الفاظ کا شیرہ

شاید یہ مشرقی مزاج ہے کہ بات میں وزن اور زور پیدا کرنے کے لیے مبالغے کا تڑکا لگائے بغیر بات نہیں بنتی۔ شاید ہمارا خمیر ہی غلو کے رس میں گندھا ہے۔ عام سادہ سی بات نہ دماغ قبول کرتا ہے نہ مزاج۔ تب تک تسلی ہی نہیں ہوتی جب تک آسمان سے ستارے توڑنے کا وعدہ نہ ہو۔

ہماری طبیعت دو انتہاؤں کے درمیان بسیرے کی عادی ہو چکی ہے۔ قصیدہ ہے یا پھر ٹرول ، فرشتہ ہے یا شیطان ، دوست ہے یا پھر دشمن ، آر ہے یا پار ، سیاہ ہے یا سفید۔ اپنے روزمرہ معاملات ہی دیکھ لیں۔

ہر تیسرا ریسٹورنٹ دعوے دار ہے " عمدہ اور لذیز کھانوں کا واحد مرکز "۔گھسیٹے خان حلیم والے سے تاج محل پکوان تک ہر سفید بالوں والے باورچی کے پاس سلطنت مغلیہ کے کچن سے نسل در نسل چُرائے مجرب خاندانی نسخے پائے جاتے ہیں۔ہر چوتھے قوال کا شجرہ امیر خسرو سے اور ہر چھٹے گویے کا شجرہ تان سین سے مل رہا ہے۔جزیرہ نما عرب سے اتنا سید آیا ہے کہ خود عرب میں سیدوں کا کال پڑ چکا ہے۔

ہر چوتھا دواخانہ یقین دلا رہا ہے کہ یہاں جملہ پوشیدہ و نا پوشیدہ جنسی و غیر جنسی امراض جڑ سے اکھاڑ دیئے جاتے ہیں ( ایڈز اور کینسر سمیت )۔ایک دواخانہ تو اس پہ اتر آیا کہ " یہاں بواسیر اور دیگر امراض چشم کا تسلی بخش علاج ہوتا ہے"۔

ہماری تو دھمکی بھی بنا غلو کارگر نہیں رہی۔کسی دیوار پر بس یہ لکھا ہو کہ "یہاں پیشاب کرنا منع ہے " تو عمل کرنا درکنار کوئی پڑھتا تک نہیں جب تلک یہ نہ لکھا جائے کہ "یہاں پیشاب کرنا سخت منع ہے۔خلاف ورزی کرنے والے کو حوالہ پولیس کیا جائے گا ، بحکم انتظامیہ"۔

کسی مجرم کو انصاف کے تقاضوں کے مطابق سزا دینے کے مطالبے کا چلن ہی نہیں۔اب عدالت میں درخواست دائر نہیں ہوتی بلکہ حکمیہ رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔ نشان عبرت بنا دیا جائے ، سر عام پھانسی پر لٹکایا جائے، گدی سے زبان کھینچ لی جائے، کھال اتار لی جائے ، صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے ، نام و نشان نہ رہنے دیا جائے ، گردن اتار دی جائے۔ یہ لفظیات عام آدمی کی نہیں بلکہ رہنماؤں اور خطیبوں کے منہ سے جھڑتی ہیں۔

ایک عام سا دعوت نامہ بھی قلابوں سے خالی نہیں رہا۔آپ کسی اجتماع یا عرس کا اشتہار دیکھ لیں۔اگر بس یہ اطلاع ہو کہ آج شب ممتاز عالم دین شاہ محمد صاحب نظام مصطفی کانفرنس سے خطاب کریں گے تو نہ میزبان کی تسلی ہوتی ہے اور نہ ہی مدعوئین سنجیدگی سے لیتے ہیں۔جب تک پورا اشتہار موٹے موٹے حروف سے اس قدر لبالب نہ بھرا ہو کہ الفاظ اشتہار کے سائز سے بھی دو ہاتھ آگے نکل رہے ہوں۔

