اسکین دستیاب افسانہء نادر جہاں

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
ریختہ صفحہ 336
میری غیرت قبول کرتی ہے نہ آنکھ چار ہوتی ہے۔ میں نے آپ کا بڑا لحاظ کیا جو رک رہا ورنہ اب میں یہاں کھڑے پانی نہ پیتا اور ایک آن نہ ٹہرتا۔ افسوس ہے اماں جان نے مجھ کو ایسا ذلیل و حقیر بے گھر بے درا سمجھ لیا کہ جو باتیں نہ کہنا چاہئیے تھیں وہ کہیں۔نہ عزیزداری کا پاس نہ قرابت کا خیال نہ رشتے کی غیرت۔ افوہ کلیجہ ہل جاتا ہے جب یاد آتا ہے کہ اللہ ہم بلا کر اس جھوکم جھوکا کے قابل ہو گئے۔ کس منہ سے بلایا تھا اور کس دل سے اول فول سنایا۔ تمام دن میں گھر میں رہتا ہوں۔ کچھ دن رہے البتہ باہر چلا جاتا ہوں تو وہ بھی کہیں دور نہیں۔ دروازے پر ایک میر صاحب رہتے ہیں ۔ پہلے مجھ سے پوچھتیں ، منع کرتیں، اگر میں عمل نہ کرتا تو جو چاہتیں فرماتیں۔ انھوں نے بے پوچھے گچھے میرے لتّے لے ڈالے۔ دھریاں اڑا دیں۔ نہ میرے کان ان باتوں کے آشنا ہیں نہ میں عادی۔ سارے کنبے میں بانکا مشہور ہوں۔ سب سے بڑھ کر مجھے غم اس کا ہوا کہ آپ کے سامنے ذلیل کیا اور پھر بے خطا۔ اگر بختاور ڈیوڑھی ہی میں سے آواز دے دے تو مجھے خبر ہو جائے۔ اتنی نزدیک بیٹھتا ہوں مگر کہوں کس سےپوچھے کس کی بلا دن بھر بیٹھے بیٹھے جی گھبرا جاتا ہے۔ کبوتر وہاں بٹیر وہاں مولوی صاحب کی بدنامی کے خیال سے کنکّوا نہیں اڑاتا۔ خالی رہنے سے دم خفا ہوتا ہے۔ الجھ کر وہاں دو گھڑی جا بیٹھتا ہوں۔ میری کیا شامت تھی اگر اس روز سیہ کا حال معلوم ہوتا تو میں کیوں جاتا نہ ربط بڑھتا نہ ملاقات کرتا۔ انھوں نے چھیڑ چھیڑ کر صاحب سلامت کی ۔ آتے جاتے ٹوکا۔ دماغ کی تو مجھے لینا نہیں آتی۔ آنے جانے لگا۔ لیجئیے نشست

ریختہ صفحہ 337
ہوئی ۔ پانچ چار دن سے ان کے ہاں ایک مہمان کاکوری آ کر اترے تھے۔ ان کو شاعری کا خبط ہے۔ تنکے سے ناپ ناپ تقطیع کرتے ہیں۔ ان کی مسخری باتیں اورشعر سننے میں دیر ہو جاتی تھی۔ کل وہ چلے گئے میں آٹھ بجے کے بعد اٹھ آیا۔ یہاں آ کر میں اپنی سزا کو پہنچا۔ میں نے کہا بھائی تم دل گھبرانے کا تو اس قدر گلا کرتے ہو اور کتاب نہیں دیکھتے جس کے دیکھنے سے دل بھی بہلے گا اور چار باتیں اچھی ذہن پر چڑھیں گی۔ کہا حضرت میرے ساتھ کوئی کتاب نہیں ۔ گھر پر کبھی کبھی یہ شغل بھی رہتا تھا۔ میں نے کہا تمہیں بٹیر کنکّوے کبوتر سے کہاں مہلت ملتی ہو گی جو تم کتاب دیکھتے ہو گے۔ ہاں تم نے اپنے پیچھے کیا کیا بلائیں لگائی ہیں ۔ غیرت تو ماشاء اللہ مزاج میں اس قدر اور شوق ایسے برے جنھیں غیرت سے کچھ لگاؤ ہی نہیں ۔ کیا معلوم تم نے یہ کس دل سے کہا کہ کنکّوا میں یہاں اڑا نہیں سکتا ۔ مولوٰ صاحب کی بدنامی کا اس میں خیال ہے اور جب بٹیر ہاتھ میں لے کر نکلو گے۔ اس وقت کیا ہو گا۔ تم تو لکھنے پڑھنے کا شوق کر بھی نہیں سکتے۔ دو ہی تو ہاتھ ہیں۔ بٹیر کس میں لو گے اور کتاب کس میں لے کر دیکھو گے میں جانتی ہوں کہ شاید یہ فقرہ تم نے اوپری دل سے کہہ دیا۔ تمہیں مولوی صاحب کا بالکل خیال نہیں۔ اگر ہوتا تو شادی کے قبل کی وضع آج تم نہ اختیار کرتے۔کنکّوے ہی کی طرح سے تو آپ کی ٹوپی اور گھٹنا اور اونچی چولی کا انگرکھا بھی ہے کیا اس میں مولوی صاحب نہ بدنام ہوں گے۔ اور مولوی صاحب کیسے آدمی کو اپنی ناموری کا خیال چاہئیے۔ وہ وضع کبھی نہ اختیار کرے جو اپنے

