لگیں ۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے مایوس نہیں کیا اور میری قربانی کوقبول فرمایا ۔ اس کے بعد وہ واپس چلی گئیں ۔ اگلے دن وہ پھر مسجد میں آگئیں اور سلام کر کے کہنے لگیں۔ مبارک ہو اے ابو عبیدہ !رات خواب میں میں نے اپنے بیٹے کو ایک خوبصورت باغ میں ایک سبز محل میں دیکھا ۔ وہ موتیوں کی مسہری پر تاج پہنے بیٹھا مجھے کہہ رہاتھا۔
مبارک ہو امی جان آپ کا دیا ہوا مہر قبول کرلیا گیا اور دلہن کی رخصتی ہوگئی۔
یہ سچا واقعہ ماضی ایک مسلمان ماں کا ہے اور یہ واقعہ پکار پکار کر ہمیں بتارہا ہے کہ اگر کل ایسی مائیں پیدا ہو سکتی تھیں تو آج بھی امت مسلمہ بانجھ نہیں ہو گئیں بلکہ آج بھی ایسی مائیں پیدا ہو سکتی ہیں بلکہ موجود ہیں جو ابراہیم کی والدہ کی طرح اپنے بیٹوں کا نکاح حور عین سے کرانا چاہتی ہیں اور اپنے لئے اللہ کی محبت اور جنت کے باغات کی طلب گار ہیں ۔ اگر کل کی اس ماں کی گود میں ابراہیم جیسا ایک بیٹا تھا تو آج کی ماں کی گود بھی خالی نہیں ہے ۔ آج کی مائیں بھی کئی کئی جوان بیٹے پال رہی ہیں کل کی وہ ماں اگر دس ہزار سونے کے دینار دیکر اپنے بیٹے کو عزت و عظمت کی راہوں پر چلا رہی تھی تو آج کی ماں کے پاس بھی سونے کی کمی نہیں ہے البتہ ضرورت اس بات کی ہے کہ آج کی ماں کو جہاد کی حقیقت سمجھائی جائے ، آج کی ماں کو بھی آخرت کی فکر دلائی جائے ، آج کی ماں میں غیرت ایمانی کو بیدار کیا جائے ۔ اللہ کی قسم اگر آج بھی شیخ عبدالواحد کی طرح کوئی عملی مجاہد اور عالم دین مسجدوں اور محلوں میں جاکر مسلمانوں کو ددر دل کے ساتھ جہاد کی دعوت دے تو ہماری ہر گلی سے ابراہیم کی والدہ جیسی خواتین اپنے ابراہیم جیسے جوان بیٹوں کو سونے چاندی کی لڑیوں میں تول کر اس دعوت دینے والے کے حوالے کریں گی اور اللہ تعالیٰ سے کہیں گی اے میرے پرودگار گواہ رہنا میں نے اپنے بیٹے کی شادی حور عین سے کردی ہے ۔ اور اے مجاہدو ! میرے جوان بیٹے کے کٹ جانے سے عراق ، افعانستان ،کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں کو آزادی دلا سکتے ہو اگر میرے لخت جگر کے ٹکڑے ہونے سے اسلام دنیا میں نافذ ہو سکتا ہے اور فلسطین کے مسلمانوں کو آزادی مل سکتی ہے تو پھر میرے بیٹے کو اپنے ساتھ لے جاؤ ۔ میں نے اسے اللہ کے حوالے کر دیا ہے ۔ میں نے اسے اسلام کی عظمت کے لئے وقف کر دیا ہے مجھے اب اس کی زندگی کی نہیں بلکہ اسلام کی فتح کی خبر سنانا اور میرے بیٹے کو میرے پاس زندہ واپس نہ لانا ۔ میں اب اس سے آخرت کے میدان میں ملنا چاہتی ہوں ۔
اے مسلمانوں ہماری مائیں کل بھی عظم تھیں آج بھی عظیم ہیں مگر آج ہم نے انہیں جہاد کا سبق سنایا ہی نہیں ورنہ وہ ماضی کی ماں سے ایک قدم آگے تو بڑھ جائیں گی پیچھے نہیں ہٹیں گی ۔ مگر دعوت جہاد اب پھیکی پڑ چکی ہے منبرو محراب کی گرج دھیمی ہو چکی ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس دعوت کو ایک رسم نہیں ذمہ داری سمجھ کر اداء کیا جائے اسے ایک پیشہ نہیں بلکہ عبادت کی شان سے اداء کیا جائے اور وہ لوگ دعوت دینے کے لئے آگے بڑھیں جن کی بات سنی اور سمجھی جاتی ہے اور وہ خود بھی جہاد کی لذت سے آشنا اور شوق شہادت سے سرشار ہوں اور اپنے دل میں اسلام اور مسلمانوں کا درد پیدا کریں ۔
 