"آج شب بین الاقوامی شہرت یافتہ پیر طریقت ، عالم بے بدل ، مفکر دوراں ، ولی عصر ، سفیر اتحاد بین المسلمین ، دانائے راز ، شمس العلما ، محسن اہلسنت حضرت مولانا قاری مفتی شاہ محمد صاحب مدظلہ بعد نماز عشا فیوض و برکات سے بھرپور فکری خطاب سے سرفراز فرمائیں گے۔جملہ عاشقان اسلام سے جوق در جوق شرکت کی درخواست ہے"۔

کسی منصوبے کے افتتاح یا سنگ بنیاد کے موقع پر کسی وی وی آئی پی کا شکریہ یوں بھی تو ادا ہو سکتا ہے کہ ہم شکر گذار ہیں وزیراعظم پاکستان کے جنہوں نے کاہنہ کاچھا پل کا افتتاح کیا۔مگر نہ میزبان میں ہمت ہے کہ سادہ شکریہ ادا کرے اور مہمان کو بھی ایسی سادگی توہین محسوس ہوتی ہے۔جب تک تقریب کا میزبان سٹیج سے کچھ یوں نہ بولے۔

"آج اہلیان کاہنہ کاچھا کے لیے یہ ایک تاریخی دن ہے کہ جناب وزیراعظم اپنی اہم ترین قومی و بین الاقوامی ذمے داریوں میں سے کچھ وقت نکال کر تشریف لائے اور ایک بار پھر ثابت کردیا کہ انہیں کاہنہ کاچھا کے لاکھوں مکینوں کی فلاح و بہبود کا کس قدر خیال ہے۔عزت مآب وزیراعظم یہاں کے عوام تادیر آپ جیسے درد مند ، خاندانی شرافت کے پیکر ، غیر معمولی حساس ، بے مثل محب وطن پاکستانی مدبر کی تشریف آوری کے سبب اپنی خوش بختی پر نازاں رہیں گے اور آپ کی ایک ہی پکار پر آپ پر دل و جان نچھاور کردیں گے"۔اور سپاسنامے کے آخر میں بے موقع شعر کا لازمی ٹانکہ بھی لگانا ضروری ہے۔
نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں وغیرہ وغیرہ پر

ذرا روزمرہ انتظامی فیصلوں سے عام آگہی کے لئے بہائے گئے الفاظ پر غور کریں۔ مثلاً یہ کہنا ہرگز کافی نہیں کہ ریلی کے لیے ہر ممکن حفاظتی اقدامات کرلیے گئے ہیں۔جب تک یہ دعوی نہ کیا جائے کہ "ریلی کے شرکا کو بے مثال فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے گی"( خدا معلوم فول پروف سیکیورٹی کس جناور کو کہتے ہیں)۔

ہر جلسہ کامیاب نہیں انتہائی کامیاب ہوتا ہے ، ہر جلسے میں لوگوں کی سادی شرکت نہیں جوق در جوق شرکت کرتے ہیں۔ہر "عظیم" رہنما کا استقبال نہیں ہوتا فقید المثال والہانہ استقبال ہوتا ہے۔ہر نعرہ نعرہ نہیں جب تک فلک شگاف نہ ہو۔کوئی جلوس جلوس نہیں ہوتا جب تک اسے ملین مارچ نہ بتایا جائے۔ ہر "عظیم" رہنما ہزار ڈیڑھ ہزار عوام کے ٹھاٹیں مارتے سمندر سے ہی خطاب کرتا ہے۔

یہاں ہر بندہ اپنے کاز یا دھرتی کے لئے خون کا آخری قطرہ بہانے کو ہمہ وقت آمادہ ہے مگر پہلا قطرہ بہانے کو ایک بھی تیار نہیں۔یہاں ہر با اختیار فرد برائی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے لیے بے تاب ہے یہ جانے بغیر کہ پہلی کیل ٹھیک سے لگی بھی کہ نہیں۔

