اس امید پہ روز چراغ جلاتے ہیں۔ زہرا نگاہ

سیما علی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 27, 2020

  1. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    20,562
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    اس امید پہ روز چراغ جلاتے ہیں
    آنے والے برسوں بعد بھی آتے ہیں

    ہم نے جس رستے پر اس کو چھوڑا ہے
    پھول ابھی تک اس پر کھلتے جاتے ہیں

    دن میں کرنیں آنکھ مچولی کھیلتی ہیں
    رات گئے کچھ جگنو ملنے جاتے ہیں

    دیکھتے دیکھتے اک گھر کے رہنے والے
    اپنے اپنے خانوں میں بٹ جاتے ہیں

    دیکھو تو لگتا ہے جیسے دیکھا تھا
    سوچو تو پھر نام نہیں یاد آتے ہیں

    کیسی اچھی بات ہے زہرہؔ تیرا نام
    بچے اپنے بچوں کو بتلاتے ہیں
     

اس صفحے کی تشہیر