مہوش صاحبہ، آپ نے بہت ہی مناسب اور حقیقت سے قریب تر جواب دیا ہے ۔لڑکیوں کی تعلیم طالبان کو یقیناً بہت ہی گراں‌گزرتی ہے۔ خواتین کا معاشرہ میں مساوی احترام و درجہ بہت ہی گراں گذرتا ہے۔ یہ ان کا کلچر ہے کہ عورت کو دبا کر رکھا جائے، اس کی بھیڑ بکری کی طرح خرید و فروخت کی جائے۔ اور خواتین کو معاشرہ میں ایک نچلا درجہ دیا جائے۔ تعلیم خواتین کو مظبوط بناتی ہے۔ معاشی ترقی اور انصاف لاتی ہے۔ ایک پڑھی لکھی ماں ہی ایک پڑھی لکھی قوم کی تعمیر کرسکتی ہے۔
 

arifkarim

معطل
مہوش صاحبہ، آپ نے بہت ہی مناسب اور حقیقت سے قریب تر جواب دیا ہے ۔لڑکیوں کی تعلیم طالبان کو یقیناً بہت ہی گراں‌گزرتی ہے۔ خواتین کا معاشرہ میں مساوی احترام و درجہ بہت ہی گراں گذرتا ہے۔ یہ ان کا کلچر ہے کہ عورت کو دبا کر رکھا جائے، اس کی بھیڑ بکری کی طرح خرید و فروخت کی جائے۔ اور خواتین کو معاشرہ میں ایک نچلا درجہ دیا جائے۔ تعلیم خواتین کو مظبوط بناتی ہے۔ معاشی ترقی اور انصاف لاتی ہے۔ ایک پڑھی لکھی ماں ہی ایک پڑھی لکھی قوم کی تعمیر کرسکتی ہے۔

درست فرمایا فاروق بھائی، لیکن یہ بھی تو سوچیں نا کہ مغرب نے جو آزادی عورتوں کو دی اسکے نتیجے میں‌ کیا عورت کا رتبہ بڑھ گیا؟؟؟
اسی آزادی کیساتھ ساتھ مغربی دنیا میں فحاشی کی ایسی انڈسٹری نے جنم لیا، جسکی پہلے خود مغربی معاشرے میں مثال نہیں‌ ملتی! اب اسی کھلے عام آزادی کا یہ نتیجہ نکل رہا ہے کہ یہ گند ہماری نوجوان نسل میں بھی منتقل ہو رہا ہے۔

اصل رتبہ جو عورت کو آجتک دیا گیا، وہ اسلام نے آج سے 1400 سال پہلے ہی دے دیا تھا۔ علم حاصل کرنا مرد و عورت دونوں پر فرض ہے۔ مگر مغربی معاشرے کی طرح باہر نکل کر مردوں کی طرح کاروبار کرنا فرض نہیں کیا گیا۔یہ تو قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ آخری زمانہ میں تجارت اتنی پھیل جائے گی کہ عورت خود اپنے خاوند کا اسکی تجارت میں ساتھ دے گی :eek:

یہاں پر تو دو تین سال کے بچے کو ماں کسی دائی یا کنڈر گارڈن میں بھیج کر پیسا کمانے نکل کھڑی ہوتی ہے۔ اور بچے کی تربیت کا کوئی احساس نہیں، اور وہ بچہ جو کہ ماں باپ کے پیار کی بجائے دوسروں کے ہاتھوں میں پلا بڑا ہو، وہ بڑے ہو کر اپنے سگے ماں باپ کو اولڈ ہومز میں نہیں بھیجے گا تو اور کیا کرے گا؟
 
سوال گندم جواب چنا ۔ بھائی سوال یہ نہیں ہے کہ آج کل کی مائیں کیا کر رہی ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ خواتین کی تعلیم کے متعلق ظالمان کا کیا نظریہ ہے اور اس کا عملی اظہار وہ لوگ کیسے کرتے رہتے ہیں ۔
 
تالی بان ظالمان کا نظریہ اس حدیث سے ہے جس میں عورتوں اور لڑکیوں کو تعلیم سے منع کیا گیا ہے۔ اس نظریہ کا عملی اظہار وہ اس عقیدہ پر عمل کرے ہوئے، لڑکیوں کے اسکول اور دستکاری کے مراکز کو تباہ کرکے کرتے ہیں۔
 
درست فرمایا فاروق بھائی، لیکن یہ بھی تو سوچیں نا کہ مغرب نے جو آزادی عورتوں کو دی اسکے نتیجے میں‌ کیا عورت کا رتبہ بڑھ گیا؟؟؟
اسی آزادی کیساتھ ساتھ مغربی دنیا میں فحاشی کی ایسی انڈسٹری نے جنم لیا، جسکی پہلے خود مغربی معاشرے میں مثال نہیں‌ ملتی! اب اسی کھلے عام آزادی کا یہ نتیجہ نکل رہا ہے کہ یہ گند ہماری نوجوان نسل میں بھی منتقل ہو رہا ہے۔

اصل رتبہ جو عورت کو آجتک دیا گیا، وہ اسلام نے آج سے 1400 سال پہلے ہی دے دیا تھا۔ علم حاصل کرنا مرد و عورت دونوں پر فرض ہے۔ مگر مغربی معاشرے کی طرح باہر نکل کر مردوں کی طرح کاروبار کرنا فرض نہیں کیا گیا۔یہ تو قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ آخری زمانہ میں تجارت اتنی پھیل جائے گی کہ عورت خود اپنے خاوند کا اسکی تجارت میں ساتھ دے گی :eek:

یہاں پر تو دو تین سال کے بچے کو ماں کسی دائی یا کنڈر گارڈن میں بھیج کر پیسا کمانے نکل کھڑی ہوتی ہے۔ اور بچے کی تربیت کا کوئی احساس نہیں، اور وہ بچہ جو کہ ماں باپ کے پیار کی بجائے دوسروں کے ہاتھوں میں پلا بڑا ہو، وہ بڑے ہو کر اپنے سگے ماں باپ کو اولڈ ہومز میں نہیں بھیجے گا تو اور کیا کرے گا؟

بھائی عارف کریم۔ مغرب میں عورت کی جن برائیوں کو اچھالا جاتا ہے، ان میں مرد برابر کا شریک ہے۔ مرد کے بغیر عورت کوئی اچھا یا برا کام کر ہی نہیں سکتی۔ دوسری بات یہ کہ مغرب کے عورت و مرد میں جو بھی برائی پائی جاتی ہے وہ مسلم معاشرہ کے مرد و عورت میں بھی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ لہذا یہ مقابلہ یا یہ نکتہ اٹھانا بے معنی ہے۔

بات برائی کی نہیں اچھائی کی ہورہی ہے۔ عورت مغرب کی ہو یا مشرق کی تعلیم اس کی ذہنی صلاحیتوں‌کو جلاء بخشتی ہے۔ تعلیم مرد و عورت دونوں کو معاشرہ میں عزت سے جینا سکھاتی ہے۔ بات مغرب یا مشرق کی نہیں، تعلیم کی ہے۔ طرح طرح کے بہانے کرکے یہ ثابت کرنا کہ تعلیم عورتوں کا حق نہیں یا معاشرہ میں ان کا مقام کم ہے ، ایک نامناسب خیال ہے۔

