اصلاح کے لیے ایک غزل پیش خدمت ہے۔

Abbas Swabian

محفلین
بے بسی میں جو حال ہوتا ہے
ہائے جینا محال ہوتا ہے
خوشی کے سال دوڑتے ہیں پر
دکھ کا لمحہ بھی سال ہوتا ہے
قدر کرتے نہیں کسی کی جو
ان سے ملنا وبال ہوتا ہے
حال کب ایک سا ہمیشہ ہے
سب پہ لازم زوال ہوتا ہے
لوگ جب رابطہ نہیں رکھتے
رب سے تب بھی بحال ہوتا ہے
وقت رکنے کی ہوتی ہے آرزو
تم سے جب بھی وصال ہوتا ہے
یوں تو عباس بے بسی میں ہی
شعر کہنا کمال ہوتا ہے
 

الف عین

لائبریرین
خوشی کے سال والا خیال خوب ہے لیکن بیان اچھا نہیں۔
آرزو فاعلن ہونا چاہیے فعلن نہیں۔ یہ مصرع یوں بہتر ہو گا

چاہتا ہوں کہ وقت رک جائے
 

Abbas Swabian

محفلین
خوشی کے سال والا خیال خوب ہے لیکن بیان اچھا نہیں۔
آرزو فاعلن ہونا چاہیے فعلن نہیں۔ یہ مصرع یوں بہتر ہو گا

چاہتا ہوں کہ وقت رک جائے
بہت شکریہ سر جی۔
باقی اشعار ٹھیک ہیں؟
اور خوشی کے سال والا شعر کیسا ہونا چاہیے سر
 
Top