اردو جملہ کشید Urdu Sentence Splitter

اس دھاگے کی وجہ تسمیہ ہے یہ دھاگہ

اردو ٹیکسٹ آرکائیو کی طرف پہلا قدم

ایک پائتھون سکرپٹ میرے ہاتھ بھی لگا ہے جو اردو ٹیکسٹ سے جملے کشید کرتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسے ایک امریکی نے لکھا ہے جو بروکلین میں ہی رہتا ہے اور اردو نہیں جانتا بلکہ کوڈ لکھ کر متفسر بھی ہے کہ اردو جملے کے اختتام کے لیے کیا واضح کلیہ ہے۔

میں نے یہ کوڈ اس بلاگ پوسٹ سے اٹھایا تھا۔

Converting a Perl Urdu sentence splitter to Python

اس پوسٹ کا اختتام اس جملے پر ہوتا ہے
I would really like some feedback on people’s views of sentence splitting if anyone is interested. Please email me.

گھوم پھر کر کوڈ میں نے GitHub سے اٹھایا جس کا لنک یہ ہے

WikiTrans Pootle WT_Articles Splitting

بنیادی طور پر موصوف نے ایک پرل کوڈ کو پائتھون میں ڈھالا ہے جسے MIT کے طالب علم دانش منیر نے لکھا تھا مگر پبلک نہیں کیا۔

کوڈ کا جائزہ لے لیا ہے اور دھاگے کو زندہ کرنے کی خاطر شیئر بھی کروں، کچھ سوالات بھی ہیں جن کا جواب چاہوں گا اور امید ہے کہ تحقیق کسی قدر آگے بڑھے گی۔

PHP:
### Urdu Sentence Splitter
import sys
import re
#import nltk.data

#Unicode Code Points for - ? ! . /r   .
DASH = u'\u06D4'        # Arabic full stop
QUESTION = u'\u061F'    # ?
ELLIPSIS = u'\u2026'    # !
BULLET = u'\u2022'      #
CR = u'\u000D'          # /r
SPACE = u'\u0020'       #
FULL_STOP = u'\u002e'   # .

text = '''
انجری کا شکار پاکستانی فاسٹ بائولر کو کولہے کی ہڈی میں تکلیف کی وجہ سے میگا ایونٹ کے بقیہ میچز نہ کھلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ترجمان پی سی بی نے بتایا کہ فاسٹ بائولر کو وطن واپس بھجوایا جا رہا ہے!فاسٹ بائولر کا آج میڈیکل ٹیسٹ کروایا گیا جس میں انہیں ان فٹ قرار دیا گیا ۔
میگا ایونٹ میں محمد عرفان کی جگہ احسان عادل کو ٹیم میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
اچھا جی!!!
'''

text = text.replace('\r','')
text = text.replace('\n','\n\n')
reg_bullet = u'\s*%s\s*' % BULLET
text = re.sub(reg_bullet, '\n\n\n\n\n', text)

text = text.replace('\t* +\t*$', ' ')

reg_cr = u'[\n%s][ ]+[\n%s]' % (CR, CR)
text = re.sub(reg_cr, '\n\n', text)

reg_space = u'^[\t%s]+$' % SPACE
text = re.sub(reg_space, '\n\n', text)

text = text.replace('|','')
#/(\n{2,}|!|\x{061f}|\x{06D4}|\x{2022}|\x{000d}|\s{2,}|\x{2026}|\x{002e})/
# '\n{2,}|!|QUESTION|DASH    |BULLET  |CR      |\s{2,}|ELLIPSIS|FULL_STOP'
regex = u'(\n{2,}|!|%s|%s|%s|%s|\s{2,}|%s|\%s)' % (QUESTION, DASH, BULLET, CR, ELLIPSIS, FULL_STOP)
p = re.compile(regex)
sentences = p.split(text)

new_string = ''
segment_id = 1
follow_up_punctuation = re.compile('[\n%s%s]' % (CR, BULLET))
i = 0
new_sentences = []
while i < len(sentences):
    sent = sentences[i]
    sent = sent.strip()  # remove whitespace
    if len(sent) < 1:    # skip empty lines
        i = i+2
        continue
    new_string = new_string + sent
    # check punctuation in following sentence
    # if not newline, CR or BULLET, print it
    next_sent = sentences[i+1]
    if not follow_up_punctuation.match(next_sent):
        new_string = new_string + next_sent
    new_sentences.append(sent + '\n')
    segment_id = segment_id + 1
    i = i + 2

for sent in new_sentences:
    print(sent)
 