معاشرہ کی شہریت میں اولڈ پیپلز ہوم کا کیا مقام ہے، یہ بہتر ہے یا بدتر ہے ایک الگ بحث ہے۔ اس تھریڈ میں تالی بان ظالمان کے معصوم لوگوں اور تعلیم کے خوہش مند لوگوں کے اسکولوں کو تباہ کرنے کے ظلم کی بات ہورہی ہے۔ جو لوگ " نظریات کے اختلاف کی سزا موت" کو جہاد کا نام دیتے ہوں اور اپنے نظریات سے تعلیم کے مخالف ہوں۔ زمین پر فساد برپا کیا ہوا ہو۔ ہر پاکستانی کو قابل قتل سمجھتے ہوں - اس لئے کہ ہر پاکستانی کے کام کا فائیدہ پاکستانی افواج کو پہنچتا ہے، وہ افواج جو تالی بان ظالمان کے مذموم عزائم میں‌ رکاوٹ‌ ہیں۔

کیاکوئی پسند کرے گا کہ پاکستان کی حکومت ان تالی بانوں ظالمانوں کے حوالے کردی جائے، پاکستان کی فوج کو ختم کردیا جائے اور ان تالی بانوں ظالمانوں کو ' نطریاتی اختلاف کی سزا موت ' کا قانون نافذ کرنے دیا جائے۔

کیا خواتین کی تعلیم فحاشی کی بنیاد و ذریعہ ہے؟ کہ تالی بانوں کو اند کو "سدھارنے"‌ کا کام سونپ دیا جائے؟
 

ظفری

لائبریرین
سوال گندم جواب چنا
فیصل بھائی ۔۔۔۔ اس قسم کے مظاہر آپ کو سیاست اور مذہب کے فورمز پر جگہ بہ جگہ نظر آئیں گے ۔ آپ کہیں گے کچھ ، جواب کچھ اور ہوگا اور اگر غلطی سے کہیں آپ نے کسی طرح ان کو قائل کردیا۔ تو بجائے اس کے کہ وہ فراخ دلی سے اپنی غلطی تسلیم کریں وہ کسی اور بے معنی بحث کا آغاز کردیں گے ۔ :)
 
