اسلام اور موسیقی

الف نظامی

لائبریرین
کیا اسلام کیا موسیقی!!! جہاں اتنی سنتیں (داڑھی سے لیکر ام ولد تک) ترک کی ہیں وہاں ایک اور سہی۔

اوہ بہت خوب! لیکن یہ کیا تم تو دہریے ہو ، اسلام سے تمہارا کیا واسطہ؟
مسلمانوں کے بھیس میں کچھ چمتکار دکھاو تو بات بنے۔
 

فرید احمد

محفلین
فاروق صاحب خوب ذہن نشین کر لیں آپ میرے استاذ ، ممتحن یا اور کوئی مربی ، سرپرست نہیں جو ایسے تحکمانہ سوالات کرنے لگ گئے ۔
آپ اپنی معلومات کے لیے کچھ پوچھ سکتے ہیں ، فتنہ پھیلانے کے لیے نہیں ۔ اپ کے الفاظ واضح کرتے ہیں کہ آپ فتنہ پروری کے لیے پوچھتے ہیں، آپ کہتے ہیبں کہ طریقہ نماز دوسروں کو بتا دوں ۔
کیا تم نماز پڑھنے سے سروکار نہیں ؟
زکوۃ کے بارے میں اور لباس کے بارے میں قرآن کیوں خاص کر دیا ۔ اس بارے میں بھی قرآن کے ساتھ احادیث واضح ہدایات دیتی ہیں ، جو قرآن کے اصلی احکام کو واضح فرماتی ہیں ۔
میں نے اگلی پوسٹوں میں آپ سے بیسیوں سوالات اٹھائے ہیں ، آپ نے بھی کسی کو منہ بھی نہیں لگایا ، ذرا ہمت ہو تو آپ بھی میری باتوں کا جواب دے دو ۔
یاد رہے یہ باتیں فرار کے لیے نہیں ۔
یہ سوالات اتنے آسان ہے کہ میرا ادنی طالب علم بھی مختصر وقت میں جواب فراہم کر سکتا ہے ۔ میرا رات دن کا مشغلہ بحمدللہ یہی ہے ۔ قرآن و حدیث ہی پڑھنا پڑھانا ہمہ وقتی کام ہے ، الحمد للہ ، اللہ تعالی اس کے دین کی خدمت کرنے کی مزید توفیق دے اور ہر وقت علم و عمل میں لگائے رکھے ۔
 
فاروق صاحب خوب ذہن نشین کر لیں آپ میرے استاذ ، ممتحن یا اور کوئی مربی ، سرپرست نہیں جو ایسے تحکمانہ سوالات کرنے لگ گئے ۔
آپ اپنی معلومات کے لیے کچھ پوچھ سکتے ہیں ، فتنہ پھیلانے کے لیے نہیں ۔ اپ کے الفاظ واضح کرتے ہیں کہ آپ فتنہ پروری کے لیے پوچھتے ہیں، آپ کہتے ہیبں کہ طریقہ نماز دوسروں کو بتا دوں ۔
کیا تم نماز پڑھنے سے سروکار نہیں ؟
زکوۃ کے بارے میں اور لباس کے بارے میں قرآن کیوں خاص کر دیا ۔ اس بارے میں بھی قرآن کے ساتھ احادیث واضح ہدایات دیتی ہیں ، جو قرآن کے اصلی احکام کو واضح فرماتی ہیں ۔
میں نے اگلی پوسٹوں میں آپ سے بیسیوں سوالات اٹھائے ہیں ، آپ نے بھی کسی کو منہ بھی نہیں لگایا ، ذرا ہمت ہو تو آپ بھی میری باتوں کا جواب دے دو ۔

تمام علمی اور اعتراضی سوالات کے جوابات دیتا رہا ہوں باقاعدگی سے ۔ صرف 'ان اصل احکامات' کے حوالہ جات درکار ہیں۔کہ قرآن پر دسترس کا اندازہ ہو۔ جب تک کسی کی بنیادی معلومات کا اندازہ نہ ہو تو پتہ نہیں کہ بات کہاں سے شروع کی جائے ۔جب تک مناسب جوابات نہیں‌ملتے۔ مزید سوالات کے جواب سے گریز کروں گا۔ سوالات بنیادی نوعیت کے ہیں کہ اندازہ ہوسکے کہ کس طرح اپنی وضاحت کی جائے مستقبل میں۔

