اسکین دستیاب افسانہء نادر جہاں

گُلِ یاسمیں نے 'اردو نثر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 4, 2021

  1. گُلِ یاسمیں

    گُلِ یاسمیں لائبریرین

    مراسلے:
    3,674
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Question
  2. گُلِ یاسمیں

    گُلِ یاسمیں لائبریرین

    مراسلے:
    3,674
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Question
    ریختہ صفحہ 3

    فرہنگ افسانہ ء نادر جہاں
    واسطے آگاہی عام کے وہ چند لغات اردو مع معانی لکھے جاتے ہیں جو اور اور شہروں میں دوسری طرح پر بولے جاتے ہیں یا نہیں بولے جاتےیا غیر مانوس ہیں۔
    (الف)
    الغاروں۔۔۔ ڈھیروں
    اینچ پینچ۔۔۔کاواک
    اکلوتا۔۔۔ اکیلا بچہ
    انّا۔۔۔ دودھ پلانے والی
    اُورچھور۔۔۔ حد ، انتہا
    آخور۔۔۔ واہیات، بُرا ، خراب
    امی جمی۔۔۔ خیر و عافیت
    اٹالا۔۔۔ کرکری خانہ۔ اسباب
    اچنبھا۔۔۔تعجب و حیرت
    انگلیٹ۔۔۔ خلقت
    ادھیڑ بن۔۔۔ تردد و انتشار
    المل ٹلمل۔۔۔ضروری کام کو ترک کر دینا
    اُت گُت۔۔۔" ا" و "گ" پر پیش۔ ہندی کی چندی کرنا
    آگا تاگا۔۔۔خبر گیری
    انگنائی۔۔۔آنگن صحن مکان
    آنی کانی دینا۔۔۔ ٹالنا یا آبا کانی بتانا
    انمل۔۔۔" ا" مفتوح اور "م" مکسور ، بے جوڑ
    اُٹو۔۔۔ بہ وزن اٹھو، مخفف اوٹنی
    اوٹ پٹانگ۔۔۔" ا" مضموم " پ "مفتوح۔ نا ہموار
    الگ تھلگ۔۔۔" ا" و "ت" مفتوح ، جدا جدا
    اَلَسنا بِلَسنا۔۔۔" ا" و "ب" مکسور ، ہر دو "ل" مفتوح عیش و راحت کرنا
    اُچاپت۔۔۔"ا" پر پیش۔ تکلیف و محنت شاقہ
    اچانک۔۔۔" ا"۔ "چ " ۔"ن" مفتوح، بے اطلاع دفعتاً
    آؤبدا۔۔۔" ا" ۔"ب" ۔"د" مفتوح خواہ مخواہ
    انچھر۔۔۔"ا" ۔"چ " پر زبر آوازے یا کلام بےجا
    انڈوِیان۔۔۔"ا" اور "و"کے نیچے زیر۔ بانکے لوگ یا ڈنڈ پیل کپڑےکی بنا کر بازو پر پہنتے ہیں۔
    اینڈنا۔۔۔ تنکا چلنا
    اول فول۔۔۔" ا" و "ف" پر زبر، سخت سست
    آرام پائی۔۔۔ پُھندنے دار زنانہ جوتا
    اوٹ یا آڑ۔۔۔ پردہ حجاب اور اوٹ لکڑی کا بھی بنایا جاتا ہے جس پر کپڑا ڈال کر پردہ کرتے ہیں۔
    اکڑوں یا اکرد۔۔۔دو زانو پاؤں پر بیٹھنا
    اجیرن۔۔۔پہلے زبر پھر زیر، گراں یا دوبھر
    اُڑا۔۔۔ "ا" پر پیش، کمیاب نایاب
    اَکھِل کُھری۔۔۔ "ا" مفتوح کام مضموم روکھی دماغدار
    آہر جاہر۔۔۔بار بار آنا جانا
    اچوک۔۔۔"ا" مفتوح "چ" مضموم نہ چوکنے والا۔
    (ب)
    بُھنگا۔۔۔"ب "پر پیش، بہت چھوٹا جانور پردار
    بکھیڑے۔۔۔"ب" اور "ک" پر زبر، کار لاطامل
    بیتی۔۔۔ "ب" اور "ت" مکسور۔ گزری ہوئی
    بھولی بسری۔۔۔ پہلی "ب" مضموم دوسری مکسور، از یاد رفتہ سہو محو
    بھرت۔۔۔ خواہ آخور کے ساتھ تم ہو خواہ نہ ہو۔ اکلام زائد طولانی کو کہتے ہیں۔
    بات چیت۔۔۔ عورتوں کی گفتگو
    بول چال۔۔۔ کلام مرداں
    بندی۔۔۔ "ب" پر زبر۔ بندہ کی تانیثاور قید کے معنوں پر بھی آتا ہے۔
    بڑاپا۔۔۔ حرف اول دوم و چہارم پر زبر۔ بزرگی
    بگاڑ۔۔۔ "ب "کے نیچے زیر۔ لڑائی
    بسورنا۔۔۔ رونے کی شکل بنانا
    بِس کی گانٹھ۔۔۔ "ب" مکسور، زہر کی گرہ
    بھاویں نہونا۔۔۔ "ب" مفتوح، خاطر میں نہ لانا، قدر نہ کرنا
    بوڑھ سہاگن۔۔۔" ب" اور "س" مضموم، عمر اور سہاگ باقی رہنے کی دعا دینا
    بکھان کرنا۔۔۔اچھالنا یا کہنا بیجا بات کا
    بچورنا۔۔۔"ب" مکسور "چ "مضموم بالوں کے ساتھ آتا ہے
    بال بچورنا۔۔۔ یعنی اچھی طرح دیکھنا
    بھلک بھلک۔۔۔ ہر دو" ب"ا ور " ل "مفتوح زیادہ رونا
    بوغ بند۔۔۔ دہرا کپڑا جو بہت سے کام آتا ہے
    بیری۔۔۔ "ب" مفتوح "ر " مکسور ، دشمن۔ بھیڑ بھڑکا۔ مجمع جماؤ
    بوڑھا ڈھونک۔۔۔" ب" اور " ڈ "مضموم۔ وہ لڑکی جس کا قد لمبا ہو جائے اور عمر کم ہو
    بھلکڑ۔۔۔"ب "مضموم،" ل "مفتوح، "ک" مشدد، بھولنے والا خواہ بھولنے والی
    بلون بلون پڑ نا۔۔۔ ہر دو "ب" مکسور، "ل مضموم۔ خرچ کی زیادتی اور آمد کی کمی
    براؤ۔۔۔ بر وزن پڑاؤ۔ پرہیز
    بات کا بتنگڑ۔۔۔ بات بڑھانا ، طول دینا
    بَر کا پائجامہ۔۔۔یعنی عرض کا پائنچہ۔ بَر کپڑے کے عرض کو کہتے ہیں۔
    بارہ وفات۔۔۔ بارہ ربیع الاول کا مہینہ

    ریختہ صفحہ 5
    (پ)
    پھیر پھار۔۔۔ پہلی "پ" مکسور دوسری مفتوح۔ چکر
    پیر مغاں بن کر سمجھانا۔۔۔یعنی بزرگانہ نصیحت کرنا
    پرکھنا۔۔۔ جانچنا
    پھول کھلنا۔۔۔ شادی ہونا
    پھل پانا۔۔۔ اولاد ہونا
    پروان چڑھنا۔۔۔ شادی ہونا
    پودا۔۔۔ "پ" مفتوح چھوٹا درخت
    پالا۔۔۔میدان
    پھشی۔۔۔ "پ" کو زیر " ش" مکسور مشدد ۔ مُوت
    پنپنا۔۔۔"پ" اور " ن" مفتوح بڑھانا، موٹا ہونا
    ٹپے باز۔۔۔"ب" مفتوح۔ ایک کھلونا
    پیرا۔۔۔ "پ" مفتوح، قدم
    پٹ سے بولنا۔۔۔"پ "مفتوح ، بیچ میں کسی کا بول اٹھنا
    پن کٹی۔۔۔"پ " مفتوح۔ "ک" مضموم "ٹ" مشدد، بوڑھوں کی گلوری کوٹنے کا چھوٹا سا ہاون دستہ
    پوچھ گچھ۔۔۔"پ" مضموم۔ "گ" مفتوح دریافت
    پہلوٹھی۔۔۔"پ" مفتوح "ٹ "کے بعد ہائے مختفی لکھی جاتی ہے اور بخیال تلفظ نہیں بھی لکھی جاتی۔ پہلے لڑکے یا لڑکی کو پہلوٹھی کا کہتے ہیں۔
    پھلاسڑے۔۔۔"پ "مضموم بھلاوے یا دھوکے یعنی مغالطے
    پہ پٹ۔۔۔ہر دو "پ" مفتوح، ضد اور کد، چھوٹوں کے لئے مچلنا اور بڑوں کے واسطے پہ پٹ مچانا کہتے ہیں۔
    پن کپڑا۔۔۔ پانی میں بھیگا کپڑا
    پنبئی۔۔۔ بروزن بمبئی روئی دار دو تہ کپڑے کے پردے
    (ٹ)
    ٹوٹی پھوٹی۔۔۔کم از کم
    ٹھکانا۔۔۔"ٹ" مکسور، مقام
    ٹھوسانا۔۔۔ زیادہ کھلا دینا
    ٹہوکا دینا۔۔۔"ٹ" مفتوح، چھپا ہوا اشارہ کرنا
    ٹخا سے دیدے کھلنا۔۔۔ "ٹ "مفتوح، "خ" مشدد پوری آنکھوں کا کھلا ہونا
    ٹبر۔۔۔ "ٹ" مفتوح "ب" مشدد "و" مفتوح اسباب
    ٹوٹی بانہہ گل جندڑے پڑنا۔۔۔ مثل ہے، گلجندڑے، گ مفتوح اس کپڑے کو کہتے ہیں جو گلے میں بیکار ہاتھ رکھنے کے لئے ڈالا جائے۔ خلاصہ معنی اپنا بیکار ہو جانا
    ٹھنکنا۔۔۔ "ٹ" مضموم بچوں کا لاڈ سے رونا
    ٹکر ٹکر دیدم۔۔۔دونوں "ٹ "مضموم، خاموش بیٹھ کر دیکھنا
    ٹوہ۔۔۔ "ٹ " مضموم، کھوج خبر

    (ت)
    توبہ تلّا۔۔۔پہلی "ت" مفتوح، دوسری مکسور "ل" مشدد، ہائے وائے
    تھوتھو وبا۔۔۔ ہر دو تے مضموم، ہیضے کا نام لیتے وقت عورتیں تھوتھو کر دیتی ہیں اور تھتھکارا کرتے وقت تھوتھو نہیں کہتیں۔
    تھتھکارا۔۔۔ "ت" مضموم ہیضے کو بھی کہتے ہیں اور سر کے درد کو بھی۔
    تھلیان دھرنا یا رکھنا۔۔۔ "ت" مفتوح بچے کے مسوڑھوں کا پھولنا یا ابھرنا دانت نکلنے سے پہلے
    تجنا۔۔۔ "ت" مضموم "ج" ساکن لاغر ہونا
    تُر تریا۔۔۔ ہر دو "ت" مضموم زبانداز باتونی عورت کو کہتے ہیں۔
    تھوپنا۔۔۔ "ت" مضموم لگانا
    تھڑی تھڑی۔۔۔ ہر دو "ت" مضموم لعنت ملامت کرنا
    تانبے تاثیر۔۔۔ بہت کم یا کم سے کم
    (ج)
    جھپا جھپ۔۔۔ ہر دو "ج" مفتوح جلدی جلدی
    جوڑ گانٹھ۔۔۔"ج " مضموم تھوڑا تھوڑا جمع کرنا
    جہندم۔۔۔ بر وزن بمعنی جہنم
    جزبی ۔۔۔ "ج "مضموم "ب" مکسور جزئی یعنی ہزار میں ایک
    جھٹپٹا۔۔۔ "ج" اور" پ" مضموم۔ سر شام دونوں وقت ملنے کا ہنگام
    جھونتڑے۔۔۔ "ج" مضموم ڑ مکسور ریشے یا پھوسڑے
    جز بز۔۔۔ "ج" و "ب" مکسور مکدر و افسردہ
    جمی جم ہیں۔۔۔ دونوں ج مفتوح یعنی نہیں ہیں بڑی بوڑھیاں نہیں کہنا منحوس جانتی ہیں اسی سے جمی جم کہتے ہیں۔
    جم جم ہو۔۔۔ ہر دو "ج " مفتوح یعنی ضرور ہو خدا کرے ہو۔
    جتن۔۔۔ اول و دوم مفتوح۔ تدبیر
    (چ)
    چڑھاؤاتار۔۔۔نشیب و فراز، اونچ نیچ
    چھٹی چلّا۔۔۔ پہلی "چ" مفتوح دوسری مکسور "ل" مشدد زچہ اور بچہ کے نہانے کی تقریبوں کے دن
    چوٹی کا مضمون۔۔۔ عمدہ مضمون
    چھٹاپا۔۔۔"چ " مضموم، خردی
    چھٹ جانا اور چھنٹ جانا۔۔۔ دونوں جگہ "چ" مفتوح، لاغر ہو جانا ، گھل مل جانا اور منتخب ہو جانا، چُن لیا جانا
    چھی چھی۔۔۔دونوں "چ" مکسور، اور چھچھی پاخانہ
    چچوڑنا۔۔۔پہلی "چ" مکسور دوسری مضموم چوسنا
    چم چچڑ۔۔۔ روگ، پہلی "چ "مفتوح دوسری مکسور، تیسری مفتوح مشدد۔ مرض سخت
    چھوکری چھاکری۔۔۔ لونڈی باندی
    چہکوں پہکوں رونا۔۔۔ "چ " اور "پ" مفتوح شدت سے رونا
    چپی کرنا۔۔۔ "چ" مفتوح "پ" مکسور مشدد ۔ پاؤں دبانا

    ریختہ صفحہ 7
    چوپہلا۔۔۔چ اور پ مفتوح، بڑی ڈولی اسی کو میانہ بھی کہتے ہیں کیونکہ؟؟؟؟؟ اور ڈولی کے درمیان میں ہے
    چھڑے چھٹانک۔۔۔ہر دو "چ" مفتوح ، یکہ و تنہا، بے اولاد عورتیں
    چھچھورے۔۔۔پہلی "چ "مکسور، دوسری مضموم ، کم ظرف ، بے وقر
    چڑھی بارگاہ ہونا۔۔۔مرتبہ بڑھنا، اوج پانا
    چونڈا۔۔۔"چ " مضموم، بوڑھیوں کے سفید سر کو کہتے ہیں
    چندرا کر پوچھنا، یا چندرانا۔۔۔"چ" مفتوح۔ جان کر انکار کرنا یا مکرانا
    چکّٹ۔۔۔"چ" مکسور، "ک" مفتوح مشدد، میلے کپڑے

    (د)
    دوب۔۔۔" د "مضموم ، سبزہ چھوٹی چھوٹی گھاس
    دین۔۔۔" د" مکسور ، "ے" مجہول عنایت، دیوتا، بت
    دُھن۔۔۔"د "مضموم، خیال
    دان۔۔۔جہیز
    دو عشرے نہ گزرنا۔۔۔یعنی بیس برس سے قبل مر جانا
    دھموکا۔۔۔"د "مفتوح "م" مضموم، گھونسا
    دھین دھوکڑ۔۔۔پہلا "د" مکسور دوسرا مفتوح، آزاد خود سر
    دھوم کا کام۔۔۔" د" مضموم، چکن کی ایک قسم
    دیدہ دلیل۔۔۔پہلا "د "مکسور دوسرا مفتوح، بے شرم
    دھل دھل خون بہنا۔۔۔دونوں" د "مفتوح۔ بہت خون نکلنا
    دھڑلے کی لڑائی۔۔۔"د "مفتوح "ل" مکسور مشدد، زور و شور کی لڑائی
    دھاڑ۔۔۔ "د "مفتوح جلدی
    دیدوں کا پانی ڈھلنا۔۔۔پہلا "د" مکسور ، بے غیرتی اور بے شرمی
    درمن۔۔۔ "د" اور "م" مفتوح۔ مخفف درماں
    دُردسا۔۔۔پہلا "د"مضموم دوسرا مفتوح۔ عزت پر حرف آنا، بدنامی اور ضرابی ہونا
    (ڈ)
    ڈینگ کی لینا۔۔۔"د" ہندی مکسور، شیخی کرنا، ڈھکوسلے، بیہودہ کلام
    ڈھائی۔۔۔ وہ فرضی جگہ جسے لڑکے کھیل میں چھو کر آزاد ہو جاتے ہیں۔
    ڈھڈھو۔۔۔(1) دال ہندی مفتوح دوسری مضموم مشدد، پرانی جہاں دیدہ عورت
    (ر)
    رویاں رویاں۔۔۔چھوٹے چھوٹے بال
    رویّہ۔۔۔ "ر" اور "و" مفتوح، "ے" مفتوح مشدد۔۔طریقہ ، طرز
    روٹھنا۔۔۔ "ر" مضموم، بگڑ جانا
    رُکنا۔۔۔ "ر" مضموم۔ ترک کرنا، چھوڑنا
    رُلنا گھلنا۔۔۔ "ر" اور "گ" مضموم۔ قریب مرگ ہونا
     