اگر یہ میری اُس بات کا جواب ہے جہاں میں نے کہا تھا کہ طالبان کے جرائم کا دفاع کرنے میں آپ لوگوں کی تمام "تان" اس بات پر ختم ہوتی ہے کہ امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا ہے تو۔۔۔۔۔۔۔۔ تو یہ فرق ملحوظِ خاطر رہے کہ میں نے آپ کی تانیں لگانے سے قبل ہی امریکہ کے گناہوں کو گناہ مانتی ہوں جبکہ طالبان کے جرائم کے متعلق میری تانوں کو آپ ڈکار مارے بنا ہضم کر جاتے ہیں اور آج تک آپ لوگوں نے طالبان کے جرائم کو جرائم نہیں مانا بلکہ کبھی این جی اوز، اور اب کبھی چھوٹے گروہوں کی آڑ میں ہمیشہ دفاع کیا۔
نہ جانے کیوں اس فورم پر کچھ لوگ جو روشن خیالی اور Moderate Thinkingکے دعوے دار ہیں اپنے خیالات کے اظہارمیں زیادہ جلد مشتعل بھی ہوجاتے ہیں حالانکہ ایسے لوگوں کو زیادہ نرم گفتار اور برداشت کا حامل ہونا چاہیے باکل مبلغین کی طرح کیونکہ درحقیقت وہ اپنے خیالات و افکار کی یہاں تبلیغ ہی کرہے ہوتے ہیں میری عموما یہ کوشش ہوتی ہے کہ ایک Decorum کو اس سلسلے میں ملحوظ خاطر رکھوں اور میں ایسی ہی احتیاط کا مظاہرہ دوسری طرف سے بھی دیکھنا چاہتا ہوں۔
بات بہت لمبی ہوتی جارہی ہے ایسا کرتے ہیں اس کو کچھ مختصر کر لیتے ہیں اور وہ ایسے
1۔ اس وقت کئی ایک دھاگے امریکا اور طالبان وغیرہ کے بارے میں کھلے ہوئے ہیں کیوں نا ایک ہی دھاگا اس موضوع کے لیے وقف کر دیا جائے
2۔ طالبان کے اوپر اس سلسلے میں‌ کئی الزامات ہیں تاہم میرے خیال میں جو الزامات اس وقت زیادہ ابھر رہے ہیں وہ لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی اور بقول فاروق سرور صاحب
یہ ان کا کلچر ہے کہ عورت کو دبا کر رکھا جائے، اس کی بھیڑ بکری کی طرح خرید و فروخت کی جائے۔
ساتھ ساتھ یہ کہ طالبان منشیات کے کاروبار میں بھی مصروف ہیں اس حوالےسے اگر کوئی ٹھوس ثبوت موجود ہے تو یہاں پیش کیا جائے لیکن ساتھ ہی یہ یاد رہے کہ یہ گفتگو خاص طالبان کی حکومت اور ان کی سرکاری پایسیزز کے حوالے سے ہونی چاہیے کیوں کہ موجودہ عہد میں نہ صرف طالبان بلکہ نہ جانے کتنے ایسے شدت پسند گروپ ساتھ ہی ساتھ مختلف ایجنسیزز کے ہرکارے اس وقت پاکستان اور خود طالبان کے امیج کو برباد کرنے میں‌مصروف کا ہیں۔
میں بطور خاص طالبان کے دور حکومت اور ان کی سرکاری حکمت عملیوں کے حوالے سے اس گفتگو کا خواہش مند اس لیے بھی ہوں کہ اس دور کے بارے میں کسی کو یہ شبہ نہیں ہو سکتا کہ وہ پالیسیز طالبان کے سوا کسی اور کی تھیں یا کوئی اور گروپ کسی بھی حوالے سے ان پالیسیز پر اثر انداز تھا۔
اور جناب فاروق سرور صاحب آپ جو بار بار طالبان کو تالی بان اور ظالمان کہ رہے ہیں تو کیا سلسلے میں آپ قرآن کے اس حکم کو بھول گئے
[ARABIC]يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَومٌ مِّن قَوْمٍ عَسَى أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّن نِّسَاءٍ عَسَى أَن يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الاِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيْمَانِ وَمَن لَّمْ يَتُبْ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَO [/ARABIC]
11. اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے ممکن ہے وہ لوگ اُن (تمسخر کرنے والوں) سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں ہی دوسری عورتوں کا (مذاق اڑائیں) ممکن ہے وہی عورتیں اُن (مذاق اڑانے والی عورتوں) سے بہتر ہوں، اور نہ آپس میں طعنہ زنی اور الزام تراشی کیا کرو اور نہ ایک دوسرے کے برے نام رکھا کرو، کسی کے ایمان (لانے) کے بعد اسے فاسق و بدکردار کہنا بہت ہی برا نام ہے، اور جس نے توبہ نہیں کی سو وہی لوگ ظالم ہیںo
 

محمد سعد

محفلین
حد ہو گئی، کبھی بہانہ ہے کہ این جی اوز کے سکول ہیں اس لیے انہیں اڑا کے طالبان نے ثواب کمایا ہے، اور اب یہ بہانہ کہ دوسرے گروپ ہیں۔

یہ الزام تو سراسر بے تکا ہے۔ آپ میری گزشتہ تمام تحاریر پڑھ لیں۔ آپ کو کہیں بھی نظر نہیں آئے گا کہ میں نے ان سکولوں اور کالجوں کو اڑانے کو جائز قرار دیا ہے۔

