اسلام میں شاعری کی حیثیت---صفحہ 8

الف نظامی

لائبریرین
page%20008.jpg
 

الف نظامی

لائبریرین
یہ واقعہ لکھنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی کی دوسری تخلیقات کی طرح لِے بھی کائنات میں ایک حقیقت ہے جسے ہم تخلیق کا ایک اہم جزو بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہی لَے شعر کا بنیادی وصف ہے ، اس کے بغیر شعر کو شعر نہیں کہا جا سکتا۔ دریاوں کا بہاو ، سمندروں کا تلاطم ، ہواوں کا خرام ، آوازوں کا زیر و بم ، زمین اور فضا میں اڑنے والے پرندوں اور جہازوں کی اڑان اور اجرامِ فلکی کی مختلف چالیں ، در حقیقت اسی لَے کی مرہونِ منت ہیں۔
دیکھا دیکھی شعر موزوں کر لینا اور بات ہے اور باقاعدہ شاعر ہونا اور شاعری کرنا بالکل اور بات ہے۔ بعض لوگ صرف وزن میں الفاظ جوڑ کر اور بعض اوزانِ شعر کا شعور نہ رکھنے کے باوجود محض تک بندی کی بنیاد پر خود کو بڑا شاعر سمجھ لیتے ہیں۔ یہ دونوں چیزیں شاعری کی تعریف کے سراسر خلاف ہیں۔
یہاں ہم اپنی مطالعاتی محنت اور ذوق کے تحت دنیائے شعر سے متعلق اساتذہء عروض کی تصریحات اور ان کی پیش کردہ تعریفاتِ اصطلاحات کا اجمالی ذکر مناسب سمجھتے ہیں ، تاکہ بعض سہل نٍگاروں پر یہ حقیقت واضح ہو جائے کہ شاعری صرف چند الٹے سیدھے لفظوں کو جوڑ لینے یا وزن میں دو مصرعے کہہ لینے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک باقاعدہ اور مشکل ترین فن ہے ، جسے باقاعدہ ایک علمِ موہوبی بھی کہہ سکتے ہیں ، ایسا علم جس کا سلسلہ وما علمنہ الشعر پر منتہی ہوتا ہے جسے خود اللہ تعالی نے ایک علم قرار دیا ، کیونکہ علمنا کا مادہ ء اشتقاق ثلاثی مجرد کی صورت میں علم ہی قرار پاتا ہے۔ اگر شعر گوئی کوئی باقاعدہ علم یا فن نہ ہوتا تو حضور سے اس کے انتفائے نسبت کے وقت مادہ علم سے مشتق لفظ استعمال میں نہ لایا جاتا۔ اس سے یہ امر بھی پایہ ثبوت کو پہنچا کہ شاعری نبی کے شایانِ شان ہونے کے باعث نبی کے لئے درجہ علم نہیں
 

سویدا

محفلین
شاعری کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں‌لیکن حوالہ بالا میں‌شاعری کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے کچھ زیادہ ہی مبالغے سے کام لیا گیا ہے

خصوصا صفحے کی آخری چار سطروں‌میں‌شاعری کے علم کے لیے جو دلیل پیش کی گئی ہے وہ دلیل صحیح نہیں‌ہے اس لیے کہ حضور سے شاعری کے ساتھ ساتھ جادوگری کی نسبت کی بھی نفی کی گئی ہے اب کیا اس سے جادو کے علم کی بھی اہمیت ثابت ہوجائے گی

حالانکہ جادو بالاتفاق حرام ہے

پھر یہاں‌جس طرح‌شعر کے لیے علم کی نسبت کی گئی ہے سورہ بقرہ میں‌جادو کے ساتھ علم کی نسبت لگائی گئی ہے ۔

میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ شاعری کی اہمیت کے لیے اس دلیل کے بجائے یہی کافی ہے کہ حضور نے حضرت حسان بن ثابت کو اہل اسلام کی طرف سے کفار کی شاعری کا جواب دینے کے لیے کھڑا کیا

مضمون کی آخری سطروں‌میں‌جو دلیل دی جارہی ہے وہ غلط ہے کیونکہ وہی دلیل بعینہ جادو پر بھی صادق آتی ہے
 

الف نظامی

لائبریرین
شاعری کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں‌لیکن حوالہ بالا میں‌شاعری کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے کچھ زیادہ ہی مبالغے سے کام لیا گیا ہے

