اردو ادب کا عطر، نکتہ آفرینی سطر سطر

محمد حسن شہزادہ نے 'طنز و مزاح' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 29, 2018

  1. محمد حسن شہزادہ

    محمد حسن شہزادہ محفلین

    مراسلے:
    134
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    محترم محفلین اکرام کو میرا سلام

    میں نے کچھ عرصہ پہلے ایک سلسلہ ( لوسی کی ڈائری) کے نام سے شروع کیا تھا مگر اس میں مغربی رنگ زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کو واپس ولایت جانا پڑا ۔

    اب میں (اردو ادب کا عطر، نکتہ آفرینی سطر سطر) کے نام سے یہ لڑی شروع کرنے جا رہا ہو امید ہے آپ سب کو یہ سلسلہ پسند بھی اۓ گا اور آپ اس لڑی میں اپنے علم کے موتی پرو کر اس کو اور خوبصورت بھی بنا دیں گے۔

    اگر اس میں بھی کچھ نامناسب لگے تو آگاہ ضرور کیجئے گا
     
  2. محمد حسن شہزادہ

    محمد حسن شہزادہ محفلین

    مراسلے:
    134
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    اردو ادب کا عطر، نکتہ آفرینی سطر سطر:
    (خوش ذوق قارئین کے لئے)
    ************************************************
    جدید فتوے (مسعود قمر)

    "مفتی لوگ بھی لطیفے بنانے اور سنانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ان کے فتاویٰ میں ایسے ایسے لطیفے ہوتے ہیں کہ کوئی کامیڈی فلم دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی ، ۔ اکثر تو ان کے فتویٰ ہنسنے ہنسانے کے لیے ہی ہوتے ہیں مگر بعض دفعہ مشکلات بھی پیدا کر دیتے ہیں۔ آپ سعودی عرب کے ایک مفتی کے اس فتویٰ پہ مہینوں ہنس سکتے ہیں جس نے یہ فتوی دیا تھا کہ ٹماٹر کرسچن ہے لہذا مسلمانوں کو ٹماٹر نہیں کھانا چاہیے
    مگر ان مفتیوں کے بعض لطیفے بہت خطر ناک ہیں خاص طور پہ عورتوں کے لئے مثلا اسی سعودی مفتی کا یہ فتویٰ بھی سنیں کہ اگر خاوند بھوک سے مر رہا ہو تو وہ اپنی بیوی کا گوشت کھا سکتا ہے
    یہ میں شرطیہ کہہ سکتا ہوں کہ کوئی عورت اس لطیفہ پہ ہنس نہیں سکتی ۔

    اگر آپ سمجھتے ہیں کہ سعودی مفتی ہی لطیفہ نما فتویٰ دیتے ہیں تو یہ آپ کی بھول ہے ہمارا پاکستان بھی اس شعبے میں مالا مال ہے۔

    پیچھلے دنوں مولوی حضرات کے دلچسپ موضوع یعنی ”اسلام میں عورت کا مقام“، پہ ایک کانفرنس ہوئی تھی جس میں ایک ممتاز عالمِ دین نے بھی خطاب فرمایا ۔اس خطاب میں مفتی صاحب نے ارشاد فرمایا کہ
    ”عورت کو اونچی ایڑھی کے سینڈل نہیں پہننا چاہیے کیونکہ ایسے سینڈل پہننا حرام ہے“۔

    ٹھہریں ابھی سے ہنسنا نہ شروع کریں …. مفتی صاحب آگے فرماتے ہیں
    "جو عورت اونچی ایڑھی کے سینڈل پہنے گی وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔"
    مزید فرماتے ہیں
    "اللہ نے عورت کو مرد کے برابر نہیں بنایا لہٰذا جو عورتیں اونچی ایڑھی کے سینڈل پہن کر اپنا قد ایک دو انچ بڑا کر کے مرد کے برابر آنے کی کو شش کرتی ہیں وہ اللہ کے کاموں میں دخل دیتی ہیں اور یہ بات ان عورتوں کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتی ہے اور عورت کے اس اقدام کی وجہ سے زلزے آتے ہیں۔