ریختہ صفحہ 338
خاندان یا اپنی شان کے خلاف ہو۔ کیا غضب ہے کہ مولوی صاحب کی بدنامی یا آزردگی کا خیال کرو اور خدا کا نام لہی نہ لو۔ لہو ولعب کی خدا نے بھی تو ممانعت کی ہے۔ بے زبانوں کا ستانا کھیل کود میں وقت گنوانا بڑی خراب بات ہے۔ کہا اچھا بھابی جان پھر کون سی وضع اختیار کروں ۔ میں نے کہا چوگوشیہ ٹوپی نیچی چولی کا انگرکھا بر کے پائنچے کا پائجامہ سفید یا سرخ بوٹ سفید کرتا سفید رومال ۔ کہا بہت اچھا۔ آپ کا فرمانا بسر و چشم قبول کیا۔ ان شاء اللہ اب آپ اس وضع سے مجھےنہ دیکھئیے گا اور نہ بے وضع بدلے میں یہاں سے جاؤں گا ۔ کھانا کھا کر کہا کہ اور سب باتوں پر تو میرا دل اٹھتا ہے نیچی چولی کے انگرکھے پر رُچ نہیں ہوتی۔ کچھ اور بتائیے۔میں نے کہا بیٹھو بھی۔ تم تو اس طرح پوچھ رہے ہو گویا ابھی تیاری کرنے جاتے ہو۔ کہا تو کیا اس میں آپ کو کچھ شک بھی ہے۔ آپ نے سمجھایا ہی اس طرح سے ہے کہ میرے دل میں چبھ گیا۔ ایک اماں جان نے سمجھایا تھا معلوم ہوتا تھا پتھر کھینچ مارا۔ میں نے کہا اب بات بات ر ان بیچاری کا کیوں ذکر کرتے ہو،۔ وہ سیدھی آدمی ہیں۔ نہ سات پانچ جانیں نہ اونچ نیچ دیکھیں۔ اس کے علاوہ اپنی اپنی بات چیت کا طرز ہے وہ تمہاری میری دونوں کی بڑی ہیں۔ گذری بات کا بار بار ذکر سوا اپنا دل دکھانے اور جی بہلانے کے اور کسی کام کا نہیں۔ مطلب کی بات کہو تو ہاں تمہیں نیچی چولی کا انگرکھا نہیں پسند۔ کہا کہ جی پسند کیوں نہیں ہے مگر ایک دل اس پر نہیں اٹھتا۔ میں نے کہا تو اچھا چکن پہنا کرو۔ چاہے پردے دار چاہے سادی مگر چولی

ریختہ صفحہ 339
نیچی ہو کہا بہت اچھا بہت خوب۔ میں نے پان بنا کر میاں بیوی کو دئیے ۔ وہ کوٹھے پر گئے ۔ میں اماں جان کے پاس گئی۔ بیٹھی رہی کھانا کھایا سو رہی۔ صبح کو کھانا کھا کر شہر یار دولھا گھر پر گئے۔ ڈور کنکّوا چھوٹے بھائی کو دیا بٹیر ایک گہرے دوست کے یہاں بھجوا دئیے۔ کبوتر محلے والوں پر تقسیم کئے۔ تین چار درزی بٹھا کر جوڑا سلوایا اور اسے پہن کر چار گھڑی دن رہے گھر میں آئے۔ بے تکان جو صحنچی میں چلے آئے ۔ بدلی ہوئی وضع سے پہلے تو میں جھجکی پھر پہچان کر مسکرائی جو سہی تو آپ نے جھک کے تسلیم کی مجھے ان کے اس کہا ماننے اور اچھا برا جاننے پر ان سے نہایتت محبت ہو گئی اور جو کچھ دل میں تھا اسی وقت نکل گیا۔ بالکل بے کھٹکے ہو کر اپنے حقیقی بھائی کی طرح ملنے لگی۔ شرم و لحاظ تو جو تھا وہ باقی رکھا۔ مگر دل نہیں صاف تھا اسے صاف کر لیا۔ جب انھوں نے اپنے شوق دور کرنے کی خبر سنائی اس وقت تو مجھے اور زیادہ ان کی غیرت داری پر بھروسہ ہو گیا۔ دعا دے کر میں نے ان کو مبارک باد دی اور کہا کہ اب کپڑے بدلے ہیں تو چہرے کو بھی رعب دار بناؤ۔ داڑھی منڈوانا بڑا گناہ ہے۔ کہا بھابی میں کیا کروں داڑھی کسی طرح سے نکل ہی نہیں چکتی۔ فقط ٹھڈی پر تھوڑے سے بال ہیں۔ انھیں رکھتے شرم اتی ہے۔ لوگ پھبتیاں کستے ہیں۔ اس کے حصے کے سب بال مونچھوں کو مل گئے۔ میں نے کہا لوگوں کی پھبتیاں اچھی مگر فرشتوں کی لعنت بُری۔ داڑھی خدا کا نور ہے اس کا رکھنا ضرور ہے۔ جب حکم خدا کے خلاف کوئی کرتا ہے تو فرشتے اس پر ملامت کرتے ہیں۔ یہ تو تم خود بھی جانتے ہو میرے

ریختہ صفحہ 340
کہنے کی کیا ضرورت۔ صرف اس خیال سے کہ جب تک کچکچا کے داڑھی نہ نکلے منڈوانا اور گناہ بے لذت کرنا کیسی بری بات ہے۔ مونچھوں پر تمہاری مجھے غصہ آتا ہے اور جی چاہتا ہے کہ اس با اختیار ایرانی کی مونچھ کی طرح سے (جس کو ایک عالم نے قینچی سے بالکل کاٹ ڈالا تھا) میں بھی تمہاری مونچھیں کاٹ ڈالوں۔ آپ خود کیوں تکلیف فرمائیے۔ آئینہ اور قینچی مجھے دیجئیے میں انھیں خاک سیاہ کر دوں۔ میں نے کہا تم سے حد نہ درست رہے گی۔ ضرور ہاتھ بہکے گا۔ کل جمعہ ہے نائی سے کتروا لینا۔ یہ سن کر بہت اچھا کہتے ہوئے وہ اپنے کوٹھے پر چلے گئے اور میں اپنے خیال و تصور پر بار بار لعن طعن کرنے لگی۔ ساجدہ بیگم کے خوش نصیب ہونے پر خدا کا شکر ادا کیا کہ بار الٰہا تو نے اپنے فضل و کرم سے عجب نیک باطن اور خوش خو دولھا اس کو دیا ہے۔ اپنے صدقے سے ہمیشہ اس کی طبیعت میں یہ نیکی رکھنا اور ہر بلا سے بچانا۔ وہ بری وضع تھی کہ اپنے بیگانے دیکھ کر عذر کرتے تھےاور وہ دل ایسا پاک صاف خدا نے بنایا تھا۔ رنگے ہوئے سیاروں اور بد نفس ریاکاروں یا بے عمل عالموں اور برے نام کاملوں سے تو ایسے جاہل ان پڑھ ظاہر کر کے برے اور باطن کے نیک ہزار درجے اچھے، نہ ان میں فریب و دغا کی جراءت نہ دغل فصل کی عادتنہ علم پر ناز نہ اچھی بات مان لینے سے احتراز۔ جو دل خدا کا گھر اس میں اسی کا ڈر۔ نہ علم کے ساتھ فخر نہ عبادت کے ساتھ ریا نہ روزے کے لئے بیمار بنیں نہ عیاری کے واسطے یار۔ نہ طبیعت میں فساد نہ طینت میں عناد نہ گھٹی میں مکر و زور اور نہ خمیر میں
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
ریختہ صفحہ 341
کبر و غرور نہ سینہ میں کینہ نہ دل پر غبار آئینہ نہ تسبیح کا جال نہ مکر کی چال نہ ماتے پر گھٹا بنانا جانیں نہ کسی کو تسبیح کے دام میں پھنسانا جانیں۔ نہ سر پر منم سوار نہ ہمچو من دیگرے نیست کا دعوےٰ نہ دماغ میں اوروں کے لئے خلل نہ اپنے مطلب کا سودا جس کا سر نخوت کا مکان ہے اس پر عمامہ نہیں شیطان ہے خدا اس کنٹھے اور زیر پائی سے بچائے جس سے کوئی بندہ دھوکا کھائے۔ جس کا خمیر اچھا ہوتا ہے سب کچھ زور چلتا ہے۔ بُرا نگوڑا کسی کے سنبھالے نہیں سنبھلتا۔ شہر یار دولھا نے اپنے پاک صاف سینے کو شہدوں کے لباس میں ایسا چھپا رکھا تھا جس کا کچھ حال ہی نہیں کھل سکتا تھا۔ دوسرے روز انھوں نے مونچھیں بھی قاعدے سے بنوا لیں مگر آئینہ دیکھ کر اپنی صورت جو آپ بری معلوم ہوئی شکایت کرنے مجھ سے دوڑے آئے کہ دیکھئیے بھابی مونچھیں کٹنے سے میری صورت بگڑ گئی ۔ میں نے کہا سبحان اللہنیک کام کر کے جز بز ہوتے میں نے تمہیں کو دیکھا۔ نئی بات ہے اسی سے بری معلوم ہوتی ہے اگر فقط مونچھیں بگڑنے کو کہتے تو میں مان بھی لیتی کہ کم ہونے سے شاید بگڑی معلوم ہوں۔ صورت میں کیا ہو گیا وہ خدا نہ کرے کیوں بگڑنے لگی۔ اب دس روز میں داڑھی کے بال نکلیں گے انھیں دیکھ کر نکتہ چینی اور عیب جوئی کرنا۔ مرد قول کے دھنی بات کے پورے ہوتے ہیں۔ کام کر کے پچھتانا کیا معنی۔ اگر نہیں منظور ہے جانے دو۔ تھوڑے دن میں پھر نکل آئیں گی۔ گھر کی تو کھیتی ہے۔ کہا کہ جی خدا نہ کرے اب بھلا میں کب بڑھنے دیتا ہوں۔ جو کہا وہ کہا۔ صورت بگڑے گی تو کیا ہوگا ۔ میں نے کہا بگڑے ہی گی نہیں

ریختہ صفحہ 342
ہاں دس پندرہ روز تم آئینہ نہ دیکھنا انھوں نے میرے ہر اک کہنے پر عمل کر کے اس قدر اپنی طرف مخاطب کیا کہ ہر قسم کی فہمائش پر مجھے جراءت ہوئی پانوں کےچھلے بازوؤں کی انڈویاں اتروائیں باریک کپڑے پہننے کو منع کیا۔ گرمی میں لنگی باندھے ننگے بدن پھرنے کو روکا موٹے کپڑے پہنوائے ، سر کے بال کانوں تک رکھوائے پھر تیل چپڑنا کم کرایا۔ گھونگر بنانے میں الجھے رہتے تھے اسے چھڑوایا رفتہ رفتہ اچھے خاصے مقبول وضع بن گئے۔ جب کسی بات کو کہنا ہوا پہلے میں نے ان کی غیرت سمجھ نیک نفسی کہا ماننے کی تعریف کی پھر اس کا ذکر کیا ۔ دو چار دفعہ کے بعد پھر تو یہ ہو گیا کہ ادھر میں نے منہ سے بات کہی اور وہ سمجھ کر مسکرائے کہا کہ جی تمہید کی کچھ ضرورت نہیں جو آپ کو فرمانا ہو فرمائیے۔ میں فرض کر کے اسی لئے زیادہ آتا ہوں کہ آدمی کو اپنا عیب نہیں سجھائی دیتا۔ جس جس بات کو آپ میرے حق میں مضر دیکھیں شوق سے روک دیں۔ میری قسمت میں بننا لکھا تھا کہ بیچ کا پردہ اٹھا آپ کے سامنے آنا ہوا اور آپ نے اپنی محبت اور عنایت سے مجھے بہتیرے عیبوں سے پاک کیا۔ اپنی ماں سے بھی مجھے یہ فیض نہیں پہونچا جو آپ سے ہاتھ آیا۔ خداوند عالم آپ کو خوش رکھے۔ میں نے کہا بھائی یہ سب تمہارے مزاج کی خوبی ہے۔ خود اچھے ہو جو اچھی بات کے طالب ہو۔ اس وقت میں کون کسی کا کہا سنتا ہے۔ ہاں یہ خبط سوار ہے کہ ہم جو کرتے ہیں وہی خوب ہے۔ ماں باپ کا کہا تو کوئی مانتا نہیں اور کسی کا ذکر کیا۔ ویسے ہی تو دیکھو سینکڑوں گھرانے کیسے بدنام ہو رہے ہیں۔ خودرائی

ریختہ صفحہ 343
بہت برا مرض ہے۔ بقول تمہارے اپنا عیب کوئی آپ نہیں نکال سکتا کیونکہ وہ عیب دکھائی نہیں دیتا اور اگر دیکھتا بھی ہے تو عیب نہیں سمجھتا ۔ دوسرے کا کہنا برا معلوم ہوتا ہے۔ پھر اسے عیب جو کا خطاب ملتا ہے چاہے وہ اس خطاب کے قابل نہ ہو۔ پھر بھائی تمہیں بتاؤ کہ وہ عیب کیونکر نکلے اور بے عیب ذات خدا کی ہے ۔ کمی بیشی کے علاوہ کوئی نفس اور کوئی آدمی برائی اور عیب سے خالی نہیں مگر خدا نہ کرے تم میں وہ عیب تھوڑی تھے۔ چند نقص عارضی طور پر مسافروں کی طرح آ پڑے تھے جو اوپری اوپر معلوم ہوتے تھے۔ میں نے ان عیبوں کو کہا جن کو تمام زمانہ عیب سمجھے اور در حقیقت وہ عیب ہوں ۔ اگر کسی کے سمجھانے اور کہنے پر خیال کر کے کوئی بری عادت چھوڑ دے گا تو خود اچھا ہو جائے گا نہ چھوڑے گا تو آپ برا کہلائے گا۔ (شہر یار دولھا ) جی ہاں اور کیا۔ خدا سب کو نیک ہدایت پر عمل کرنے کی توفیق کرامت فرمائے۔ میری طبیعت اور مزاج کی کیفیت تو آ پ لوگوں پر بخوبی ظاہر ہو چکی ہے۔ شہر یار دولھا کے نیک چلن ہونے کا حال میری ان باتوں سے اچھی طرح کھل گیا ہو گا کیونکہ دیگ میں ایک ہی دانہ ٹٹولتے ہیں۔ انھوں نے مجھ کو اپنی ہدایت کے لئے پسند کر کے صحبت بڑھائی اور میں نے انھیں قابل نصیحت سمجھ کر ان کی نشست گوارا کی۔ تھوڑے دن تک تو ہماری خوش دامن صاحبہ نے صبر کیا آخر کو ضبط نہ ہو سکا ۔ ایک دن ابل پڑیں۔ میں نے پہلے ہی سے یہ کیا تھا کہ

ریختہ صفحہ 344
رحمت کو ماں جان کی طرف کر دیا تھا اور بختاور کو اپنی جانب۔ دوسرے ساجدہ بیگم کو بھی اسی ایک خاص مصلحت سے اس قدر مانوس کر لیا تھا کہ انھوں نے سب جگہ کا بیٹھنا چھوڑ دیا تھا ۔ جب بیگم صاحبہ نے جوتا آنے سے مجھ پر بہت بھاری تہمت لگائی تو ساجدہ بیگم نے سن کر سمجھایا اور ہاتھ جوڑ کر منع کیا کہ خدا کے واسطے ایسا کلمہ منہ سے نہ نکالئیے وہ اپنا بھائی سمجھتی اور بھائی کہتی ہیں۔ انھی کے صدقے سے انھوں نے وضع بدلی نیک طرح اختیار کی۔ بیہودہ شوق چھوڑے آدمی بنے۔ کہا کہ بس اب میرا منہ نہ کھلوا۔ تُو تو اُلّو ہے اس بات کہ تہہ کو کیا سمجھے گی۔ احمق بے وقوف نادان گدھی ظاہر میں یہی دوستی کا بہانہ کیا ہے اور باطن میں اپنی پسند کے موافق اس کو بنایا ہے۔ احسان تیرے چونڈے پر کیا، مطلب اپنا۔ ساجدہ بیگم نے ماتھا کوٹ کر کہا کہ اے ہئے اماں خدا سے ڈرو۔ وہ ایسی پاک نفس بیوی ہیں کہ میرا دل ہی جانتا ہے۔ یہ تم کیا غضب کرتی ہو۔ للہ ایسی بات نہ کہو کہ خدا کو بری لگے۔ دوسرا ہوتا تو میں منہ نوچ لیتی لیکن تم کو کیا کہوں۔ (بیگم صاحب) دُر مردار تجھے تو اس نے اپنا پیالہ پلا کر چیلا کر لیا ہے۔ ایسا نہ کرتی تو کام کیونکر چلتا تو روادار ہوتی۔؟ جلاپے کے مارے اندھی نہ ہو جاتی۔ تجھے کیا خبر یہ جوڑ توڑ میں ہی خوب جانتی ہوں۔ دیکھ سر پر ہاتھ دھر کر روئے گی۔ غفلت سے چونک، آنکھیں مل کر دیکھ۔ تیرے دیدوں میں چربی چھائی ہے۔ مامتا کے مارے نہیں سوجھتا۔ دو ہی چار دن میں بھویں مٹکانے اور دیدے چمکانے کا حال

ریختہ صفحہ 345
کھل جائے گا۔ ذرا اس کا وار چلنے اور نگاہ بدلنے دے (ساجدہ) ارے توبہ توبہ خداوندا تو ان کو عقل دے یہ کیا کہتی ہیں۔ کیونکر سمجھاؤں کیا تدبیر کروں۔اماں تمہیں کیا ہو گیا ہے۔ دیکھو بہت کسی کے پیچھے پڑ نا اچھا نہیں ہوتا " ساس نہ کر برائی تیرے آگے بھی جائی"میرے اوپر رحم کرو۔یہ کیا مصیبت ہے کہ تم نے ان کی دشمنی میں بالکل آنکھوں پر ٹھیکری رکھ لی ۔ کوئی برے کو بھی اس کے سامنے برا نہیں کہتا۔ تم بے عیب پر عیب تھوپ رہی ہو۔ (بیگم صاحب) پھر وہی الٹے پلٹے جواب دئیے جاتی ہے۔ ارے تو نے اپنی آنکھوں پر پہلے ہی پٹی بندھوا لی ہے تجھے کیا خبر کہ چھاتی پر کودون دلی جاتی ہے یا مونگ۔ موئی اندھی بصیر وہ تیرا خصمڑا پکے جن کا پڑھایا ہوا ہے ارے وہ تجھ سے بھی ملا رہے گا اور سر سہلا کر بھیجا کھائے گا۔ زینت پہلو نہیں اب تو اسے بغلی گھونسا سمجھ ، آنکھ کھول کے دیکھ کہ دن دن بھر وہیں گھسا رہتا ہے۔ فرمائش آ رہی ہے۔ ابھی پرسوں ہی سارے شہر سے ڈھونڈ کر جوتا لایا ہے۔ تجھے نہیں سوجھا کبھی تیرے لئے بھی ایسی آرام پائی لانا نصیب ہوئی تھی۔ (ساجدہ) اے ہئے اس کے روپیہ تو بھابی نے مجھے خود دئیے تھے میں نے ہی پھیر دئیے۔ اور جب جوتا ملا اور وہ لائے تو انھوں نے پھر اس کی جمع میرے ہی ہاتھ میں دی ۔ میری معرفت بھیجی۔ میرا پاؤں جوتے کے معاملے سے کب نکلا۔ دن دن بھر تو میں بھی وہاں بیٹھتی ہوں۔ ننھی چھمنوا نہیں کہ کسی کی بری نگاہ مجھے نہ سوجھے گی اور نیک بد دکھائی نہ دے گا۔ خدا معلوم تم کو کیا بیر پڑ گیا
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
ریختہ صفحہ 346
ہے یہ خواہ مخواہ کی تہمت بے واسطے کا عیب مجھے نہیں اچھا معلوم ہوتا۔ آخر خدا کو ایک دن منہ دکھانا ہے۔دنا سے جانا ہے۔ کیوں کسی کا صبر سمیٹتی ہو۔ تم تو کیا توبہ توبہ میں حضرت جبرئیل کے کہنے کو بھی نہ مانوں گی۔ ان کی طرف سے بڑی روٹی اٹھانے کو موجود ہوں۔ (بیگم صاحب) چل دور دفعان۔ تو اپنی بڑی چھوٹی روٹی اٹھا رکھ۔ کوئی نہیں اٹھواتا۔ کسی کی بلا کو کیا پڑی ہے۔ تو جانے تیرا کام۔ اپنے ہاتھ سے اپنا گھر ڈھاتی ہے۔ کوئی کہاں تک اڑانے لگائے گا۔ جہنم میں جا۔ کالا منہ نیلے ہاتھ پاؤں۔ دور ہو میرے سامنے سے۔ خبردار جو یہ نحس صورت لے کر پھر میرے آگے آئی۔ وہ بیچاری آبدیدہ ہو کر کوٹھے کی طرف چلیں۔ کھڑک کر کہا وہاں کیا جاتی ہے۔ اسی اپنی سوت کے کلیجے میں گھس۔ اسی کی جوتیوں پر ناک گھس۔ رحمت و اعجوبہ کے پاس جگہ دے دے گی۔ کوٹھے پر قدم رکھا اور ٹانگیں توڑ ڈالیں۔ آخر کے ٹکڑے ان پر تیروں کی طرح برسے۔ وہ بیچاری کوٹھے پر فقط دل کی بھڑاس نکالنے کو جاتی تھیں۔ روتیں تڑپتیں۔ جب دل ٹہر جاتا میرے پاس چلی آتیں۔ ان کی تقیّد سے مجبور ہو کر بھری ہوئی آنکھوں کے آنسو پیتی ہوئی اور دوپٹے سے گال پونچھتی میری طرف آئیں، میں عابدہ اور صابرہ کے کرتے بیونت کر کھڑئ کر رہی ہوں کہ پیر کی چاپ معلوم ہوئی۔ آنکھ اٹھا کر جو دیکھا تو ساجدہ بیگم منہ پھرائے دالان کی جانب چلی جاتی ہیں۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ اس وقت ان کو رنج ہے اور یہ باتیں سن کر آئی ہیں۔ ان کا نام لے کر پکارا کہ بی وہاں کہاں جاتی ہو، ادھر آؤ ، کیا کچھ خفا ہو۔ انھوں

ریختہ صفحہ 347
