اردو

ملائکہ

محفلین
پہلے تو اردو ہی تھی برصغیر میں، فارسی تو نہیں (جہاں تک میرے علم میں ہے، اگر آپ کچھ جانتے ہیں تو بتایئے)


ابھی ایک دو جگہوں پر پڑھا اس کے بارے میں، اردو کا ذکر کہیں نہیں دیکھا۔
ہو سکتا ہے میری معلومات غلط ہوں۔

مغل دور میں فارسی زبان ہی آفیشنل زبان تھی کورٹ کی۔۔۔ اور جب ایسٹ انڈیا آئی تو شروع میں تو انھوں نے اپنے آپ کو مضبوط کیا پہلے اور جب کمپنی نے انتظامی معاملات کو سنبھالا تو پھر اس فیلڈ میں بھی کام کیا۔۔۔۔ لورڈ بینٹنک(Lord William Bentinck) نے فارسی زبان کو آفیشل زبان سے ہٹا کر vernacular زبان (علاقائی زبان) کو آفیشل کردیا۔۔۔ یہ بہتر قدم تھا۔۔۔۔
 

ماہی احمد

لائبریرین
مغل دور میں فارسی زبان ہی آفیشنل زبان تھی کورٹ کی۔۔۔ اور جب ایسٹ انڈیا آئی تو شروع میں تو انھوں نے اپنے آپ کو مضبوط کیا پہلے اور جب کمپنی نے انتظامی معاملات کو سنبھالا تو پھر اس فیلڈ میں بھی کام کیا۔۔۔ ۔ لورڈ بینٹنک(Lord William Bentinck) نے فارسی زبان کو آفیشل زبان سے ہٹا کر vernacular زبان (علاقائی زبان) کو آفیشل کردیا۔۔۔ یہ بہتر قدم تھا۔۔۔ ۔
تو پھر اردو یہاں کب آئی؟
 

عمر سیف

محفلین
میں صرف اتنا کہوں گا ۔۔ اردو میری آپ کی ہم سب کی زبان ہے ۔۔ مجھے اس سے بہت پیار ہے ۔۔ اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ جب مجھے ٹائپگ نہیں آتی تھی میں ماؤس کلک سے آن سکرین بنے کیبورڈ سے ٹائپ کیا کرتا تھا ۔۔ اس طرح میں نے بہت سے تحاریر ایک دوسرے فورم پہ شئیر کیں ۔۔ ان میں احمد ندیم قاسمی کے افسانے اور شعراء کی شاعری بھی شامل تھی ۔۔
الفاظ کا ذخیرہ تو میرے پاس نہیں اور شاید گرائمر بھی اچھی نہ ہو، پر میں کوشش پوری کرتا ہوں ۔۔۔ :)
 

ماہی احمد

لائبریرین
میں صرف اتنا کہوں گا ۔۔ اردو میری آپ کی ہم سب کی زبان ہے ۔۔ مجھے اس سے بہت پیار ہے ۔۔ اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ جب مجھے ٹائپگ نہیں آتی تھی میں ماؤس کلک سے آن سکرین بنے کیبورڈ سے ٹائپ کیا کرتا تھا ۔۔ اس طرح میں نے بہت سے تحاریر ایک دوسرے فورم پہ شئیر کیں ۔۔ ان میں احمد ندیم قاسمی کے افسانے اور شعراء کی شاعری بھی شامل تھی ۔۔
الفاظ کا ذخیرہ تو میرے پاس نہیں اور شاید گرائمر بھی اچھی نہ ہو، پر میں کوشش پوری کرتا ہوں ۔۔۔ :)
میرا حال آپ سے بھی بُرا ہے۔
لیکن پھر بھی، اپنی زبان اپنی ہوتی ہے۔
یہی ہماری "اصل" ہے :)
 

عثمان

محفلین
سنتے ہیں کہ "گلاس" کلام غالب میں اور "پکوڑا" انگریزی لغت میں گھس چکا ہے۔ تو پھر کیا مسئلہ ہے ؟ :)
تفصیلی تبصرہ بعد میں۔ :):)
 

محب اردو

محفلین
بہت اچھی کوشش اور بہترین کاوش پر شکریہ قبول فرمائیے ۔
اور اگر ہمیں حوصلہ افزائی کرنے کا حق ہے تو اس ’’ انگریزی دور ‘‘ میں اردو کا دفاع و احیاء کرنے پر مبارکباد وصول کیجیے ۔
ہاں ایک بات کہنا چاہوں گا کہ اس طرح کی تحاریر کو ’’ نظریاتی ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ ان کے ساتھ ساتھ ’’عملی کوشش ‘‘ پر توجہ کی زیادہ ضرورت ہے ۔
مثلا جن اصطلاحات کو ہم اردو میں تعبیر کرسکتے ہیں ان کو کسی دوسری زبان میں ادا نہیں کرنا چاہیے ۔ بلکہ اپنے حلقہ دوست و احباب کے ساتھ یہ معاہدہ کرنا چاہیے کہ سب اس کو قابل عمل بنائیں گے اور بھولنے پر ایک دوسرے کو یاد دلائیں گے ۔
 