والسلام
 

فرید احمد

محفلین
آپ نے تو اوپر بتایا تھا کہ نماز کے طریقہ کا سوال فقط فتنہ پھیلانے کے لیے ہیں ۔ اور وہ حدیث سے مانگا ۔
زکوۃ اور لباس کا سوال قرآن سے مانگا ؟
این چہ بوالعجبی ا ست
 

شاکرالقادری

لائبریرین
برادران مکرم!
بہت اھم مو اور نازک موضوع پر بحث کا آغاز کیا ہے آپ لوگوں نے اور ابتدائے بحث میں تو حد اعتدال متعین کی جا رہی ہے لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں موسیقی کا یہ دھاگہ بے ہنگم شورو غل کا مرکز نہ بن جائے فنون لطیفہ پر بحث ہوتے ہوتے کہیں گفتگوئے ثقیلہ نہ شروع ہو جائے اگر اس بات کا خیال رکھا جائے تو یقینا یہاں علمی مواد جمع ہوگا
صاحبو!

اسلام میں کسی بھی چیز کی حرمت یا حلت کے لیے مضبوط جواز موجود ہوتا ہے اور کسی بھی چیز کو بغیر کسی معقول اور مضبوط جواز کے حرام قرار نہیں دیا جا سکتا یہی حال موسیقی کا بھی ہے

ابتدائے اسلام سے لیکن آج تک اس بارے میں مختلف نظریات موجود ہیں اور ہر نکتہ نظر کے حامل لوگ اپنے اپنے نظریات کے حق میں دلاائل لاتے رہے ہیں
کچھ لوگ موثیقی کی حرمت کے قائل ہیں اور وہ اس کے لیے دلائل پیش کرتے ہیں اور ان کے پاس سب سے بڑی دلیل "لہوالحدیث" والی آیت ہے فاروق صاحب سے گزارش ہے کہ وہ اس کا حوالہ اور پوری آیت یہاں لگا دیں تاکہ بعد میں اس پر گفتگو ہو سکے

کچھ لوگ موسیقی کی حلت و اباحت کے قائل ہیں اور وہ بھی اپنے حق میں دلاائل لاتے ہیں وہ اپنے حق میں قرآن کریم کی وہ آیات لاتے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ اھل جنت کو "پاکیزہ نغمے" سنائے جائیں گے فاروق صاحب آپ ایسی تمام آیات کو بھی یہاں باحوالہ مہیا فرما دیں تو نوازش ہوگی

ایک اور آیت کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے جس میں "گدھے کی آواز کو ناپسندیدہ تریین آواز" کہا گیا ہے

اس کے قائلین اور ناقدین اس سلسلہ میں مختلف احادیث کے حوالے بھی دیتے ہیں جن میں دونوں طرح کے دلائل موجود ہیں

اس موضوع پر مولانا سید جعفر شاہ پھلواروی نے ایک مبسوط اور مفضل کتاب تحریر فرمائی ہے جس کا ناام ہے"اسلام اور موسیقی" ادارہ ثقافت اسلامیہ پاکستان نے شائع کی ہے ۔ اس کتاب میں مولانا نے موضوع پر تحقیق کا حق ادا کر دیا ہے

اس کے علاوہ امام غزالی کی احیاء العلوم میں بھی اس کی تفصیلی بحث موجود ہے
اس پر عقلی اور منطقی دلائل بھی پیش کیے جا سکتے ہیں

لیکن اس سب سے پہلے میری درخواست ہے کہ یہاں پر موسیقی کی تعریف متعین کر لی جائے اور سارے لوگ اس سے متفق ہو جائیں ککہ موسیقی سے ہماری مراد کیا ہے اگر ہم اس بنیادی نقطہ پر متفق نہیں ہونگے تو ہہم موضوع کا حق ادا نہیں کر سکیں گے ہوسکتا ہے جس میں موسیقی سمجھتا ہوں وہ سراسر حلال ہو اور جسے کوئی اور موسیقی سمجھ رہا ہے وہ سراسر حرام ہو اس لیے ہمیں پہلے یہ متعین کرنا ہوگا کہ ہمارے نزدیک موسیقی ہے کیا؟؟؟؟