افغانستان کے طالبان نے جوں ہی کنٹرول ہاتھ میں لیا، پہلے کاموں میں سے ایک یہ تھا کہ لڑکیوں کے تمام کے تمام کالجز اور سکول بند کروائے کہ ان سب جگہوں پر طالبات کا سکول کالجز جانا فحاشی پھیلا رہا تھا۔

میں افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام سے پہلے کے حالات کے بارے میں تو زیادہ تفصیلات نہیں جانتا لہٰذا اس پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا۔ ممکن ہے کہ آپ اس معاملے میں صحیح ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ طالبان کی آمد سے پہلے واقعی یہ مقامات بے حیائی کے مراکز بنے ہوئے ہوں۔ اگر آپ یہ بات ثابت کر دیں کہ طالبان کی آمد سے پہلے ایسا کچھ نہیں تھا تو میں بھی مان لوں گا کہ آپ صحیح کہہ رہی ہیں۔ (ویسے بہتر ہوگا کہ کسی افغان سے ہی پوچھ لیں :rolleyes:
 

محمد سعد

محفلین
کچھ یاد رکھنے کی باتیں:
۱۔ کسی شخص کی ایک یا دو غلطیوں کے ثابت ہونے سے یہ ثابت نہیں ہو جاتا کہ اس کے تمام نظریات اور تمام کام ہی غلط ہیں۔
۲۔ دو مخالفین میں سے ایک کے غلط ثابت ہونے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ لازماً دوسرا فریق حق پر ہی ہے۔

مجھے امید ہے کہ اگر دونوں طرف کے لوگ ان باتوں کا خیال رکھیں تو ہم جلد ہی کسی حقیقت پر مبنی نتیجے پر پہنچ جائیں گے۔
 
یہ آیت قاتلوں اور مجرموں کے بارے میں‌نہیں‌ہے۔ زمیں پر فساد کرنے کی سزا والی والی آیات لائیے یہاں۔ اسی فورم پر بیشتر خبریں ہیں لڑکیوں‌کے اسکول جلا دینے کے بارے میں، اور اس کی ذمہ داری قبول کرنے والوں کی موجود ہیں۔ اس میں بحث کیسی؟

جو لوگ کھل کر پاکستان کی اس حکومت کے مخالف ہیں جس کو پاکستانیوں نے چنا ہے وہ غداری اور ٹریژن کے مجرم ہیں۔ ان کی سزا والی آیات لائیے۔ جو لوگ چھپ چھپ کر مسلمانوں پر خودکش حملے کررہے ہیں ، اس کی ذمہ داری ان حملوں‌کو فدائی حملے کہہ کر قبول کررہے ہیں ان کے لئے تالی بان و ظالمان زیادہ موزوں ہے۔ عام پاکستانی کو کس جرم کی سزا مل رہی ہے؟ یہ قاتلوں اور فساد کرنے والوں کا ایک گروہ ہے۔کوئی معصوم مذہبی گروہ نہیں کہ آپ ہنسی اور تمسخر کی آیات پیش کریں۔ اپنی ذاتی انا اور عقائد کی ترویج کے لئے یہ لوگ 'نظریاتی اختلاف کی سزا موت ' قرار دیتے ہیں اور اس کو جہاد کا نام دیتے ہیں۔

جہد ایک کوشش اور سعی کا نام ہے اور مسلح اس صورت میں درست ہے جب فلاحی نظریاتی ریاست کا دفاع مقصود ہو۔ یہ کام ہماری فوج بہت اچھی طرح کررہی ہے۔ اس کا ثبوت وہ تمام ووٹ‌ڈالنے والے ہیں جہنوں نے ابھی کچھ عرصہ پیشتر خود اپنے نمائیندے چنے ہیں۔ اگر پاکستان تالی بانوں کی حکومت چاہتا تو ہر ووٹ‌ ڈالنے والا ووٹ‌پر تالی بان ظالمان لکھ کر آتا۔ ظالموں کے ظلم کا دفاع کرتے ہوئے کچھ تو شرم آنی چاہئیے؟
 