آخری تدوین:
محمداحمد ، دوست ، ابن سعید ذرا اس دھاگے پر نظر مار لیں تاکہ کچھ گفتگو آگے بڑھائی جا سکے۔

یاد رہے کہ میری پائتھون بنیادی نوعیت کی ہے اور کبھی کبھار شوقیہ بخار کے تحت کوڈ لکھتا ہوں ، اس لیے اکثر بنیادی چیزیں بھی بھولا بیٹھا ہوتا ہوں۔
 
آخری تدوین:
اس سے مراد یہ ہے کہ اگر ایک پیراگراف اردو تحریر کا میسر ہو تو اس میں سے جملوں کو علیحدہ کیا جا سکے ، اس کے بعد قدرتی طور پر جملوں سے الفاظ کو علیحدہ کیا جائے گا اور پھر ان کا تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔
 

دوست

محفلین
جملے تو بن جائیں گے۔ لیکن الفاظ الگ کرنا ذرا اوکھا کام ہے۔ کرلپ نے ایک ٹول بنایا ہے جو سپیس ڈالنے یا اڑانے کے مسائل سے نپٹتا ہے۔ وہ ٹول چلا کر پہلے اسے ٹھیک کیا جائے اور اس کے بعد لفظ الگ الگ کیے جائیں۔
 
جملے تو بن جائیں گے۔ لیکن الفاظ الگ کرنا ذرا اوکھا کام ہے۔ کرلپ نے ایک ٹول بنایا ہے جو سپیس ڈالنے یا اڑانے کے مسائل سے نپٹتا ہے۔ وہ ٹول چلا کر پہلے اسے ٹھیک کیا جائے اور اس کے بعد لفظ الگ الگ کیے جائیں۔

الفاظ الگ کرنے والا کام پائتھون میں ہو جائے گا اور کچھ مزید تبدیلیاں اور آسانیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔

اس کے لیے پائتھون کی ایک بہترین لائبریری ہے NLTK ، اس کے استعمال سے نیچرل لینگویج پروسیسنگ بہت عمدہ طریقہ سے ہو سکتی ہے۔

ویسے لائبریری کو میں نے اردو کے لیے استعمال نہیں کیا ورنہ انگریزی کے لیے تو بہترین تجزیہ اور کاٹ پلٹ کرتی ہے ۔

سب سے پہلے تو آپ کی بنائی ہوئی فائلز درکار ہیں اور اس کے بعد چند مراحل پر گفت و شنید کہ کیسے اور کس مرحلے میں کیا کرنا ہے۔
 

arifkarim

معطل
جملے تو بن جائیں گے۔ لیکن الفاظ الگ کرنا ذرا اوکھا کام ہے۔ کرلپ نے ایک ٹول بنایا ہے جو سپیس ڈالنے یا اڑانے کے مسائل سے نپٹتا ہے۔ وہ ٹول چلا کر پہلے اسے ٹھیک کیا جائے اور اس کے بعد لفظ الگ الگ کیے جائیں۔
ابرارحسین کا پاک ورڈ فائنڈر یہ سب کام پہلے ہی سے کر سکتا ہے۔ یہ 5 سال پرانا ٹول ہے جو ہمنے اردو و قرآنی الفاظ و ترسیمہ جات اخذ کرنے کیلئے بنوایا تھا۔ نیز کرلپ کے اس ٹول کا ربط بھی دے دیں۔
 