  3. گُلِ یاسمیں

    گُلِ یاسمیں لائبریرین

    مراسلے:
    3,674
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Question
    ریختہ صفحہ 8
    (ز)
    زبان سے پھول جھڑنا۔۔۔غیر مناسب کلام، ؟؟؟؟ کے کلمے
    (س)
    سگی یا سگا۔۔۔"س"مفتوح حقیقی بہن بھائی وغیرہ۔
    سوت۔۔۔ "س" مفتوح ۔ اپنے شوہر کی جورو۔
    سُن گُن لینا۔۔۔"س" اور "گ" مضموم، بھید یا خبر چھپ کر لینا
    سماندھانی۔۔۔"س"، "م" ، "د" مفتوح آہستگی یا بے گھبراہٹ کے کام کرنا
    (ش)
    شُد بُد۔۔۔"ش" "ب" مضموم قدرے قلیل
    شان میں جفتے پڑنا۔۔۔"ج" مضموم بات یا عزت کا جانا
    شمشو کرنا یا دھونا۔۔۔ پہلی "ش" مفتوح دوسری مضموم کنکر یا چھلکے نکالنے کے لئے اناج کو کچھ دیر بھگو کر بار بار ایک برتن سے دوسرے میں گرانا
    شمسی۔۔۔پہلا "ش" مفتوح دوسرا مکسور رخصت
    شرمائی بلی۔۔۔ایک قسم کی بلی ہوتی ہے۔
    (ق)قلتین۔۔۔ "ق" مضموم "ل" مشدد اور "ت" مفتوح۔ ناپاک، نجس
    قدری۔۔۔"ق"مضموم۔ قدری کرنا، اصرار سے کہنا، کد کرنا
    قلاقنا۔۔۔"ق" اول مفتوح۔ ہنسی میں کسی بات کو اڑانا۔
    (ک)
    کھڑے تڑے۔۔۔ "ک" و "ت" مفتوح۔ گاہ گاہ، کبھی کبھی
    کھرّا۔۔۔"ک" مضموم، "ر" مشدد مفتوح، بے فرش کا تخت یا پلنگ
    کالی بی۔۔۔ بچوں کے ڈرانے کا فرضی نام
    کھٹائی میں پڑنا۔۔۔"ک" مفتوح۔ کسی چیز کے ملنے میں دیر ہونا۔
    کسنا۔۔۔ "ک" مفتوح ،آزمانا۔ سالن کسنا یعنی بھوننا ، اور جس میں خوان باندھا جاتا ہے اسے بھی کسنا کہتے ہیں۔
    کلنک کا ٹیکا۔۔۔"ک" و "ل" مفتوح۔ "ٹ" کو زیر۔ کسی برائی کا اپنی طرف منسوب ہو جانا
    کھوسڑا۔۔۔"ک" مفتوح، پرانا ٹوٹا ہوا جوتا
    کھوج۔۔۔"ک" مضموم، بھید یا راز کا دریافت کرنا۔
    کبھی کبھار۔۔۔گاہ گاہ
    کُڑھنا۔۔۔ "ک" مضموم ۔ غمگین ہونا۔
    کھلم کھلا۔۔۔ہر دو "ک" مضموم۔ صاف صاف کہہ دینا۔
    (گ)
    گھوم گھام۔۔۔پہلا "گ" مضموم ، دوسرا مفتوح، جس راہ میں پھیر ہو۔
    گھس پس کے اترنا۔۔۔ "گ" و " پ" مکسور۔ صدقے ہو جانا، زندگی اور صحت میں کسی کپڑے کا پھٹ جانا۔
    گیند دھڑکا۔۔۔ گل بازی
    گھرّیاں گھسنا۔۔۔"گ" اول مضموم، دوم مکسور۔ ایڑیاں رگڑ نا
    گودکڑا۔۔۔ "گ" مضموم، "د" مفتوح، "ک" مفتوح مشدد۔ طعن سے گود کا نام لینا
    گھولوا۔۔۔"گ" مضموم۔ ایک بات کا مکرر ذکر کرنا۔
    گھنیرے۔۔۔"گ" مفتوح،"ن" و " ر" مکسور
    گولہ لاٹھی۔۔۔"گ" مضموم، ہاتھ پاؤں سمیٹ کر لیٹنا
    گڈرخیلی۔۔۔"گ" مضموم۔ "خ" مکسور۔ بیہودہ اور احمق مفلس اور نیچ قوم
    گون متھون۔۔۔"گ" مضموم، "م" مفتوح، "ت" مضموم۔ منہ پُھلا کر چپ ہو جانا
    گستا نگر۔۔۔دونوں "گ" مفتوح۔ احمق بیوقوف کلّے دراز
    گرہستی۔۔۔"گ" اور "ت" مکسور "ر" مفتوح سلیقے سے گھر کرنا
    گل گوتھنا سے بچے۔۔۔ خوبصورت گورے چٹے بچوں کو کہتے ہیں۔
    گاؤ گھپ۔۔۔ہر دو "گ" مفتوح ، کسی چیز یا بات کو چھپا ڈالنا
    (ل)
    لوتھڑے۔۔۔"ل" مضموم "ڑ" مکسور مضغہء گوشت
    لگور۔۔۔بروزن چکور، کاٹنے والا
    لشتم پشتم۔۔۔"ل" و "ت" مفتوح۔ افتاں و خیزاں
    لہلہاتی۔۔۔ ہر دو "ل" مفتوح تر وتازہ نوجوان للک۔۔۔ بر وزن چمک، ہر دو "ل" مفتوح۔ اشتیاق و شوق وغیرہ
    لتھڑنا۔۔۔ "ل" مکسور "ت" مفتوح۔ بھرنا
    لٹ بھر۔۔۔ "ل" و "ب" مفتوح دنیا کے تعلقات وغیرہ یا کام اور ضرورتیں
    (م)
    مامتا۔۔۔ "م" و "ت" مفتوح محبت و الفت
    مول چیز۔۔۔ "م" ضروری شے
    منو بلائی۔۔۔ "م" و "ب"مکسور "ن" مضموم غریب بے زبان
    مُل۔۔۔"م" مضموم مگر
    مسا کر کے۔۔۔ "م" و "س" مفتوحانتہا کر کے
    ملیا میٹ۔۔۔ پہلی "م" مفتوح دوسری مکسور برباد کرنا، کھو دینا ضائع کرنا
    مہنامت۔۔۔ ہر دو "م" مفتوح۔ رونا پیٹنا تڑپنا بلبلانا وغیرہ
    مائیوں بٹھانا۔۔۔ لڑکی کو زرد کپڑے مانجھے کے پہنا کر پردے کے اندر بٹھانا
    منڈیا مروڑ کے پڑ رہنا۔۔۔(1) مضموم (2) مفتوح یعنی چپ ہو کر سمٹ سمٹا کے لیٹ رہنا۔
    (ن)
    نت نئے۔۔۔ پہلا "ن" مکسور دوسرا مفتوح۔ نو بنو
    نِک سُک۔۔۔ "ن" مکسور، "س" مضموم

    ریختہ صفحہ 10
    سر سے پاؤں تک خوبصورت ہونا
    ناتا۔۔۔"ن" و "ت" مفتوح۔ رشتہ، عزیز داری۔
    نوج۔۔۔ "ن" مفتوح خدا نہ کرے
    نابر۔۔۔"ن" و " ب" مفتوح انکار کرنا
    نکو۔۔۔ "ن" مفتوح "ک" مشدد مضموم۔ بدنام
    ننھی چھمنوا۔۔۔ پہلا "ن" مفتوح دوسرا مشدد ومکسور "چ" ۔ "م"۔ اور "و" مفتوح ننھی بچہ اور ننھی چھمنوا کے ایک معنی ہیں۔
    نموہی۔۔۔ "ن" اور "ہ" مکسور، "م " مضموم۔ بے منہ کی۔ یعنی کم گو، غمخوار۔ بے زبان وغیرہ
    (و)
    ور۔۔۔ بروزن سر، یعنی غالب
    ورغلانا ۔۔۔ بہکانا، "و" مفتوح
    (ہ)
    ہپا۔۔۔ اول مفتوح دوم مشدد۔ طعام اطفال
    ہپو۔۔۔ اول مفتوح دوم مضموم مشدد ۔ افیون
    ہمکنا۔۔۔ اول مضموم دوم مفتوح ۔ قصد کرنا
    ہواؤ یا ہیاؤ۔۔۔ حوصلہ حجاب وغیرہ
    ہوں سے چوں نہ کرنا۔۔۔ ذرا سی بات بھی نہ کر سکنا
    ہڑکنا۔۔۔ رنج کھا کر کڑھنا
    ہکا بکا۔۔۔ حیران پریشان
    ہبک دھبک۔۔۔ چالاکی اور مستعدی سے کام کرنا
    ہڑواڑ۔۔۔ "ہ" اور "و" مفتوح۔ قبرستان خاندانی
    ہڑدنگا۔۔۔ "ہ" مضموم "د" مفتوح کھیل کود
    ہک دھک۔۔۔ متعجب و متردد
    اطلاع
    بخیالِ اختصار صرف غیر مانوس و غیر مشہور لغت لکھے گئے۔ انھیں کے معنی سے ہر ایک لغت حل ہو سکتی ہے۔ مثلاً (سگے سوجھڑے) (کام دھندا) جو سگے کے معنی ہیہں وہی سوجھڑے کے۔ اور جو کام کے معنی ہیں وہی دھندے کے۔ اسی طرح سگھڑاپا یا میل کچیل یا الٹ پلٹ یا رتی ریزے یا پیار دلار یا چپلی چاپڑ الفاظ زائیدہ وہ ہیں جو ایک لفظ کے بعد آتے ہیں اور ان کے کچھ معانی نہیں لئے جاتے۔ جیسے گر کے بعد (ور) یا آسودہ کے بعد (واسودہ) یا حقہ کے بعد (وقہ) اگر کوئی لفظ دو طرح سے بولا جاتا ہے تو حتے الامکان اس کتاب میں دو شخصوں کی بات چیت میں اس کا اختلاف دکھایا گیا ہے۔ ( جیسے ڈھائی اور دھائی، دھابلی اور ڈھابلی) یہ لفظ سمجھ دار عورتوں میں دونوں طرح پر بولے جاتے ہیں۔ بخلاف کدھی کدھا۔ اور کبھی کبھار یا شمسی اور شمشی کے کہ انھیں جاہل نا سمجھ عورتیں کدھی کدھا اور شمشی بولتی ہیں۔ یہ دونوں نفطین داخل اردوئے معلیٰ نہیں سمجھی جائیں گی کیونکہ کدھی اور شمشی نیچ قوم کی زبان ہیں
    (مصنفہ)
     
  4. گُلِ یاسمیں

    گُلِ یاسمیں لائبریرین

    مراسلے:
    3,674
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Question
    ریختہ صفحہ 12
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    خدائے پاک کی حمدرسول مقبو ل کی نعت آلؔ اطہار کی منقبت اصحاؔب اکبار کی تعریف یہ چاروں ایسے مشکل کام ہیں کہ بڑے بڑے عالم فاضل حیران و سرگرداں رہے ۔ ان میں سے ایک کو بھی شمہ بھر نہ ادا کر سکے۔ نادان کے نادان رہے۔ میں تو عورت ما فی ناقص العقل ہونے کے علاوہ بالکل ان پڑھ اگر شُد بُد جانتی یا نام چار کو پڑھی ہوں تو اس سے کیا ہوتا ہے۔ چھوٹے منہ سے بڑی بات کیونکر کہوں کیا جان جو چُپ نہ رہوں۔ میں کیا میری حقیقت کیا۔ میری فکر کیا میری طبیعت کیا۔ لیکن زینت کلام اور درستی انجام کے لئے اہلِ اسلام کے یہی دو چار سہارے ہیں یہی نجات و بخشش کے اشارے محنت رائیگاں نہیں ہوتی۔ امید بر آتی ہے۔ کام ابتر نہیں رہتا۔ بات تمام ہو جاتی ہے۔ عبد کو معبود کی بندگی خادم کو مخدوم کی یاد خرد کو بزرگ

    ریختہ صفحہ 13
    کی اطاعت شاگرد کو استاد کی تقلید فرض و واجب ہے۔ اس لئے یہ بندی حق کی طالب عنوان پر اللہ پاک کا نام ہے اپنے مطلب سے کام ہے۔ اُسی کی دی ہوئی زندگی نے وفا کی اُسی نے صحت و طاقت عطا کی، اسی کے صدقے سے میرا ارادہ پورا اور قصد تمام ہوا بخیر انجام ہوا۔ اسی کی دی ہوئی عقل نے رہبری کی، اسی کی توفیق نے جلوہ گری کی، آنکھوں نے نیک راہ پر لگایا۔انھیں کے ذریعے سے علم آیا پھر علم کو عمل ملا۔ اور درخت کو پھل لکھنے میں ہاتھوں نے کوتاہی نہ کی۔ میرے کہنے کے بموجب ساتھ دیا۔اسی کی دی ہوئی بینائی اور دانائی سے کام لیا، بات کہنے کے لئے زبان گویا کی۔ اور سمجھنے کو فکر رسا دماغ کو خزانہء خیال بنایا اور دل کو ٹکسال تصور خیال سے کام لینے کو فرمایا۔ ایک کو روّنہ ایک کو ہرکارہ بنایا۔ذہن کو مخبری کی خدمت سپرد فرمائی اور شوق کو رہبری کی طبیعت میں رنگ بھرنے کا مادہ دیا۔ بہزاد دمانی سے افضل کیا جو خیال نے چربہ اتارا اس نے رنگ بھر کر سنوارا۔ گویائی میں ہر طرح کی قدرت دی اور کلام میں تاثیر کی لذت جو دل سے زبان پر آیا زمین سے آسمان پر آیا بات نے معراج پائی دہان سے دل میں جا بیٹھی۔دوسری بزرگی ہاتھ آئی۔ کہنے والے کو مرتبہ ء پیغامبر ملا اور اس کو خدا کا گھر۔ اپنی باتیں وہ آپ ہی جانتا ہے ، دوسرا کب پہچانتا ہے۔ ذرا سا ہونٹ ہلانے میں کس کس کی مدد درکار ہے۔ کون کون زور لگاتا ہے۔ جب انسان ایک بات کہہ جاتا ہے۔بے جان پہچان اتنوں کا احسان ہوتا ہے جب کہیں سماں بندھنے کا سامان ہوتا ہے۔ سچ ہے بے ھکم پتا نہیں ہلا بے اس کی مرضی کے کوئی پھول نہیں کھلا۔ وہی درخت کو پھل دیتا ہے، وہی پھول کو بو۔ وہی دہن میں زبان بنائے وہی

    ریختہ صفحہ 14
    تقریر میں جادو، کہیں سرو بے ثمر ہے کہیں صنوبر بے پر۔چنار میں آگ بھر دی دہک رہا ہے۔ سبزے کو نہال کر دیا، لہک رہا ہے۔ شبنم کو بے ثباتی کی خبر دے کر نرم دل کیا ، رو رہی ہے۔ دنیا سے قیامت کا حال کہہ دیا جھپا جھپ تمام ہو رہی ہے۔ روح اسی کے حکم سے آتی ہے اور ہر ذی روح کی اسی کی طلب پر جان جاتی ہے۔ شہروں میں اسی کی صنعت نے دھوپ چھاؤں کا بچھونا بنایا ہے اور جنگلوں میں اسی نے اپنی قدرت سے مشجّر کا فرش کرایا ہے۔ کہیں دوب سبز مخمل پر طعنہ زن ہے کہیں سرسبزیں رشک چمن پھولوں کے پیڑ بے پھل کے ہیں۔ مگر اس کے دین سے پھولوں نہیں سماتے۔ اہلِ دنیا انھی پھولوں سے دنیا بھر کے مزے پاتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔ میں پھول نہیں فقط ثمر ہیں، گنبد بے در ہیں جو بھنگون کے گھر ہیں۔ بے راہ پائے یہ کدھر سے آتے ہیں۔ کیونکر سما جاتے ہیں۔ پھر ایک نہیں ہزاروں دس بیس نہیں الغاروں۔ آسمان بیچو بہ سرکار ابد اقرار ہے اور زمین اسی کی خزانہ دار ابر آبدار خانے کا مہتمم ہے اور رعد نوبت خانے کا منتظم آفتاب باورچی ہےاناج پکاتا ہے، ماہتاب مشعلچی ہے روشنی دکھاتا ہے۔ پانی سے ہر ایک کو زندگی بخشی اور ہوا کو ہر جگہ جانے کی طاقت دی اسی کے خوان کرم سے دوست دشمن وظیفہ پاتا ہے اور اسی کے باورچی خانے کا سارا عالم نمک خوار کہلاتا ہے۔ وہی پتھر میں کیڑے کو رزق پہنچائے وہی پانی میں مچھلی کے بچے کو تیرنا سکھائے، کہیں صنعت دکھائی ہے کہیں قدرت کہیں زور دکھایا ہے کہیں طاقت ۔ جانوروں میں نطق نہیں عطا فرمایا مگر انھیں میں سے ایک کو ہزار داستان کر دکھایا طوطی ہو یا بلبل توتا ہو یا مینا پڑھانے سے گویا ہو جاتے ہیں۔ آدمی کی طرح باتیں بناتے ہیں۔

    ریختہ صفحہ 15
    داماؔ اور شاماؔ پپیہاؔ اور بن چڑاؔ مالچیؔ اور اگنؔ نہ اٌپنے گھروں سے سیکھے سکھائے آتے ہیں۔ نہ ماں باپ سے تعلیم پاتے۔ لیکن چار دن کے بتانے میں کہیں سے کہیں ہو رہتے ہیں جو کہو وہ کہتے ہیں۔ انسان کی صحبت سے بے زبانوں کا صاحب زبان بنانا اپنی توانائی اور اخلاقی کا جلوہ دکھانا ہے۔ آدمی کا تو درست کر دینا اس کے نزدیک کوئی بات نہیں۔ کچھ عاجز اس کی ذات نہیں۔ وہ سب کی بہتری چاہتا ہے۔ اور سیدھے رشتے سے دنیا پر لاتا ہے جس میں اینچ پینچ ہے نہ پھیر بھار نہ گھوم گھام ہے نہ چڑھاؤ اتار، خشکی میں اپنی ناؤ ڈبانے کا ہم کو اختیار ہے کیونکہ ہر شخص اپنے فعل کا مختار ہے۔گو ہمیں عباددت ہی کے لئے پیدا کیا مگر ذات اس کی بے نیاز ہے/ ہمیں نہ سمجھیں تو بیحیائی کی عمر دراز وہ قوی بھی ہے قادر بھی۔ عادل بھی ہے قاہر بھی۔ جس طرف نظر کیجئیے اس کی قدرت کے ہزاروں کرشمے ہیں جس طرف آنکھ اٹھائیے اس کی طاقت کے لاکھوں جلوے ہیں۔ بچوں کی مامتا ماں ے پیٹ میں ڈالی۔ گوشت کے لوتھڑے پلوانے کی یہ حکمت نکالی وہی کیڑے چار دن میں انسانوں کی قطار میں آئے اور آدمیوں کے شمار میں۔ اگر چشم بینا ہو اور عقل رسا دنیا کے بکھیڑوں سے الگ ہو کر آدمی ذرا غور کی نگاہ اور فکر کی نظر سے دیکھے تو ماں کے پیٹ سے (جو نئی دنیا میں اس کے لئے عبرت دلانے کو پہلی قید ہے)بے فکری کے زمانے اور وہان سے جوانی کے عالم پھر قبر سامنے آنے کے وقت تک خود اسی پر کیا کیا نہیں گذر جاتا اور کیا کیا نہیں نظر آتا۔ عالم اپنے حادثوں سے حادث ہونے کی خبر دیتا ہے اور زمانہ نت نئے
     