اگر احباب میرے اس مشورے پر عمل کرتے ہوئے موسیقی کی ایک تعریف پر متفق ہو جاتے تو یوں لڑائی نہ ہوتی اور ایک دوسرے پر ذاتی اور شخصی حملے نہ کیے جاتے

میں نے پہلے عرض کیا کہ ہر چیر کی حلت یا حرمت کے لیے کوئی نہ کوئی علت ہوتی ہے

جیسا کہ سعدی رحمة اللہ علیہ نے فرمائی

دروغ مصلحت آمیز بہتر از راستی شر انگیز

دو افراد کے مابین صلح کرانے کے لیے جھوٹ بول دیا جائے تو کوئی قباحت نہیں

اور دو افراد کو لڑانے کے لیے کوئی سچ بول دیا جائے تو وہ نا پسندیدہ ہے

کیونکہ
اس سچ بولنے کی علت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لڑائی کروانا ہے
اور اس جھوٹ بولنے کی علت ۔۔۔۔۔۔۔ اصلاح ہے

اسی طرح موسیقی کا معاملہ بھی ہے

کونسی موسیقی مبنی برا خرافات ہے

اور کونسی موسیقی خرافات سے پاک ہے

پہلے موسیقی کی تعریف متعین کریں پھر دلائل لائیں تو کوئی علمی مقالہ وجود میں آئے گا ورنہ تو جو ہو رہا ہے وہی ہوتا رہہے گا
 

ظفری

لائبریرین
محترم استاد شاکر القادری صاحب کی اس پوسٹ کے بعد مجھ میں ہمت ہوئی کہ میں بھی اس موضوع پر کچھ کہہ سکوں ۔ کیونکہ یہ دھاگہ میں نے شروع کیا تھا اور اس امید پر کیا تھا کہ شاید یہاں عقلی دلائل کے ساتھ ساتھ علمی اور تاریخی حقائق بھی تحمل اور اخلاقی معیار کی بنیاد پر پیش کیئے جائیں گے ۔ مگر یہاں بھی مسلکی اور فقہی مسئلہ کھڑا ہوگیا اور اپنی سمت پر چلتا ہوا نہ دیکھ کر یہاں بحث و مباحثہ کا ایسا طوفان کھڑا ہوگیا کہ جس وجہ سے اس دھاگے کی افادیت جاتی رہی ۔ آپسی برتری کا احساس اور اپنے موقف کو درست سمجھتے اور مانتے ہوئے ذاتی جملہ بازی میں کوئی کسر اٹھائی نہیں رکھی گئی ۔ بہت بدمزگی ہوئی ۔ بہت دل ُدکھا کہ جس بات کا جواب نہیں اس پر خاموشی اور تحمل جو ایمان کی نشانی کا مظہر ہے اس کا مظاہرہ کیا جاتا نہ کہ کسی کی ذاتیات کو نشانہ بنایاجاتا اور نہ ہی کسی کے ایمان پر محض اپنے عقائد کی بنیاد پر کسی کا شبہ کرنا کسی بھی طور سے ایک مثبت عمل تھا ۔

