ضمیر جعفری الحاج

عاطف بٹ

محفلین
یہ نکتہ میں نے کل حاجی میاں رمضان سے پوچھا
کہ حاجی سے بڑی کیا چیز یہ الحاج ہوتا ہے

عبا سے پونچھ کر عینک کا شیشہ، کھانس کر بولے
میاں الحاج بھی منجملہ حجّاج ہوتا ہے

یہاں بھی کارفرما ہے مگر انساں کی صف بندی
یہاں بھی امتیازِ صاحب و محتاج ہوتا ہے

ہو تیرے بھابھڑا بازار کا باسی تو بس حاجی
مری گلبرگ میں کوٹھی ہو تو الحاج ہوتا ہے​
 

نایاب

لائبریرین
سچ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہاں بھی کارفرما ہے مگر انساں کی صف بندی
یہاں بھی امتیازِ صاحب و محتاج ہوتا ہے
 

عمراعظم

محفلین
جو درس ایامِ حج میں مسلمانوں کو سکھایا جانا چاہیئے وہ بھی اب اسی تفریق کا شکار ہے۔صاحب ثروت کا حج پُر آسا ئش اور نادار کا حج مشقت سے بھر پور۔
 
یہ بات تو ہم نے خود ہی گھڑ لی ہے خان صاحب ورنہ ہوتا وہی ہے جو ضمیر جعفری نے بتایا ہے۔

ہر حج پرمشقت ہوتا ہے چاہے کتنی سہولتیں نہ ہوں
مشقت ہر ادمی کی مختلف ہوتی ہے

میرا ایک دوست ہے جوکوریا سے حج کرنے ایا۔ اس کو کسی تنظیم نے اسپانسر کیا تھا۔ ہر سہولت فراہم کی ۔ ایرپورٹ سے لیکر منیٰ و وعرفات تک ۔ حتیٰ کہ منیٰ میں ان کی عمارت میں رہائش تھی۔ مگر مجھ سے کہنے لگا حج بہت مشکل ہے

یہ بات درست ہے کہ ایک سے زائد حج کرنے والے کو الحاج کہتے ہیں
 

شمشاد

لائبریرین
حج کے دوران جتنی بھی سہولتیں ہوں وہ کم ہیں کہ طواف اور سعی تو ہر ایک کو خود ہی کرنا پڑتے ہیں۔ رمی جمار بھی مشکل کام ہے لیکن وہ ایک بندے کی بجائے اس کی جگہ کوئی دوسرا بھی کر سکتا ہے۔
 

محمداحمد

لائبریرین
حج میں جتنی بھی محنت ہو ۔ حج اللہ کی رضا کے لئے کیا جاتا ہے نہ کہ "حاجی کی ڈگری" کے حصول کے لیے۔

نام کے ساتھ حاجی لگا لینا قابلِ تعریف بات تو نہیں ہے۔ بلکہ بقول ممتاز مفتی اگر حج کرنے والا حاجی ہے تو پھر نماز پڑھنے والے کو نمازی صاحب کہنا چاہیے۔
 
حج میں جتنی بھی محنت ہو ۔ حج اللہ کی رضا کے لئے کیا جاتا ہے نہ کہ "حاجی کی ڈگری" کے حصول کے لیے۔

نام کے ساتھ حاجی لگا لینا قابلِ تعریف بات تو نہیں ہے۔ بلکہ بقول ممتاز مفتی اگر حج کرنے والا حاجی ہے تو پھر نماز پڑھنے والے کو نمازی صاحب کہنا چاہیے۔
عموما حاجی خود نہیں لگاتا مگر یار دوست لگانا شروع کردیتے ہین

یہاں سعودی میں سب ایک دوسرے کو حاجی حاجی کہتے ہیں کیونکہ ہر ایک نے حج کیا ہوا ہے خصوصا حرمین می؎ن
 

عاطف بٹ

محفلین
عموما حاجی خود نہیں لگاتا مگر یار دوست لگانا شروع کردیتے ہین

یہاں سعودی میں سب ایک دوسرے کو حاجی حاجی کہتے ہیں کیونکہ ہر ایک نے حج کیا ہوا ہے خصوصا حرمین می؎ن
خان صاحب، شناختی کارڈ میں نام کے ساتھ ’حاجی‘ کیا دوست جا کر لکھواتے ہیں یا گھر کے باہر لگی نیم پلیٹ کے ساتھ ’حاجی کا ٹیگ‘ کیا دوستوں کا عطا کردہ ہوتا ہے۔ لوگ خود ہی یہ حرکتیں کرتے ہیں تاکہ خود کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ متقی اور پرہیزگار ثابت کرسکیں۔ ریاکاری اس قوم کی بڑی بیماریوں میں سے ایک ہے!
 

عاطف بٹ

محفلین
کراچی کی ایک بہت معروف کاروباری شخصیت کا نام حاجی غنی حاجی عثمان ہے اور وہ کراچی اسٹاک ایکسچینج کے ڈائریکٹر بھی ہیں۔ اب یہ دو بار حاجی ان کے نام کے ساتھ دوستوں نے تو نہیں لگایا ہوگا ناں!
 
حج کے دوران جتنی بھی سہولتیں ہوں وہ کم ہیں کہ طواف اور سعی تو ہر ایک کو خود ہی کرنا پڑتے ہیں۔ رمی جمار بھی مشکل کام ہے لیکن وہ ایک بندے کی بجائے اس کی جگہ کوئی دوسرا بھی کر سکتا ہے۔
جس طرح طواف و سعی ہر ایک کو خود کرنا ضروری ہے بالکل اسی طرح رمی بھی ہر شخص اپنی اپنی کرے گا الا یہ کہ کوئی سخت عذر ہو۔
تفصیل کیلئے دیکھئے معلم الحجاج
 
حج کے دوران جتنی بھی سہولتیں ہوں وہ کم ہیں کہ طواف اور سعی تو ہر ایک کو خود ہی کرنا پڑتے ہیں۔ رمی جمار بھی مشکل کام ہے لیکن وہ ایک بندے کی بجائے اس کی جگہ کوئی دوسرا بھی کر سکتا ہے۔
رمی سخت شرعی عذرکی بناپردوسراکرسکتاہے ورنہ نہیں
 
Top