    ہماری دادیاں نانیاں کہتی تھیں کہ ایک گائے نے زمیں کو اپنے سینگ پہ اٹھا رکھا ہے اور جب گائے اپنا سینگ بدلتی ہے تو زلزلہ آتا ہے یہ تو ہمیں آج مفتی صاحب نے بتایا کہ عورت جب اونچی ایڑھی کا سینڈل پہن کر چلتی ہے تو زلزلہ آتا ہے۔ اونچی ایڑھی کے سینڈ ل پہننے کے اور کیا کیا نقصانات ہیں ذرا دل تھام کے اور ہنسی کو روک کے سنیں ۔ فرماتے ہیں ،
    "جب عورتیں اونچی ایڑھی کے سینڈل پہن کر باہر نکلتی ہیں تو مٹک مٹک کے چلتی ہیں، اور ان کے خاص خاص اعضا ہلتے نظر آتے ہیں جس سے مسلمان مردوں کے وضو ٹوٹ جاتے ہیں ، اور یہ بھی فرمایا کہ
    "اس میں بچارے مسلمان مرد کا کوئی قصور نہیں ہے یہ عورتیں ہی بدکاری کی دعوت دے رہی ہوتی ہیں"
    اس کو کہتے ہاتھ میں جوتا پکڑ کر چور چور چلانا ….

    وضو ٹوٹنے کی بات کرتے ہوئے انھوں نے اپنی مثال دی کہ اسلام آباد میں ایک عورت ہے …. (احتراماً محترم خاتون کا نام حذف کر دیا ہے۔ مولانا نے ایسی احتیاط سے کام لینا مناسب نہیں سمجھا تھا) ، ایک بار وہ اونچی ایڑھی کے سینڈل پہن کر جا رہی تھی کہ اسے دیکھ کر میرا وضو ٹوٹ گیا تھا"
    ایک منچلے نے فیس بک پہ لکھا تھا ….
    "یہ تو سنا تھا کہ ایسی عورت لوگوں کے گھر تڑوا دیتی ہے یہ تو آج مفتی صاحب نے بتایا کہ لوگوں کے وضو بھی تڑوا دیتی ہے۔"

    اس بات پہ ذرا غور کریں کہ جن عورتوں کو مفتی صاحب کے بقول قدرت نے لمبا پیدا کیا ہے ان کے لیے کیا حکم ہے اور جن لمبی عورتوں کی شادی ٹھگنے قد کے مردوں سے ہو گئی ہے کیا ان کے نکاح ٹوٹ گئے کہ وہ عورت اپنے مرد سے اونچا قد رکھتی ہے اگر اونچے قد کی عورتیں اپنے پاؤں کٹوا کر اپنے مردوں سے چھوٹا ہونے کی کوشش کریں تو کیا وہ مسلمان رہیں گی یا پھر وہ مردود دائرہ اسلام سے خارج ہی سمجھی جائیں گی؟
    اگر جان کی امان پاؤں تو عرض کروں کہ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ مسلم تاریخ میں بعض بہت محترم خواتین اپنے مردوں سے بڑے قد کی تھیں مگر چھوڑیں اس بات کو کیونکہ میری گردن بہت کمزور ہے اور فتوی کی دھار بہت تیز….:D:)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
    • نا پسندیدہ نا پسندیدہ × 1
  3. محمد حسن شہزادہ