اگر ایسا ہی تند و تیز ، جارحانہ لہجہ اور رویہ اسلام کی سربلندی اور تشہیر کی خواہش رکھنے والوں کا ہے تو اسلام کہاں اور کن لوگوں میں پھیلے گا یا اسلام کی سمجھ ایک عام مسلمان کو کیسے ہوگی ۔ یہ بات سمجھنے سے عقل قاصر ہے ۔ بات ضد اور ہٹ دھڑمی سے شروع ہوئی اور ایک دوسرے کی ذاتیات میں خنجروں کی طرح پیوست ہو کر ختم ہوگئی ۔ سمجھ نہیں آتا کہ اس ماحول میں کون اپنا نقطہ ِ نگاہ واضع کر پائے گا کہ یہاں ہر وقت فتوؤں کی تلوار سروں پر لٹک رہی ہوتی ہے ۔ بات اس وقت سنی اور سمجھی جائیگی جب آپ کسی اور کی بات سن اور سمجھ رہے ہوتے ہیں ۔ اور اس قسم کے بحثوں میں تحمل اور صبر ہی ایسی چیز ہے جس پر قائم رہ کر آپ اپنی بات صحیح طور پر واضع کر سکتے ہیں ۔ ورنہ آپ یہ کہہ کر یہ بات ختم کرسکتے ہیں ، تمہارا ایمان تم جانو ، ہمارا ایمان ہم جانیں ۔ کیونکہ میں نہیں سمجھتا کہ یہاں‌کوئی ایسا ہو کہ جسے اللہ کے طرف سے براہِ راست یہ سند ملی ہو کہ اس کا ایمان صحیح ہے ۔ ہم اپنے ایمان کا محاسبہ اپنے عقائد اور نظریات کی بنیاد پر کرتے ہیں اور اس میں اختلاف ممکن ہے ۔ میں پھر بھی اس تپش کے ماحول میں اپنے خیالات اور معلومات شئیر کرنا چاہتا ہوں ۔ جو ماحول اچھا ہوتے ہی یہاں پیش کرنے کی کوشش کروں گا ۔
 

ظفری

لائبریرین
جو چیز انسان کو شرک اور بے حیائی کی طرف مائل کردے یا کوئی ایسی چیز جو انسان کو اس کی بنیادی ذمہ داریوں ، عبادات اور ضروریات سے غافل کردے ۔ ایسی صورت میں جو جائز چیز ہوگی وہ بھی اس وقت ناجائز ہوجائے گی ۔ اور اسکا تعلق صرف موسیقی سے ہی نہیں بلکہ وہ کوئی بھی چیز ہوسکتی ہے ۔ مثلاً اگر کوئی شخص صرف سیر وتفریح ہی کرنے لگے یا کوئی شخص اس طرح شاعری کرنے لگے کہ وہ اپنے فرائض سے غافل ہوجائے ۔ تو یہ چیزیں بھی ناجائز بن جائیں گی ۔ اگر بات موسیقی کی ہے تو پوری کائنات میں موسیقیت کے مظاہر ہر جگہ ملیں گے ۔ پانی کے جھرنوں کا گنگنانا ، پرندوں کا مخصوص انداز میں چہچہانا ، ہوا کی سرسراہٹ ۔ سب فطرت کی موسیقی کے ہی مظاہر ہیں ۔ اور قرآن نے جس طریقے سے کہہ دیا ہے ۔
کہ ۔
” قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِینَةَ اللهِ الَّتِی أَخْرَجَ لِعِبَادِہِ وَالطَّیِّبَاتِ مِنْ الرِّزْقِ قُلْ ہِیَ لِلَّذِینَ آمَنُوا فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَوْمَ الْقِیَامَةِ کَذَلِکَ نُفَصِّلُ الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ ۔ ( سورہ مائدہ ۔ آیت نمبر 90 )

ترجمہ: کہہ دو کہ کس نے اللہ کی اس زینت کو جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کی ہے اور دلپسند اور پاکیز ہ رزق کو اپنے اوپر بغیر کی دلیل کے حرام قرار دیا ہے۔ کہہ دو کہ یہ نعمتیں دنیوی زندگی میں مومنین کے لئے ہیں (اگرچہ کفار بھی ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔)۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ موسیقی بنیادی طور سے جائز ہے بشرطیکہ اس میں شرک اور بے حیائی نہ ہو ۔ اور وہ انسان کو اس کی اہم زندگی کی ضروریات سے غافل نہ کردے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم قرآن مجید کو سامنے رکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ موسیقی کو حرام قرار دینے کے لیئے قرآن مجید میں کوئی بنیاد موجود نہیں ہے ۔ اور جب ہم احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو جتنی بھی صحیح احادیث ہیں ۔ وہ موسیقی کی حلت پر یعنی اس کے حلال ہونے کی طرف اشارہ کرتیں ہیں ۔ اور جتنی بھی ضعیف احادیث ہیں وہ اس کو حرام قرار دیتیں ہیں ۔

