اردو اور پشتو میں مذکر مؤنث کا دلچسپ موازنہ

آصف اثر نے 'ادبیات و لسانیات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 7, 2018

  1. آصف اثر

    آصف اثر محفلین

    مراسلے:
    1,678
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    محترم اے خان کے تعارف میں مریم افتخار صاحبہ کی جانب سے پختون عوام میں مذکر اور مؤنث کی کنفیوژن کے پیچھے مضمر راز کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ایکسپریس پر شائع میرا ایک تجزیاتی مضمون پیشِ خدمت ہے۔ امید ہے پسند آئے گا۔


    کہتے ہیں کہ ایک بار عوامی نیشنل پارٹی کے قائد خان عبدالولی خان سے کسی صحافی نے اصلاح کی غرض سے کہا کہ جناب آپ نے اپنی تقریر میں ”قوم“ کو مذکر استعمال کیا ہے حالاں کہ یہ مؤنث ہے۔ خان صاحب نے یہ کہہ کر محفل زعفرانِ زار بنادی کہ بھئی آپ کی قوم مؤنث ہوگی، ”ہمارا“ قوم تو مذکر ہے۔

    کراچی میں بچپن گزارنے ہی کا فائدہ تھا کہ جب دوبارہ کراچی آنا ہوا تو اردو بول تو سکتے تھے لیکن لہجے میں بہتری کے آثار نہیں تھے؛ جو خوش قسمتی سے رواں لہجے میں اردو بولنے والے دوستوں کے ذریعے جلد ہی قابلِ قبول حد تک پہنچ گئی لیکن مؤنث و مذکر کا مسئلہ شمال اور جنوب کی طرح ایک پشتون کےلیے مسئلہ ہی رہا۔

    تعلیم کے ساتھ ساتھ زیادہ وقت غیر نصابی مطالعہ کرتے ہوئے جب عارضی طور پر تدریس سے بھی وابستگی ہوئی تو وقتاً فوقتاً مذکر و مؤنث کا مسئلہ مزید الجھن کا سبب بننا شروع ہوا۔ جب مذکورہ بالا واقعہ نظروں سے گزرا تو خیال آیا کہ کیوں نہ اسے ذرا مزید دیکھا جائے کہ آیا کہیں پوری دال ہی کالی ہو… اور پھر وہی ہوا جس کا گمان تھا!

    بہت تعجب ہوا کہ جو لفظ اردو میں مؤنث ہے وہ پشتو میں مذکر، اور جو اردو میں مذکر ہے وہ پشتو میں مؤنث۔ خوف لاحق ہوا کہیں یہ مسئلہ بھی ”دولسانی“ تنازعہ نہ بن جائے! لیکن زیادہ فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں کیوں کہ بھینس، دونوں جانب بھینس ہی رہے گی!

    مذکر مؤنث کا یہ دلچسپ سیاق و سباق کچھ الفاظ میں تغیر کا شکار ہوا ہے لیکن وہاں قصور دونوں میں سے کسی ایک کا ہے جب کہ اردو میں پشتو/عربی کی طرح تذکیر و تانیث کے واضح حدود متعین نہیں۔ ہاں! چند الفاظ میں پشتو بھی ”بغاوت“ پر آمادہ دکھائی دیتی ہے۔

    پشتو میں مؤنث کے قوانین بہت سادہ ہیں جن پر آخر میں روشنی ڈالی گئی ہے۔ روشنی اس لیے ڈالی ہے کہ اگر خدانخواستہ آپ کے ہاں لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہو تو اس کا بروقت سدباب ہوسکے۔

    خیر، جب خیال کے عیار اور فکر کے جاسوس چار جانب دوڑانے شروع کیے تو سب سے پہلے نماز اور مسجد کے الفاظ ذہن میں وارد ہوئے۔ کیوں کہ جس طرح ”پٹھان جانے، رمضان جانے“ کی کہانی ہے، اسی طرح پشتون اور نماز و مسجد بھی گویا لازم ملزوم ہیں۔ اگرچہ عالمگیریت کے نام پر جو دھماچوکڑی مچی ہے، اس سے یہ نقصان ضرور ہو رہا ہے کہ ”زلمیوں“ کی نئی نسل خاص کر ”تعلیم“ یافتگان میں یہ رجحان شکستگی کا شکار ہے۔

    جب دونوں زبانوں کے الفاظ کی فہرست مرتب کرنا شروع کی تو بات واضح ہوتی گئی۔ مثلاً مسجد کو (جو اردو میں مؤنث ہے) پشتو میں جُمات (مذکر) کہتے ہیں۔ نماز (مؤنث) جسے پشتو میں مونز کہتے ہیں، مذکر ہے۔ اردو میں ’’روزہ‘‘ مذکر اور پشتو میں ’’روژہ‘‘ مؤنث ہے۔

    اردو کتاب مؤنث، پشتو ”کتاب“ مذکر؛ گاڑی مؤنث، پشتو کا ’’گاڈے‘‘ مذکر؛ سڑک اُردو میں مؤنث اور پشتو میں مذکر۔

    پانی، جس کے بغیر کوئی ذی رُوح زندہ نہیں رِہ سکتا، پشتو میں مؤنث ہے۔ سب سے دلچسپ اور پشتون شعراء کے ذوقِ جمال کا آئینہ دار ”چاند“ حقیقت کے عین مطابق پشتو میں ”مؤنث“ ہے؛ اور حسن و جمال چونکہ حقوقِ نِسواں کی اور مردانگی مَردوں کی صفتِ لاینکف ہے لہذا آج کے بعد اردو شعراء ”چاند“ کو معشوقہ کےلیے بطور استعارا ہرگز استعمال نہ کریں!