    محمد حسن شہزادہ محفلین

    مراسلے:
    134
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    کرنل محمد خان، اردو مزاح کے خانصاحب۔ جو لکھا لازوال لکھا۔ میں ایک مرتبہ اتنا جذباتی ہوا کہ ان کی کتاب بجنگ آمد پر ان کی تعریفوں سے بھرپور ایک خط لکھ مارا۔ جواب کی امید نہ تھی۔ لیکن تیسرے ہی دن پیار بھرا جواب آیا. آخری پیرے میں لکھا تھا:
    "اگر یہ کتاب آپ کو پسند آئی ہے تو مجھ سے زیادہ خود کو داد دیں (کہ کوئی تحریر کسی کو اسی وقت اچھی لگتی ہے جب اس میں جذب کی خاصیت بھی ہو)
    آج انہی کرنل صاحب کی شاہکار کہانی "یہ نہ تھی ہماری قسمت" کا اختتامیہ پیش کر رہاہوں۔

    تمہید یہ ہے کہ باہر سے انگریزی پڑھ لکھ کر ایک حسینہ پاکستان آئی تو والدین کو اسے اردو پڑھانے کے لئے ایک ٹیوٹر کی ضرورت پڑی۔ کرنل صاحب ان دنوں جوانوں کے جوان تھے۔ ہنڈسم اتنے کہ ٹیوٹر منتخب ہونے کے یقینی امیدوار۔ مگر صد حیف ایک چشمک مولوی صاحب میدان مار گئے۔
    تمام امیداواران کے ارمانوں پر اوس پڑ گئی۔ لیکن کرنل صاحب کی تہجد کی دعائیں رنگ لائیں۔ مولوی صاحب چھٹی پر جاتے ہوئے حسینہ ان کے حوالے کر گئے۔
    اب آگے کہانی کی بقیہ تفصیل بزبانی کرنل صاحب
    ----------------------------------------------------------------------------
    یہ نہ تھی ہماری قسمت ۔۔۔۔ (کرنل محمد خان)