ایک حدیث کی طرف توجہ مبذول کرواتا ہوں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ” مجھے آلاتِ موسیقی کو توڑنے کے لیئے بھیجا گیا ہے ” اور جب اس کی تفصیل میں جانے کا اتفاق ہوا تو معلوم ہوا کہ یہ ایک انتہائی ضعیف حدیث ہے ۔ یعنی اس بات کا تعلق حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت نہیں ہوتا ۔ اس کو ثابت کرنا ایک بہت بڑی جسارت ہوگی ۔ لہذا ایسی احادیث پر کسی چیز کے حرام ہونے کا فتویٰ نہیں لگایا جاسکتا ۔

سو سال پہلے علامہ اقبال نے اپنے لیکچر Reconstruction Religoin Theory Of ISLAM میں کہا تھا کہ ” مسلمانوں نے پانچ سو سال سے سوچنا بند کردیا ہے ۔ ” اب ایک لکیر پر سفر شروع ہوگیا ہے ۔ اگر اس پر کسی قسم کے خیالات یا نظریات کا اظہار کیا جائے تو وہ فتوؤں کی گرفت میں آجاتا ہے ۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ موسیقی کے اکثر آلات مسلمانوں کی ہی ایجاد کردہ ہیں ۔ گٹار اسپین کے مسلمانوں نے ایجاد کیا ۔ طبلہ اور ستار امیر خسرو کی ایجاد ہیں ۔ ۔ مسلمان معاشرے میں جو بھی ترقی ہوئیں وہ پندرھویں یا سولویں صدی سے قبل کی ہیں کہ اس وقت مسلمان سوچ رہا تھا ۔ اور مسلمانوں نے اس قسم کی جو بھی ایجادات کیں وہ محض تفریح کے لیئے نہیں بلکہ ایک تخلیقی کام کو آگے بڑھانے اور زندہ رکھنے کے لیئے تھیں ۔ کیونکہ تفیہمِ نو کا سفر جاری تھا ۔

کسی بھی چیز کو ناجائز قرار دینے کے لیئے ایک مضبوط دلیل کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس کو آپ محض کمزور احادیث پر حرام قرار نہیں دے سکتے ۔ جب ہم موسیقی کے حوالے سے تمام روایات کو اکٹھا کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بخاری اور مسلم میں جو احادیث ہیں ۔ وہ اس طرف اشارہ کرتیں ہیں کہ بغیر کسی استثناء کے وہ تمام چیزیں جن میں شرک اور بےحیائی نہ ہو تو ان میں کوئی ناجائز ہونے کی بات نہیں ہے ۔

واحد صحیح حدیث جس میں موسیقی کا تذکرہ ملتا ہے وہ یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ” جن چیزوں کی قیامت کے دن اکثریت ہوجائے گی ۔ ان میں سے ایک چیز موسیقی بھی ہے ۔ ”
یہ حدیث بلکل ٹھیک ہے ۔ لیکن اس حدیث میں خبر دی گئی ہے کوئی حکم نہیں دیا گیا ہے ۔ تو اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قربِ قیامت میں لوگ ان چیزوں میں اس طرح منہمک ہوجائیں گے کہ وہ نہ صرف اپنی عبادات بلکہ اپنی زندگی کی ذمہ داریوں کو بھی بھلا دیں گے ۔ اب بانسری کی بات ہے تو ایک صحیح روایت میں یہ بات بھی آئی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک سائبان کو بانسری بجاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ ” یہ سفر کی کلفت دور کرنے کا کتنا اچھا طریقہ ہے ۔ ” چنانچہ جتنی بھی دو چار حدیثیں جو موسیقی کے خلاف پیش کی جاتیں ہیں ۔ اور محدثین نے ان پر جس طرح کے اعتراضات کیئے ہیں اور بتایا ہے کہ ان میں سے ہر ایک روایت میں ایسی چیزیں ہیں جو ان کو کمزور بنا دیتیں ہیں اور جن بنیاد پر یہ کہنا کہ موسیقی حرام ہے یہ بات ٹھیک نہیں ہے ۔ البتہ اس کی بنیاد پر ہم یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ وہ تمام چیزیں جو انسان جو بےحیائی کی طرف راغب کر ے اور ذمہ داریوں اور عبادات سے دور لے جائے ان میں موسیقی ” بھی ” ہوسکتی ہے ۔ ایسی صورت میں موسیقی کی بھی ممانیت ہوجائیگی ۔