سوال یہ ہے کہ اس اسکرپٹ کی افادیت کیا ہے؟ اول تو یہ کہ براہ راست اسے استعمال کرنے سے کوئی قابل ذکر چیز بن کر سامنے نہیں آئے گی سوائے جملوں کی فہرست سطر بہ سطر مرتب کرنے کے۔ ایسی چیزیں عموماً دوسری اسکرپٹس میں بطور موڈیول استعمال کی جا سکتی ہیں لیکن کوڈ اس انداز میں نہیں لکھا گیا ہے کہ اسے بطور موڈیول استعمال کیا جا سکے، گو کہ اس کو موڈیول میں تبدیل کرنا کچھ ایسا مشکل بھی نہیں، لیکن اسے ایک سے زائد میتھڈس میں توڑنا پڑے گا۔ اس کی افادیت اس لیے بھی محدود ہے کیونکہ کسی بڑی اسکرپٹ میں اگر ایسی کوئی ضرورت پیش بھی آئے تو کم و بیش یہی کام چار پانچ لائن کے کوڈ سے ہو جائے گا۔ البتہ پروگرامنگ سیکھنے والے مبتدیوں کے لیے ایسی مشقیں ٹھیک ہیں۔ :) :) :)
 

arifkarim

معطل
اس کی افادیت اس لیے بھی محدود ہے کیونکہ کسی بڑی اسکرپٹ میں اگر ایسی کوئی ضرورت پیش بھی آئے تو کم و بیش یہی کام چار پانچ لائن کے کوڈ سے ہو جائے گا۔
یہی تو میں سوچ رہا تھا کہ یہ سادھا سا کوڈ تو آپ خود بھی لکھ سکتے ہیں :)
 
سوال یہ ہے کہ اس اسکرپٹ کی افادیت کیا ہے؟ اول تو یہ کہ براہ راست اسے استعمال کرنے سے کوئی قابل ذکر چیز بن کر سامنے نہیں آئے گی سوائے جملوں کی فہرست سطر بہ سطر مرتب کرنے کے۔ ایسی چیزیں عموماً دوسری اسکرپٹس میں بطور موڈیول استعمال کی جا سکتی ہیں لیکن کوڈ اس انداز میں نہیں لکھا گیا ہے کہ اسے بطور موڈیول استعمال کیا جا سکے، گو کہ اس کو موڈیول میں تبدیل کرنا کچھ ایسا مشکل بھی نہیں، لیکن اسے ایک سے زائد میتھڈس میں توڑنا پڑے گا۔ اس کی افادیت اس لیے بھی محدود ہے کیونکہ کسی بڑی اسکرپٹ میں اگر ایسی کوئی ضرورت پیش بھی آئے تو کم و بیش یہی کام چار پانچ لائن کے کوڈ سے ہو جائے گا۔ البتہ پروگرامنگ سیکھنے والے مبتدیوں کے لیے ایسی مشقیں ٹھیک ہیں۔ :) :) :)

آخری جملے میں جواب دے دیا ہے۔

ویسے میں نے پوری کہانی بیان کی ہے جس سے اسے شیئر کرنے کا مقصد پتہ چلتا ہے ۔

واضح طور پر یہ بھی لکھا کہ دھاگہ زندہ بھی کیا اور گفتگو کا در بھی وا کیا۔

یہ کوڈ تین جگہ شیئر ہوا ہے اور یہ ایک پراجیکٹ کا حصہ ہی ہے۔ میں نے اسے چند تبدیلیوں کے لیے ہی یہاں لکھا ہے، اس پر تنقید اور اضافہ بھی مقصد ہے۔
 

الف نظامی

لائبریرین
اردو متن کی munging/wrangling پہلے علیحدہ سے کر لی جائے اس کے بعد متن کو لفظوں اور جملوں میں توڑا جائے۔
 