نہ جانے کیوں اس فورم پر کچھ لوگ جو روشن خیالی اور Moderate Thinkingکے دعوے دار ہیں اپنے خیالات کے اظہارمیں زیادہ جلد مشتعل بھی ہوجاتے ہیں حالانکہ ایسے لوگوں کو زیادہ نرم گفتار اور برداشت کا حامل ہونا چاہیے باکل مبلغین کی طرح کیونکہ درحقیقت وہ اپنے خیالات و افکار کی یہاں تبلیغ ہی کرہے ہوتے ہیں میری عموما یہ کوشش ہوتی ہے کہ ایک Decorum کو اس سلسلے میں ملحوظ خاطر رکھوں اور میں ایسی ہی احتیاط کا مظاہرہ دوسری طرف سے بھی دیکھنا چاہتا ہوں۔
بات بہت لمبی ہوتی جارہی ہے ایسا کرتے ہیں اس کو کچھ مختصر کر لیتے ہیں اور وہ ایسے
1۔ اس وقت کئی ایک دھاگے امریکا اور طالبان وغیرہ کے بارے میں کھلے ہوئے ہیں کیوں نا ایک ہی دھاگا اس موضوع کے لیے وقف کر دیا جائے
2۔ طالبان کے اوپر اس سلسلے میں‌ کئی الزامات ہیں تاہم میرے خیال میں جو الزامات اس وقت زیادہ ابھر رہے ہیں وہ لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی اور بقول فاروق سرور صاحب

ساتھ ساتھ یہ کہ طالبان منشیات کے کاروبار میں بھی مصروف ہیں اس حوالےسے اگر کوئی ٹھوس ثبوت موجود ہے تو یہاں پیش کیا جائے لیکن ساتھ ہی یہ یاد رہے کہ یہ گفتگو خاص طالبان کی حکومت اور ان کی سرکاری پایسیزز کے حوالے سے ہونی چاہیے کیوں کہ موجودہ عہد میں نہ صرف طالبان بلکہ نہ جانے کتنے ایسے شدت پسند گروپ ساتھ ہی ساتھ مختلف ایجنسیزز کے ہرکارے اس وقت پاکستان اور خود طالبان کے امیج کو برباد کرنے میں‌مصروف کا ہیں۔
میں بطور خاص طالبان کے دور حکومت اور ان کی سرکاری حکمت عملیوں کے حوالے سے اس گفتگو کا خواہش مند اس لیے بھی ہوں کہ اس دور کے بارے میں کسی کو یہ شبہ نہیں ہو سکتا کہ وہ پالیسیز طالبان کے سوا کسی اور کی تھیں یا کوئی اور گروپ کسی بھی حوالے سے ان پالیسیز پر اثر انداز تھا۔
اور جناب فاروق سرور صاحب آپ جو بار بار طالبان کو تالی بان اور ظالمان کہ رہے ہیں تو کیا سلسلے میں آپ قرآن کے اس حکم کو بھول گئے
[ARABIC]يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَومٌ مِّن قَوْمٍ عَسَى أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّن نِّسَاءٍ عَسَى أَن يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الاِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيْمَانِ وَمَن لَّمْ يَتُبْ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَO [/ARABIC]
11. اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے ممکن ہے وہ لوگ اُن (تمسخر کرنے والوں) سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں ہی دوسری عورتوں کا (مذاق اڑائیں) ممکن ہے وہی عورتیں اُن (مذاق اڑانے والی عورتوں) سے بہتر ہوں، اور نہ آپس میں طعنہ زنی اور الزام تراشی کیا کرو اور نہ ایک دوسرے کے برے نام رکھا کرو، کسی کے ایمان (لانے) کے بعد اسے فاسق و بدکردار کہنا بہت ہی برا نام ہے، اور جس نے توبہ نہیں کی سو وہی لوگ ظالم ہیںo[/QUOTE]