  5. گُلِ یاسمیں

    گُلِ یاسمیں لائبریرین

    مراسلے:
    3,674
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Question
    ریختہ صفحہ 16
    انقلاب سے روز خبر لیتا ہے۔ ہر روز ایک نیا دن سامنے آتا ہے اور طرح طرح کے گرم و سرد دکھا جاتا ہے۔ کبھی کالی ڈراؤنی کبھی تاروں بھری سہانی رات ہے کبھی مہتاب کی چاندنی بچھی ہے کبھی برسات کی ظلمات ہے کبھی غسل میت کبھی برات کے لئے نہانا دھونا ہے کبھی شادی کا ہنسنا کبھی ماتم میں رونا ہے کہیں بچہ پیدا ہوا ہے چھٹی چلا ہے کہیں پیٹ گرا ہے توبہ تلّا ہے وہی ایسا حاکم و قادر ہے کہ اگر چاہے تو نو مہینے کی معیاد کاٹنے کے اندر ہی طلب فرمائے اور چاہے تو نو سو برس بعد بلائے۔ نہ وہاں چوں و چرا کا محل نہ یہاں دم مارنے کی مجال۔ ہزاروں بے ماں باپ کے بچے جنگل بیابان میں پال پوس کر اس کی قدرت کاملہ نے یوں پروان چڑھا دئیے جن کے ذکر پر اپنے ماں باپ کے چہیتے اور اکلوتے بچے دل کھول کھول کر ہنس لئے کوئی بھیڑئیے کے بھٹ سے نکلا کوئی فرعون کے گھر سے کائی بحر سے صحیح سلامت آیا کوئی بر سے۔ کہیں شیرنی نے دودھ پلایا شیر نے گود میں کھلایا صاحب تاب و توان ہوئے جنگل میں شیر جوان ہوئے بیوی انّا بنی میاں دادا ہوا کہیں ریچھ نے پالا نہ چھیڑا نہ چھوا، ہتھنیاں کھلائی بن کر درختوں میں جھولا جھلاتی پھریں۔ خدا کا دیا سر پر دکھاتی پھریں۔ حق یہ ہے کہ اس کی قدرت کا اُور چھور نہیں۔ اگر وہ چاہے تو کوئی جانور موذی نہیں کوئی لگور نہیں۔ چیتے کو چیتے یار کر دے اور سانپ کو یارِ غار ۔ زہر کو امرت کر دے اور دشمن کو محبت۔ وہی مارے وہی جلائے وہی بھیجے وہی بلائے نہ اپنے اکتیار سے آتے ہیں نہ اپنی خوشی سے جاتے ہیں اس کی قدرت مجبور کر کے لاتی ہے اور اس کی رحمت آ کر لے جاتی ہے۔

    ریختہ صفحہ 17
    سر سے پاؤں تک زمین سے آسمان تک ماں کی گود سے آغوش قبر تک جوجو ہم نے پایا اسی کے تفصل اور تصدق سے ہاتھ آیا یہی فضل و کرم اس کا کیا کم ہے کہ عدل مجسم سر تا پا رحمت آدم کے فخر عالم کی زینت احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو اس کے پیارے تھے حبیب تھے محبوب تھے قریب تھے انھیں کو ہمارا نبی بھی بنایا اپنی محبت میں ہمیں بھی شریک فرمایا جو اس کا پیارا ہے وہی ہمارا پیارا ہے جو اس کا پیغمبر ہے وہی نبی فرمایا ہے۔ اگر کسی اور نبی کی امت ہوتے تو نہ خیر الامم ہونے کا شرف پاتے نہ اس کی شفاعت کے ذریعہ سے جنت میں جاتے۔ اس کے ایک ایک لطف و عنایت پر لاکھوں جانیں قربان اور اس کی ہر ایک عطا و نعمت پر کروڑوں زبانیں صدقے۔ میرا تو منہ نہیں جو اس کی ایک عطا و نعمت کا بھی شکر ادا کر سکوں جیسا مجھے نوازا عزت افزائی فرمائی سرفراز کیا آبرو بڑھائی اگر رویاں رویاں زبان ہو اور ہر رویاں ہزاروں تسبیحیں روز پڑھے تو بھی اس کا شکر ادا نہ ہو۔ بالکل نہ ہو۔ ذرا نہ ہو۔ اے میری ہم وطن بیویو ( عریضہ ء طاہرہ) نیک زنون کا دلچسپ قصہ جو تمہارے سامنے ہدیے کے طور پر میں نے پیش کیا ہے اس سے یہ میرا مطلب نہیں کہ میں ایسی اور ویسی تالیف کے قابہ اور تعریف کے لوئق ہوں۔ یا تمہاری اور اپنی فضیلت منظور ہے یا پیر مغاں بن کر سمجھانے کو بیٹھی ہوں۔ بلکہ میری خاص غرض یہ ہے کہ میرے خاوند و مالک نے جیسا مجھے سرفرازا اور کنیز نوازی فرمائی وہ ت، پر بھی ظاہر ہو تا کہ یہ بھی اک قسم کا شکر میرے نامہ ء اعمال میں لکھا جائے اور خداوند عالم اس کے بدلے میں میرا

    ریختہ صفحہ 18
    مرتبہ اور بڑھائے۔ یہ میری ساری عمر کی آپ بیتی ہے جو انکسار و محبت کے ساتھ ہاتھ پھیلائے سر جھکائے تمہیں نذر دے رہی ہوں مانو تو دیوتا نہیں پتھر چاہو اس کا چربہ دل پر اتار دو چاہو میرے منہ پر پھینک مارو۔ اگر کچھ سمجھ کر عمل کیا تو مجھ کو مول لے لیا۔ تمہارے دل شاد کرنے کو میں نے یہ غم پالا ہے۔ تمہیں بلاؤں سے نکالنے کو اپنے تئیں مصیبت میں ڈالا ہے۔ تمہاری گلو خلاصی کے لئے اپنا گلا پھنساتی ہوں۔ تمہیں ٹھنڈا رکھنے کے لئے اپنا دل جلاتی ہوں۔ جب کا لیپا دوبھا اب کا لیپا دیکھو آگومیں ٹوٹی پھوتی پڑھی لکھی تھی لیکن نہ تصنیف کے قابل اور نہ تالیف کے لائق۔ سچ کہوں یہ بوجھ مجھ سے نہ اٹھ سکتا۔ خدا بھلا کرے میرے استاد مرزا محمد عباس حسین صاحب ہوش کا جنھوں نے تمہارے درد سے میرے دل کو دکھایا اور یہ نسخہ لکھوایا۔ انھیں کے تصدق سے مجھے غیرت آئی۔ انھیں کی بدولت تم نے یہ دولت پائی۔ انصاف اور قدر سے دیکھو اور پرکھو گی تو ان دو رسالون کو دو خزانے پاؤ گی جن کے گرے پڑے جواہر ( بھولی بسری باتیں بھی) دل میں رہ جانے سے مالا مال ہو جاؤ گی۔ تمہاری محبت کی دھن میں لشتم پشتم میں نے یہ دونوں حصہ تو لکھ ڈالے لیکن دیباچے پر پہنچ کر اٹک گئی۔ منزل کے قریب تھک گئی۔ جو لکھا تھا، ترتیب دیا۔ جوڑ گانٹھ کر مرتب کیا۔ چوٹی کا مضمون جوڑی کی مول چیز ( دیباچے ) کو جو دیکھتی ہوں بالکل کچھ نہیں۔ الٹ پلٹ کر کئی دفعہ لکھامگر پسند نہ آیا۔ اونچا نہ کر سکی ہزار زور لگایا۔آخر کو چپ نہ رہی۔ استاد سے یہ دل کی بات کہی کہ لیجئیے کتاب تو بن گئی مگر سر نہیں سراسر عیب ہے ہنر نہیں۔ نک سک سے درست کر دیجئیے۔ تصویر میں رنگ بھر دیجئیے۔ انھوں نے طلب فرما کر قلم اٹھا کر کچھ کاٹا کچھ بنایا۔

    ریختہ صفحہ 19
    کچھ گھٹایا کچھ بڑھایا۔ مبتدا کو خبر کیا ادھر سے ادھر کیا۔ آخور کی بھرتی نکالی فقروں میں جان ڈالی۔ طول کو کم کیا فضول کو قلم کیا۔ کانٹے پھینک دئیے پھول چن لئے۔ جو کاٹا وہ چور کے ہاتھوں کی طرح کٹنے ہی کے قابل تھا۔ جو بنایا وہ نور و ضیا میں تصویر ماہ کامل۔ رنگ بھر کر زور دکھایا طبیعت سے باغ لگایا اب خطا کی جگہ صواب ہے اور چراغ کے مقام پر آفتاب۔ وہ زنانی بات چیت تھی یہ مردانی بول چال ہے۔ وہ جادو تھا یہ سحرِ حلال ہے۔ پہلے الجھی ہوئی عبارت تھی اب سلجھی ہوئی مسلسل فصاحت۔ میں نے بگاڑا انھوں نے بنایا۔ ساری گتھی کو سلجھایا ۔ نہ وہ اس طرح دیباچے میں محنت فرماتے میرا بگڑا کام بناتے نہ میری محنت ٹھکانے لگتی۔ دل کی کلی کھلتی نہ وہ اپنا عزیز وقت میرے کہنے سے دیتے نہ چار غیروں میں مجھے عزت ملتی۔ نہ تم سے ہاتھ ملانے کی نوبت آتی نہ دینے کے قابل یہ چیز ہوتی نہ دی جاتی ۔ سارے منصوبے زیرے کی طرح غنچہ ء دل میں رہ جاتے۔ کسی کام نہ آتے۔ ایک دن ایسا آتا کہ میرے ساتھ ان کا بھی خاتمہ ہو جاتا۔ مجھے اپنے اور جملہ جہان کے خدا سے امید ہے کہ وہ اپنے فضل و کرم سے اس کو مقبولیت اور تاثیر کے دہرے دہرے خلعت عطا فرمائے گااور حق ڈھونڈنے والوں کو نفع پہنچائے گا۔اگر کوئی بات اچھی معلوم ہو ، دعائے خیر سے یاد کر لینا۔ کتاب بہت بڑی ہے۔ بھولی چوکی ہوں تو معاف کر دینا میں نے تم صاحبوں کے دل لگنے اور جی نہ گھبرانے کے خیال سے اس کتاب کے دو حصے کر دئیے۔ پہلے کا نام تم سن چکی ہو دوسرے کا لقب صحیفہ ء نادرہ ہے۔ پہلے حصہ میں میری ابتدائے عمر اور کنوار پنے کی باتیں ہیں جو اول سے آخر

    ڑیختہ صفحہ 20
    تک طرح طرح کی خوبیوں اور نیکیوں سے بھری ہوئی ہیں۔ کسی حصے میں نہ میں نے تمہیں مخاطب بنایا ہے اور نہ خطاب کر کے سمجھایا ہے کہ بہن خبردار تم وہ کام نہ کرنا اور میری بہن میں قربان یہ بات ضرور کرنا۔ ہاں راہیں نیکی بدی عذاب ثواب خیر شر اونچ نیچ کی بخوبی دکھلا دی ہیں نہ تو میرا منہ نصیحت کرنے کے قابل تھا اور نہ کوئی نصیحت کے نام سے سنتا جسے کتاب کا نام دیکھ کر پیار آتا وہ نصیحت سے بگڑ جاتا سیدھے دل کی ایک آدھ خدا کی نیک بندی ایسی بھی ہوتیں جو نصیحت کے مزے کو کڑوا کسیلا نہ بتاتیں۔ ساری کتاب پڑھ جاےیں۔ میرا مقصود اصلی جو تھا کہ سب پڑھیں یا دیکھیں سُنیں۔ وہ فوت ہو جاتا اس لئے میں نے اپنے باغ میں کڑوے پھل کا درخت نہیں لگایا مزیدار شے کو قے کے قابل نہیں بنایا۔ دوسرے جس عمر کا حال لہے وہ خود اس قابل نہ تھی جو کوئی نصیحت کا نام لے اور کمزوری کے زمانے میں اپنے سر اتنا بھاری کام لے دوسرے حصے میں بیاہ جانے اور تجربہ حاصل کر چکنے کے بعد البتہ میں نصیحت کر سکتی تھی لیکن وہاں بھی مصلحتاً میں نے وہ رویہ اختیار نہیں کیا فقط نام بدل دیا۔ پہلا عریضہ ہے جس سے انتہا کا چھٹاپا پایا جاتا ہے اور دوسرا صحیفہ ہے جو اپنا بڑاپا دکھاتا ہے۔ اس حصے میں پھول کھلنے کے روز سے پھل پانے کے دن اور پھر اولاد کے پرون چڑھانے تک کا رتی ریزہ حال لکھا ہے۔ اس کی بھی ویسی ہی حالت تھی اور قصہ کے پردے میں نصیحت سسرال جانے کا زمانہ اس میں مشکلو کا پیش آنا طرح طرح کے غموں کا سامنا ایک ایک کا روکنا تھامنا کسی کی برائی نہ لینا دل پر آنچ نہ آنے دینا جی نہ جلانا غصہ نہ دکھانا عقل سے کام نکالنا مصیبت کے پہاڑ ٹالنا ایک خوبی
     
  6. گُلِ یاسمیں

    گُلِ یاسمیں لائبریرین

    مراسلے:
    3,674
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Question
    ریختہ صفحہ 21
    کے ساتھ لکھا ہے جو سچ ہونے کے علاوہ مختصر و بامزا ہے خدا میری اس تالیف کو تصنیف کا مرتبہ دے اور تم سب کا دستور العمل کرے۔ اے میری منہ بولی بہنو! لو یہ نیا جوڑا پہنو۔ تمہارے کپڑے پرانے اور میلے ہی نہیں ہو گئے بلکہ داغ پڑنے سے کچھ نجس بھی معلوم ہوتے ہیں۔ انھیں گھس پس کے اترنے دو۔ اور یہ پاک صاف اجلی پوشاک بدلو۔ اب مین تمہیں خدا کو سونپتی ہوں اور یہ دعا دیتی ہوں کہ انجام بخیر ہو نہ کسی سے دشمنی ہو نہ بیر۔ زندگی امی جمی سے گذارو دولت پر لات نہ مارو۔ بے کھٹکے بسر کرو۔ راھت سے سفر کرو پھولو پھلو عیش اٹھاؤ عقبٰی میں جنت پاؤ۔ سر پر سخت گھڑی نہ آئے افتاد منہ نہ دکھائے۔ وہم سے میل جول نہ ہو زبان پر بڑا بول نہ ہو۔ شان میں جفتے نہ پڑیں زبان سے پھول نہ جھڑیں آبرو کے ساتھ بات رہے پالا تمہارے ہاتھ رہے۔ شوہروں کی اطاعت سے کام ہو مرتے دم زبان پر خدا کا نام ہو ایمان کی دولت ساتھ لے جاؤ اپنی جگہ نیکی کو دے جاؤ اللہ بس باقی ہوس لو رخصت کی آخری بندگی لو اور سرے سے میری کہانی سنو۔
    رباعی
    لو کہتی ہے طاہرہ کہانی اپنی
    دکھلاتی ہے آشفتہ بیانی اپنی
    وہ ہو کہ نہ ہو تم سے ملے یا نہ ملے
    چھوڑے جاتی ہے یہ نشانی اپنی
    پیاری بیبیو ! میں تمہاری نئی لونڈی ایک غریب خاندان کی لڑکی پوں میرا نام میری سگی ماں نے نادر جان اور عرف طاہرہ مقرر کیا تھا۔ عزت دینے والے بزرگوں نے جس کے ساتھ بیگم ملا کر طاہرہ بیگم اور نادر جہان بیگم کر دیا۔ خدا بخے میرے والد نے اولاد کی تمنا میں مدتوں انتظار کرنے کے بعد دوسرا عقد ایک سید بزرگ کی صاحبزادی سے کیا ، ان کی پہلی بیوی ہماری دوسری ماں بڑے مالدار گھرانے

    ڑیختہ صفحہ 22
    کی تھیں۔ خوب دان جہیز لائیں سارا گھر بھر دیا میری ماں امام ضامن کا پیسہ لینے والے کی بیٹی محتاج گھر کی لڑکی تھیں۔ تھوڑے دن تو اس دوسری شادی کی خبر ہماری پہلی اماں جان کو بالکل خبر نہ ہوئہ اور اباجان نے راز چھپانے میں ان کی خاطر اور خیال سے کوشش بھی بڑی کی لیکن سال نہ پلٹنے پایا تھا کہ گل کھلا اور راز کھلا جس کا خاص سبب میں بختاور قدم تھی پھر تو رنجش اور بے لطفی بڑھی آخر کو لڑائی پڑی۔ سوت بریہ چون کی مشہور ہے۔ بڑی اماں سے سوتاپے کا دکھ نہ اٹھ سکا بگڑ کر میکے چلی گئیں لیکن میاں کے منہ پر کچھ نہ کہا۔ اسباب لے جانے میں راز کھلنے اور بات بڑھنے کا اندیشہ تھا۔ اس سے وہ سارا اٹالا اپنے ساتھ نہ لے گئیں۔ گھر جا کر روٹھ کر بیٹھ رہیں نہ اباجان کے بلوانے سے آئیں نہ جانے سے۔ آخر کو وہ بھی رک رہے۔ بگاڑ پڑا۔ دونوں طرف دلوں میں غبار آیا مجھ ناشاد کو دو برس دنیا میں آئے گذرے تھے کہ تھوتھو وبا کی شدت ہوئی۔ اور وہ ہمارے گھر میں بھی گھسی۔ سب میں سے اماں جان کو چن لیا۔ دو دست اور ایک قے میں چھٹ گئیں۔ تین پہر میں آنکھ بند ہو گئی۔ دل کی دل میں رہی۔ نہ کسی کی سنی نہ اپنی کہی۔ پورے دو عشرے دنیا میں نہ گذرے تھے کہ لہلہاتے باغ جنت میں پہنچیں۔دودھ چھٹنے کے ساتھ ہی چھٹا اور ان کا سایہ ہمارے سر سے اٹھا۔ انھیں جوان مرگی ملی ہم کو بے برگی۔ پھپھکتا ہوا پودا بڑھتا ہوا پیڑ قلم ہوا گلچیں پر ستم ہوا۔ ہم انھیں کے سائے سے نہال تھے۔ ان کے جدا ہوتے ہی بے حال، چھوٹی اماں جان کی دوری بڑی اماں جان کی جدائی کا ایسا دہرا صدمہ نہ تھا کہ دو برس کی جان پر دشوار نہ گزرے یا اس کی نازک حالت پر سختی نہ پہنچے۔ نہ کوئی خبر گیران تھا

