اشعار برائے اصلاح ۔۔متفرق اشعار۔ ساگر

ساگر

محفلین
ہم در در کا پانی نہیں پیتے جناب
ایک ہی کافی ہے جینے کے لیے جناب
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اب خساروں کا کیا حساب رکھنا
جب دل وجاں اس کا ہوا پھر حساب کیا رکھنا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔
سوچوں میں گم رہتا ہوں
جیسے میں تم رہتا ہوں
۔ ۔ ۔ ۔
ہر چیز اب بھروسے پر ایسے بیچی جاتی ہے
جیسے کالے رنگ کو گورا کرنے کی کریم بیچی جاتی ہے
۔ ۔ ۔
محبت ایک احساس کا نام ہے
اگر ہوجائے تو محسوس ہوتی ہے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اس کے حسن کا جلوہ ایسا ہے
موسی بھی نہ سہہ سکا ہے
اسکے حسن کا جلوہ ایسا ہے
کہ بیان نہیں۔ ۔ ۔ حد نہیں ھے
 

الف عین

لائبریرین
اان تک بندیوں میں کچھ میں تو تُک بھی نہیں ہے!! میرا مشورہ ہے کہ عروض میں کچھ شد بد پیدا کر لیں، اگر فطری شعری وجدان یا موزوں طبیعت موجود نہ ہو تو اس طرح سیکھ سکتے ہیں۔
 
Top