اگر حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی چیز کو حرام قرار دیا ہے اور ہم کوشش کر کے اس کو جائز ثابت کریں دین میں یہ کوئی مثبت رویہ نہیں ہے ۔ جس کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرام قرار دیا ہو اس کو کوئی بھی مسلمان حلال قرار دے نہیں سکتا ۔ لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ بھی ایک ناپسندیدہ رویہ ہے کہ اگر ہمارے درمیان کوئی علمی اختلاف ہو رہا ہو اور اٹھ کر کوئی یہ کہہ دے کہ تم اپنی خواہشِ نفس کی بنیاد پر یہ بات یہ کہہ رہے ہو تو یہ بھی ایک ناپسندیدہ رویہ ہوگا جتنا کہ پہلے والا ہے ۔ لیکن اگر کوئی موسیقی کو سننا چاہتا ہے تو میں اس کے جواز کو مانتا ہوں ۔ اب یہ جواز کو ماننے والی بات کیا ہے کہ جتنی بھی چیزیں جو حلال و حرام اور گناہ کبیرہ کی نوعیت کی ہیں ۔ یا فرض کی نوعیت کی ہیں ۔ تو اس کا ذکر لازماً قرآن میں ہوا ہے ۔ کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہو کہ

” یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنَّمَا الْخَمْرُوَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ہ
( سورہ اعراف ۔ آیت نمبر ( 32)

ترجمہ۔ اے ایماندارو! شراب، جوا، بت اور قرعہ کے تیر تو پلیدی اور شیطانی کاموں میں سے ہیں لہٰذا تم ان سے اجتناب کرو ہو سکتا ہے کہ تم فلاح پا جاؤ۔

یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ان کے ساتھ اللہ موسیقی کو نہ ملائے ۔ اس کے بعد جب ہم روایت کی بنیاد پر آتے ہیں تو کسی روایت کے ذریعے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی ایسی بات ہمیں پہنچی ہوئی ہوتی کہ اے مسلمانو! موسیقی تم پر مکمل طور پر حرام ہے ۔ اس کے آلات تم پر حرام ہیں ۔ اس کا سننا تم پر حرام ہے تو مسلمان اس کے سامنے اپنا سرخم تسلیم کر لیتے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کی کوئی بات موجود ہی نہیں ہے ۔ مہیز مختلف ذرائع سے سے بالواسطہ یہ بات لائی جانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔

بہت ساری چیزیں ایسی ہیں کہ جو سنداً ثابت ہوجاتیں ہیں ۔ لیکن محدثین ان پر تنقید درایت کے اصولوں پر کرتے ہیں ۔ یہ ایسی ہی بات ہے کہ ایک دفعہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ ” حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ گھر ، گھوڑے اور عورت میں نحوست ہوتی ہے ۔ ” یہ بات جب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا تک پہنچی تو انہوں نے ارشاد فرمایا کہ ” ابوہریرہ نے ہمیں تو گھر اور گھوڑے کے ساتھ ملا دیا ۔ ” حقیقت یہ نہیں تھی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے فرمایا تھا ۔ بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں ارشاد فرمایا تھا کہ ” زمانہ جاہلیت میں لوگ ان چیزوں کے درمیان نحوست محسوس کرتے تھے ۔ ” چناچہ درایت کے اصولوں کے مطابق بےشمار روایتوں پر نقد و جرح ہوچکی ہے اور یہ بات کہی جاچکی ہے کہ یہ چیز اس طرح عقل و فطرت اور قرآن مجید کے اصولوں کے خلاف ہے ۔ اور اس بنیاد پر ایسی روایات ماننے کے قابل نہیں ہوتیں ۔ جب ان تمام چیزوں کو اس طرح ملا لیا جاتا ہے ۔