    تفنن برطرف! اسی طرح موت اپنے نام اور کام کے بالکل برعکس اردو میں مؤنث جبکہ پشتو میں کماحقہٗ ”مردِ میداں “ کی طرح سامنے سینہ تھان کر ’’کھڑا‘‘ ہے… اور تو اور، بندوق و توپ اردو میں ” بلائیں“ ہیں لیکن پشتو میں اپنی حقیقت کی مناسبت سے کسی عفریت جِن سے کم نہیں۔ اور ہاں! ایک تاریخی تبدیلی پر بھی جاتے جاتے نظر ڈال لیتے ہیں تاکہ پاکستانی ”عوام“ جو مذکر سے مؤنث یا اجتماعیت کے میدان سے ہانک کر تانیث کے کمرے میں پابندِ سلاسل کی جاچکی ہے، وہ ”اولس“ سے کچھ سبق سیکھے اور عالمی استعماری نظام کے کوتوالوں کے سامنے سینہ سپر ہوسکے۔

    فہرست طویل اور تفصیل طویل تر ہے۔ لہذا اسی پر اکتفا کرکے باقی آپ کی رائے پر چھوڑ دیتے ہیں۔ درج بالا قاعدہ لاگو کرتے وقت یہ بات ذہن میں رہے کہ اگر ایک لفظ پشتو یا اردو میں مؤنث کے قانون پر پورا اُترنے کے بعد بھی یکسانیت رکھے تو وہ اس اصول سے مستثنیٰ ہوگا۔

    اختتام پر پشتو میں مؤنث کا ایک سادہ قاعدہ بیان کرنا برمحل رہے گا: پشتو میں مؤنث کا قانون یہ ہے کہ جس لفظ کے آخر میں ”ئی“ یا ”ہ“ آجائے تو وہ مؤنث ہوگا، باقی مذکر، ماسوائے چند ایک سماعی الفاظ کے۔ جب کہ انگریزی کے اکثر الفاظ اردو میں مؤنث اور پشتو میں مذکر بن جاتے ہیں۔

    یہ مضمون صرف معلومات کی غرض سے لکھا گیا ہے۔ لہذا کسی بھی قسم کی لسانی بحث کو قوم پرستی پر محمول نہ کیا جائے۔
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 8, 2018
    • زبردست زبردست × 7
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • معلوماتی معلوماتی × 3
  2. خالد محمود چوہدری

    خالد محمود چوہدری محفلین

    مراسلے:
    10,422
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
  3. محمد خرم یاسین

    محمد خرم یاسین محفلین

    مراسلے:
    2,034
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    پہلی بار پشاور یونی ورسٹی کے پیپر چیک کیے تو بڑی ہنسی بھی آئی اور اس حوالے سے کچھ دکھ بھی کہ یہ بچے ایم اے اردو والے ہیں کم از کم تذکیر و تانیث کا خیال تو رکھنا چاہیے۔ بہت سے پیپرز تو بالکل طالبان کے پیپر لگتے تھے مرزا غالب جو اپنے محبوب کی بات کرتی ہے اور اسے چھیڑتی اے تو اسے سخت سزا ملے گا وغیرہ وغیرہ۔ :) کچھ پیپر صوفیا کے تھے جو ہر شعر کو گھما پھرا کے اسلام سے جوڑ دیتے تھے :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 2
  4. نبیل

    نبیل محفلین

    مراسلے:
    16,611
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Depressed
    پریشان خٹک اگرچہ اردو ادب کے حلقوں میں کافی احترام کیا جاتا تھا لیکن اس تذکیر و تانیث کے الٹ پھیر کی وجہ سے ان کی گفتگو کے دوران بھی لوگ زعفران زار ہو جاتے تھے۔ برادرم محمد وارث کیا بات درست ہے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 2
  5. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    23,922
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    جی شاید ایسا ہی ہے کیونکہ پٹھان بھائی بچپن ہی سے جن چیزوں کو مذکر مؤنث بولنے کے عادی ہو جاتے ہیں وہ عادت مشکل ہی سے جاتی ہے۔

    کچھ زبانوں میں "مؤنثِ سماعی" کا چکر ہے یعنی تذکیر و تانیث کسی اصول کی بجائے جیسے اہلِ زبان نے سنے ہوتے ہیں ویسے ہی بولتے ہیں۔ عربی ایسی ہی ایک زبان ہے اور شاید پشتو بھی۔
     
  6. آصف اثر

    آصف اثر محفلین

    مراسلے:
    1,678
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    مؤنث سماعی:
    مَنگُل = پنجہ
    سَنگَل = کُہنی
    مَنگَز = کنگھی
    وغیرہ۔
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 8, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. ربیع م

    ربیع م محفلین

    مراسلے:
    1,377
    عربی میں بھی چند ایک الفاظ ہی مونث سماعی کے تحت آتے ہیں ورنہ تذکیر و تانیث کے قوانین موجود ہیں.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 1

اس صفحے کی تشہیر