الف نظامی

لائبریرین
متن سے جملے کشید کرنے کا یہ سکرپٹ بنایا ہے۔ براہ کرم چیک کیجیے
دوست

کوڈ:
import re
delimiters = ("!",".", "?", u"۔" ,u"؟")
regexPattern = '|'.join(map(re.escape, delimiters))
text = "میں نفسیاتی مریضوں کے ایک معاشرے میں زندہ ہوں۔ مشاہدہ اس کی تصدیق کرتا ہے اور آئینہ بھی۔انفرادی نا آسودگی سے اجتماعی ناکامی تک، متنوع اسباب ہیں جو نفسیاتی عوارض میں ڈھل گئے ہیں۔ نفسیاتی مریض کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ خود کو مریض نہیں سمجھتا۔ میں ہمیشہ اپنے رویے کے لیے ایک دلیل رکھتا ہوں۔ اب درست رائے تو وہی دے سکتے ہیں جنہیں اس رویے سے پالا پڑتا ہے۔ وہی بتا سکتے ہیں کہ میرا طرزِ عمل کتنا متوازن ہے۔ ہم میں سے ہر شخص یہ خیال کرتا ہے کہ وہ صحت مند ہے۔ خرابی تو دوسروں میں ہے جو اسے سمجھ نہیں سکے۔معاشی بے مائیگی نفسیاتی طور پر غیر متوازن بنا سکتی ہے مگر مشاہدہ یہ ہے کہ آسودہ حال بھی نفسیاتی مریض ہوتے ہیں۔ اگر سروے ہو تو شاید امرا کے طبقے میں ایسے مریضوں کی تعداد زیادہ ہو۔ سوشل میڈیا پر ان دنوں جو ہنگامہ برپا رہتا ہے، بالخصوص سیاسی رضا کاروں میں، اگر کوئی ماہرِ نفسیات اس کا تجزیہ کرے تو یقیناً اسے نفسیاتی مریضوں کا مشغلہ قرار دے۔ شخصی نفسیات میرا موضوع نہیں؛ تاہم میں سماجی نفسیات کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔روایتی معاشرے نفسیاتی طور پر زیادہ متوازن ہوتے ہیں۔ یہ وہ معاشرے ہیں جو فطری انداز میں ارتقائی مراحل سے گزرتے ہیں۔ یہ تبدیلی کے باوجود، انسان کے فطری مطالبات کی تسکین کا سامان کرتے ہیں۔ یہ اہتمام سماجی بنت کا حصہ ہوتا ہے۔ انسان کے فطری مطالبات اصلاً چار ہی ہیں: مادی، اخلاقی، جمالیاتی اور نفسیاتی۔مادی مطالبات وہ ہیں جن کا تعلق جسم سے ہے۔ جیسے بھوک۔ جیسے پیاس۔ جیسے جنس۔ اخلاقی وہ ہیں جن کے زیرِ اثر وہ کسی فعل، رویے یا شے پر اچھا یا برا ہونے کا حکم لگاتا ہے۔ جمالیاتی حس بھی فطری ہے جس کی بنیاد پر وہ کسی چیز کے خوش شکل، خوش رنگ، خوش گلو یا دیدہ زیب ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔ انسانی وجود کا نفسیاتی پہلو وہ ہے جو اسے کسی سے قریب اور کسی سے دور کرتا ہے۔ جو کبھی اس کی آنکھوں سے مینہ برسا دیتا ہے اور کبھی ہونٹوں پہ گلاب کھلا دیتا ہے۔ روایتی معاشرہ اپنے رسم و رواج اور اجتماعی رویے میں ان چاروں پہلوؤں کو پیشِ نظر رکھتا ہے۔"

urduSentences_List=re.split(regexPattern, text,flags=re.UNICODE)
urduSentences_List = list(filter(None, urduSentences_List ))
print(urduSentences_List )