محب اردو

محفلین
بعض دفعہ یہ مسئلہ پیش آتا ہے کہ ہم کسی چیز کے نام کو اردو میں ادا کریں تو مخاطب کوسمجھنے میں دقت ہوتی ہے مثلا ’’ لیپ ٹاپ ‘‘ کو آپ ’’ آغوشیہ ‘‘ کہتے رہیں تو شاید بہت سارے لوگ نہیں سمجھ سکیں گے تو ایسی صورت میں بیک وقت دونوں لفظ استعمال کرنے چاہییں اس سے ایک تو آپ کا مافی الضمیر دوسرے تک منتقل ہوجائے گا اور دوسرا اسے انگریزی کا ایک اچھا متبادل مل جائے گا ۔
 
پہلا حصہ:

آپ کی تحریر میں اردو سے محبت ، اس کے تنزل کا خوف، اور اپنے مشاہدات پر رنج و الم کی کیفیات عمدہ انداز میں بیان ہوئی ہیں۔ یعنی یہ ایک سچی تحریر ہے۔ سچی تحریر میں لکھاری کو سب سے بڑی سہولت یہ ہوتی ہے کہ اس کو ’’بات بنانی نہیں پڑتی‘‘ اظہار کرنا ہوتا ہے، اندر کی کیفیات الفاظ خود تلاش کر لیتی ہیں۔ہاں، اس کو نکھارنے سنوارنے، مرتب انداز میں پیش کرنے کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔

ایک اور سلسلے میں مضمون نگاری کے حوالے سے کچھ باتیں کل ہی کی تھیں۔ یہاں دیکھ لیجئے، ہو سکتا ہے کوئی بات آپ کے کام کی بھی نکل آئے۔
 
دوسرا حصہ:

کوئی زبان کتنی عمدہ، خراب، مضبوط، کمزور، عارضی، دیرپا، کامل، ناقص ہو سکتی ہے؛ اس کا انحصار اس معاشرے اور اس تہذیب پر ہے (جس کی وہ زبان ہے) کہ اس کی اپنی کیفیات کیا ہیں۔ اردو کی تشکیل اور نفوذ، اس کی ترویج اور مقبولیت، اس کی ترقی اور تنزل، اور دیگر پہلوؤں پر بیش بہا کام ہو چکا ہے۔ بابائے اردو مولوی عبدالحق اور ڈاکٹر جمیل جالبی کی مرتب کردہ تاریخوں کے مطالعے کے بعد بہت زیادہ کچھ کہنے کو نہیں بچتا۔ ان بزرگوں کے کام کا خلاصہ بھی تو بیان نہیں ہو سکتا! صرف اتنا عرض کروں گا کہ آپ کسی بھی زبان کے حالات دیکھنا چاہیں تو اس تہذیب و ثقافت کے حاملین کے حالات دیکھ لیں جن کی وہ زبان ہے؛ اور اسی پر قیاس کر لیں۔

میں نے کہیں عرض کیا تھا کہ ’’بُوٹے تے بولیاں، اینہاں دونہاں نوں مٹی چاہی دی اے‘‘۔
 

ماہی احمد

لائبریرین
پہلا حصہ:

آپ کی تحریر میں اردو سے محبت ، اس کے تنزل کا خوف، اور اپنے مشاہدات پر رنج و الم کی کیفیات عمدہ انداز میں بیان ہوئی ہیں۔ یعنی یہ ایک سچی تحریر ہے۔ سچی تحریر میں لکھاری کو سب سے بڑی سہولت یہ ہوتی ہے کہ اس کو ’’بات بنانی نہیں پڑتی‘‘ اظہار کرنا ہوتا ہے، اندر کی کیفیات الفاظ خود تلاش کر لیتی ہیں۔ہاں، اس کو نکھارنے سنوارنے، مرتب انداز میں پیش کرنے کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔

ایک اور سلسلے میں مضمون نگاری کے حوالے سے کچھ باتیں کل ہی کی تھیں۔ یہاں دیکھ لیجئے، ہو سکتا ہے کوئی بات آپ کے کام کی بھی نکل آئے۔

دوسرا حصہ:

کوئی زبان کتنی عمدہ، خراب، مضبوط، کمزور، عارضی، دیرپا، کامل، ناقص ہو سکتی ہے؛ اس کا انحصار اس معاشرے اور اس تہذیب پر ہے (جس کی وہ زبان ہے) کہ اس کی اپنی کیفیات کیا ہیں۔ اردو کی تشکیل اور نفوذ، اس کی ترویج اور مقبولیت، اس کی ترقی اور تنزل، اور دیگر پہلوؤں پر بیش بہا کام ہو چکا ہے۔ بابائے اردو مولوی عبدالحق اور ڈاکٹر جمیل جالبی کی مرتب کردہ تاریخوں کے مطالعے کے بعد بہت زیادہ کچھ کہنے کو نہیں بچتا۔ ان بزرگوں کے کام کا خلاصہ بھی تو بیان نہیں ہو سکتا! صرف اتنا عرض کروں گا کہ آپ کسی بھی زبان کے حالات دیکھنا چاہیں تو اس تہذیب و ثقافت کے حاملین کے حالات دیکھ لیں جن کی وہ زبان ہے؛ اور اسی پر قیاس کر لیں۔

میں نے کہیں عرض کیا تھا کہ ’’بُوٹے تے بولیاں، اینہاں دونہاں نوں مٹی چاہی دی اے‘‘۔

بہت بہت شکریہ جناب :)
 
Top