    "۔۔۔۔۔۔۔۔رضیہ ہماری توقع سے بھی زیادہ حسین نکلی اور حسین ہی نہیں کیا فتنہ گر قد و گیسو تھی۔
    پہلی نگاہ پر ہی محسوس ہوا کہ initiative ہمارے ہاتھ سے نکل کر فریقِ مخالف کے پاس چلا گیا ہے یہی وجہ تھی کہ پہلا سوال بھی ادھر سے ہی آیا:
    "تو آپ ہیں ہمارے نئے نویلے ٹیوٹر؟"
    اب اس شوخ سوال کا جواب تو یہ تھا کہ "تو آپ ہیں ہماری نئی نویلی شاگرد؟"
    لیکن سچی بات یہ ہے کہ حسن کی سرکار میں ہماری شوخی ایک لمحے کے لیئے ماند پڑ گئی اور ہمارے منہ سے ایک بے جان سا جواب نکلا:
    "جی ہاں، نیا تو ہوں ٹیوٹر نہیں ہوں۔ مولوی صاحب کی جگہ آیا ہوں"
    "اس سے آپ کی ٹیوٹری میں کیا فرق پڑتا ہے؟"
    "یہی کہ عارضی ہوں"
    "تو عارضی ٹیوٹر صاحب ہمیں ذرا اس مصیبت سے نجات دلا دیں"
    رضیہ کا اشارہ دیوانِ غالب کی طرف تھا۔ میں نے قدرے متعجب ہو کر پوچھا:
    "آپ دیوان غالب کو مصیبت کہتی ہیں؟"
    "جی ہاں! اور خود غالب کو بھی،"
    "میں پوچھ سکتا ہوں کہ غالب پر یہ عتاب کیوں؟:
    "آپ ذرا آسان اردو بولیئے عتاب کسے کہتے ہیں؟"
    "عتاب غصے کو کہتے ہیں۔"
    "غصہ؟ ہاں غصہ اس لئے کہ غالب صاحب کا لکھا تو شاید وہ خود بھی نہیں سمجھ سکتے پھر خدا جانے پورا دیوان کیوں لکھ مارا؟:
    "اس لئے کہ لوگ پڑھ کر لذت اور سرور حاصل کریں"
    "نہیں جناب اس لئے کہ ہر سال سینکڑوں لڑکیاں اردو میں فیل ہوں"
    "محترمہ میری دلچسپی فقط ایک لڑکی میں ہے، فرمایئے آپ کا سبق کس غزل پر ہے؟"
    جواب میں رضیہ نے ایک غزل کے پہلے مصرع پر انگلی رکھ دی لیکن منہ سے کچھ نہ بولی میں نے دیکھا تو غالب کی مشہور غزل تھی
    یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
    میں نے کہا:
    "یہ تو بڑی لا جواب غزل ہے ذرا پڑھیئے تو۔"
    "میرا خیال ہے آپ ہی پڑھیں میرے پڑھنے سے اس کی لا جوابی پر کوئی ناگوار اثر نہ پڑے"
    مجھے محسوس ہوا کہ ولایت کی پڑھی ہوئی رضیہ صاحبہ باتونی بھی ہیں اور ذہین بھی لیکن اردو پڑھنے میں غالباً اناڑی ہی ہیں میں نے کہا:
    "میرے پڑھنے سے آپ کا بھلا نہ ہوگا آپ ہی پڑھیں کہ تلفظ بھی ٹھیک ہو جائے گا"
    رضیہ نے پڑھنا شروع کیا اور سچ مچ جیسے پہلی جماعت کا بچہ پڑھتا ہے۔
    " یہ نہ تھی ہماری قس مت کہ وصل۔۔۔۔۔۔۔"
    میں نے ٹوک کر کہا:
    "یہ وصل نہیں وصال ہے، وصل تو سیٹی کو کہتے ہیں۔"
    رضیہ نے ہمیں سوالیہ نظروں سے دیکھا ہم ذرا مسکرائے اور ہمارا اعتماد بحال ہونے لگا
    رضیہ بولی:
    "اچھا۔ وصال سہی وصال کے معنی کیا ہوتے ہیں؟"
    "وصال کے معنی ہوتے ہیں ملاقات، محبوب سے ملاقات آپ پھر مصرع پڑھیں"
    رضیہ نے دوبارہ مصرع پڑھا پہلے سے ذرا بہتر تھا لیکن وصال اور یار کو اضافت کے بغیر الگ الگ پڑھا اس پر ہم نے ٹوکا
    "وصال یار نہیں وصالِ یار ہے درمیان میں اضافت ہے"
    "اضافت کیا ہوتی ہے؟ کہاں ہوتی ہے؟"
    "یہ جو چھوٹی سی زیر نظر آرہی ہے نا آپ کو، اسی کو اضافت کہتے ہیں۔"
    "تو سیدھا سادا وصالے یار کیوں نہیں لکھ دیتے؟"
    "اس لئے کہ وہ علما کے نزدیک غلط ہے"۔۔۔۔۔۔ یہ ہم نے کسی قدر رعب سے کہا
    علما کا وصال سے کیا تعلق ہے؟"
    " علما کا تعلق وصال سے نہیں زیر سے ہے"
    "اچھا جانے دیں علما کو ۔۔۔۔مطلب کیا ہوا؟"
    "شاعر کہتا ہے کہ یہ میری قسمت ہی میں نہ تھا کہ یار سے وصال ہوتا"
    "قسمت کو تو غالب صاحب درمیان میں یونہی گھسیٹ لائے، مطلب یہ کہ بے چارے کو وصال نصیب نہ ہوا"
    "جی ہاں کچھ ایسی ہی بات تھی"
    "کیا وجہ؟"
    "میں کیا کہہ سکتا ہوں؟"
    "کیوں نہیں کہہ سکتے آپ ٹیوٹر جو ہیں"
    "شاعر خود خاموش ہے"
    "تو شاعر نے وجہ نہیں بتائی مگر یہ خوش خبری سنادی کہ وصال میں فیل ہوگئے؟"
    "جی ہاں فی الحال تو یہی ہے آگے پڑھیں"
    رضیہ نے اگلا مصرع پڑھا۔ ذرا اٹک اٹک کر مگر ٹھیک پڑھا:
    اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
    میں نے رضیہ کی دلجوئی کے لئے ذرا سر پرستانہ انداز میں کہا:
    "شاباش، آپ نے بہت اچھا پڑھا ہے"
    "اس شاباش کو تو میں ذرا بعد میں فریم کراؤں گی اس وقت ذرا شعر کے پورے معنی بتادیں"
    ہم نے رضیہ کا طنز برداشت کرتے ہوئے کہا:
    "مطلب صاف ہے غالب کہتا ہے قسمت میں محبوبہ سے وصال لکھا ہی نہ تھا چنانچہ اب موت قریب ہے مگر جیتا بھی رہتا تو وصال کے انتظار میں عمر کٹ جاتی"
    " توبہ اللہ، اتنا Lack of confidence یہ غالب اتنے ہی گئے گزرے تھےِ؟"
    گئے گزرے؟ نہیں تو۔۔۔ غالب ایک عظیم شاعر تھے"
    "شاعر تو جیسے تھے، سو تھے لیکن محبت کے معاملے میں گھسیارے ہی نکلے....."
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  4. محمد حسن شہزادہ