اس سلسلے میں دو کتابیں پڑھنے کے قابل ہیں ۔
ایک ” اسلام اور موسیقی ” جو مولانا جعفر شاہ پھلواری نے لکھی ہے (اس کا ذکر شاید کسی دوست نے کیا یہاں کیا ہے ) ۔

اور دوسری کتاب جس کا نام بھی ” اسلام اور موسیقی ” ہے ۔ اس کو جناب مفتی محمد شفیع نے لکھا ہے ۔

اگر ان دو کتابوں کو پڑھ لیا جائے اور پھر اپنے اندر کے مفتی سے پوچھا جائے تو وہ صاف طور پر بتا دیتا ہے کہ کونسی روایت غلط ہے اور کونسا اس کا طریقہ کمزور ہے ۔
 

غازی عثمان

محفلین
2007-08-09.gif
 

غازی عثمان

محفلین
ظفری بھائی !!
دھاگے پر ہونے والی "بحث" یقینا آپ کے مطلوبہ جوابات فراہم نہیں کررہی ہوگی۔ اس لئے میں نے یہ آرٹیکل پوسٹ کرا ہے۔ ذاتی طور پر میں دین کا معمولی سا طالب علم بھی نہیں ہوں اور اگر ہوتا بھی تو شاید محفل پر موجود بڑی بڑی علمی شخصیات کی موجودگی میں ذاتی نقطہ نگاہ پیش نہ کر پاتا ۔۔۔
 

شاکرالقادری

لائبریرین
بہت مفید علمی مواد پیش کیا گیا ہے تاہم
ابھی تک یہ طے نہیں کیا گیا کہ موسیقی کیا ہے

کیا مختلف سریلی آوازوں کو حسن ترتیب سے پیش کرنے کا نام موسیقی ہے ؟؟؟

تو اس کی حرمت پر قیامت تک کوئی دلیل نہیں لائی جا سکے گی

کیا مختلف اشعار کو لحن کے ساتھ گانے کا نام موسیقی ہے؟؟؟؟؟

تو ان اشعار کے مضمون کے اعتبار سے اس کی حرمت و حلت کا حکم لگایا جائے گا

کیا سریلی آوازوں اور بیہودہ اشعار اور جنسی ہیجان پیدا کرنے والے رقص کے مجموعے کا نام موسیقی ہے ؟؟؟؟؟؟؟

تو اس کی حرمت میں کو ئی شک نہیں

اگر بات موضوع پر رہے رہہے اور درمیاں میں لڑائی شروع نہ ہو جائے تو موسیقی کے بارے میں علما محدثین اور فقہا کے ہاں موجود روایات اور ان کی آراء کو بلا تبصرہ یہاں پر نقل کیا جا سکتا ہے
جب خام مال موجود ہو جائے تو احباب اس مواد کے پیش نظر بحث و جدال کا آغاز کر سکتے ہیں
اسکی ترتیب یہ ہے کہ
1۔۔۔۔۔۔۔ اس بات کا تعین کہ موسیقی کیا ہے
2۔۔۔۔۔ اس بات کا تعین کہ موسیقی کی اقسام کتنی ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس بات کا تعین کہ انسانی آواز میں لحن پیدا کرنا موسیقی میں داخل ہے یا نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس بات کا تعین کہ وہ اشعار جو غیر اخلاقی مواد پر مشتمل نہ ہوں ان کا گاناکیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس بات کا تعین کہ علم راگ اور علم موسیقی کا حصول کیسا ہے
۔۔۔۔۔۔۔ اس بات کا تعین کہ آج بڑے بڑے قرا اور موذن اپنی قرات اور آذان کو علم موسیقی کے معروف راگوں کے سروں میں مزین کرتے ہیں وہ کیسا ہے
3۔۔۔۔۔ اس بات کا تعین کہ کون کون سی اقسام موسیقی اپنے اندر کیا کیا فائدے اور کیا کیا نقصانار رکھتی ہیں
4۔۔۔۔۔ قرآن حکیم میں موسیقی کی ممانعت کی کوئی نص قططعی موجود ہے یا نہیں
5۔۔۔۔ یہ کہ قراں حکیم میں موسیقی کا ذکر ہے یا نہیں
6۔۔۔۔ یہ کہ مختلف احادیث اور روایات میں موسیقی کا ذکر ہے یا نہیں
7۔۔۔ موسیقی کی ممانعت میں وارد احادیث
8۔۔۔۔ موسیقی کے جواز میں وارد احادیث
9۔۔۔۔۔ صحابہ کا عمل
01۔۔۔ تابعین اور تبع تابعین کا عمل
11۔۔۔ محدثین کی آراء اور نظریہ
12۔۔۔۔ فقہا کی آرا اور نظریہ
13۔۔۔۔ اھل تصوف اور موسیقی
اگر بات ترتیب و تہذیب کے ساتھ کی جائے تو یقینا ایک علمی کام ہو گا ورنہ اس دھاگے کی نوعت بھی دنگل کی سی ہو جائے گی
 