خصوصا صفحے کی آخری چار سطروں‌میں‌شاعری کے علم کے لیے جو دلیل پیش کی گئی ہے وہ دلیل صحیح نہیں‌ہے اس لیے کہ حضور سے شاعری کے ساتھ ساتھ جادوگری کی نسبت کی بھی نفی کی گئی ہے اب کیا اس سے جادو کے علم کی بھی اہمیت ثابت ہوجائے گی

حالانکہ جادو بالاتفاق حرام ہے

پھر یہاں‌جس طرح‌شعر کے لیے علم کی نسبت کی گئی ہے سورہ بقرہ میں‌جادو کے ساتھ علم کی نسبت لگائی گئی ہے ۔

میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ شاعری کی اہمیت کے لیے اس دلیل کے بجائے یہی کافی ہے کہ حضور نے حضرت حسان بن ثابت کو اہل اسلام کی طرف سے کفار کی شاعری کا جواب دینے کے لیے کھڑا کیا

مضمون کی آخری سطروں‌میں‌جو دلیل دی جارہی ہے وہ غلط ہے کیونکہ وہی دلیل بعینہ جادو پر بھی صادق آتی ہے
معذرت عنوان غلط ہوگیا تھا۔
اسلام میں شاعری کی حیثیت
یہ بھی ٍغور فرمائیں کہ جادو کی کہیں مدح نہیں بیان کی گئی جبکہ شاعری کی تعریف میں آیات اور احادیث مل جاتی ہیں۔ مزید یہ کہ محض ایک صفحہ کے مطالعہ سے حتمی نتجہ قائم نہ کیجیے بلکہ سیاق و سباق کو دیکھ لیجیے:)
 

سویدا

محفلین
میرے بھائی میری بات کو غور سے سمجھیے !

شاعری کی حیثیت اور اہمیت سے کس روسیاہ کو انکار ہے

میری بات کو غور سے سمجھیے اگر سمجھ نہ آئے تو دوبارہ سے اوپر پڑھ بھی لیں

شاعری کی حیثیت اور اہمیت مسلمہ ہے اس سے کسی کو انکار نہیں‌

بات صرف آپ کے حوالے میں‌موجود ایک دلیل کی ہے کہ اس مضمون میں‌شاعری کی اہمیت کے لیے جو دلیل دی گئی ہے وہ دلیل غلط ہے

اگر وہ دلیل مان لی جائے تو اس سے جادو کا جائز علم ہونا ثابت ہوتا ہے اور مسلمانوں‌میں‌بہت سارے لوگ ایسے موجود ہیں‌جو جادو ٹونے کو حرام نہیں‌سمجھتے آپ کی شاعری کی اہمیت کی اس دلیل سے ان کو جادو کے جائز ہونے کی دلیل مل جائے گی

قرآن کی آیت کریمہ ہے وما کفر سلیمان ولکن الشیاطین کفروا یعلمون الناس السحر ، شاعری کے متعلق آیت ہے وما علمناہ الشعر وما ینبغی لہ

آپ کے دیے گئے مضمون کی آخری چار سطر میں‌استدلال یوں‌کیا گیا ہے کہ اللہ نے یہاں‌شعر کی نسبت کی نفی کی ہے اس کے لیے علم کا لفظ استعمال فرمایا ہے اب آپ سورہ بقرہ کی آیت کو دیکھ لیں‌وہاں‌بھی جادو کو علم کہا جارہا ہے

ہاں‌شاعری کی اہمیت کے لیے یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ حضور نے حضرت حسان بن ثابت کو مسلمانوں‌کی طرف سے شاعری کی زبان میں‌جواب دینے کو کہا اور آپ کی زبان سے ایک مرتبہ خود بلا ارادہ یہ شعر جاری بھی ہوگیا
انا النبی لا کذب
انا ابن عبدالمطلب
 