نے جواب نہ دیا۔ خلاف عادت جو یہ بات معلوم ہوئی۔ میں کمرے سے صحنچی میں آئی اور ان کو پھر پکارا ۔ ان کا دل بھرا تھا اور گریہ گلوگیر جواب کیا دیتیں۔ میرے پکارنے سے اعجوبہ نے ان کو جھک کر دیکھا اور کہا کہ ہائیں بیوی روتی کیوں ہو۔ خیر تو ہے کیا ہوا۔ کسی نے کچھ کہا سنا۔ اعجوبہ کا اتنا پوچھنا تھا کہ ان کا دل بے قابو ہو گیا۔ اور بے اختیار ہو کر رونے لگیں۔ میں جلدی دوڑی اور انھیں گلے سے لگا کر جب بہت پوچھا تو کہا کہ اماں جان نے خفا ہو کر مجھے نکال دیا اور کہا کہ اپنی بھابی کے پاس رہا کر۔ خبردار جو میری طرف آئی۔ بے خطا بے قصور جو منہ میں آیا کہا۔ میں نے کہا واہ ہم تو بہن تمہیں سمجھدار جانتے تھے، مگر بڑی ناسمجھ ہو۔ یہ گھر کس کا ہے اور وہ کس کا۔ نکلنے پر بھی تو تم انھی کے گھر میں ہو اور پھر انھی کی مرضی کے بموجب کوئی اپنی ماں کے غصے پر رنج کرتا ہے۔ لے میرے سر کی قسم جو اب روئیں۔ شکر کرو کہ بے کہے سنے تمہاری آرزو بر آئی۔ اس دن تو تم خود کہتی تھیں کہ یہاں رہنے کو جی چاہتا ہے۔ اب جو حکم ملا دل کی بات پوری ہوئی تو ملال کرتی ہو۔ لے ذرا ہچکی روک کر آنسو پونچھ کر مجھے تو بتاؤ کہ یہ کیا بات ہوئی جس پر انھیں غصہ آیا۔ کہیں میرے پاس بیٹھنے پر تو نہیں ناراض ہیں۔ کہا جی نہیں۔ نہ کوئی بات نہ چیت۔ نہ میں بولی نہ چالی۔ فرض کر کے قریب بلایا اور کلیجے میں زور سے چٹکی لے لی۔ پھر یہ ستم ہے کہ جو وہ فرمائیں اس کا اقرار کرو۔ منہ سے ہاں کہو چاہے خدا کے یہاں وہ منہ کالا ہو جہنم کی مہری میں ٹھونسے جاؤ۔ کنبہ بھر جوتیاں مارے عزیزوں میں بیر پڑے۔ جدائی ہو۔ ان کی خوشی کر دو۔ چاند پر

ریختہ صفحہ 348
خاک ڈالو۔ سورج کو گرد آلود کر کرو۔ خدا کے جلائے ہوئے چراغ کو پھونک مارو۔ جس شمع سے سارا گھر روشن ہے اسے بڑھا دو۔ ظالم بنو جھوٹے کہلاؤ لعنت کے مستحق ہو مگر ان کی صدا کے لئے گنبد کی طرح پیٹ کے ہلکے ہو کر کام دو، جو وہ کہیں وہ کہو۔ میں نے کہا اوئی بیوی تم نے تو اس وقت مجھے ادھیڑ بن میں ڈال دیا۔ بھلا ان کنایوں اشاروں کو میں کیا سمجھوں گی۔ اتنا تو ضرور معلوم ہوا کہ میری نسبت کچھ وہ فرماتی تھیں اور تمہیں نہیں منظور ہوا لیکن اصل مطلب ابھی سمجھ میں نہیں آیا۔ صاف صاف کہو پہیلیاں نہ بجھواؤ۔ کہا کہ بھابی کیا خاک کہوں ۔ مجھ سے نہ کہا جائے گا۔ کہیں بھی یہ اندھیر آپ نے دیکھا کہ میری بات اور میں ہی جھوٹی۔ پھر اس پر اصرار ہے، ضد ہے ہٹ ہے کہ دم ہونٹوں پر آ گیا۔ آپ ہی کا حوصلہ تھا جو ان کے بے تکے پن پر کچھ خیال نہ کیا۔۔ میرا تو دل ان کی ایک ہی بے جوڑ بات سن کر ٹوٹ گیا۔میں نے پھر پوچھا کہا کہ آپ مجھ سے محبت کرتی ہیں۔ کہہ کر آپ کو بھی رنج دوں۔ دور بھی کیجئیے۔ آپ نے منع کیا ہے اب روؤں گی نہیں۔ چلئیے فرصت میرے مطمئن کرنے کو ساجدہ بیگم نے یہ فقرہ کچھ اس طرح سے بشاش ہو کر کہا کہ مجھے ان کے رنج بر طرف ہونے کا بالکل یقین آ گیا۔ وہ میرے پیچھے یہ کہتے ہوئے بڑھیں کہ موئے شیطان پر خدا کی مار۔ کیا کیا شگوفے چھوڑتا ہے۔ وہاں سے کمرے میں جو آئیں تو ہمیشہ کی طرح ہنس ہنس کر ویسی ہی اپنے چلبلے انداز سے ادھر ادھر کی باتیں بنانا شروع کر دیں۔ وہ یہاں بیٹھی ہیں اور شہر یار دولھا گھر میں آئے۔ جیسے ہی کوٹھے کی طرف چلے کہ

ریختہ صفحہ 349