    ریختہ صفحہ 23
    نہ حال پُرسان نہ الٹ پلٹ تھی نہ دیکھ بھال نہ پاس تھا نہ خیال۔ لاڈ پیار کو کون کہے اور رکھ رکھاؤ کیا شے۔ باپ کی محبت چھوٹے بچے سے اس کے منہ نہ لگنے اور عدم تعلق سے ایک تو یوں ہی کم ہوتی ہے قابل اولاد بیوی کا مر جانا تو اس پر بھی طُرّہ ہے۔ اولاد کو دیکھ کر اس کی ماں یاد آتی ہے ۔ خانہ بردی قطع امید دل دکھاتی ہے۔ہم تو ہم ایسے ہی خیال و ملال نے اباجان کو بھی قدرے افسردہ اور پژمردہ کر دیا کہ دل قابو سے نکل گیا مزاج چل گیا۔ دو دو تین تین پہر یار دوستوں میں باہر رہنے لگے ان کے ساتھ ہماری جدائی کا غم بھی سہنے لگے۔ نہ ہمارے پیٹ بھرنے کا کیال تھا نہ فاقے کرنے کا ملال۔ ہم نادان دوستوں کے ہاتھ پڑ کر گیند دھڑکا ہو گئے۔ اعجوبہ اور خیراتن نے ہم کو جس بے ڈھنگے پن سے پالا وہ عبرت خیز کہانی ہے۔ کھرے کھٹولے پر پڑے اپنے ہاتھ پاؤں کے چُسنی جھنجھنے سے کھیلا کرتے تھے اور دنیا کی ابتدائی مصیبت جھیلا کرتے تھے۔ پھشی اور چھی چھی کی شدت تھی اور میل کچیل کی کثرت۔ ہزاروں مکھیاں دھوپ میں آ کر بدن پر سایہ کر دیتی تھیں کبھی سوتے وقت منہ ٖٓڈھانک لیتی تھیں۔ چارپائی کے باند ننگے بدن پر بدھیاں ڈالتے تھے نازک کھال پر اپنا نقش جما کر حوصلہ نکالتے تھے۔ ڈھیلی ادوائن کبھی جھولا جھلاتی تھی کبھی پاؤں کی زنجیر بن جاتی تھی۔ چین کے بدلے بیچینی تھی اور سیروا پتی تکئیے تکینی۔ کبھی چیخ کر مچھر مزاج پوچھتے تھے کبھی چپکے چپکے کھٹمل خبر لیتے تھے۔ نہالچے پر نہال ہونے کے بدلے کمہلاتے تھے اور پنپنے کے عوض سوکھے جاتے تھے۔ پھر یہی نہ تھا بلکہ ہر روز دو چار مرتبہ اس اونچے پاؤں کے کھٹولے سے زمین پر

    ریختہ صفحہ 24
    گر پڑتے تھے۔ افتاد پر افتاد تھی اور چوٹ پر چوٹ دنیا جہان کے بچے پھول پان ہوتے ہیں۔ اُلٹ پلٹ کی جاتی ہے۔ یہاں گر پڑ کے ہم آپ اپنی الٹ پلٹ کر لیتے تھے۔ کبھی اوس ہم کو نہلاتی تھی اور کبھی دھوپ چوٹ کے مقام سینکتی تھی۔ سال بھر اس کسمپرسی اور بے عنوانی سے ہماری زندگی بسر ہوئی۔ آٹھ آٹھ روز منہ پر پانی نہ پڑا۔ طہارت کیسی ہپے کے بدلے ہپو کی کسرت تھی اور آسودگی کے بدلے غفلت ۔ جب دونوں میں کوئی ادھر آ نکلا ایک آدھ دھموکا اور اپنی طرف سے دے کر چلا گیا۔ دلداری کے بدلے آزاری تھی اور پیار کے عوض مار چھوٹے بچے کھلونوں سے کھیلتے ہیں۔ ہم اپنے گھر میں بوڑھوں کے کھلونے تھے۔ لونڈی اور ماما دونوں ہمارے ناسمجھ رکھوالے تھے۔ جن کے پیار اخلاص سے اچھی خاصی مار دھاڑ کی لذت و کیفیت نکلتی تھی۔ گھرداری سے دونوں میں جس کو فرصت ہوئی اور اتفاق سے ہم اس کے ہاتھ لگ گئے پھر کیا تھا دمڑی کے پٹے باز اور دھیلے کے لنگور کی طرح نچائے گئے خوب خوب اچھالے کُدائے گئے۔ کبھی ان کے سر سے دو ہاتھ اونچے ہو جاتے تھے اور کبھی ان کے پیروں پر اپنا سر پاتے تھے۔ کبھی دھوئی دال کی طرح شمشو ہوتا تھا اور کبھی جامنوں کی طرح بگھارے جاتے تھے دل بھر کر ہاتھ پاؤں توڑے مروڑے۔ ملا وال کھڑے قد سے اٹھا کر پلنگ پر پھینک دیا ۔ اگر پھول تھے تو ان دونوں کی بازی کے لئےتھے۔ جب سوکھ جانے سے کانٹا ہو گئے تو اور نظروں میں کھٹکنے لگے۔ جن کے لال تھے ان کو ہمارا یہ رنگ دیکھنے کی پرواہ نہ تھی۔ جن کی جان تھے ان کو ہمارے نیم جان ہونے کی اعتنا نہ تھی۔ بے دردوں کو ہمارا درد تھا

    ریختہ صفحہ25
    اور نا فہموں کا ہمارا خیال کبھی بھوک سے جاں بلب ہو جاتے تھےمگر ایک ٹکڑا روٹی کا نہ ملتا تھا جسے چچوڑ کر ننھے سے کلیجے کی آگ بجھاتے کبھی اس قدر ٹھونسا دیا جاتا تھا کہ نتھنوں سے نکل جاتا تھا۔ ہینگ ہگتے تھے دست آتے تھے ڈاک لگتی تھی پیٹ کے درد سے مرے جاتے تھے۔ تھلیان دھرنے تک تو خیریت تھی دانت نکلنے کے زمانے میں تو موت ہی کا سامنا تھا، رُلنے گھلنے کا وقت گیا یہ وہ چم چچڑ روگ تھا کہ جینے ہی کے لالے پڑ گئے۔ اس ہنگام میں ابا جان اسی قلق و اندوہ کی حالت میں گھر سے دل برداشتہ ہو کر حج کو چلے گئے۔ اب تو جو کھڑے تڑے آ کر ان کے دیکھنے اور پوچھنے کا ڈر تھا وہ بھی انھیں کے ساتھ ساتھ سدھارا۔ پھر کیا تھا بی خیراتن اور اعجوبہ نے رہا سہا کام تمام کر ڈالا۔ ادھر تو دانت نکلنے کی تکلیفیں اور ایذائیں ادھر ان دونوں کی بے غوری اور خوشی خوابانہ حرکتیں کہیبدی کر کے کچھ اس طرح ہمارے پیچھے پڑیں کہ ہمارے بھی خدا کے گھر چلنے کے سامان ہو گئے۔ لیکن طلب تو تھی نہیں تیاری کیا کئے۔ چھ مہینے ایڑیاں رگڑیں، گھریاں گھسیں۔ دل کی تقویت اور سہارا باقی نہ رہنے سے اور بھی پتلا حال تھا۔ جب اباجان حج سے پھر کر چھ مہینےبعد گھر آئے اور مجھے دیکھا۔ دیر تک گلے لگا کر روئےدوست احباب ملنے کو آئے۔ ایک ایک نے کہا کہ ہائیں یہ اس لڑکی کا کیا حال ہوگیا پہچان نہیں پڑتی ۔ ہم تو برابر دوسرے تیسرے خیر و عافیت پوچھنے آتے تھے۔ ہم سے ایک دن نہ کہا کہ لڑکی ماندی ہے۔ جب آئے خیر سلا کی آواز آئی۔ آپ کے آدمی سخت نالائق اور انتہا کے بےہودہ ہیں۔ دیکھئیے تو بیچاری کی کیا حالت
     
  7. گُلِ یاسمیں

    گُلِ یاسمیں لائبریرین

    مراسلے:
    3,674
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Question
    ریختہ صفحہ 26
    کروا ڈالی۔ ( چار برس کے بچے کو بات بخوبی یاد رہتی ہے) ان کے اس کہنے سے رحیم بخش نے جو کچھ کہا وہ میں اوپر لکھ چکی ہوں ۔ رحیم بخش دادا جان کے وقت کا چیلا تھا اور کبھی جھوٹ نہ بولتا تھا۔ اباجان کو اور زیادہ رنج ہوا یہ خبر سن کر کہا کہ افسوس دیکھئے کیا شکل پڑی ہے۔ ہم آٹھ پہر گھر میں ٹانگ توڑ کر بیٹھ نہیں سکتے اور وہ دونوں ہماری جان کے ساتھ تھے۔ ان کی حرکتیں ان کی جان کے ساتھ۔ کیا کریں کیا نہ کریں۔ ایک صاحب نے کہا کہ کسی عزیز کے پاس رکھ دیجئیے۔ میر شہامت علی صاحب نے کہا کہ صاحب خدا کے واسطے اب غصے کو تھوک دیجئیے اور اس بن ماں کی بچی پر رحم کر کے ہم کو اجازت دیجئیے کہ آپ کی سسرال جا کر کچھ صلح کی گفتگو کریں۔ خانہ بربادی کا تو رنج آپ کو اس قدر ان بلاؤں کا ایسا ڈر اور باوجود اختیار اس کی آبادی کی فکر نہیں کرتے۔ یہ کیا بات ہے۔ وہ زمانہ گزر گیا، سب فساد مٹ گیا یقیناً اب ان لوگوں کو بھی رنج نہ رہا ہو گا، آپ کو چاہئیے کہ خود جا کر ان کو لے آئیے۔ ایسے میں حج کر کے آپ آئے بھی ہیں ۔ کچھ تبرکات ساتھ لیجئیے اور ابھی ابھی چلئیے۔ یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ نواب سبحان اللہ خاں صاحب قادر جنگ ( ہماری بڑی اماں کے اباجان) کی بیماری کی خبرِ بد آئی۔ پھر کیا پوچھنا تھا۔ میر صاحب مجھے گود میں لے کر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ لے جلدی سے کپڑے تو پہن آئیے ابھی چلیں۔ سب نے ہاں میں ہاں ملانے کی کی اور تبرک ایک قاب میں لگا کر رحیم بخش کو دیا۔اباجان کالی عبا اوڑھ کر ساتھ ہوئے، فی الحقیقت اس سے بہتر وقت میل ملاپ کا اور نہ ملتا۔ الغرض ہم وہاں پہنچے۔ پہلے خبر ہوئی پھر پردہ ، بعد کو سب اندر گئے۔ نواب صاحب باہر رہتے تھےلیکن

    ڑیختہ صفحہ 27
    اس وقت اتفاق سے زنانہ تھا۔ اباجان نواب صاحب کو تسلیم کر کے بیٹھ گئے۔ مزاج پوچھا، دعا پڑھی۔ امام ضامن باندھا، تبرک رحیم بخش نے سامنے لا کر کرسی پر رکھ دیا۔ نواب صاحب نے مجھے دیکھا نہ تھا۔ میر صاحب سے پوچھا یہ کس کا بچہ ہے۔ میر صاحب نے کہا کہ حضور کی نواسی ہے، دیکھنے کو آئی ہے۔ انھوں نے ہاتھ پھیلائے میں جھک کر ان پر گر پڑی۔ اس محبت کا انداز دیکھ کر خدا نے ان کے دل میں نیکی ڈالی سینے پر بٹھا ئے دیر تک پیار کیا کئے۔ ابا جان نے کہا بھی کہ حضور کے دشمنوں کا مزاج ناساز ہے۔ پہلو میں بٹھا کر باتیں کیجئیے۔ سینے سے اتار دیجئیے۔ نواب صاحب نے مسکرا کر فرمایا کہ نواب دہلیا تمہارے سر کی قسم اس کے بٹھا دینے سے میرے دل میں طاقت آ گئی اور ماندگی جاتی رہی۔ کیوں بھئی تم اسے چھوڑ جاؤ گے؟ اباجان نے سر جھکا کر کہا کہ حضور یہ کیا فرماتےہیں شوق سے رہنے دیجئیے۔ میں جانتا ہوں اس کے دن پھرے، قسمت راہ پر آئی جو یہ سبب پیدا ہوا۔ میر شہامت علی صاحب نے وقت پایا، ابا جان کی خانہ بربادی کی تاب نہ لانا حج کو جانا، مکان کا خالی رہنا میرا دکھ پر دکھ سہنا جو جو یاد آیا ، سب کہہ سنایا۔ نانا جان نے اٹھ کر داماد کو گلے سے اور تبرک کو آنکھوں سے لگایاا اور خرمہ نوش فرمایا۔ پھر رنجہدہ ہوئے، کچھ سوچ کر آبدیدہ ہوئے اور زیادہ مجھ پر پیار آیا۔ دوبارہ کلیجے سے لگایا۔ یہ چوتھے سال کے خاتمے کا زمانہ تھا جو خداوند عالم نے میری تکلیفوں کو راحت سے بدلا۔ تھوڑی ایذاؤں کی لذت سے زبان آشنا ہوئی تھی کہ آرام کے سامان ہو گئے۔ نواب صاحب کو فوراً خدا کی قدرت سے فرحت جو ہوئی تو اباجان سے پھر فرمایا کہ بھئی میں اسے یوں نہ لوں گا

    ڑیختہ صفحہ 28
    میری فرزندی میں دے دو۔اباجان نے کہا آپ کی کنیزی میں دینا فخر ہے۔ فرزندی کیسی ہے۔ نواب صاحب نے دانتوں سے زبان دبا کر کہا کہ توبہ توبہ اس کی خدمت سعادت بلکہ سبب نجات ہے۔ یہ کیا کہا بھئی نواب دہلہا۔ یہ سیدانی ہےابا جان چپ ہو رہے۔ نواب صاحب نے کہا کہ میر شہامت علی صاحب خدا جانتا ہے اس کے بدن کی خوشبو سے دل کو طاقت اور دماغ کو قوت پہنچتی ہے۔ میں جو خیال کرتا ہوں تو آدھا مرض اپنے میں باقی نہیں پاتا۔اس وقت اس کا آنا میرے حق میں اکسیر ہو گیا جو جو اس کے پھول سے جسم کی نکہت میرے دماغ میں آتی ہے روح باغ باغ ہوتی جاتی ہے۔ یہ لڑکی بڑی خوش نصیب معلوم ہوتی ہے۔ اس کا پیر بقول عورتوں کے بہت ہی اچھا ہے۔ وہاں مکہ معظمہ کے تبرک نے ان کو صحت دے کر توانائی پہنچائی۔ میری تقدیر راہ پر آنے سے نانا باوا کے دل میں یہ بات آئی ۔ الغرض مجھے لے کر نواب صاحب اٹھ کھڑے ہوئے اور اباجان کو جانے پر آمادہ دیکھ کر رخصت کیا۔ دیوان خانے سے محل سرا میں جا کر میری بڑی اماں کا نام عصمت آرا بیگم لے کر پکارا۔ وہ مریض باپ کی آواز سن کر بے اختیار دوڑتی ہوئی آئیں اور ان کے چلنے پھرنے پر ایک اچنبھا سا ہوا کہ ابھی تو دشمنوں سے اٹھا نہ جاتا تھا۔ ناناباوا نے فرمایا کہ تردد نہ کرو ، خدا میں سب طرح کی قدرت ہے۔ لو اس بچی کو گود میں لو۔ یہی میری صحت کا نسخہ اور یہی میرے مرض کی دوا ہے۔ وہ بھی انجان تھیں۔ میری بھولی صورت سادی وضع، سُتا ہوا چہرہ دُبلے ہاتھ پاؤں دیکھ کر (ای ہی یہ کس کی بچی ہے کہتی ہوئیں) ہاتھ پھیلا کر گود میں لینے کو بڑھیں۔ میں ہمک کر ان کی گودی میں جانے کو جھکی۔ اس

    ریختہ صفحہ 29
    للک پر بے اختیار ہو کر انھوں نے دل کھول کر مجھے پیار کیا۔ یہ پہلی ملاقات اماں بیوی سے مجھے بخوبی یاد ہے باور پھر نواب صاحب کا یہ فرمانا کہ عصمت آرا یہ تو ہو بہو تمہاری لڑکی معلوم ہوتی ہے۔ آج تک دل پر لکھا ہو ا ہے۔ الغرض بیگم صاحب مجھے لے کر اپنی اماں کے پاس گئیں رئیسوں میں بیگم کا خطاب بے سید ہوئے رواج پا گیا تھا جس کی دیکھا دیکھی اب سینکڑوں محتاج گھروں میں شیخانیاں اور مغلانیاں بھی بیگمیں بن بیٹھیں۔ پہلے عموماً بیگم سید زادی ہی کو کہتے تھے۔ یہاں معنوں سے خانم اور بیگم کے کچھ بحث نہیں ہے۔ اس تقریر سے میرا یہ مطلب ہے کہ ہماری بڑی اماں سیدانی نہ تھیں۔ خلاصہ یہ کہ اماں جان نے یہ کہہ کر ہمیں نانی جان کی گود میں دے دیا کہ دیکھئیے یہ بہشت کا پھول دنیا کی ناساز ہوا سے کیسا کملایا ہوا ہے (نانی جان) عصمت یہ کس کی بچی ہے۔ کیا کچھ ماندی تھی۔ (وہ) جی ہاں کچھ تو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔ (نانی جان) ای ہی جبھی اور تج گئی یا اس کی انگلیٹ ہی کچھ ضعیف ہے چھوئی موئی ہو رہی ہے۔ دیکھو ہاتھ کے سائے سے مرجھائی جاتی ہے۔ ابھی تک ان کو یہ معلوم ہی نہیں کہ میں ان کی اکلوتی بچی کی سوت کی بیٹی ہوں ورنہ وہ اور ایسے محبت کے کلمے کہتیں۔ خیر ہم گودیوں میں رہنے لگے۔ رئیس کا گھر اولاد کی تمنا سارا گھر بچے کا بھوکا صبح سے رات کے بارہ بج گئے اور ہمیں گودیوں کی یوں معراج سے اپنے بستر پر آنے کی نوبت نہیں آئی۔ پانچ چھ روز اسی طرح سے گزرے۔ ایک دن نواب صاحب گھر میں آئے اور مجھے گود میں لے کر پیار کیا پھر بیوی بیٹی سے خطاب کر کے کہا کہ دنیا عالم الاسباب ہے اور زمانے کو ہر گھڑی انقلاب۔ جو خدا چاہے وہ ہوتا ہے۔ انسان اور اس کا ارادہ