حیرت مجھے یہ ہے جو قومیں مبالغہ آرا لفظیات کی عادی نہیں وہ کیسے اپنے مسائل حل کرتی ہیں۔شاید وہ "کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کرنے " کے چکر میں پڑے بغیر مکمل توجہ حل کی جانب ہی مرکوز رکھتی ہوں گی۔

جس دن ہمیں بھی غلو کے شیرے میں لسانی جلیبیاں تلنے سے فرصت ہو گئی مسائل سیدھے ہونا شروع ہو جائیں گے۔

۔۔۔۔

از سید مہدی بخاری
 

اکمل زیدی

محفلین
ہر بندہ اپنے کاز یا دھرتی کے لئے خون کا آخری قطرہ بہانے کو ہمہ وقت آمادہ ہے مگر پہلا قطرہ بہانے کو ایک بھی تیار نہیں۔یہاں ہر با اختیار فرد برائی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے لیے بے تاب ہے یہ جانے بغیر کہ پہلی کیل ٹھیک سے لگی بھی کہ نہیں۔
سارا اچھا۔لگا چوہدری صاحب خاص کر یہ۔۔:)
 
ان کے علاوہ بھی کچھ باتیں ایسی ہیں جو چبھتی رہتی ہیں۔
مثلاً کسی بھی سرکاری دفتر میں کسی بھی سرکاری عہدےدار کے نام کوئی درخواست داخل کریں تو پہلا لفظ ہی ’بخدمت جناب۔۔۔۔۔۔ صاحب‘ لکھنا پڑتا ہے۔ وہ صاحب جس کی تنخواہ، جس کا دفتر اور شاہانہ کروفر کے اخراجات اسی درخواست گزارشہری سے ٹیکس وصول کر کے ادا کیے جا رہے ہوتے ہیں۔ وہ ٹیکس گزار شہری منت سماجت اور خوشامد والے الفاظ استعمال کر کے اپنے ذاتی کام کی تکمیل کی درخواست دے رہا ہوتا ہے۔

شاید یہ غلامانہ ذہنیت کا تسلسل ہے یا حد سے بڑھا ہوا ادب۔
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
دلچسپ مضمون، یقیناً پڑھ کر مزا آیا۔ یہ عارضہ صرف ہماری قوم میں نہیں بلکہ ہر قوم میں ہوتا ہے اسے چاپلوسانہ یا متکبرانہ مزاج کچھ بھی کہہ لیں ہر زبان والے اسے حسبِ ذائقہ استعمال کرتے ہیں۔ اب آپ صاحبِ مضمون کو ہی دیکھ لیں یہ شاید میٹھے کے شوقین نہیں لیکن تیکھا کھانا انہیں بے حد پسند ہے ہر ایک لفظ سے "سی سی" صاف سنائی دے رہا ہے:ROFLMAO::ROFLMAO:
 
جی ہاں۔۔۔
مگر چوہدری صاحب کے معصومانہ ’’اُکساوے‘‘ تو دیکھیں!!!
شاید وسیم بادامی کو بہت دیکھتے ہیں :LOL::LOL:
گو میں وسیم بادامی صاحب کو بخوبی جانتا ہوں لیکن اک مدت سے انھیں کیا کسی اور کو بھی مہماں نہیں کیا۔
دورِ کرونا میں ٹی وی اتنا دیکھ لیا جو شاید باقی پوری زندگی میں نا دیکھا ہو گا۔ سو کم و بیش پچھلے چھ سے سات ماہ میں دو سے تین بار کسی فٹبال یا کرکٹ میچ کے لیے کچھ دیر ٹی وی آن کیا ہو تو ہو ورنہ بیچارہ اپنی قدر ومنزلت کھو دینے پر عرصے سے نوحہ کناں ہی ہے۔
 
Top