اظہارِ ذات اور معرفتِ نفس میں فرق۔۔۔۔

سیما علی نے 'آپ کے کالم' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 31, 2020

  1. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    7,681
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    اظہارِ ذات اور معرفتِ نفس میں فرق۔۔۔۔ادریس آزاد

    11 April 2019ء

    بے لوث ہونا بڑا مشکل کام ہے۔ کانٹ سے کسی نے پوچھا کہ ’’آپ نے شادی کیوں نہیں کی‘‘تو اُنہوں نے جواب دیا کہ ’’شادی اور بچوں سے انسان کی زندگی میں جو لوازمات داخل ہوجاتے ہیں ان کی وجہ سے اپنے تحقیقی کام میں غیر جانبدار رہنا ناممکن ہوجاتا ہے‘‘۔ یعنی انسان بال بچے دار ہوگا تو اُسے کئی مواقع پر سفارش یا تعلق داری کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ اپنے لیے نہ سہی اپنے بچوں کے لیے سہی۔ اپنے قُوت لایموت کے لیے سہی۔ انسان اُس طرح بے لوث نہیں رہ پاتا جیسا بے لوث ہونے کا حق ہے۔

    ہم اپنی ذاتی شناخت کی تگ و دو میں تمام عمر گزاردیتے ہیں۔ ہماری ہرکوشش چاہے اُس میں اخلاص اور بے نیازی مقام ِ صمدیت کو چھُو رہی ہو کسی نہ کسی مقام پر ضرور ہماری اپنی ذات کی پروجیکشن کے لیے ہوتی ہے۔ خالصتاً رہبانی طرز کا بے لوث ہونا ایک انسان کے لیے قریب قریب ناممکن ہے۔

    میں ایک نظریہ رکھتاہوں۔ میرا خیال ہے کہ سروائیول کی اِنسٹنکٹ یعنی وہ جبلت جو ہمیں زندہ رہنے کے لیے ہرحربہ اختیار کرنے پر مجبور کرتی ہے، ہی ہمیں اپنی الگ شناخت حاصل کرنے کے عمل میں مصروف رکھتی ہے۔ اب چونکہ یہ ایک اِنسٹنکٹ یعنی جبلت ہے اِس لیے یہ عمل خودکار طریقے سے جاری رہتاہے۔ چھوٹا بچہ اپنی الگ شناخت کے لیے اپنی ننھی سی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو گاہے بگاہے ظاہر کرتا رہتاہے۔اس کی شخصیت کے وہ اجزأ جو معاشرے اور ماحول کی طرف سے پسند کیے جاتے ہیں انہیں وہ باقی رہنے دیتاہے اور ایسے تمام اجزأ جو سوسائٹی، گھر اور ماحول کی طرف سے ناپسند کیے جاتے ہیں انہیں ترک کرتا چلا جاتاہے۔ یہاں تک کہ ایک وقت میں اُس کی شخصیت پکے ہوئے پھل کی طرف معاشرے میں کڑوے یا میٹھے ذائقے کا اضافہ کردیتی ہے۔

    ذاتی، انفرادی شناخت کا یہ عمل، ذاتی، انفرادی شناخت ملنے تک جاری رہتاہے۔ جن لوگوں کو واضح طور پر نمایاں اور منفرد ذاتی شناخت مل جائے اُن کی سروائیول کی جبلت ویسی فعال نہیں رہتی جیسی تگ و دو کرنے والوں کی رہتی ہے۔ اِس سوال کا جواب کہ آیا انفرادی شناخت کے لیے کی گئی تگ و دو فی الواقعہ ایک جبلت ہے اور ایسی جبلت ہے جو بقائے ذات کے لیے کی گئی ہے یا نہیں، تو اس کا جواب آسان ہے۔ سامنے کی بات ہے کہ ’’الگ شناخت‘‘ آپ کو محفوظ کرتی ہے۔ آپ کی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت آپ کے موجود ہونے کی ہے۔ ہم سب سے زیادہ ’’مرجانے‘‘ کے خوف کا شکار رہتے ہیں۔ مرجانا زیادہ خوفزدہ اُسی وقت کرسکتاہے جب وہ محض مرجانا ہی نہ ہو بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ’’کھوجانا‘‘، مِٹ جانا اور ’’مفقود‘‘ ہوجاناہو۔ شناخت نہ مل پانے کا خوف اِسی خوف سے برآمد ہوتاہے۔

