اشعار جن میں رخ یار کا ذکر ہو

Daniel

محفلین
آداب،

میں چند دنوں سے کچھ اشعار کی تلاش میں تھا، کہ خیال آیا کہ یہ موضوع بزم والوں کے ٰلئے بھی دلچسپ ہو سکتا ہے۔ بات یہ ہے کہ جمعے کے روز میں تقریر دینے والا ہوں، اپنی دانشگاہ میں۔ کانفرنس کا موضوع ہے 'رخ خدا" اور مجھ سے کہا گیا ہے کہ میں پیپر پیش کروں جس میں عشق مجازی اور عشق حقیقی کی تفسیر ہو۔
مشکل یہ ہے کہ میں محض اردو کا طالب علم ہوں اور میں نے بہت کم اشعار حفظ کیا ہے۔ کیا آپ لوگ کچھ مشورہ دے سکتے ہیں؟ ایسے اشعار درکار ہیں جن میں معشوق کا رخ مذکور ہو، اور جن میں عشق مجازی اور عشق حقیقی دونوں حاضر ہوں۔

ایک دو مثالیں پیش کرتا ہوں:

حجاب رخ یار تھے آپ ہی ہم
کھلی آنکھ جب کوی پردہ نہ دیکھا



منظور تھی یہ شکل تجلّی کو نور کی
قسمت کھلی ترے قد و رخ سے ظہور کی


شکریہ!
 

محمد وارث

لائبریرین
چند اشعار میری طرف سے

یک نقطہ ترے صفحۂ رخ پر نہیں بے جا
اس مُکھ کو ترے صفحۂ قرآں سوں کہوں گا

(ولی دکنی)

------

عکسِ رخسار نے کس سے ہے تجھے چمکایا
تاب تجھ میں ‌ماہ کامل کبھی ایسی تو نہ تھی


(بہادر شاہ ظفر)

----

لحد میں عشقِ رخ شہ کا داغ لے کے چلے
اندھیری رات سنی تو چراغ لے کے چلے


(امام احمد رضا)

-----


 

جیہ

لائبریرین
کیوں جل گیا نہ، تابِ رخِ یار دیکھ کر
جلتا ہوں اپنی طاقتِ دیدار دیکھ کر


نظّارے نے بھی کام کِیا واں نقاب کا
مستی سے ہر نگہ ترے رخ پر بکھر گئی

دونوں شعر غآلب کے ہیں
 
Top