میرے خیال سے اس دھاگہ کو صاف کرنے کی اشد ضرورت ہے بہت سی غیر متعلقہ پوسٹس در آئی ہیں جن کی یہاں بالکل گنجائش نہیں ہے۔ ظفری اور شاکر القادری صاحب نے بہت عمدہ گفتگو کی ہے اور میرا خیال ہے اسی طرح ٹریک پر رہ کر بات ہو تو لطف بھی رہے گا اور سمجھنے میں آسانی بھی۔ میں بھی اس میں حصہ لینا چاہتا ہوں مگر چاہتا ہوں کہ جس طرح ظفری اور شاکر القادری نے موضوع پر رہتے ہوئے بات کی ہے ویسے ہی بات ہو اور دلائل سے ہو ظن سے نہیں۔
 

شاکرالقادری

لائبریرین
میرے خیال سے اس دھاگہ کو صاف کرنے کی اشد ضرورت ہے بہت سی غیر متعلقہ پوسٹس در آئی ہیں جن کی یہاں بالکل گنجائش نہیں ہے۔ ظفری اور شاکر القادری صاحب نے بہت عمدہ گفتگو کی ہے اور میرا خیال ہے اسی طرح ٹریک پر رہ کر بات ہو تو لطف بھی رہے گا اور سمجھنے میں آسانی بھی۔ میں بھی اس میں حصہ لینا چاہتا ہوں مگر چاہتا ہوں کہ جس طرح ظفری اور شاکر القادری نے موضوع پر رہتے ہوئے بات کی ہے ویسے ہی بات ہو اور دلائل سے ہو ظن سے نہیں۔

شکریہ محب علوی

دھاگہ کو صاف کرنے کی ضرورت کو ہی مدنظر رکھتے ہوئے میں نے اشارہ دیا تھا
اب جب میں نے آپ کی پوسٹ کے دائیں جانب دیکھا تو آپ کے سینے پر سجے ہوئے تمغے دیکھ کی محسوس ہوا کہ آپ کسی جرنل سے کم نہیں لگ رہے اور آپ کو تو پتہ ہے کہ جرنیلوں کے اختیارات کیسے ہوتے ہیں
دھاگہ صاف کرنے والا کام آپ خود کیوں نہیں کر دیتے؟؟؟؟؟
ہم تو بے اختیار ہیں
 

نبیل

تکنیکی معاون
کیا کوئی نشاندہی کر سکتا ہے کہ کونسی پوسٹ اس دھاگے سے نکال دی جانی چاہییں؟
اگر کسی دوست کو اس تھریڈ میں غیر متعلقہ پوسٹس کا علم ہے تو وہ ان کے بارے میں قیصرانی یا شمشاد بھائی کو آگاہ کریں۔ وہ انہیں الگ تھریڈ میں علیحدہ کر دیں گے۔
 
Top