    ریختہ صفحہ 30
    لاکھ مضبوط ہو پھر بودا ہے۔ دنیا غم کا گھر ہے۔ نہ امیر کو اس سے نجات ہے نہ غریب کو مفر ہے۔ نہ رنج کو بقا نہ خوشی کو ثبات۔ نہ موت پر قابو نہ قبضہ میں حیات۔ ہزاروں حسرتیں خاک میں مل جاتی ہیں اور سینکڑوں امیدیں بر آتی ہیں۔ ہر بات تقدیر سے تعلق رکھتی ہے اور تقدیر قادر مطلق کے دستِ قدرت میں ہے۔ ہزار لکھا پڑھا آدمی ہو خطِ قسمت نہیں پڑھ سکتا۔ کیا معلوم کل کیا ہو گا۔ اچھا یا برا۔ ہم ہزار اپنی بہتری چاہئیں اگر خدا کو منظور ہے تو ہو گی۔ ورنہ لاکھ سر پٹکا کریں کچھ نہ ہو گا۔ نہ کسی کی برائی چاہے برائی ہوتی ہے نہ کسی کی دشمنی سے کچھ بگڑتا ہےصرف اپنی سمجھ کا قصور ہے جو ہم اس کے خلاف تصور کریں۔ بے حکم خدا اور اس کی مشیت کے ایک پتہ نہیں ہل سکتا۔انسان تو ایک بھاری چیز ہے۔ کیا معلوم کس کے دل میں کیا ہے اور کس قصد سے اس نے کام کیا ہے۔ ہر شخص اپنی سمجھ کے مطابق اس کا نتیجہ نکالتا ہے۔ حالانکہ بعد چندے وہ نتیجہ بالکل غلط اور وہ خیال سراسر مہمل ٹہرتا ہے جس سے اپنی جگہ پر ندامت ہوتی ہے اور یہ کہنا پڑتا ہے کہ چار روز اور صبر کر جاتے تو اچھے رہتے۔ افسوس رنج بھی اٹھایا بنی بنائی بات بھی بگاڑی اور اب پچھتا رہے ہیں ۔ ایسی ہی کچھ کیفیت اس بچی کی بھی ہے یہ تو ظاہر ہے کہ ساری دنیا اس کو معصوم کہے گی اور جب معصوم ہے تو بے خطا ہے جب بے خطا ہے تو اس سے بیر بغض ہر مذہب و ملت میں حرام ہو گا اب رہا یہ خیال کہ جس کی وجہ سے یہ لڑکی پیدا ہوئی جو اس کے دنیا میں آنے کا سبب اور اس کی دوسری ماں کے دل جلانے کا سبب ہوا وہ تو ضرور ہی خطا وار ہے۔ نہ ایسا کرتا نہ ایسا ہوتا۔ میرے نزدیک یہ خیال نہین بلکہ وہم ہے اور کیا عجب ہے جو تم بھی ایسا ہی سمجھتی ہو
     
  8. گُلِ یاسمیں

    گُلِ یاسمیں لائبریرین

    مراسلے:
    3,674
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Question
    ریختہ صفحہ 31
    جس کو خدا نے تھوڑی سی بھی عقل دی ہےوہ کہہ سکتا ہے کہ جب کھانا پینا، مرض صحت، موت زیست اس کے قبضہء قدرت میں ہے تو اولاد سی شے یا اس کے اسباب کی درستی اور سامان کیوں کسی کے ہاتھ میں دے گا۔ ہم نے تمہارے یہاں اولاد ہونے میں کوئی کوتاہی کی؟ یا تمہاری ماں نے کچھ اٹھا رکھا؟ نواب دولہا نے غفلت کی؟ کہو نہیں۔ پھر کیوں نہ ہوئی؟ یہی کہو گی نا کہ خدا کی مرضی اور جہاں ہوئی یہی کہا جائے گا نا کہ اس کی دین، پھر جیسا اور جگہ خیال ہوتا ہے ویسا ہی ہر شخص کو اپنے ہاں بھی خیال کر لینا چاہئیے۔ اس کے خلاف عقل کے خلاف بلکہ حکم خدا کے خلاف ہو گا۔ اگر میری خوشی چاہتی ہو اور میری اطاعت واجب جانتی ہو، میری صحت منظور ہے ماندگی میں رنجش کے درپے نہیں ہو تو عصمت آرا کان کھول کر سنو کہ " یہ لڑکی نواب دولہا کی ہےجس کو میں نے اپنی فرزندی میں لیا ہے۔اب تمہاری عقل و فراست اور جو میرے ساتھ محبت ہے اس کا مقتضا یہ ہے کہ تم اس کو اپنے پیٹ کی لڑکی سمجھو۔ اور جو کچھ پیٹ میں ہے اسے نکال ڈالو۔سیدانی سمجھ کےاس کی خدمت سعادت جانو میرا کہا مانو۔ خدا وند عالم نے دوسری بیوی سے نواب دولہا کی تقدیر میں اولاد لکھ دی تھی اس وجہ سے انھیں مجبور ہو کر عقد کرنا پڑا جو جو امر شدنی تھے تڑ پڑ واقع ہوئے۔ ان کا نیا رشتہ جوڑنا تمہاراساتھ چھوڑنا اس معصوم کا پیدا ہونا ان سیدانی کا جان کھونا خواب تھا یا خیال نہ ان کو آتے کوئی روک سکتا تھا نہ جاتے روک سکا۔ فرض کرو کہ وہ زندہ رہتیں اور نواب دولہا خوشامد درآمد کر کے مجھے سمجھاتے اور میری سعی سے تم کو لے جاتے تو کیا تم نہ جاتیں اور اپنا گھر

    ریختہ صفحہ32
    خاک میں ملاتیں۔ ایمان کی تو یہ بات ہے کہ کچھ چارا نہ ہوتا اور جانا پڑتا۔ نواب دولہا بے خطا۔ وہ بیچاری جنت کو سدھاریں۔ یہ معصوم بن ماں کی بچی ہے جو طرح طرح کی تکلیف اور ایذا اٹھا کے خدا خدا کر کے چار برس کی ہوئی ہے۔ پورا پانچواں سال تم کو یہاں آئے ہوئے کو ہے۔ اس درمیان میں بیسیوں مرتبہ نواب دولہا نے تنخواہ کے روپے اور کپڑے تمہارے لئے بھیجے جو میں نے بوجوہات نہیں لئے اور نہ تمہارے غم و غصے کی وجہ سے ان کا ذکر تم سے کیا چونکہ وہ سب روپیہ نواب دولہا کے پاس رکھا رہا انھیں حج کو جانا پڑا اس روز بھی وہ کہتے تھے کہ امانت منگوا لیجئیے میں نے پھر ٹال دیا۔ ان کی نیکیاں خوبیاں خیال پاس مروت محبت دیکھو اور اپنی بیرخی طوطا چشمی پر نظر کرو ہماری تین بیبیاں تھیں چوتھی مرتبہ تمہارے سامنے عقد کیا چار میں سے ایک نہ سامنے سے ٹل گئیں نہ گھر سے نکل گئی۔ رنج ہوا ایک دوسرے سے جلا۔ہمارے سامنے نہ گلا ہوا نہ شکوا نہ کسی کو کچھ کہنے سننے کا ہواؤ پڑا۔ اگر کہو کہ روپے کی وجہ یا نوابی کے سبب سے تو نواب دولہا کے ہاں بھی خدا نہ کرے خاک نہیں اڑتی تھی۔ پچاس روپے مہینہ جو پہلے دن اس نے کہا تھا وہ آج تک تمہارے نام سے جمع ہیں۔ ہم نے تمہیں پچاس روپے مہینہ کب دیا۔ اوّل تو چلے آنے کی تم نے نئی حرکت کی پھر بیٹھ رہنے کی دوسری جسارت چونکہ نازک امر تھا اور ہمارا تمہارا رشتہ نہایت مضبوط۔ اس وجہ سے ہمیں کوئی موقع کہنے سننے اور سمجھانے کا نہ ملا۔ جب اس بچی کی ماں نے انتقال کیا اور خبر آئی دوسرا خوش ہوتا۔ مجھے رنج ہوا اور دل میں آیا کہ تمہیں سوار کر کے بھیج دوں۔ تمہاری ماں سے ذکر کیا انھوں نے

    ریختہ صفحہ 33
    وہ بے رخ ہو کر منع کیا کہ مجھے دوبارہ فہمائش کی جراءت نہ ہوئی گو میرے خلاف گذرا لیکن صبر کر کے چپ رہا۔ آج اس بچی کی بری حالت دیکھ کر مجھے اپنے اوپر لعنت کرنے کو جی چاہتا ہے کہ نہ میں اس وقت تمہاری ماں کے بگڑنے سے طرح دیتا نہ تمہارا جانا رکتا نہ اس کا یہ حال ہوتا۔ افسوس کرتا ہوں اور میری لاعلمی سے خدا خوب واقف ہے اگر میری یہ خطا بخش دے تو کچھ دور نہیں۔ ہماری اماں جان نے یہ سن کر سکوت کیا اور سوا سکوت کے چارہ ہی کیا تھا۔ نواب صاحب کی یہ تقریر ایسی نہ تھی کہ کوئی اس کا جواب دے سکے سوا نانی جان کے۔ انھوں نے ایک مرتبہ آنکھیں بدل کر اور ماتھے پر بل ڈال کر کہا کہ چہ خوش ع "بازار ہم گئے تھے اک چوٹ مول لائے" کیا خوب یہ میری بچی کی ناشاد سوت کی جنی ہے۔ تیل توا کالا منہ نوج درگور خدا اس کی صورت " آگے نہ کہنے پائی تھیں کہ نواب صاحب نے منہ بند کیا اور کہا کہ ہاں ہے تو سہی لیکن عصمت کی مری مٹی سوت کی نہ جیتی جاگتی تمہاری کسی سوت کی ، پھر تم بدزبانی اور ہی ہی کھی کھی کرنے والی کون۔ بس خبردار اب میرے سامنےکوئی کلمہ ان بیگناہوں کی نسبت نہ کہنا ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں۔ نانی جان کچھ کہا چاہتی تھیں۔ کیونکہ دونوں ہاتھوں سے زور لگا کر نواب صاحب کا ہاتھ اپنے چلنے والے منہ پر سے ہٹایا تھا لیکن اماں جان انھیں ساتھ لے کر ٹل گئیں۔ نواب صاھب ٹہرے رہے پھر اماں جان کو بلا کر میرا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے کر باہر گئے۔ محل والیوں نے اپنی بیوی مالک گھر والی کی جو مرضی نہ پائینگاہ پھری اور تیوری چڑھی دیکھ کر طرح طرح سے مجھے ستانا اور ڈرانا شروع کیا ایک جلتی

    ریختہ صفحہ34
    لُکٹی دکھا کر کہتی تھی کہ یہاں جو بچہ موتتا ہے آگ سے اسے داغا جاتا ہے۔ دوسری (دو انگلیاں اٹھا کر) اشارہ کرتی تھی کہ رونے والے کی یوں آنکھیں پھوڑی جاتی ہیں، ایک ترکاری بنانے میں چھری دکھا کر سناتی تھی کہ اس طرح تجھ کو بھی قیمہ تختہ (ٹکڑے ٹکڑے) کروں گی۔ دوسری مصالحہ پیسنے میں گھور کر دھمکاتی تھی کہ بٹّے سے ہی منہ کچل ڈالا جائے گا۔ یہاں آئی تو ہو زندہ جاتی نہیں معلوم ہوتیں۔ ایک دوسری سے کہتی تھی میں رات کو گلا نہ دبا دوں کہ سوتی کی سوتی رہ جائے۔ ایک کہتی تھی کہ تمہاری بلا گلا دبائے کالی بی خود گلا گھونٹ دیں گی۔ خدا کرے کسی رات کو اس کی آواز نکلے، ہوں سے چوں کرے۔ ایک دور سے جواب دیتی تھی کہ ہوّا آئے تو میں اسے حوالے کر دوں۔ دوسری پہلو سے بول اٹھتی تھی کہ کیوں جوجو سے کیوں نہ کہہ دو وہ تو ہر وقت تختوں ہی کے نیچے بیٹھا رہتا ہے۔ میرا سن ہی کیا تھا یہ باتیں ایسی نہ تھیں جو مجھے چین سے پلنے دیتیں اور کھایا پیا انگ لگتا۔ رونا آتا تھا مگر رو نہ سکتی تھی۔ آنکھیں پھوڑے جانے کا ڈر لگا تھا۔ ننھے سے دل پر وہ صدمہ تھا کہ خدا کی پناہ۔ اماں جان کی تاکید کہ اکیلا نہ چھوڑو اور وہاں جو پاس رہتا ہے جان کھائے لیتا ہے۔بغلی گھونسلہ آستین کا سانپ ظاہر میں کھلاتا ہے اور دل ہی دل میں چٹکیاں لے رہا ہے جدا ہوتی ہوں تو جوجو کا ڈر مارے ڈالتا ہے۔ چار برس کی جان اور اس کے دشمن اتنے شیطان۔ آٹھ سات دن میں برس دن کے بیمار سے بدتر ہو گئی۔ یاس سے ایک ایک کے منہ کو تکتی تھی اور مایوس ہو کر گردن کو جھکا لیتی تھی۔ کھانے کے وقت جتنی

    ریختہ صفحہ 35
    دیر تک اماں جان کے پاس رہتی تھی زندوں میں تھی۔ کھانا کھا چکی اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ دھموکے گھونسے تھپڑ اس قدر کھائے کہ بھوک الگ اڑ گئی اور نیند جدا۔ درد کے مارے رات رات بھر پلک نہیں جھپکی۔ سارا بدن نیلا ہو گیا۔ معلوم ہوتا تھا کہ گُدنا گدوایا ہے۔ جس کی گود میں جاتی وہ چٹکیاں لے لے کر کھال چھیلے ڈالتا تھا۔ وہ کتے کے سے ناخن اور بیدردی کے ہاتھ جب چٹکی لی خون چھلک آیا۔ جب ناخن چبھویا زخم پڑ گیا۔ پھر کبھی کبھی ایسا بھی ہو جاتا، نہیں بلکہ باری باری جس نے لیا یہی سلوک کیا۔ جدھر جاتی تھی یہی دعوت تھیکہ اگر ذرا بھی بسوری منہ ٹیڑھا ترچھا ہوا آنسو آنکھ میں آئے اور غضب کا سامنا چو طرفہ سے بلوہ ہو گیا۔ طرح طرح کے ڈر موجود ۔ ایک کہتی تھی ذرا مجھے دینا میں منہ سیدھا کر دوں۔ ایک چھری دکھا کر حلال کرنے کو بسم اللہ کر کے بڑھی۔ ایک رسی دکھا کر پھانسی لگانے کے اشارے کرنے لگی۔ جو تھا ، لہو کا پیاسا جو تھا جان کا دشمن، کس سے کہتی کہ میرا یہ حال ہے۔ خدا کے لئےان نادانوں سے پیچھا چھڑاؤ۔ میری مدد کرو۔ گھر میں اس سے بڑھ کر ایذا سہی۔ تکلیف اٹھائی مگر یہ دشمنی تو نہ تھی۔ یہاں تو ان کا بیر حال غیر کئے جاتا ہے۔ بارے مر مر کے آٹھ دن اور کٹے ۔ جمعے کو پندرھویں دن بعد نماز ابا پھر آئے اور کسی نہ کسی طرح ان بلاؤں کو بھی خبر ہوگئی۔ پھر کیا تھا ایک نے ٹہوکا دیا کہ اری لڑکی اپنی زندگی چاہتی ہے تو گھر چلی جا۔ دوسری نے کہا کہ رو رو کر آنکھیں پھوڑ ہم تیری سفارش کر دیں گے۔ تیسری بولی کہ رو بھی سکتی ہے ۔ مجال پڑی ہے انگلیاں نہ بھوک دی جائیں گی۔ چوتھی بولی نہ روئے
     
  9. گُلِ یاسمیں

    گُلِ یاسمیں لائبریرین

    مراسلے:
    3,674
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Question
    ریختہ صفحہ 36
    تو مرچوں کا پانی ڈال دو۔ پانچویں پیاز کی گٹھی لے کر ملتی ہوئی دوڑی کہ آنکھوں میں عرق چھوڑ دے۔ ایک بیچ میں آ کر بولی کہا اے اب جانے بھی دو۔ اب وہ اپنے باپ کے ساتھ چلی جائے گی۔ تم خفا نہ ہو۔ اس وقت ایک ماما نے کہا کہ ارےتوبہ کرو توبہ۔ کیوں بیچاری کو مصیبت میں ڈال رکھا ہے۔ لاؤ مجھے دو میں باہر جا کر پہنچا دوں۔ یہ سنتے ہی جو گودی میں لئے تھی بے تحاشا مجھے پھینک کر ہنستی ہوئی اس سے جا کر لپٹ گئی اور کہا کہ بوا رحمت تمہیں کیا پڑی ہے۔ نہ جانو نہ بوجھو خواہ مخواہ پھٹے میں پاؤں دیتی ہو، اپنی نوکری کے پیچھے پڑی ہو کیا؟ وہ بیچاری پہلے تو سناٹے میں آ گئی ۔ پھر کچھ سوچ سمجھ کر مجھے گود میں یہ کہہ کے اٹھا کر چلی کہ اب تم نوکری سے ہمیں چھڑوا دینا ہم تو لئے جاتے ہیں۔ چنچل نے کہا لئے تو جاتی ہو ، اس کے کان کھول دو کہ پھر یہاں آنے کا نام نہ لے۔ نہیں تو مار ہی ڈالی جائے گی۔ میں سہمی اس کے لپٹی تھی۔ یہاں تک کہ باہر پہنچی اباجان کو سلام کر کے کہا کہ آپ کی بچی ہڑک گئی۔ گھر چھٹنے کا اس قدر غم ہے کہ گھلی جاتی ہے۔ دیکھئیے تو کہ پندرہ روز میں کیا حال ہو گیا۔ اباجان نے جو پھر کر دیکھا آبدیدہ ہوئے اور آہ کر کے میری طرف ہاتھ پھیلائے۔ میں ایسی بے غیرت سزا یافتہ تھوڑی تھی کہ بے ماما کے اشارے کے گود سے اتر جاتی۔ ہاں یاس سے پہلے اس کی طرف دیکھا۔ جب رحمت نے پیار سے کہا کہ جاؤ جاؤ، ڈرو نہیں تمہارے بابا جان ہیں۔ تب میں نے ہاتھ بڑھائے اباجان نے مجھے لے کر زانو پر بٹھا لیا۔ دیر تک غور سے دیکھا کئے۔ نواب صاحب کمرے میں تھے۔ جب باہر آئے تو مجھے دیکھ کر محب

