فراز اس نے سکوتِ شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا

محمد بلال اعظم

لائبریرین
اس نے سکوتِ شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا
ہجر کی رات بام پر ماہِ تمام رکھ دیا

آمدِ دوست کی نوید کوئے وفا میں گرم تھی
میں نے بھی اک چراغ سا دل سرِ شام رکھ دیا

شدتِ تشنگی میں بھی غیرتِ میکشی رہی
اس نے جو پھیرلی نظر میں نے بھی جام رکھ دیا

اس نے نظر نظر میں ہی ایسے بھلے سخن کہے
میں نے تو اس کے پاؤں میں سارا کلام رکھ دیا

دیکھو یہ میرے خواب تھے دیکھو یہ میرے زخم ہیں
میں نے تو سب حسابِ جاں برسرِ عام رکھ دیا

اب کے بہار نے بھی کیں ایسی شرارتیں کہ بس
کبکِ دری کی چال میں تیرا خرام رکھ دیا

جو بھی ملا اسی کا دل حلقہ بگوشِ یار تھا
اس نے تو سارے شہر کو کرکے غلام رکھ دیا

اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے
ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا
 
Top