    اپنے آپ کو محفوظ کرنے کی جبلت کس کس طرح سے کام کرتی ہے اِس کی ایک اور مثال دیکھ لی جائے تو میرا مؤقف سمجھنا آسان ہوجائےگا۔ ہم اپنے مشرقی معاشرے میں دیکھتےہیں کہ لڑکی بیاہ کر والدین کے گھر سے سسرال چلی جاتی ہے۔ ایک انسانی بچہ جو اٹھارہ بیس سال تک ایک محفوظ گھونسلے میں مامون و پُرسکون تھا یکلخت ایک بالکل ہی اجنبی ماحول اور نئے لوگوں کے ساتھ رہنے پر مجبور کردیا جاتاہے۔ ایسے میں دلہن کی وہی حفظِ ذات کی جبلت بہت بُری طرح سے فعّال ہوجاتی ہے۔ دلہن بعینہ اُس مرغی کی طرح جو انڈہ دینے کے لیے محفوظ ترین مقام ڈھونڈتی پھرتی ہے سسرال میں اپنی جگہ بنانے کے لیے مسلسل تگ و دو جاری رکھتی ہے۔ یہ چونکہ تحفظِ ذات کی جبلت کا کرشمہ ہے اس لیے چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے گھر کی نئی بہُو کو ایسے ایسے حربے اختیار کرنے پڑتے ہیں جو بعض اوقات اخلاقی لحاظ سے مناسب بھی نہیں ہوتے، لیکن وہ کرتی ہے اور بے دھڑک کرتی ہے۔ کیونکہ اُسے خود بھی محفوظ رہناہے اور اپنے انڈے کو بھی محفوظ رکھناہے۔ یہ تحفظِ ذات اور تحفظِ خویش کی دو جبلتوں کا مجموعی کرشمہ ہے۔

    یہ ایک مثال تھی۔ اِس مثال سے فقط اتنا ثابت کرنا مقصود ہے کہ اپنے آپ کو بچانے، محفوظ کرنے اور قائم و دائم بنانے کی کوشش جبلت (Instinct) ہے۔ ہم اِسے جبلتِ انسانی کہہ سکتے ہیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ کوئی بھی جبلت، ’’انسانی‘‘ نہیں کہلانی چاہیے کیونکہ ہرجبلت خودکار طریقے سے کام کرتی ہے اور باِیں وجہ اگر وہ انسانی جبلت بھی ہے تب بھی اُسے جبلتِ حیوانی کہاجانا چاہیے۔ کسی بھی فعل کے ، ’’فعلِ انسانی‘‘ کہلانے کے لیے اُس میں ارادہ و اختیار کا عنصر پایا جانا لازمی ہے۔ تحفظِ ذات کی جبلت کس کس طرح سے کام کرتی ہے، اس کا مکمل جائزہ لینا ناممکن ہے لیکن اپنی ’’انفرادی شناخت‘‘ کا حصول اور اس کے لیے کی گئی تگ و دو بہرحال اِسی جبلتِ حیوانی کا کرشمہ ہے۔