1۔ کیا طالبان نے کھیلوں کے دوران تالی بجانے پر پابندی نہیں لگا دی تھی ۔۔۔؟
2۔ کیا خواتین پر خونی رشتے کے بغیر ٹیکسی لینے پر پابندی نہیں تھی ۔۔۔۔؟
3۔ کیا خواتین پر کھلی جگہوں مثلا ندیوں اور جوہڑوں کے نزدیک کپڑے دھونے پر پابندی نہیں تھی ۔۔۔؟
4۔ کیا خواتین کے اسکولز کا کوئی وجود تھا ۔ اور جو اس سے پہلے جنگ کی وجہ سے تباہ و برباد ملک تھا اس میں پہلے تو شاید کوئی اسکول نہ بچا ہو مگر ان کے 5 سالہ دور حکومت میں کوئی ایک اسکول بھی بنا ہو تو براہ کرم ہماری معلومات میں اضافہ فرمائیے گا ۔ یاد رہے کہ فروری 1998 میں طالبان کی مذہبی پولیس جو کہ سعودیہ کی پولیس کی طرز پر کام کرتی تھی ۔ حکما خواتین کا بازاروں میں آنا بند کروا دیا تھا ۔۔۔؟
5۔ فروری 1998 میں ہی گھروں میں چلنے والے اسکولز اور ٹیوشن سنٹرز پر پابندی لگا دی گئی ۔۔۔۔؟
6۔ کیا طالبان کی پولیس ان خواتین کی محرم یا ولی الامر ہوتی تھی جو انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا کرتی تھی ۔۔۔۔؟
7۔ کیا طالبان دور میں رات 9 بجے کے بعد عوام کو گھروں سے نکلنے کی اجازت ہوا کرتی تھی ۔۔؟
8۔مزار شریف کے کنٹرول کے دوران ہزارہ قبائل کو کس بات کی سزا دیکر ان کا قتل عام کیا گیا (یاد رہے کہ ہزارہ قبائل کی اکثریت شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی ہے) حوالہ ملا نیازی کا 8 اگست 1998 کو جامع مسجد مزار شریف میں بیان ۔ جس مین انہیں کافر کہا گیا اور یہ کہا گیا کہ کہاں بھاگو گے ۔ پہاڑوں پر چڑہو گے تو پاؤں سے پکڑ کر کھینچیں گے اور زمیں میں چھپو گے تو بالوں سے پکڑ کر کھینچیں گے ۔


سوال بہت ہیں فی الحال اگر ان کا جواز عطا فرما دیں تو عنایت ہوگی ۔



فی الحال
 
Taliban%20Execution%20in%20Herat.jpg
 

محمد سعد

محفلین
1۔ کیا طالبان نے کھیلوں کے دوران تالی بجانے پر پابندی نہیں لگا دی تھی ۔۔۔؟
2۔ کیا خواتین پر خونی رشتے کے بغیر ٹیکسی لینے پر پابندی نہیں تھی ۔۔۔۔؟
3۔ کیا خواتین پر کھلی جگہوں مثلا ندیوں اور جوہڑوں کے نزدیک کپڑے دھونے پر پابندی نہیں تھی ۔۔۔؟
7۔ کیا طالبان دور میں رات 9 بجے کے بعد عوام کو گھروں سے نکلنے کی اجازت ہوا کرتی تھی ۔۔؟

آپ کے آٹھ اعتراضات میں سے کم از کم یہ چار تو بالکل ہی بے تکے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ان کا استعمال محض اپنے اعتراضات کی تعداد بڑھانے کے لیے کیا ہے۔
لیکن اگر پھر بھی آپ ان نکات پر اصرار کرتے ہیں تو مجھے نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑے گا کہ اپنے مخالفین پر انتہاپسندی کا الزام لگانے والے "روشن خیال" لوگ خود ہی انتہا پسندی کے مرض میں مبتلا ہیں۔
 
Top