آوٹ پٹ:
  1. ['میں نفسیاتی مریضوں کے ایک معاشرے میں زندہ ہوں',
  2. ' مشاہدہ اس کی تصدیق کرتا ہے اور آئینہ بھی',
  3. 'انفرادی نا آسودگی سے اجتماعی ناکامی تک، متنوع اسباب ہیں جو نفسیاتی عوارض میں ڈھل گئے ہیں',
  4. ' نفسیاتی مریض کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ خود کو مریض نہیں سمجھتا',
  5. ' میں ہمیشہ اپنے رویے کے لیے ایک دلیل رکھتا ہوں',
  6. ' اب درست رائے تو وہی دے سکتے ہیں جنہیں اس رویے سے پالا پڑتا ہے',
  7. ' وہی بتا سکتے ہیں کہ میرا طرزِ عمل کتنا متوازن ہے',
  8. ' ہم میں سے ہر شخص یہ خیال کرتا ہے کہ وہ صحت مند ہے',
  9. ' خرابی تو دوسروں میں ہے جو اسے سمجھ نہیں سکے',
  10. 'معاشی بے مائیگی نفسیاتی طور پر غیر متوازن بنا سکتی ہے مگر مشاہدہ یہ ہے کہ آسودہ حال بھی نفسیاتی مریض ہوتے ہیں',
  11. ' اگر سروے ہو تو شاید امرا کے طبقے میں ایسے مریضوں کی تعداد زیادہ ہو',
  12. ' سوشل میڈیا پر ان دنوں جو ہنگامہ برپا رہتا ہے، بالخصوص سیاسی رضا کاروں میں، اگر کوئی ماہرِ نفسیات اس کا تجزیہ کرے تو یقیناً اسے نفسیاتی مریضوں کا مشغلہ قرار دے',
  13. ' شخصی نفسیات میرا موضوع نہیں؛ تاہم میں سماجی نفسیات کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں',
  14. 'روایتی معاشرے نفسیاتی طور پر زیادہ متوازن ہوتے ہیں',
  15. ' یہ وہ معاشرے ہیں جو فطری انداز میں ارتقائی مراحل سے گزرتے ہیں',
  16. ' یہ تبدیلی کے باوجود، انسان کے فطری مطالبات کی تسکین کا سامان کرتے ہیں',
  17. ' یہ اہتمام سماجی بنت کا حصہ ہوتا ہے',
  18. ' انسان کے فطری مطالبات اصلاً چار ہی ہیں: مادی، اخلاقی، جمالیاتی اور نفسیاتی',
  19. 'مادی مطالبات وہ ہیں جن کا تعلق جسم سے ہے',
  20. ' جیسے بھوک',
  21. ' جیسے پیاس',
  22. ' جیسے جنس',
  23. ' اخلاقی وہ ہیں جن کے زیرِ اثر وہ کسی فعل، رویے یا شے پر اچھا یا برا ہونے کا حکم لگاتا ہے',
  24. ' جمالیاتی حس بھی فطری ہے جس کی بنیاد پر وہ کسی چیز کے خوش شکل، خوش رنگ، خوش گلو یا دیدہ زیب ہونے کا فیصلہ کرتا ہے',
  25. ' انسانی وجود کا نفسیاتی پہلو وہ ہے جو اسے کسی سے قریب اور کسی سے دور کرتا ہے',
  26. ' جو کبھی اس کی آنکھوں سے مینہ برسا دیتا ہے اور کبھی ہونٹوں پہ گلاب کھلا دیتا ہے',
  27. ' روایتی معاشرہ اپنے رسم و رواج اور اجتماعی رویے میں ان چاروں پہلوؤں کو پیشِ نظر رکھتا ہے']
 
آخری تدوین:

الف نظامی

لائبریرین
اردو ہیک کی مدد سے اردو متن کو جملوں میں توڑنے کا ایک ٹیسٹ
جن جملوں میں مسائل ہیں ان کو رنگ دار کر دیا ہے۔
مینولی جملوں کو توڑا جائے تو مندرجہ ذیل 27 جملے بنتے ہیں:
  1. میں نفسیاتی مریضوں کے ایک معاشرے میں زندہ ہوں۔
  2. مشاہدہ اس کی تصدیق کرتا ہے اور آئینہ بھی۔
  3. انفرادی نا آسودگی سے اجتماعی ناکامی تک، متنوع اسباب ہیں جو نفسیاتی عوارض میں ڈھل گئے ہیں۔
  4. نفسیاتی مریض کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ خود کو مریض نہیں سمجھتا۔
  5. میں ہمیشہ اپنے رویے کے لیے ایک دلیل رکھتا ہوں۔
  6. اب درست رائے تو وہی دے سکتے ہیں جنہیں اس رویے سے پالا پڑتا ہے۔
  7. وہی بتا سکتے ہیں کہ میرا طرزِ عمل کتنا متوازن ہے۔
  8. ہم میں سے ہر شخص یہ خیال کرتا ہے کہ وہ صحت مند ہے۔
  9. خرابی تو دوسروں میں ہے جو اسے سمجھ نہیں سکے۔
  10. معاشی بے مائیگی نفسیاتی طور پر غیر متوازن بنا سکتی ہے مگر مشاہدہ یہ ہے کہ آسودہ حال بھی نفسیاتی مریض ہوتے ہیں۔
  11. اگر سروے ہو تو شاید امرا کے طبقے میں ایسے مریضوں کی تعداد زیادہ ہو۔
  12. سوشل میڈیا پر ان دنوں جو ہنگامہ برپا رہتا ہے، بالخصوص سیاسی رضا کاروں میں، اگر کوئی ماہرِ نفسیات اس کا تجزیہ کرے تو یقیناً اسے نفسیاتی مریضوں کا مشغلہ قرار دے۔
  13. شخصی نفسیات میرا موضوع نہیں؛ تاہم میں سماجی نفسیات کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔
  14. روایتی معاشرے نفسیاتی طور پر زیادہ متوازن ہوتے ہیں۔
  15. یہ وہ معاشرے ہیں جو فطری انداز میں ارتقائی مراحل سے گزرتے ہیں۔
  16. یہ تبدیلی کے باوجود، انسان کے فطری مطالبات کی تسکین کا سامان کرتے ہیں۔
  17. یہ اہتمام سماجی بنت کا حصہ ہوتا ہے۔
  18. انسان کے فطری مطالبات اصلاً چار ہی ہیں: مادی، اخلاقی، جمالیاتی اور نفسیاتی۔
  19. مادی مطالبات وہ ہیں جن کا تعلق جسم سے ہے۔
  20. جیسے بھوک۔
  21. جیسے پیاس۔
  22. جیسے جنس۔
  23. اخلاقی وہ ہیں جن کے زیرِ اثر وہ کسی فعل، رویے یا شے پر اچھا یا برا ہونے کا حکم لگاتا ہے۔
  24. جمالیاتی حس بھی فطری ہے جس کی بنیاد پر وہ کسی چیز کے خوش شکل، خوش رنگ، خوش گلو یا دیدہ زیب ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔
  25. انسانی وجود کا نفسیاتی پہلو وہ ہے جو اسے کسی سے قریب اور کسی سے دور کرتا ہے۔
  26. جو کبھی اس کی آنکھوں سے مینہ برسا دیتا ہے اور کبھی ہونٹوں پہ گلاب کھلا دیتا ہے۔
  27. روایتی معاشرہ اپنے رسم و رواج اور اجتماعی رویے میں ان چاروں پہلوؤں کو پیشِ نظر رکھتا ہے۔