    حدیثِ پاک میں ارشاد ہے کہ ’’جس نے خود کو پہچانا، اس نے اپنے رب کو پہچانا‘‘۔ اس حدیث سے مترشح ہے کہ خود کو پہچاننا ضروری ہے نہ کہ خود کی پہچان پیدا کرنا۔ خود کو پہچاننا ایک الگ عمل ہے اور اپنی انفرادی شناخت منوانا ایک الگ عمل ہے۔ اب اس حدیث کی روشنی میں ہم خود کو پہچاننا اگر اپنی صلاحیتوں کو پہچاننا، اپنی عادتوں کو پہچاننا، اپنی کیفیتوں کو پہچاننا سمجھتے ہیں تو پھر لامحالہ یہ شناخت کی تلاش ہے لیکن اگر خود کو پہچاننا سے مُراد اپنی حقیقی انفرادیت کو پہچاننا ہے تو یہ یقیناً خدا کو پہچاننے جیسا ہے۔ مثال کے طور پر ہم خود کو پہچانتے پہچانتے اِس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ہمیں اپنی ذات منوانے سے کہیں زیادہ اخلاقِ حسنہ کی ضرورت ہے۔ ہم بھلے عظیم مصور، عظیم شاعر نہ بنیں۔ ہم فقط چکن فروش بن جائیں لیکن ہمارے اخلاق کا خوبصورت ہونا ضروری ہے۔ اگر ہم خود کو اِس طرح پہچان پائیں تو بجا طور پر ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہونگے کہ خود کو پہچاننا اور خدا کو پہچاننا برابر ہے۔ کیونکہ یہ ایک خالص انسانی عمل ہوگا جس میں کسی حیوانی جبلت کا شائبہ تک موجود نہیں اور خدا کا قول ہے کہ اس نے انسان کو اپنی فطرت پر پیدا کیا۔

    میں سمجھتاہوں رسول ِ اطہر صلی اللہ علیہ وسلم نے معروف اور ممتاز بزنس مین بننے کے بعد غار ِ حرا کا رخ کیا اور غار حرا کے بعد مکے کی گلیوں میں خدمت کے کام پر خود کو مامور کردیا۔ ۔ ۔ ۔ تو گویا اوپر دی گئی مثال میں ثانی الذکر یعنی اخلاق ِ حسنہ کے ذریعے خود کو پہچاننے والی بات پر عمل فرمایا، جسے اعلیٰ انسانی عمل لکھنا ضروری ہے۔

    اس سب کے باوجود آپ اگر کسی سے توقعات وابستہ کرلیتے ہیں اور ان کی تکمیل سے پہلے آپ اپنے فرائض سے بخوشی اور بخوبی عہدہ برآ ہوتے رہتے ہیں لیکن توقعات ہیں کہ پوری ہوکر نہیں دیتیں تو آپ کے فرائض کو ’’بخوشی‘‘ تو قرار دیا جاسکتاہے ’’بخوبی‘‘ نہیں۔ کیونکہ یہی تو بے لوث نہ ہونے کی نشانی ہے۔ اگر محبت ایکسچینج آف بینفٹ ہے تو پھر وہ محبت سے زیادہ سوداگری ہے۔ توقعات وابستہ کیے بغیر اپنے حصے کے کام سے فراغت حقیقی نوعیت کا اخلاق ہے جو بے لوث ہے اور اس لیے محبت ہے۔

    اپنی شناخت کے لیے کی گئی کوششیں ہوں یا مرغی کی طرح کسی محفوظ جگہ انڈہ دینے کی طلب ، یہ سب حیوانی جبلتیں ہیں۔ حیوانی جبلت اور انسانی جبلت میں بہت فرق ہے۔ ماں کی بیٹے سے محبت حیوانی جبلت ہے اور بیٹے کی ماں سے محبت انسانی عمل ہے۔ اسی لیے قران نے والدین پر احسان کرنے کو کہا ہے کیونکہ یہ ایک انسانی عمل ہے۔ ماں تو جانور کی بھی محبت ہی کرتی ہے لیکن جانور کا بیٹا ماں سے (بڑا ہونے کے بعد) محبت نہیں کرتا۔ جبکہ انسان کا بچہ کرتاہے۔ یہ ہے ثبوت کہ اولاد کی طرف سے والدین کے ساتھ کی گئی محبت، خدمت اور عقیدت انسانی عمل ہے اور اس لیے اخلاقِ حسنہ ہے یا خدا کو پہچاننا ہے۔

    ادریس آزاد
     

اس صفحے کی تشہیر