بیگم صاحبہ نے بیٹھے ہی بیٹھے )ادھر کہاں جاتے ہو) کی آواز سے ان کی راہ روکی۔ وہ پلٹ کر پوچھنے لگے کہ کہ اماں جان کیوں کہا کہ اماں جان تمہاری وہاں ہوں گی اور کیوں کیا کیسا اپنا گھر نہیں جانے دیتے۔ انھوں نے ہنس کر کہا کہ آخر کوئی قصور گناہ خطا کہا سنا کہ نہیں۔ یہ مسخرا پن اس مرد شفتل سے کرنا جو اس کی عادی ہو۔ لو اور سنو ہنس کر کہتا ہے کہ قصور اللہ رے۔ بد ذات جس رکابی میں کھا اسی میں چھید کر۔ ۔۔۔۔۔ بھر پانی میں ڈوب مر۔ ڈائن بھی سات گھر بچا جاتی ہے۔ تو اس سے بھی بڑھ گیا۔ احسان فراموش کندہ ء ناتراش ہم کو بناتا ہے ۔ قلّاق کر پوچھتا ہے کہ قصور۔ دیدے کی صفائی تو دیکھو، بے غیرتی کی عمر دراز ہو۔ موا بے حیا بد نظرا بد نیت نمک حرام۔ انھوں نے کہا بس غصہ ہو چکا۔ ذرا زبان روکئیے۔ میں کہے دیتا ہوں کہ اگر آپ نے کچھ اور کہا تو میں اپنا سر ہی پھوڑ ڈالوں گا۔ میں ایسی بدزبانی کا خوگر نہیں۔ میں قصور پوچھتا ہوں اور آپ فضیحتی اڑا رہی ہیں۔ ہوا کا رخ تھا اور میں دروازے کے قریب بیٹھی تھی۔ کچھ آواز پہچان کر جلدی سے باہر نکل کر چلی اس وقت پہنچی کہ اماں جان کا نمک حرام والا فقرہ سنا اور جب تک روکوں روکوں کہ دو چار باتیں شہر یار دولھا نے بھی کہہ دیں ۔ میں نے دانتوں میں انگلی دبا کر کہا کہ کہ ہا بھائی اپنے بڑوں سے کوئی اس طرح ٹیڑھے ترچھے کلام کرتا ہے۔ پس چپ رہو میرے ہاں چلو۔ وہیں تمہاری بیوی بھی ہیں۔ میں انھیں زبردستی پھیر کر یہ کہتی ہوئی چلی کہ واہ بھائی تم تو دل کے بڑے بودے نکلے وہ یہ

ریختہ صفحہ 350
سن کر مسکرائے۔ اماں جان کی تو نگاہ ادھر ہی لگی ہوئی تھی میرا شانہ پکڑ کر ان کو ہٹانا اور ان کا بودے کی لفظ پر بے اختیار مسکرانا غضب ہی ہو گیا۔ کھلم کھلا میرا نام لے لے کر پیٹنے لگیں اور یہ کہا کہ ارے میں تو پہلے سے جانتی تھی کہ وہ تیرا بندہء بے دام زر خرید غلام ہو گیا۔ تیرے جال میں پھنسا جو چاہے کر۔ اس بہو نے ناک کٹوائی ہائے اس بہو نے بزرگوں نے عزت مٹائی۔ اب یہ گھر آباد رہ چکا۔ کوئی آن میں طبقہ اٹھتا ہے۔ ارے اس بہو پر آم کے درخت برابر بجلی ٹوٹے۔ ارے اس کے کالے سانپ کے سے کیڑے پڑیں۔ یہ غارت ہو۔ اس کی جوانی میں آگ لگے۔ اس کے علاوہ بھی گالیوں اور کوسنوں کی حد نہ رہی۔ شہر یار دولھا تو کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر کمرے میں جا بیٹھے اور میں جب تک نہیں سمجھی تھی کھڑی رہی۔ جب سمجھی تو قریب تھا کہ گر پڑوں۔ دل سنبھالے کمرے میں آئی اور کمرے میں آئی۔ شہر یار دولھا نے بیوی سے وہ سب حالکہا جو میں ابھی لکھ چکی ہوں۔ انھوں نے راز فاش ہو جانے پر اپنا واقعہ دہرایا کہ سب کے پہلے مجھی سے تو کہا تھا۔ میرے یقین نہ ماننے سے خوب اچھلیں کودیں ۔ گھر سے نکالا گالیاں دیں۔ بھابی کے رنج کی وجہ سے میں نے نہیں کہا ۔ میں نے کہا کہ سبحان اللہ بھابی کچھ دیوانی باؤلی نہیں ہیں کہ طوفان بہتان پر بیٹھی رنج کیا کریں۔ یہاں تو یہ باتیں تھیں اور وہاں بیگم صاحب کو غصے کا دوسرا بخار چڑھا انگنائی میں کھڑا ہو کر میرا عیب اچھالنے لگیں۔ جس میں سارا محلہ سنے اور ویسا ہی ہوا کہ یہ غل غپاڑا چیخ دھاڑ سن کر تو میں یہ وہ ایرے غیرے
 
Top