از میرے والد مرحوم جناب خواجہ ریاض الدین عطش

عظیم خواجہ

محفلین
ابر چھایا نہ کوئ ابر برستا گزرا
اب کے ساون بھی کڑی دھوپ میں جلتا گزرا

یا سر راہ کبھی ٹوٹ کے تارے برسے
یا کسی چاند کا بجھتا ہوا سایہ گزرا

ہم جلاتے رہے ہر گام محبت کے چراغ
وہ رہ و رسم کی ہر شمع بجھاتا گزرا

ہم کزر جاتے ہیں ہر دور سے ایسے جیسے
ایک آنسو کسی جہرے سے ڈھلکتا گزرآ

سوچتا ہوں کہ بدلنے پڑے کتنے چہرے
زندگی گزری ہے اپنی کہ تماشا گزرا

جادہ عمر عطش پاؤں کی گردش ٹہری
دشت سِمٹا نہ کبھی دامن سحرا گزرا

سوغات جنوں

"}" style="color: rgb(127, 127, 127); cursor: pointer; display: inline-block; font-weight: bold; line-height: 14px; margin-right: 20px; padding: 4px 4px 4px 0px;">LikeCommentShare
 
Top