اصلاح درکار ھے ---- از طاہر جاوید

hani

محفلین
کیوں آج کوئ ادا نھیں باقی
فگار دل کی صدا نہیں باقی

شدتیں میری غلطیاں شائد
تجھ سے کوئی گلہ نہیں باقی

بے اماں کر گیا تیرا جانا
کوئ بھی سلسلہ نہیں باقی

بس کمی کہ صرف تمہاری ھے
ورنہ دنیا میں کیا نہیں باقی

اس قدر حوصلہ نہیں باقی
شام بے جام و بنا ساقی

طاھر
 

مغزل

محفلین
ماشا اللہ طاہر / ہانی صاحب اچھی کوشش ہے ۔ محفل میں خوش آمدید، تعارف کی لڑی میں اپنا تعارف بھی پیش کیجے ، کلام پر الف عین صاحب اور وارث صاحب کا انتظار کرتے ہیں ۔تھوڑی بہت اغلاط ہیں ، جن پر آپ آسانی سے قابو پاسکتے ہیں ،مشق جاری رکھیے ، ۔والسلام
 

hani

محفلین
نعارف

میں آپ کی اس فورم کی نیا دوست ھوں ، نبیل صاحب سے نیورنبرگ میں ملاقات سے اس سلسلے کا پتہ ملا۔ مجھے طاھر جاوید کہتے ھیں ، جرمنی میں رہائش پذیر ھوں۔ اور اردو سے محبت ھے۔ انشاء اللہ حاضری اور بات ھوتی رھے گی۔
 

الف عین

لائبریرین
خوش آًدید طاہر جاوید، جیسا محمود مغل نے لکھا ہے، کچھ معمولی سی اغلاط ہیں، ورنہ کلام مائل بہ موزونیت ہے۔ اس لحاظ سے سفر درست سمت میں ہے۔

کیوں آج کوئ ادا نھیں باقی
فگار دل کی صدا نہیں باقی
//پہلا مصرع خارج از بحر ہے، ’آج کوئی ادا نہیں باقی ہی کافی‘ ہے، لیکن دوسرے مصرع میں فگار دل کی صدا‘ کچھ بے معنی بھی ہے اور اس کے اوزان بھی خطا ہیں۔ مطبلب سمجھ میں آئے تو کچھ مشورہ دیا جائے۔

شدتیں میری غلطیاں شائد
تجھ سے کوئی گلہ نہیں باقی
پہلا مصرع میں بات مکمل نہیں ہے گرامر کی رو سے۔ شاید یہ مطلب ہے؟
غلطیاں اپنی مان لیتا ہوں

بے اماں کر گیا تیرا جانا
کوئ بھی سلسلہ نہیں باقی
درست، بلکہ اچھا شعر ہے۔

بس کمی کہ صرف تمہاری ھے
ورنہ دنیا میں کیا نہیں باقی
پہلا مصرع بحر سے خارج ہے۔ یوں کیا جا سکتا ہے
اک کمی سی تھی، بس تمیاری تھی
یا اک کمی سی فقط تمہاری تھی
اور بھی ممکن ہیں، ممکن ہے میرے مشوروں سے بہتر کچھ اور بھی سوچ سکیں۔

اس قدر حوصلہ نہیں باقی
شام بے جام و بنا ساقی
ایک اور مطلع کیوں؟ یا شاید یہ دو الگ الگ اشعار ہو سکتے ہیں۔ دوسری مصرع بحر سے خارج ہے
شام بے جان اور بنا ساقی
ممکن ہے۔
 

مغزل

محفلین
شکریہ بابا جانی ، طاہر صاحب آپ اسے درست کر کے دوبارہ پوسٹ ( اسی لڑی میں ) کر دیں تاکہ نئی شکل سامنے آسکے ۔والسلام
 
Top