PHP:
from urduhack.tokenization import sentence_tokenizer
text = "میں نفسیاتی مریضوں کے ایک معاشرے میں زندہ ہوں۔ مشاہدہ اس کی تصدیق کرتا ہے اور آئینہ بھی۔انفرادی نا آسودگی سے اجتماعی ناکامی تک، متنوع اسباب ہیں جو نفسیاتی عوارض میں ڈھل گئے ہیں۔ نفسیاتی مریض کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ خود کو مریض نہیں سمجھتا۔ میں ہمیشہ اپنے رویے کے لیے ایک دلیل رکھتا ہوں۔ اب درست رائے تو وہی دے سکتے ہیں جنہیں اس رویے سے پالا پڑتا ہے۔ وہی بتا سکتے ہیں کہ میرا طرزِ عمل کتنا متوازن ہے۔ ہم میں سے ہر شخص یہ خیال کرتا ہے کہ وہ صحت مند ہے۔ خرابی تو دوسروں میں ہے جو اسے سمجھ نہیں سکے۔معاشی بے مائیگی نفسیاتی طور پر غیر متوازن بنا سکتی ہے مگر مشاہدہ یہ ہے کہ آسودہ حال بھی نفسیاتی مریض ہوتے ہیں۔ اگر سروے ہو تو شاید امرا کے طبقے میں ایسے مریضوں کی تعداد زیادہ ہو۔ سوشل میڈیا پر ان دنوں جو ہنگامہ برپا رہتا ہے، بالخصوص سیاسی رضا کاروں میں، اگر کوئی ماہرِ نفسیات اس کا تجزیہ کرے تو یقیناً اسے نفسیاتی مریضوں کا مشغلہ قرار دے۔ شخصی نفسیات میرا موضوع نہیں؛ تاہم میں سماجی نفسیات کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔روایتی معاشرے نفسیاتی طور پر زیادہ متوازن ہوتے ہیں۔ یہ وہ معاشرے ہیں جو فطری انداز میں ارتقائی مراحل سے گزرتے ہیں۔ یہ تبدیلی کے باوجود، انسان کے فطری مطالبات کی تسکین کا سامان کرتے ہیں۔ یہ اہتمام سماجی بنت کا حصہ ہوتا ہے۔ انسان کے فطری مطالبات اصلاً چار ہی ہیں: مادی، اخلاقی، جمالیاتی اور نفسیاتی۔مادی مطالبات وہ ہیں جن کا تعلق جسم سے ہے۔ جیسے بھوک۔ جیسے پیاس۔ جیسے جنس۔ اخلاقی وہ ہیں جن کے زیرِ اثر وہ کسی فعل، رویے یا شے پر اچھا یا برا ہونے کا حکم لگاتا ہے۔ جمالیاتی حس بھی فطری ہے جس کی بنیاد پر وہ کسی چیز کے خوش شکل، خوش رنگ، خوش گلو یا دیدہ زیب ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔ انسانی وجود کا نفسیاتی پہلو وہ ہے جو اسے کسی سے قریب اور کسی سے دور کرتا ہے۔ جو کبھی اس کی آنکھوں سے مینہ برسا دیتا ہے اور کبھی ہونٹوں پہ گلاب کھلا دیتا ہے۔ روایتی معاشرہ اپنے رسم و رواج اور اجتماعی رویے میں ان چاروں پہلوؤں کو پیشِ نظر رکھتا ہے۔"
sentences = sentence_tokenizer(text)
# list of multiple sentences,
sentences
آوٹ پٹ
>>> sentences
  1. ['میں نفسیاتی مریضوں کے ایک معاشرے میں زندہ ہوں۔',
  2. 'مشاہدہ اس کی تصدیق کرتا ہے اور آئینہ بھی۔',
  3. 'انفرادی نا آسودگی سے اجتماعی ناکامی تک، متنوع اسباب ہیں۔',
  4. 'جو نفسیاتی عوارض میں ڈھل گئے ہیں۔',
  5. 'نفسیاتی مریض کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ خود کو مریض نہیں سمجھتا۔',
  6. 'میں ہمیشہ اپنے رویے کے لیے ایک دلیل رکھتا ہوں۔',
  7. 'اب درست رائے تو وہی دے سکتے ہیں۔',
  8. 'جنہیں اس رویے سے پالا پڑتا ہے۔',
  9. 'وہی بتا سکتے ہیں کہ میرا طرزِ عمل کتنا متوازن ہے۔',
  10. 'ہم میں سے ہر شخص یہ خیال کرتا ہے کہ وہ صحت مند ہے۔',
  11. 'خرابی تو دوسروں میں ہے۔',
  12. 'جو اسے سمجھ نہیں سکے۔',
  13. 'معاشی بے مائیگی نفسیاتی طور پر غیر متوازن بنا سکتی ہے مگر مشاہدہ یہ ہے کہ آسودہ حال بھی نفسیاتی مریض ہوتے ہیں۔',
  14. 'اگر سروے ہو تو شاید امرا کے طبقے میں ایسے مریضوں کی تعداد زیادہ ہو۔',
  15. 'سوشل میڈیا پر ان دنوں جو ہنگامہ برپا رہتا ہے، بالخصوص سیاسی رضا کاروں میں، اگر کوئی ماہرِ نفسیات اس کا تجزیہ کرے تو یقیناً اسے نفسیاتی مریضوں کا مشغلہ قرار دے۔',
  16. 'شخصی نفسیات میرا موضوع نہیں؛ تاہم میں سماجی نفسیات کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔',
  17. 'روایتی معاشرے نفسیاتی طور پر زیادہ متوازن ہوتے ہیں۔',
  18. 'یہ وہ معاشرے ہیں۔',
  19. 'جو فطری انداز میں ارتقائی مراحل سے گزرتے ہیں۔',
  20. 'یہ تبدیلی کے باوجود، انسان کے فطری مطالبات کی تسکین کا سامان کرتے ہیں۔',
  21. 'یہ اہتمام سماجی بنت کا حصہ ہوتا ہے۔',
  22. 'انسان کے فطری مطالبات اصلاً چار ہی ہیں: مادی، اخلاقی، جمالیاتی اور نفسیاتی۔',
  23. 'مادی مطالبات وہ ہیں۔',
  24. 'جن کا تعلق جسم سے ہے۔',
  25. 'جیسے بھوک۔',
  26. 'جیسے پیاس۔',
  27. 'جیسے جنس۔',
  28. 'اخلاقی وہ ہیں۔',
  29. 'جن کے زیرِ اثر وہ کسی فعل، رویے یا شے پر اچھا یا برا ہونے کا حکم لگاتا ہے۔',
  30. 'جمالیاتی حس بھی فطری ہے۔',
  31. 'جس کی بنیاد پر وہ کسی چیز کے خوش شکل، خوش رنگ، خوش گلو یا دیدہ زیب ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔',
  32. 'انسانی وجود کا نفسیاتی پہلو وہ ہے۔',
  33. 'جو اسے کسی سے قریب اور کسی سے دور کرتا ہے۔',
  34. 'جو کبھی اس کی آنکھوں سے مینہ برسا دیتا ہے اور کبھی ہونٹوں پہ گلاب کھلا دیتا ہے۔',
  35. 'روایتی معاشرہ اپنے رسم و رواج اور اجتماعی رویے میں ان چاروں پہلوؤں کو پیشِ نظر رکھتا ہے۔']
>>>
 