    ریختہ صفحہ 37
    سے چمکار کر میرا نام لے کر کہا کہ " آہا اس وقت اپنے ابا کی گود میں بیٹھی ہو" گو مجھے ان کی محبت پر اعتماد تھا اور آواز پہچانتی تھی لیکن ساتھ ہی اس کے یہ کھٹکا بھی تو لگا تھا کہ ان کی گود میں گئی اور انھوں نے پھر گھر میں پہنچا دیا جہاں پھر ان خیلاؤں کا سامنا ہے ۔ نہ ان کی صورت دیکھوں گی نہ گود میں جانا پڑے گا۔ اس وجہ سے میں نے ان سے نہ آنکھ ملائی نہ نگاہ چار کی۔ دل کو پتھر کر لیا۔ ان کی طرف سے منہ پھیرے بیٹھی رہی۔ انھوں نے ہزار ہزار پیار سے پکارا مگر ڈر کے مارے مجھے جراءت نہ پڑی کہ ادھر رخ کروں۔ اس دن کی بے مروتی مجھے آج تک یاد ہے۔ سمجھ آنے کے بعد مدتوں اس کج خلقی کا ملال رہا۔ اباجان نے کہا کہ اس وقت یہ کچھ ڈری ہوئی سی ہے۔ کلیجہ برابر دھڑک رہا ہے اور الٹی پلٹی سانسیں لے رہی ہے۔ شاید محل میں کسی نے ہنسی دل لگی سے اس کو ڈرا دیا۔ (نواب صاحب) بھلا بھائی میرے گھر میں ڈرانے والا کون۔ (اباجان) اے حضور یہی لونڈیاں باندیاں اور کون۔ انھیں میں سے کسی نے کچھ کہا ہے۔ بچہ تو بچہ ڈر گیا۔ نواب صاحب چپ ہو رہے۔ مگر اس بات کا ان کے دل میں خیال رہا۔ جب اباجان چلنے لگے تو نواب صاحب نے چاہا کہ بہلا پھسلا کر مجھے اباجان کی گود سے لے لیں۔ دم دلاسا دیا پیٹھ پر ہاتھ پھیرا۔ لالچ دے کر چیزیں دکھائیں۔ میں نے ہر گز اباجان کا بازو اور گردن نہ چھوڑی۔جب سامنے آتے تھے میں آنکھیں بند کر لیتی تھی۔ مجبور ہو کر نانا جان بیٹھ رہے۔ابا جان رخصت ہو آئے۔ گھر میں پہنچتے ہی بی خیراتن اور اعجوبہ کا سامنا تھا جو دور سے دیکھ کر چولھے پاس سے راکھ اور خاک میں ہاتھ بھرے ہوئے لے کر دوڑیں۔ ناک اور آنسو لتھڑے ہوئے منہ سے خوب میرے منہ کو پیار کر کے بھرا پھر بوا اعجوبہ نے

    ریختہ صفحہ 38
    مرچوں بھرے ہاتھ گال پر رگڑے اور اپنے مصالحہ دار کپڑوں میں لے کر خوشبودار سینے سے لگایا۔ پھر باری باری دونوں نے میری حالت پر آنسو ٹپکائے اور رونی صورت پر غم کھائے۔ اباجان سے کہا کہ میاں خدا کے لئے اب میری بچی کو وہاں نہ چھوڑ آئیے گا۔ دیکھئیے تو تھوڑے ہی دنوں میں کیا حال ہو گیا۔ اتوار کے دن صبح کو اباجان نے کہا کہ اعجوبہ آج ذرا طاہرہ کو نہلا دینا۔ انھوں نے دوپہر کو جب مجھے نہلانے کو بٹھایا تو سارا بدن نیلا دیکھ کر وہ اسی طرح مجھے چوکی پر بیٹھا چھوڑ کر باہر کمرے میں گئیں اور اباجان کو لا کر میری پیٹھ کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ دیکھئیے سوتاپے کی یہ جلن ہوتی ہے۔ میری بچی ے بدن پر ہزاروں نیلے نشان ہیں ، خدا کرے وہ ہاتھ ٹوٹیں بازو شل ہوں انگلیاں جھڑ پڑیں جن سے اس معصوم کو مارا ہے۔ اے خدائے برحق تجھے سب طرح کی قدرت ہے میں بھی اس کے دُھرے اڑانے اور مار پڑنے کی خبر سنوں۔ وہ مارنے والی جہنم میں جائے۔ یہ باتیں بو اعجوبہ کر رہی تھیں کہ ﷽ کی آواز آئی۔ اباجان باہر گئے کہ یہ کون آیا۔ کس کیسواری ہے۔ اور بوا میرے سر میں کنگھی کرنے لگیں۔ دروازے کی طرف میری پیٹھ تھی اور دالان کی طارف منہ۔ مجھے نہیں معلوم ہوا کہ کون آیا۔ بوا اعجوبہ نے جھک کر میرے کان میں کہا کہ تمہارے نانا ابا آئے ہیں میں نے چاہا کہ جلدی جلدی منہ دھو کر آنکھیں کھولوں اور ان کو سلام کروں کہ وہ قریب آ گئے اور اتفاق سے نگاہ پیٹھ پر پڑی نیلے نشان دیکھ کر ہائیں کہہ کر وہ اسی جگہ ٹھٹھک رہے اور ارے یہ داغ کیسے ہیں کہہ کر اباجان کی طرف مخاطب ہوئے۔ میں سلام کر کے پھر چوکی پر بیٹھ رہی اور اباجان نے ان سے میرے داغوں کی نسبت اپنی لاعلمی جتا کر کانوں پر

    ریختہ صفحہ 39
    ہاتھ رکھا۔ بوا اعجوبہ پٹ سے بول اٹھیں کہ حضور آپ ہی کے ہاں سے یہ سوغات لائی ہیں۔ نہیں معلوم کون بیدرد کم بخت ماری عورت تھی جس نے میری بچی کا چاند سا بدن نیلا کر دیا۔ خدا کرے اس کے ہاتھ ٹوٹیں۔ناناجان یہ سن کر سناٹے میں آ گئے۔ اور دیر تک اعجوبہ کے اس بے دھڑک کہہ بیٹھنے پر کھڑے رہے۔ اباجان نے کہا کہ آپ تشریف لائیے یہ انتہا کی منہ پھٹ اور احمق ہے عمر گزری مگر بات کرنے کا طریقہ نہ آیا۔ ادب قاعدے سے تو ایسی نا بلد ہے جیسے ابھی پکڑ کر جنگل سے آئی ہے۔ آدمیوں میں رہی نہیں۔ نہ سمجھانے کا اثر ہوتا ہے نہ صحبت کا۔ خدا معلوم اس کی خلقت کیسی ہے۔ میں نے ایسا بے کینڈے آدمی بھی نہیں دیکھا جو منہ میں آیا بے تکان کہہ ڈالتی ہے۔نانا جی یہ عذر معذرت سن کر دالان کی طرف بڑھے تو سہی مگر یہ کہتے ہوئے کہ بھئی اس لڑکی سے بھی پوچھا کچھ کسی کو بتاتی ہے۔ (اباجان) جناب نہ مجھ کو وہاں کسی پر شک ہے نہ شبہ۔ نہ میں نے پوچھا۔ (ناناجان) نہیں بھئی ضرور پوچھو۔ دیکھو تو کیا کہتی ہے۔ مجھ سے شاید کچھ نہ کہے ورنہ میں خود پوچھتا۔ اگر کسی نے اس پر زیادتی یا بدسلوکی کی ہو تو اس کا کیا عجب۔ ہر وقت تو میں آنکھوں میں رکھتا نہ تھا۔ شاید کسی ماما اصیل یا کسی چھوکری چھاکری نے خوشامد کے مارے اپنی حماقت اور سفاہت سے عصمت کے خوش کرنے کو ایسا کیا ہو۔ مجھے بھی کچھ خیال گزرتا ہےاس سے کچھ بھی پتہ چلے تو پھر میں کل حال دریافت کر لوں گا۔ (اباجان) جی نہیں بھلا ان بیچاریوں کو یی دماغ کہاں کہ وہ بیوی کے خیال اور سوتاپے کے ملال سے بچے کو ستا کر بدلہ لیں اور ایذا دیں۔ یہ بھی اس وقت احتمال ہو سکتا تھا کہ جب کسی کی اشتعالک ہوتی یا کچھ اشارہ ملتا۔ یہ بات تو ہے نہیں۔ نہ آپ

    ریختہ صفحہ 40
    خدا نہ کردہ ایسے نہ اماں جان نا خدا ترس ، رہیں آپ کی صاحبزادی وہ میرے نزدیک بچوں کے لئے ان کی حقیقی ماں سے بھی زیادہ محبت کرنے والی لہیں۔ اور میری وجہ سے تو اور زیادہ مری مٹی سوت کا ملال کیا پھر یہ کیونکر گمان ہو کہ کسی نے کہا اور بے کہے انھوں نے ایسا ظلم کیا۔ کہیں کھیل کود میں گری ہے اور چوٹ لگ گئی۔ (ناناجان) بھئی نواب دولہا تم نہیں جانتے یہ عورتٰں تو بس کی گانٹھ ہیں اور اندرائن کے پھل۔ بس ظاہر ہی ظاہر دیکھ لو۔ یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ میں نہا دھو کر وہاں پہنچی۔ نانا جان نے مٹھائی اور کھلونے میرے آگے رکھ دئیے اور پیار سے منہ چوم کر کہا کہ طاہرہ سچ بتاؤ تمہارے بدن پر یہ نشان کیسے ہیں۔ کیا کسی لونڈی باندی نے تمہیں مارا۔ اباجان کی زبان سے میں انکار سن چکی تھی۔ کیونکر اقرار کرتی۔ کہا کہ جی نہیں کوئی مارنے کیوں لگا سب گود میں لئے لئے پھرتے تھے۔انھوں نے قسم دے کر پوچھا اس وقت مجھے کچھ چارہ نہ ہوا اور معجوب ہو کر کہا کہ آپ بوا رحمت سے پوچھ لیجئیے گا اگر میں جھوٹ کہتی ہوں تو حال کھل جائے گا۔ انھوں نے میرا یہ کہنا سچ جان کر کہا لو یہ مٹھائی کھاؤ ہم تمہارے لئے لائے ہیں۔ میں نے سلام کر کے ان کے ہاتھ سے ٹوکری لے لی۔ تھوڑی دیر بعد نانا جان سدھارے۔ میں اس سوچ میں پڑی کہ کہیں ایسا تو نہ ہو کہ یہ رحمت سے پوچھیں اور وہ اس خیال سے کہ شاید انھیں معلوم ہو گیا ہے سب حال کہہ دے۔ اس خلجان نے یہاں تک زور باندھا کہ تمام دن میں گم صم رہی۔ رات کو سونے لیٹی، نیند نہ آئی۔ دن تو جوں توں کٹ بھی گیا رات کو عجب حال تھا۔ کروٹیں بدلا کیں اور ٹھنڈی سانسیں لیا کیں بار بار وہی خیال آتا تھا اور وہی وہم ستاتا تھا۔ اگر ایسا ہوا تو سب کے سب بڑی بلا میں پھنس جائیں گے۔ اور نانا جان اپنی محبت اور میری بے گناہی پر خیال کر کے ایک ایک کو ادھ موا تو کر ہی ڈالیں گے۔
     
  10. گُلِ یاسمیں

    گُلِ یاسمیں لائبریرین

    مراسلے:
    3,674
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Question
    ریختہ صفحہ 41
    انھیں بہت غصہ آیا ہوا ہے۔ خداوندا کیا تدبیر کروں کیونکر یہ راز نہ کھلے۔ اسی ادھیڑ بن میں ایسی محو ہوئی کہ بابا جان کے پہلو میں ہونے اور ان کے جاگنے کا بالکل خیال نہ رہا۔ بھرائی ہوئی آواز اور ڈرے ہوئے لہجے میں ایک ایک کا نام لے کر خدا سے اس کی سفارش کرنے لگی کہ چنچل کو بچانا، رنگیلی چھبیلی پر کوئی آفت نہ لانا۔ اباجان سمجھے کہ خواب میں بڑاتی ہے۔ اٹھ کر مجھے دیکھنے لگے دیکھا تو ٹخ سے دیدے کھلے ہیں۔ اس وقت وہ متعجب ہو کر بولے کہ طاہرہ یہ کن کن کی خیر منا رہی ہو۔خیر تو ہے۔ اب مجھے حواس آئے اور گھبرا کر دل سے کہنے لگی کہ بھئی کیا تدبیر کریں کہ جتنا چھپاتے ہیں اتنا اور ظاہر ہوتا جاتا ہے۔ اتنی ہی بات کہہ کر جان پر صدمہ تھا۔ اس ہذیان کا کیا علاج۔ یہ کہہ کر میں تو جواب کی فکر میں غلطاں پیچاں ہوئی اور اباجان تسبیح تمام کر کے پھر میرے کھٹولے کی طرف جھکے۔ اپنے سر کی قسم دے کر کہا طاہرہ دیکھو خبردار کبھی جھوٹ نہ بولنا۔ جھوٹ بہت بڑا گناہ ہے، جھوٹے پر خدا لعنت کرتا ہے۔ اس کے علاوہ منہ سے بو آنے لگتی ہے جس سے لوگ پہچان کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ اگر تم کو وہاں کسی نے ایذا پہنچائی ہو ہم سے صاف صاف کہہ دو تمہارے سر کی قسم ہے ہم کہیں گے نہیں۔ اب مجھے سوا حال کہہ دینے کے چارہ نہ ہوا اور سب کیفیت بیان کر دی۔ (اباجان) پرسوں تم رحمت کی گود سے جب میرے پاس آئی تھیں کیا اس وقت بھی کسی نے کچھ کہا تھا؟ (میں) جی ہاں اس وقت بھی جوجو اور ہوّے سے ڈرایا تھا اور سب نے مل کر ستایا تھا چٹکیوں سے خبر لی تھی اور زبان سے دعوت کی تھی (اباجان) اے ہے جبھی تمہارا دل دھڑکتا تھا میں تو اسی وقت سمجھ گیا تھا کہ کسی نے ڈرایا ہے۔ لیکن تم ڈرتی کیوں ہو اور سمجھی کیا ہو۔ ہزار کوئی کہے خبردار اب جوجو پوجو سے
    ریختہ صفحہ 42
    نہ ڈرنا۔ بالکل جھوٹ ہے۔ اچھا تم ابھی لونڈیوں کے نام لے لے کر کیا کہہ رہی تھیں۔ (میں) اس وقت نانا باوا نے قسم نہیں دی تھی اور اسی بات کو پوچھا تھا۔ میں نے رحمت کا نام لے دیا تھا۔ اس وقت یہ وہم ہوا کہ کہیں وہ رحمت سے نہ پوچھیں اور وہ کہہ دیں تو سب پر مار پڑے گی جن جن نے مجھے ایذا پہنچائی اور دشمنی کی تھی۔ ان کے بچنے اور محفوظ رہنے کی خدا سے دعا کر رہی تھی۔ اس کا بالکل خیال نہیں آیا کہ آپ نے ابھی آرام نہیں کیا۔ بے ساختہ منہ سے نکل گیا۔ صبح سے دل ہی دل میں لئے رہی۔ اس وقت آپے سے باہر ہو جانے سے حال کھل گیا۔ (اباجان) قرینے سے معلوم ہوتا ہے کہ تمہارے ناناجان جو اس قدر اصرار کرتے ہیں کچھ سن گن پا گئے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو مجبوری ہے۔ اگر ایسا ہے تو مجبوری ہے۔ اور اگر ابھی تک انھیں نہیں معلوم ہوا تو کل میں جا کر ان کے دل سے بالکل نکال دوں گا۔ اول تو رحمت ایسی نادان نہیں کہ بے سمجھے بوجھے وہ یہ بات کہہ دے ۔ بوڑھی عورت بال دھوپ میں نہیں سفید کئے۔ جانتی ہے کہ اس کہہ دینے سے سارا گھر دشمن ہو جائے گا۔ دوسرے اباجان کو یہ درد سری کہاں کہ وہ فرض کر کے رحمت کو بلائیں اور پوچھیں۔ ایک تو یاد ہی نہ رہے گا۔ رات گئی بات گئی۔ تکئیے سے سر اٹھاتے ہی کاموں میں مصروف ہو جاتے ہیں ۔ ایک سر ہزار سودا۔ اور اگر یاد بھی آیا تو جب تو وہ پوچھیں پوچھیں میں پہلے ہی جا کر ان کے ذہن نشین کر دوں گا کہ وہ سارے گھر کو بیگناہ سمجھ جائیں اور پھر کسی سے نہ پوچھیں۔ نہ کسی پر آنچ آئے گی نہ مار پڑے گی۔ بس رات بہت آئی۔ اب آرام کرو۔ صبح سویرے جا کر ان کے دل سے میں اس بات کو نکال آؤں گا۔ اتنا بہ مصلحت اور کہہ دوں گا کہ میں نے بھی پوچھا اور بہت اصرار سے پوچھا مگر اس نے کچھ کسی کی شکایت نہیں کی ہاں یہ کہا کہ چوٹ کے نشان ہیں۔ کہیں کھیل کود میں گری ہوگی۔ بچے بعض وقت