سویدا جی بات اتنی بھی سیریس اور گھمبیر نہیں ہے جتنی آپ سمجھ رہے ہیں۔ ۔ ۔یہاں کوئی اتنا ناسمجھ نہیں ہے کہ الف نظامی صاحب کی پوسٹ سے 'گمراہ' ہوکر جادو کو حلال سمجھنے لگ پڑے گا۔ ۔ ۔:cool:
الف نظامی صاحب کی پوسٹ میں صرف اتنا کہا گیا ہے کہ شاعری ایک باقاعدہ فن ہے۔ بات جائز یا ناجائز کی نہیں ہورہی۔ بیشک جادو بھی ایک فن ہی ہے۔ بلکہ ایک حدیثِ مبارکہ میں تو خطابت و بیان کو بھی سحر قرار دیا گیا ہے کہ بسا اوقات سننے والوں پر ایک سحر سا طاری ہو جاتا ہے اب اس سے یہ کوئی بھی نہیں سمجھے گا کہ بس جی فصاحتِ بیان بھی جادو ٹونہ ہے اسلئے حرام ہے۔:grin:
 
معذرت عنوان غلط ہوگیا تھا۔
اسلام میں شاعری کی حیثیت
یہ بھی ٍغور فرمائیں کہ جادو کی کہیں مدح نہیں بیان کی گئی جبکہ شاعری کی تعریف میں آیات اور احادیث مل جاتی ہیں۔ مزید یہ کہ محض ایک صفحہ کے مطالعہ سے حتمی نتجہ قائم نہ کیجیے بلکہ سیاق و سباق کو دیکھ لیجیے:)

اس کتاب کے غلاف کا عکس دیکھ کر حیرت ہوئی ۔
الحکمہ پر تنوین بھی ہے اور الف لام بھی ۔ یہ تو عربی کے مبتدی طالب علم بھی جانتے ہیں کہ یہ دونوں ایک لفظ پر اکٹھے نہیں آتے ۔
میرے ناقص علم کے مطابق حدیث مبارک کے اصل الفاظ یوں ہیں ۔
إن من الشعر حكما ۔
دیکھیے سنن ابن ماجہ جلد2/ص1236حدیث نمبر 3756
 

عثمان رضا

محفلین
محترم حضرات !
ورکنگ زون میں ہیں آپ حضرات یہ ذہن میں رکھیں ۔
الف نظامی صاحب ایک کتاب کو ٹائپ کررہے ہیں ۔ بالفرض مان لیں غلط بھی ہے تو وہ تبدیلی تو نہیں کرسکتے نا ۔ اچھا خاصا مناظرہ بنایا ہوا ہے یہاں ۔اگر کسی کو اعتراض ہو تو وہ الف نظامی صاحب سے رابطہ کرکے معاملات درست کرسکتا تھا ۔
گر کسی کو میری بات بری لگی تو معافی کا طلبگار ہوں میں
 

سویدا

محفلین
میرے بھائیوں‌میں‌نے کوئی مناظرہ نہیں‌کیا ہے نہ مجھے کوئی اعتراض‌ہے

میں نے صرف ایک گذارش کی تھی کہ اس صفحے میں جو ایک استدلال تھا وہ بنیادی طور پر ٹھیک نہیں‌ تھا


نہ میں‌نے کوئی جھگڑا کیا ہے اور نہ ہی خدا نخواستہ کوئی مباحثہ

شاید میری بات کو ان صاحب نے سمجھا نہیں‌یا سمجھا ہے تو اب وہ یہ ماننے کو تیار نہیں‌کہ وہ استدلال غلط ہے

بس ! باقی وہ کتاب ضرور ٹائپ کریں اس سے کس نے روکا ہے ان کو لیکن اختلاف رائے کا حق ہر ایک کو حاصل ہے اور دلیل کے ساتھ

اور میں‌نے جو اختلاف رائے کیا تو اس کی دلیل بھی دی کوئی اپنی طرف سے نہیں‌کیا قرآن کی ایک آیت کے ذریعے ہی کیا کہ شعر کی اہمیت کے لیے جو دلیل دی جاری ہی ہے وہ دلیل جادو پر بھی منطبق ہورہی ہے
 

سویدا

محفلین
اور حدیث کے صحیح الفاظ یہ ہیں‌کہ ان من الشعر لحکمۃ

اس میں‌الف لام نہیں‌ہے بلکہ صرف لام ہے اور یہ لام تاکید کے لیے ہے اور ان حروف مشبہ بالفعل جس جملے میں‌استعمال ہوتا ہے تو وہاں‌لام تاکید کا بھی بسا اوقات استعمال ہوتا ہے

اس حدیث کا اگلا جملہ یوں‌ہے وان من البیان لسحرا یہاں‌بھی لام تاکید کے لیے ہے

جیسے قرآن میں‌ہے ان اللہ بالناس لرؤوف رحیم
 
Top