آخری تدوین:
'جو' کو جملے کی حد کے طور پر برت رہے ہیں یہ لوگ؟
جو جملے "جو" والے ہیں یا "جن" والے ہیں وہ جملے نہیں اگلے یا پچھلے جملوں کا حصہ ہیں ۔ جیسے ستائیس اٹھائیس نمبر ایک جملہ ہیں ۔ اکتیس بتیس نمبر ایک جملہ ہیں اور تینتیس نامکمل "جملہ" ہے۔ میرے خیال میں اس طرح جملوں کا تجزیہ درست نہیں ہوگا ۔
 

الف نظامی

لائبریرین
جو جملے "جو" والے ہیں یا "جن" والے ہیں وہ جملے نہیں اگلے یا پچھلے جملوں کا حصہ ہیں ۔ جیسے ستائیس اٹھائیس نمبر ایک جملہ ہیں ۔ اکتیس بتیس نمبر ایک جملہ ہیں اور تینتیس نامکمل "جملہ" ہے۔ میرے خیال میں اس طرح جملوں کا تجزیہ درست نہیں ہوگا ۔
درست فرمایا۔
جو جملے ہے اور ہیں سے ختم ہو رہے ہوں اور اس کے بعد اگلے جملے کا پہلا لفظ جو ، جن ، جس ، جنہیں سے شروع ہوجائے تو ہے یا ہیں پر جملے کا اختتام کر دیتا ہے۔
جیسے :
3 ، 4
7 ، 8
17 ، 28
22 ، 23
27 ،28
29 ،30
31 ، 32
 
آخری تدوین:
Top