    ریختہ صفحہ 43
    بے تحاشہ دوڑتے ہیں۔ ادھر پیروں چلے اور پیٹ سے پاؤں نکالے کوئی کہاں تک خیال رکھے۔ بندہ بشر ذرا نگاہ ادھر سے ادھر ہو گئی ہے یہ گر گرا پڑی ہے۔ کسی کی اس میں خطا کیا۔ بچوں کا اس عمر میں گرنا چوٹ چپیٹ اٹھانا اک قسم کی ورزش ہے۔ تم خاطر جمع رکھو۔ نہ اس بات میں جھوٹ بولنا ہے نہ پھر ان کے دل میں کسی کی طرف سے شبہ رہ سکتا ہے۔ چوٹ کا نام بھی لئے جاؤں گا اور پھر اس کو چھپا بھی دوں گا۔ نہ کسی کی لے دے ہو گی نہ مار پیٹ۔ نہ روزی جائے گی نہ رزق۔ یہ بہت اچھی ان کے بچاؤ کی تدبیر ہے۔ اندیشہ نہ کرو اور وہم کو دل میں جگہ نہ دو۔ وہم بہت بری چیز ہے ۔ صبح سے اس وقت تک تم نے اس کو روکا نہیں، بڑھتا چلا گیا۔اب اس تدبیر سے اسے گھٹاؤ اور اطمینان سے پڑ کے سو رہو۔ اگر تمہاری وجپہ سے کسی کا بال بیکا ہو تو میرا ذمہ۔ ہاں خدا ہی کو یہ انتقام لینا منظور ہو تو اس کا بندوبست میرے امکان سے باہر ہے۔ ان کی اس تشفی سے میں مطمئن ہوئی پھر کوئی وہم و وسوسہ میرے پاس نہ آیا۔ تھوڑی دیر میں نیند آ گئی۔ صبح کو جب تک اباجان سب کاموں سے فرصت کر کے نانا جان کے پاس جائیں جائیں وہاں منہ اندھیرے اس راز کھلنے کے غیب سے سامان ہو گئے۔ ناناجان بیدار ہو کر چوکی پر تشریف لے گئے۔ اور رحمت نے سارے گھر کو جگایا۔ سب کی سب اٹھ کر باورچی خانے والے دالان میں جمع ہوئیں ۔ نانا جان افیون کھانے کی وجہ سے ذرا دیر تک چوکی پر بیٹھتے تھے۔ قبض کی شکایت رہتی تھی۔ اندر باہر دونوں جگہ ان کے چوکی پر جانے کے مقام سب سے جدا تھے۔ باورچی خانے سے ملا ہی ہوا ایک پائخانہ تھا جس میں اور سب آیا جایا کرتے تھے۔

    ریختہ صفحہ 44
    آگے پیچھے اٹھ کر اور کام کاج پائخانہ پیشاب سے فرصت کر کےسب کی سب اسی باورچی خانے میں اکٹھی تھیں ، نانا باوا کے چوکی پر ہونے کا ایک کو حال معلوم نہ تھا بیٹھتے ہی میرا ذکر نکالا ایک نے ڈینگ کی لی ایک نے شیخی بگھاری ایک نے اپنے پتھر دل کی تعریف کی اور میرے دھان پان ہونے کی مذمت کی ایک نے اپنی تیز عقل اور بے لگام زبان کی بات دہرائی، ایک بولی کہ دیکھو میں نے ناخون (ناخن) ابھی تک نہیں کاٹے۔ ایک نے اسی کے چٹکی لے کر کہا کہ تم سے ہمارے بڑے ہوں جب کی سند۔ ایک ہنس کر بولی میں نے رونے سے بھی ڈرا دیا تھا۔ وہ بھیتری اور بودی مار دی کہ یہاں آنے کا جھوٹوں نام نہ لے گی۔ نواب صاحب چوکی پر بیٹھے میری ساتار و ہن میں پھنسنے کی کیفیت سنا کئے اور دل ہی دل میں تاؤ پیچ کھایا کئے۔ وہ سب یہ باتیں کر رہی تھیں کہ نماز پڑھ کر بوا رحمت بھی وہاں آ نکلیں اور سب کو سر جوڑے میرا رونا روتے دیکھ کر کہا اوئی لوگا آج چوتھا پانچواں دن اس بچی کو گھر گئے ہوا مگر اس کا ذکر موجود ہے۔ بس ہو چکا۔ کہاں تک دون کی لوگی اور باتیں بگھارو گی، جب سنو وہی کہانی جب دیکھو وہی کھسر پھسر۔ کیا برا مرض ہے۔ کوئی سن لے تو ساری قلعی کھل جائے۔ ایک بات کا مہینوں گھولوا رہے گا پھر کیا اچھی بات ہے جسے کہہ رہی ہو۔ تمہاری عقلوں پر پتھر پڑ گئے کیا۔ چنچل نے کہا کہ سنے گا کون اور سنے گا تو کیا ہو گا۔ بڑی بیگم صاحب اس کی صورت دیکھے سے جلتی تھیں۔ نہ کبھی منہ لگایا نہ بات کی۔ نہ خبر پوچھی۔ دور سے بیٹھی ہوئی ہماری سب باتیں دیکھتی تھیں اور مسکراتی تھیں۔ فقط نواب صاحب کی وجہ سے ٹانگے ٹانگے پھرنا پڑتا تھا۔ ہمارے گودکڑے میں چڑھائے رہنے سے ان کی آنکھوں میں خون اترتا تھا۔ اگر ان کے خلاف ہوتا تو منع نہ کرتیں۔ سیر کیوں

    ریختہ صفحہ 45
    دیکھتیں۔ چھوٹی بیگم ایک دن کوٹھے سے اتر رہی تھیں۔اور میں اسے اناج والی کوٹھری میں ٹھونک رہی تھی، دیکھتی ہوئی ٹال کر چلی گئیں۔ (بوا رحمت) اے عورت خدا سے ڈر۔ بڑی بیگم کو تو میں نہیں کہتی ہاں چھوٹی بیگم صاحب کی طرف سے تو میں بڑی چیز اٹھانے کو موجود ہوں۔ ان کے دل میں رتی ریزے برابر ملال نہ تھا۔ سو دفعہ مجھ سے کہا کہ رحمت ذرا طاہرہ بیگم کا خیال رکھنا۔ بے چین نہ ہو۔ یہ سب کی سب خیلائیں دیوانیاں بے ڈھنگی ہیں۔ کہیں اس کو اذیت نہ پہنچے۔ مجھے جب کاموں سے فرصت ہوتی تھی گھڑی دو گھڑی گود میں لے لیتی تھی۔ (چنچل) تم آپ خیلا بطیلا ہو گی ہماری بلا ہو۔ (رحمت) اے ہے مجھے لڑنا نہیں آتا ۔ میں تمہارے لئے کہتی ہوں۔ مجھے کیا۔ اب ان باتوں کا چرچا اچھا نہیں ۔ تمہیں اختیار ہے تم جانو تمہارا کام۔ مجھے کیا پڑی ہے۔ بڑوں کی بڑی بات۔ نہ کوئی بڑی بیگم صاحب سے کہے گا نہ چھوٹی بیگم صاحب سے پوچھے گا۔ تمہارا دردسا ہو جائے گا۔ مجھے بڑا ڈر حضور کا ہے۔ وہ اس بچی کے ساتھ بہت محبت کرتے ہیں۔ میرے سامنے انھوں نے ایک پنواڑ کہہ کر بیوی بیٹی کو سمجھایا تھا۔ یہ کہہ کر رحمت تو چلی گئیں اور وہ سب بھی اپنے اپنے کام سے لگیں۔ نواب صاحب باہر نکلے اور ان سب کی طرف غیظ و غضب کی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے افسردہ اور چیں بچیں دیوان خانے میں گئے ۔ سب کی سب ایسی بے خود اور محو تھیں کہ نواب صاحب کے نکلنے اور غصے سے دیکھنے کی مطلق خبر نہیں ہوئی۔وہ باہر جا کر کپڑے پہن کر سوار ہوئے اور تھوڑے سے دن چڑھے ہمارے ہاں آ پہنچے اباجان باہر تھے۔ سیدھے گھر میں چلے آئے اور دروازے ہی سے میرا نام لے کر پکارا حقیقی نواسی سے زیدہ وہ مجھ سے محبت کرتے تھے۔ مُڑ کر جو دیکھتی ہوں تو ناناجان
     
  11. گُلِ یاسمیں

    گُلِ یاسمیں لائبریرین

    مراسلے:
    3,674
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Question
    ریختہ صفحہ 46
    ہیں۔ جلدی سے اٹھ کر سلام کیا انھوں نے مجھے گلے سے لگا کر کرتا ہٹایا اور میرے سارے بدن کے نشان دیکھے۔ پھر آبدیدہ ہو کر کہا کہ کیوں طاہرہ بیوی ہم نے تم سے کیسا کیسا پوچھا قسم تک دی۔ مگر تم نے ان بلاؤں کے ظلم کا ہم سے ذکر تک نہ کیا۔ دیکھو خود بخود ہم پر سارا حال کھل گیا۔ نواب دولہا کہاں ہیں؟ خیراتن نے کہا کہ وہ تو آپ کے یہاں جانے کو تھے۔مرزا شجاعت علی صاحب آ گئے باہر کمرے میں ہیں۔ فرمایا کہ جلدی بلاؤ میرا نام لو۔ ہنوز وہ جانے نہ پائی تھی کہ اباجان خود آ گئے۔ ان کی صورت دیکھتے ہی نانا باوا چیخیں مار مار کر رونے لگے۔ وہ بے چارے نا واقف ہکا بکا ہو کر رہ گئے۔ مجھ سے پوچھا کہ یہ کیا معاملہ ہے۔ خیراتن سے اشارہ کیا۔ سب چپ۔ کچھ معلوم ہو تو بتائیں، کچھ دیر تو وہ سناٹے میں آ کر ان کو دیکھا کئے۔ پھر کہا کہ حضرت خدا کے لئے جلدی جلدی بتائیے کیا ہوا۔ اب مجھ میں تابِ ضبط نہیں۔ بڑی دقت سے انھوں نے فرمایا کہ نواب دولہا ہمارا قصور بخشو۔ ہمارے ہی سبب سے تمہاری بیگناہ بچی پر بڑی بڑی شدتیں اور تکلیفیں ہوئیں۔ آج میں چوکی پر تھا۔ اپنے کانوں سے ان چڑیلوں کی باتیں سنیں جو فخریہ بیان ہو رہی تھیں۔ خوب ہوا کہ یہ بچی یہاں چلی آئی اور تم نے اس کے دل کی بات سمجھ لی۔ جس پر طرح طرح کی سختیاں ہوں اور بلاؤں میں گھر جائے وہ بچہ کیونکر نہ ڈرے۔یہ کہہ کر پورا حال ان کی بات چیت کا دہرایا تو اباجان تو حیرت میں آ گئے کہ اب ان کے غم و غصہ کو ٹالنے کی کیا تدبیر کروں۔ جو میں سوچا تھا وہی بات ہوئی۔ اور وہ یہ کہہ کر اٹھے کہ آج میں اس بیگناہ کا بدلا لے لوں۔ دل ٹھنڈا کر لوں۔ تو کل تم اس کو سوار کر کے ضرور بھیج دینا (اباجان) بہت خوب بہت بہتر کہتے ان کے پیچھے پیچھے ڈیوڑھی میں گئے۔ میں سمجھی سدھارے۔ پھر کیا دیکھتی ہوں

    ریختہ صفحہ 47
    کہ دونوں صاحب چلے آتے ہیں۔ بیچ انگنائی میں پہنچ کر مجھ سے فرمایا کہ طاہرہ چلو ہم اپنے ساتھ ہی تمہیں لیتے چلیں۔ ڈرنا نہیں کیا مجال جو اب تمہیں کوئی ٹیڑھی نگاہ سے بھی دیکھ سکے۔ پھر اباجان کی طرف مڑ کر کہا کہ نواب دولہا تمہیں کہیں جانا تو نہیں ہے۔ ( وہ جی نہیں آپ فرمائیں) کہا کہ تم بھی چلو اس وقت کی سیر قابل دیکھنے ہی کے ہے، چلو گے نا۔ (اباجان) بہت اچھا ، مگر (ن) آپ اپنے اگر مگر کو یہیں چھوڑ کر چلئیے وہاں ان کا کوئی کام نہیں ۔ صبح سے میری نگاہ میں دنیا اندھیر ہے۔ کلیجہ جل رہا ہے دل سلگ رہا ہے۔ گو اس بارے میں اباجان کچھ کہنے کو تھے لیکن ان کی آمادگی اور خفگی کی وجہ سے یہ سمجھ کر چپ ہو رہے کہ بروقت دیکھا جائے گا۔ ابھی سے کہہ کر کیوں غصہ دلائیے اور بات بڑھائیے۔غصے کا قاعدہ ہے کہ سمجھانے اور روکنے سے اور بڑھتا ہے۔ جب ہم سب وہاں پہنچے تو اباجان نے مجھے گود میں لے لیا اور دروازے کے قریب جا کر چاہا کہ اتار دیں۔ پردے کے پاس رکے۔ نانا جان نے کہا کہ کیوں کیا ہے۔ اندر چلو وہاں تم سے چھپنے والا ہی کون ہے۔ وہ سر جھکائے ساتھ ہو لئے۔ دالان سے جیسے ہی بڑی اماں نے دیکھا وہ تو ندامت و خفت سے سر بزانو ہو گئیں۔ کیونکہ نانا جان ان کو قائل کر چکے تھے اور دوسرے اب کچھ سوچی سمجھی بھی تھیں۔ وہ غصہ بھی نہیں رہا تھا۔ نانی جان نانی جان روئی دوئی کر کے کمرے میں چلی گئیں۔ نانا باوا جیسے دالان میں پہنچے۔ بڑی مہیب آواز سے اماں جانی کا نام لے کر پکارے اور کہا کہ جلد ادھر آؤ۔ وہ نہایت ادب سے سر نیہواڑے ہاتھ جوڑے باپ کے قریب آئیں۔فرمایا نواب دولہا کے قدم پر گرو اور اباجان سے کہا کہ ان کی

    ریختہ صفحہ 48
    پیٹھ پر ہاتھ رکھو خطا معاف کر دو۔ دونوں طرف گو عذر و انکار تھا مگر کوئی چارہ نہ ہوا ان کی غیظ بھری نگاہ اور تھرائی ہوئی آواز نے دو طرفہ وہ عملہ دخلہ کیا کہ ناچار کہا ماننا ہی پڑا۔ جب قدموں سے سر اٹھا کر وہ روتی ہوئی پھر اپنی جگہ چلیں اس وقت مجھے گود سے لے کر اپنے آگے کھڑا کیا اور کہا کہ جاتی کہاں ہو، اس کے بھی پیر پڑو۔ یہ سنتے ہی مجھ کو خفقان ہوا کہ لیجئیے وہاں تک تو ادب قاعدہ تھا یہ بے قاعدہ بات کیسی۔ میں نے گھبرا کر اپنے تئیں زمین پر گرا دیا اور دونوں پاؤں پیٹ کے نیچے چھپا لئے۔ ان کو بھی کچھ لحاظ سا آیا۔ پلٹیں تو سہی مگر قریب آ کر ٹھٹک گئیں، دوسر دفعہ ناناجان نے نہایت ڈراؤنی صدا سے کہا کہ کیا تم نے نہیں سنا۔ عصمت اپنی نجات چاہتی ہو تو جلدی کرو۔ وہ بیچاری پاس بیٹھ کر میرے پاؤں ڈھونڈنے لگیں۔ میں ان کے گرنے سے پہلے خود پہ قدموں پر گر پڑی اور ان کے پیروں سے منہ مل کر رونا شروع کیا۔ چونکہ نانا جان برابر اشارہ کئے جاتے تھے وہ وقت کی منتظر تھیں۔ جیسے ہی میں ان کے قدم پر گر کر چہکوں پہکوں روتی ہوئی اٹھی اور چاہا کہ ہاتھ پھیلا کر اباجان کے پاس چلی جاؤں کہ انھیں قابو ملا اور جھک کر اپنا سر میرے پاؤں پر رکھ دیا۔ میں تڑپی بلبلائی لیکن نانا باوا مجھے سنبھالے رہے اور دوسرے ہاتھ سے ان کے سر کو زور دے کر خوب ہی میرے پیروں سے رگڑا۔ نانی اماں روتی پیٹتی اور دہائی دیتی کمرے سے باہر نکل پڑیں اور ہائے ستم ہے اندھیر ہے ظلم ہے قیامت ہے کہا کیں۔ نانا باوا نے کچھ سماعت نہ کی۔ انھوں نے کوئی پہلو لڑائی کا نہ اٹھا رکھا اور حد سے زیادہ بدزبانی کی لیکن نانا باوا نے سُنی کو ان سُنی کر دیا۔ بالکل اعتنا نہ فرمائی۔ جب دیر تک میں روئی یہاں تک کہ ہچکی بندھ گئی تو اماں جان

