اس مصرع کا مطلب کوئی تو بتائے؟؟؟

ساقی۔

محفلین
اس مصرع کا مطلب کوئی تو بتائے

میری اسائنمنٹ میں یہ مصرع سوال کی صورت ہے :

تیغ اردی نے کیا ملک خزاں مستاصل“

مجھے اس کاجواب میں مفہوم واضح کرنا ہے ۔ کوئی بتائے گا کہ اس کا مفہوم کیا ہے؟؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیز
کنار آب رکنا باد و گل گشت مصلی“ سے کیا مراد ہے؟


امید ہے اس مجلس کے فاضل ارکان میری مدد کریں گے۔
 

فخرنوید

محفلین
اس کا آئی ٹی سے کیا تعلق ہے؟

آئی ٹی فورم سے ہوتا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آخر بزم سخن میں پہنچنے پر مبارکباد قبول کریں۔
 

ساقی۔

محفلین
واہ یہ بھی خوب رہی، اس سے پہلے کے فخر نوید کنفیوز ہوں، آپ نے تو اسے آئی ٹی ہی میں شروع کیا تھا، بزمِ سخن میں تو میں نے بھیجا ہے :)
:(
گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ بر اندازِ چمن کچھ تو اِدھر بھی
 

ساقی۔

محفلین
اسائنمنٹ جمع کروانے میں 2 دن باقی ہیں پر کوئی مدد نہیں کر رہا ۔۔۔۔ مجھے فکر ہو رہی ہے!!!
 
یار ادھر بہت استاد لوگ ہیں میری تو کوئی اوقات نہیں ہے لیکن جو پہلا مصرعہ آپ نے لکھا ہے وہ مرزا رفیع سودا کے ایک قصیدہ کا ایک مصرعہ ہے تیغ اردی نے کیا ملک خزاں مستاصل“
یعنی بہار نے خزاں کا خاتمہ کردیا
باقی ادھر استاد لوگ موجود ہیں میں بہت زیادہ مصروف ہوں ورنہ ضرور کچھ کرتا
 

فاتح

لائبریرین
اس مصرع کا مطلب کوئی تو بتائے
میری اسائنمنٹ میں یہ مصرع سوال کی صورت ہے :
تیغ اردی نے کیا ملک خزاں مستاصل

مجھے اس کاجواب میں مفہوم واضح کرنا ہے ۔ کوئی بتائے گا کہ اس کا مفہوم کیا ہے؟؟
یہ تو مجھے معلوم نہیں کہ یہ کس کا مصرع ہے اور بغیر پورا شعر پڑھے مفہوم سمجھنا میرے لیے از حد دشوار ہے۔ میں بھی اسی انتظار میں تھا کہ اگر کسی نے مکمل شعر پڑھ رکھا ہو تو وہ اس کا مفہوم بتا دے۔
بہرحال آپ نے جو مصرع لکھا ہے اس کے الفاظ کے معانی سمجھنے کو کوشش ضرور کی جا سکتی ہے۔ تیغ بمعنی تلوار، اردی شاید صاف رنگ کو کو کہا جاتا ہے جب کہ مستاصل کا مطلب ہم نے بے تاب پڑھا ہے۔
لیکن مکمل شعر پڑھے بغیر ہمارے لیے مفہوم جاننا ممکن نہیں۔
نیز
کنار آب رکنا باد و گل گشت مصلی“ سے کیا مراد ہے؟
یہ حافظ شیرازی کی مشہور غزل (جس پر ہم بھی تضمین کا شوق پورا کر کے ہاتھ صاف کر چکے ہیں) "اگر آں ترک شیرازی بدست آرد دلِ ما را" کے ایک شعر کا مصرع ثانی ہے۔ مکمل شعر یوں ہے:
بدہ ساقی، مئے باقی کہ در جنت نہ خواہی یافت
کنارِ آبِ رکن آباد و گلگشتِ مصلیٰ را
دے دے ساقی، جو مے باقی ہے کہ جنت میں بھی نہیں ملیں گے
رکن آباد کا ساحل اور مصلیٰ کے باغات
(رکن آباد اور مصلی ایران کے دو علاقوں کے نام ہیں۔)
 

شاکرالقادری

لائبریرین
اس مصرع کا مطلب کوئی تو بتائے

تیغ اردی نے کیا ملک خزاں مستاصل“
امید ہے اس مجلس کے فاضل ارکان میری مدد کریں گے۔
حل اللغات:
تیغ == تلوار
اردی== ایرانی شمسی کیلنڈر کا دوسرا مہینہ ﴿اردی بہشت﴾ موسم بہار
ملک خزاں ==== خزاں کی سلطنت ﴿ موسم خزاں﴾
مستاصل ====== مستاصل کردن یعنی تباہ و برباد کر دینا ، تاخت و تاراج کرنا
مفہوم
موسم بہار کی تلوارنے خزاں کی سلطنت کو اجاڑ دیا
 

ساقی۔

محفلین
آپ سب احباب کا بہت ممنون ہوں۔ ورنہ میں تو سمجھا تھا:

ساحل پہ کھڑے لوگ ہر ڈوبنے والے پر
افسوس تو کرتے ہیں بچایا نہیں کرتے


پر شکر ہے یہ شعر غلط ثابت ہوا۔
ایک مرتبہ پھر سب کا شکریہ



امید ہے آپ کو پھر خدمت کرنے کا موقع دوں گا۔:)
 
Top