    ریختہ صفحہ 49
    سے کہا کہ لو اس کو سینے سے لگا کر چپ کراؤ اور یہاں بیٹھ کر تماشہ دیکھو۔ پھر رحمت کو آواز دی وہ تھراتی ہوئی سامنے آئیں کہا کرسیاں منگواؤ۔ وہ جلدی جلدی تین چار کرسیاں لائیں ایک پر ان کے اشارے سے اماں جان مجھے لے کر بیٹھیں اور ایک پر اباجان، ایک کرسی پر خود بیٹھ کر عدالت پر تُلے۔ گھر بھر کی عورتیں چبوترے پر موجود تھیں۔ایک ایک کو اپنے پاس بلا کر میرے نشان دکھا کر ایمان و قسم کی رو سے پوچھا سب کی سب مکر گئیں اور جھوٹی جھوٹی دیدے گھٹنوں کی قسمیں کھا لیں۔ اس وقت نانا جان رحمت کی طرف پھرے اور کہا کہ بی رحمت اب تمہاری باری ہے تم کو جو کچھ معلوم ہے صاف صاف کہو۔ پہلے تو بوا رحمت منمنائیں بغلیں جھانکیں کیونکہ دریا میں رہنا اور مگرمثھ سے بیر۔ کہتیں تو کیا کہتیں۔ پھر یہ بھی ڈر لگا تھا کہ ان میں کچھ تو لونڈیاں ہیں اور کچھ پرانے لوگ۔ اور یہ بھی خیال کہ سب کے سب ایک حال میں ہیں۔ اور پھر ایک منہ ایک زبان، ایسا نہ ہو کہ میری بات نیچی رہے اور جھوٹی پڑوں۔ بہت سوچ سمجھ کر کہا کہ حضور مجھ سے نہ پوچھئیے۔ میں نگوڑی ماری ان کے ساتھ ساتھ کہاں پھرتی تھی جو کچھ جانتی ہوں گی۔ چولہے سے نکلی بھاڑ میں گئی۔ اِدھر سے اُدھر، اُدھر سے اِدھر مجھے کسی کی کیا خبر۔ نواب صاحب اچھا (میری طرف اشارہ کر کے) اس کے بدن پر نشان ہیں۔ (رحمت) جی ہاں حضور ہیں۔ (نواب صاحب) پھر کاہے کے ہیں (رحمت) مجھے کیا معلوم (نواب صاحب) تمہیں نہیں معلوم (رحمت) جی نہیں عرض تو کرتی ہوں ، میں کہیں یہ لوگ کہیں۔ کام سے مہلت ملی اپنے گھونسلے میں گھس گئی۔ (نواب صاحب) اچھا آج صبح کو یہ سب باورچی خانے میں اکٹھا بیٹھی کیا باتیں کر رہی تھیں۔ یہ سن کر بی رحمت شہ ہوئیں اور سمجھیں کہ یہ خود سن چلے ہیں۔ اب چھپانا اور ٹالنا بے موقع ہے۔

    ریختہ صفحہ 50
    بولیں کہ حضور نہ کہوں تو باپ کتا کھائے اور کہوں تو ماں ماری جائے۔ (نواب صاحب) ایمان مقدم ہے۔ جو سچ ہو وہ کہو۔ (رحمت) حضور پھر اپ مجھ سے کیوں پوچھتے ہیں انھیں سے دوبارہ خود نہ پوچھ لیجئیے۔ نواب صاحب اچھا کہہ کر پھر ادھر مُڑے اور مسکرا کر فرمایا کہ ہاں جی بتاؤ تو آج تم سب کس کا ذکر کر رہی تھیں۔ جو رحمت نے سمجھایا اور تم نے اس کا گلا دبایا۔ اب تو سب نے سورنیوں کی طرح تھوتھن لٹکا دئیے اور کہا جی ہاں حضور خطا تو ہوئی (نواب صاحب) پھر قسم کیوں کھائی اچھا تم سے کسی نے کہا تھا (وہ سب) جی نہیں (نواب صاحب) پھر یہ کیا تھا (وہ سب) بڑی بیگم کی خوشی کے لئے (نواب صاحب) ان کے خوش ہونے کا حال تم پر کیوںکر کھلا (وہ سب) حضور ایک بات سے کھلا بیسیوں باتیں ہیں (نواب صاحب) تم سے انھوں نے فہمائش تو نہیں کی تھی کہ تم ایسے ایسے ظلم کرنا (وہ سب) جی نہیں (نواب صاحب) نہیں اگر کی ہو تو صاف صاف کہہ دو انھوں نے دوبارہ پھر قسم کھائی ۔ ایک دفعہ جھوٹی قسم تو کھا ہی چکی تھیں مگر اپنے ہی دیدوں گھٹنوں کی۔ اب کی خدا اور رسول کی قسم کھانا تھا کہ نواب صاحب اسے جھوٹ سمجھ کر تھرائے۔ ابھی ابھی تو ہنس ہنس کر روبکاری کر رہے تھے اب کانپتے ہوئے کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ میں سمجھی کہ ماریں گے۔ مگر انھوں نے بڑا صبر کیا۔ غصہ کو روک کر فرمایابس تمہاری یہی سزا ہے کہ ابھی ابھی ہمارے گھر سے نکل جاؤ۔ سات آدمی قصوروار تھے ساتوں کو ساتھ چلے جانے کا حکم دے کے بیوی کی طرف پھرے اور کہا کہ سنا بیگم صاحب اگر رتی ریزے برابر آپ کو غیرت ہو گی تو اب مجھے منہ نہ دکھائیے گا اور نہ میرے مکانوں سے کہیں اور جائیے گا، اسے بہت اچھی طرح سن لیجئیے اگر ان میں سے ایک بات بھی
     
  12. گُلِ یاسمیں

    گُلِ یاسمیں لائبریرین

    مراسلے:
    3,674
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Question
    ریختہ صفحہ 51
    میری مرضی کے خلاف ہوئی تو پھر میری بھی برائیوں کی کوئی حد نہ ہو گی۔یہ کہہ کر اماں جان کو بلایا اور کہا کہ میں نے سرف تمہاری وجہ سے یہ شق (کہ محل سے کہیں نہ جانا) لگا دی کہ تم روتے روتے جان دے دو گی ورنہ مجھے ہرگز ہرگز ان کا رہنا گوارا نہیں۔ تم اسی وقت ان کو جامن والی حویلی میں بھیج دو اور یہ ساتوں بلائیں بھی انھی کے ساتھ کر دو تا کہن اپنی سہیلیوں میں بہلیں۔ اور تم بھی اگر ظاہر بظاہر ملیں تو عمر بھر صورت نہ دیکھوں گا اور یہ بھی سن لو کہ اس بچی کی ماماگیری بلکہ کنیزی کرنا پڑے گی۔ اگر اس کے ساتھ کسی نے پھر بیر کیا تو یہی اس کا بھی حال ہو گا۔ اماں جان چپ چاپ کھڑی ہوئی سنا کیں۔ کچھ جواب نہیں دیا۔ بعد اس کے نانا باوا اباجان کی طرف مخاطب ہوئے اور بیوی بیٹی کے سمجھانے کی ساری کیفیت بیان کر کے کہا کہ
    با وصف تاکید اور میری خلاف ورزی ہونے کے بیگم نے بڑی دلیری کی اور مطلق خدا کا خوف نہ کیا۔ میں قسمیہ کہتا ہوں کہ اگر خلاف تہذیب نہ ہوتا تو میں سب کو معقول سزا دیتا۔ نواب دولہا جس دن سے میں نے طاہرہ کے بدن پر نیلے نشان دیکھے ہیں میرے دل و جدر میں داغ و ناسور پڑ گئے۔ کھانا پینا ، راحت سے سونا چھٹ گیا۔ میں نہیں کہہ سکتا جس کرب سے میں نے یہ دس پانچ دن کاٹے ہیں۔ خیر الحمد للہ کہ جھوٹ سچ کھل گیا۔ میں نے اپنے کانوں سے یہ بھی سنا کہ اگر دس پانچ دن اور گزر جائیں تو ہم طاہرہ کا کام ہی تمام کر دیں، اس کو نچ نچ کر سکھا ڈالیں۔ اور ڈرا ڈرا کر مار ڈالیں۔ خیال تو کرو اس دشمنی کی کوئی حد بھی ہے۔ اللہ رئٓے بغض و عداوت۔( اباجان) جی ہاں بعض امر ایسے ہی حیرت انگیز واقع ہوئے ہین کہ ان کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی

    ریختہ صفحہ 52
    (ناناجان) ہائیں بھئی نواب دولہا یہ کیا کہتے ہو۔ وجہ تو صاف صاف ظاہر ہے۔یہ ساری بے عنوانی بیگم صاحب کی وجہ سے ہوئی۔ وہی اس کی بانی اور وہی اس کا سبب ہیں۔ نہ وہ میری نصیحت کے جواب میں ایسی بے رخی دکھاتیں نہ میری خلافِ مرضی چلتیں نہ یہ نوبت آتی۔ ؎
    بہ نیم بیضہ چو سلطان ستم روادارد
    زنند لشکر یانش ہزار مرغ بسیخ
    (اباجان) جی ہاں بجا ہے لیکن اب آپ اس ذکر کو موقوف کریں تو بہتر ہے۔ بے اس کے آپ کا غم غلط نہ ہو گا۔ (نانا جان) اے بھائی یہ غم کیا غلط ہو گا۔ ادھر میں نے طاہرہ کی صورت دیکھی اور زخم دل کا ہرا ہو گیا۔ جگر کا ناسور رسنے لگا۔ مر کے بھی یہ غم ساتھ لے جاؤں گا۔ اباجان یہ سمجھ کر چپ ہو رہے کہ اس ذکر کو قطع کرنا چاہئیے۔ ٹالنے کے لئے کہا کہ اب میں رخصت ہوتا ہوں۔ فرمایا کہ دو عملے کو موقوف کیجئیے اور خیراتن و اعجوبہ کو یہیں بلا لیجئیے کہ گھر کا کام کاج دیکھیں جب تک نئے نوکر رکھے جائیں، دو تین آدمی رحمت سمیت ہیں۔ یہ وہ مل کر نباہ کر لیں گے۔ کھانا باہر باورچی پکائے گا۔ پانچ آدمی بہت ہیں۔ یہ کہہ کر رحمت کو بلا کر حکم دیا کہ نواب دولہا کے یہاں سے دونوں عورتوں کو سوار کر لائے۔ رسول بخش سے کہو ابھی جائے اندر کے دروازے میں قفل لگا دے اسباب اچھی طرح سے بند کر کے باہر پہرہ چوکی بٹھا دے۔ ایک سپاہی ہمارے یہاں سے وہاں جا کر رات کو رہا کرے اور صبح کو وردی بولا کرے۔ حکم کی دیر تھی دونوں آ گئیں۔ تھوڑے دن بعد وہ مکان کرائے پر دے دیا گیا اور نوکر چاکر سب نانا جان کے ہاں آ گئے۔ کاٹھ کباڑ بلا بد تر کرکری خانے میں پھینک کر اور سب چیزکیں تھل بیڑے سے رکھ دھر دی گئیں۔ آنکھوں کے سامنے سے سابّڑ ہٹا پھر نانا باوا نے رحمت سے فرمایاکہ اگر تمہاری دانست میں کچھ مامائیں سلیقہ مند

    ریختہ صفحہ 53
    بھلی مانسیں غریب نیک نوکری کے قابل ہوں تو جلد تلاش کرو۔ رحمت نے کہا کہ ہیں تو سہی مگر زمانے کا رنگ دیکھ کر جی ڈرتا ہے کہ کہیں کچھ دنوں رہ کر پیٹ سے پاؤں نہ نکالیں۔ آج تو فاقے کے مارے منو بلائی ہو رہی ہیں۔کوئی کسی کے دل میں بیٹھا تو نہیں ۔ ظاہر دیکھا جاتا ہے ۔ ایسا نہ ہو جب پیٹ میں روٹی پڑے تو کلیلوں کی سوجھے۔ خدا رکھے محل کا واسطہ بھرا پرا گھر گر پڑا ۔ بہت کچھ کسی نے ہاتھ چالاکی کی۔ لیجئیے حضور میں تو کہیں کی نہ رہی۔ سر پر بال بھی نہیں ہیں۔ نئے پنے میں تو ہبک دھبک کام بھی کریں گی اور ڈھنگ سے بھی رہیں گی۔ آگے چل کر کچھ دن رہ کر آپے سے نہ گزر جائیں۔ دھین دھوکڑ اللہ میاں کی نوکر۔ (نانا جان) بی رحمت تم تو بڑی سمجھ دار نکلیں۔ ہمارے ہاں کے آدمیوں میں یوں چھپی ہوئی تھیں جیسے کوڑے کرکٹ میں نگ یا مٹی میں سونا۔ میں تمہارے مطلب کو سمجھا ۔ اچھا تم ان کو بلواؤ ضمانت نہ کرنا۔ تمہارا پاؤں درمیان سے نکال ڈالیں گے۔ بس تمہاری معرفت سے تمہاری پسند کے آدمی نوکر رکھنے سے یہ مآل ہے کہ تم خود اچھی ہو اچھوں سے ملتی ہو گی۔ جنھیں لاؤ گی سمجھ کے لاؤ گی۔ ہزار برے ہوں گے مگر ان بروں سے پھر اچھے ہوں گے۔ تم نے ہماری لونڈیوں کی بد نفسی اور بے عقلی دیکھی۔ جن کی بری صحبت کے اثر سے سوا تمہارے اور کوئی نہیں بچا۔ (رحمت) بہت اچھا۔ خدا آپ کو بیسا سو برس سلامت رکھے۔ میں اسی بات کو ڈرتی تھی کہ بے ٹھور ٹھکانوں کو ٹھکانے سے لگاؤں اور اپنا لگا بندھا ٹھکانا چھڑاؤں۔ ٹوٹی بانہ گل جندڑے پڑے لیکن بلاؤں کس کے ہاتھوں۔ دن بھر کے لئے حضور لونڈی کو رخصت دیں گھر تک جاؤں۔ جن کہاروں پر جاؤں گی انھیں پر ان لوگوں کو بھیج دوں گی۔ (نانا جان) تو

    ریختہ صفحہ 54
    اچھا آج ہی جاؤ اور ہاں کوئی استانی ہوں تو ان کو بھی ٹہرانا بلکہ لیتی آنا۔ (رحمت) حضور آج نہیں اب کل پر رکھئیے۔ نانا جان چٌپ ہو رہے۔ دوسرے دن رحمت بوا منہ اندھیرے گھر کے کہاروں پر سوار ہو گئیں اور سہ پہر تک پانچ عورتیں بھیج دیں۔ جن میں چار ادھیڑ اور ایک جوان تھیں۔ قریب شام بوا رحمت بھی آ گئیں۔ اور نانا جان سے کہا کہ حضور کے اقبال سے میرے نزدیک تو یہ لوگ بڑے نیک بخت غریب ملنسار محنتی اور عزت دار ہیں۔ اگر ایسی ہی رہیں۔ نانا جان نے بلوایا، سب سامنے آئیں۔ نام پوچھے حالت دیکھی۔ طرز و صورت دیکھ کر نوکر رکھ لیا۔ ناناجان بڑے خداترس اور غریب دوست تھے۔ تین روپیہ مہینہ اور کھانا سب کا مقرر کیا۔ رحمت کا ایک روپیہ اور بڑھا دیا اور فرمایا کہ بھائی رحمت یہ سب کی سب نیک بختیں اصیل زادیاں معلوم ہوتی ہیں۔ تمہاری نیک مزاجی کے علاوہ عقل و نظر کا بھی حال کھل گیا۔ بیس جگہ گئی ہو گی جب جا کے یہ پانچ عورتیں تمہیں جچیں۔ ہاں استانی کوئی نہیں ملیں؟ (رحمت) جی گئی تو تھی ، دیر انھیں کے ہاں ہوئی مگر (نانا جان) کچھ تو کہو (رحمت) حضور وہ راضی تو ہیں مگر نوکری نہیں کرنے کہتیں۔ (نانا جان) کیا اپنے گھر سے کچھ آسودہ ہیں۔ اگر یہ ہے تو یہاں رہیں گی کیوں بے نفع کے۔ خواہ مخواہ کی زحمت اٹھانا کیا معنی۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ پھر راضی کیونکر ہیں۔ (رحمت) حضور ان کا مطلب ہے کہ اپنا کھاؤں پیوں اور پڑھاؤں ان کی لڑکی کو۔ یہ ان کی بات ایسی تھی جسے سن کر میں سن کر چپ ہو رہی اور کہا کہ "آپ کا اقرار کاہے کو یہ تو انکار ہے نہ حضور اس بات کو منظور کریں گے نہ یہ بیل منڈھے چڑھے گی۔ انھوں نے کہا بوا سمجھو تو سہی

    ریختہ صفحہ 55
    میں ایسی خدمت ہی کیا کروں گی جس کے لئے روٹی کپڑا مانگوں۔ اللہ رکھے پوتڑوں کے امیر کی لڑکی گھڑی دو گھڑی کھیلنے کی طرح میرے پاس بھی آ بیٹھے گی۔ اس میں ایک آدھ حرف ٹوٹا مارا بتا دوں گی ۔ کسی دن یہ بھی نہ ہو گا۔ کیسا پڑھنا لکھنا وہاں کے لاڈ پیار ایسے گھنیرے ہوں گے کہ آٹھ آٹھ دن چھاؤں سے چاندنی میں نکلنے کی نوبت نہ آئے گی اور ادھر ( بر موجب تمہارے کہنے کے) ان کے ہاں کا ایسا رویہ نہ ہوا تو بھی میری کیا شامت ہے کہ مزدوری لے کر کلمہ بتاؤں یا قران مجید پڑھاؤں۔ خدا نے دو چار ہنر میرے ہاتھ میں دے دئیے ہیں ۔ روٹی کپڑے کی محتاجی نہیں۔ تن پیٹ ڈھکتا پلتا چلا جاتا ہے۔ زیادہ لے کے کرنا ہی کیا ہے۔ تھاتھی رکھ چھوڑنے قارون کے بالکے بننے سے کیا حاصل۔ چھینا جھپٹی نوچ کھسوٹ کر کے جمع جتھا کرنا دھنی کی کھوپڑی میں پانی پینا مجھ سے تو نہ ہو سکے گا۔ اس کے علاوہ میری آنکھ میں مروت ہے۔ ہاتھ پھیلانے اور مانگنے سے جان ہی پر بنتی ہے۔ دم ہی نکلا جاتا ہے۔ دوسرے نوکری کر کے پڑھانا اپنی حکومت خاک میں ملانا ہے۔ بے قاعدہ بات کرنی آتی نہیں ۔ جب میں نوکر ٹہری تو جیسے نواب صاحب کی نوکر ویسے ہی اس کی بچی کی نوکر۔ ایک گھر کے چھوٹے بڑے رتبے میں یکساں ہوتے ہیں۔ بندہ بشر کسی وقت (کان گوشی) گوشمالی کا موقع ہوا اور ہم ہیں کہ دل ہی دل میں ڈر رہے ہیں انگلی تک نہیں چھوا سکتے۔ پیار دلار دم دلاسے سے کام نکال رہے ہیں۔ اور وہاں بھانویں نہیں۔ برطرفی کا دھڑکا موقوتی کا خطرہ مزاج پرسی کا کھٹکا لگا ہوا ہے کہ ذرا سے میں خطاوار نہ ہو جائیں۔ نوکری پر نہ بن جائے روٹی کا سہارا نہ جاتا رہے۔ نا بیوی نا مجھےبےقصور اپنا دل قید میں پھنسانا منظور نہیں۔ ہاں اس طرح سے حاضر ہوں
     

اس صفحے کی تشہیر