    محمد حسن شہزادہ محفلین

    مراسلے:
    134
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    ہماری آج کی شخصیت فیض احمد فیض ہیں۔ شاعرِ انقلاب روس تک ہو آئے اور "روبل" انعام یافتہ بھی کہلائے لیکن رہے نرے معصوم کے معصوم:


    یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ فیض صاحب کی آواز میں نسوانیت تھی اور جوش ملیح آبادی کی آواز میں پٹھانی کھنک۔
    ’'جشن رانی‘‘ لائل پور (حالیہ فیصل آباد) کے مشاعرہ میں جوش ملیح آبادی اور فیض احمد فیض الگ الگ گروپوں میں بیٹھے تھے ۔ قتیل شفائی مشاعرہ میں شرکت کے لئے آئے تو فیض صاحب کی طرف جانے لگے جوش صاحب نے آواز دی۔
    ’’قتیل وہاں کہاں جارہے ہو سیدھے مردانے میں چلے آؤ ۔‘‘
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  5. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    7,569
    جھنڈا:
    Pakistan
    انتہائی ناپسندیدہ۔۔۔
    اسلام بیزار لوگ تو جو چاہے کہتے رہیں لیکن ان کی ہر پوسٹ آگے بڑھانا آپ جیسے لوگوں کے لیے انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے۔۔۔
    علماء کرام کی اہانت کرنا لبرل فسادیوں کا شیوہ ہے یا یہودیوں سے متاثرین کا۔۔۔
    یہاں جن مفتیوں کے فتاویٰ کا ذکر ہے ان کے نام مع تفصیل کے درج کرنا آپ کے یا مضمون نگار کے ذمہ ہے۔۔۔
    اگر محض کھیل تماشہ کرنا مقصود ہے تو علماء کرام اور شعائر اسلام کو اس طرح ہنسی کھلواڑ بنانا کوئی مستحسن عمل نہیں!!!
     
    • متفق متفق × 2
  6. محمد حسن شہزادہ

    محمد حسن شہزادہ محفلین

    مراسلے:
    134
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    جی آپ بات کچھ حد تک درست ہے مگر میرا مقصد مولوی حضرات کا ٹھٹھہ کرنا بلکل نہیں تھا بلکہ جن نام نہاد مولوی حضرات کی وجہ سے یہ سب دیکھنے ، سنے، اور پڑھنے کو ملتا ہے ان ان کے بارے میں آگاہ کرنا تھا۔

    تکلیف کے لیے معزرت خواہ ہوں
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  7. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    7,569
    جھنڈا:
    Pakistan
    آپ کی معذرت سر آنکھوں پر!!!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. محمد حسن شہزادہ

    محمد حسن شہزادہ محفلین

    مراسلے:
    134
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    جب ناصر کاظمی کے پاؤں بھاری ہوئے:

    غالبِ ثانی، ناصر کاظمی، چھوٹی بحر کے بادشاہ کے کلامِ عالیشان کی ایک جھلک پہلے، پھر باقی باتیں:

    اپنی دُھن میں رہتا ہوں
    میں بھی تیرے جیسا ہوں

    او پچھلی رُت کے ساتھی
    اب کے برس میں تنہا ہوں

    آتی رُت مجھے روئے گی
    جاتی رُت کا جھونکا ہوں

    لیکن ناصر صاحب صرف اپنی دُھن (خیالوں) میں ہی گم نہیں رہتے تھے بلکہ اردو غزل کے دَھنی (بادشاہ) بھی تھے۔
    وہ نرے شاعر ہی نہ تھے۔ایک سادہ دل انسان بھی تھے اور انسانوں میں خوش رہتے تھے۔

    ایک بار جوتا خریدنے بازار تشریف لے گئے۔ دکاندار ناصر صاحب کا دوست اور پُرمزاح طبیعت کا مالک تھا۔ ناصر صاحب نے کئی جوتے پہنے اور پریشانی میں کہنے لگے،
    "پہلے تو مجھے چھوٹا نمبر پورا آ جاتا تھا لیکن اب وہ نمبر پاؤں میں چھوٹا پڑ رہا ہے۔"

    دکاندار نے کہا،
    "جناب! اس کی وجہ یہ ہے کہ اب آپ کا پاؤں بھاری ہو گیا ہے۔"
     
  9. محمد حسن شہزادہ

    محمد حسن شہزادہ محفلین

    مراسلے:
    134
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    نیٹ ایجاد ہوا ہجر کے ماروں کے لیے
    سرچ انجن ہے بڑی چیز کنواروں کے لیے

    ﺟﺲ ﮐﻮ ﺻﺪﻣﮧ ﺷﺐ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺍﯾﺎﻡ ﮐﺎ ﮨﮯ
    ﺍﯾﺴﮯ ﻋﺎﺷﻖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻧﯿﭧ ﺑﮩﺖ ﮐﺎﻡ ﮐﺎ ﮨﮯ

    ﻧﯿﭧ ﻓﺮﮨﺎﺩ ﮐﻮ ﺷﯿﺮﯾﮟ ﺳﮯ ﻣﻼ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ
    ﻋﺸﻖ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﮔﻮﮔﻞ ﭘﮧ ﺑﭩﮭﺎ ﺩﯾﺘﺎﮨﮯ

    ﮐﺎﻡ ﻣﮑﺘﻮﺏ ﮐﺎ ﻣﺎﺅﺱ ﺳﮯ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
    ﺁﮦ ﺳﻮﺯﺍﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ اپلوﮈ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ

    ﭨﯿﮑﺴﭧ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮒ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﺧﻄﺎ ﺑﮭﯿﺠﺘﮯ ﮨﯿﮟ
    ﮔﮭﺮ ﺑﺘﺎﺗﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﻓﺲ ﮐﺎ ﭘﺘا ﺑﮭﯿﺠﺘﮯ ﮨﯿﮟ

    ﻋﺎﺷﻘﻮﮞ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻧﯿﺎ ﻃﻮﺭ ﻧﯿﺎ ﭨﺎﺋﭗ ﮨﮯ
    ﭘﮩﻠﮯ ﭼﻠﻤﻦ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺏ ﺍﺳﮑﺎﺋﭗ ﮨﮯ

    ﻋﺸﻖ ﮐﮩﺘﮯ ہیں ﺟﺴﮯ ﺍﮎ ﻧﯿﺎ ﺳﻤﺠﮭﻮﺗﮧ ﮨﮯ
    ﭘﮩﻠﮯ ﺩﻝ ﻣﻠﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﺏ ﻧﺎﻡ ﮐﻠﮏ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ

    ﺩﻝ ﮐﺎ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﺟﺐ ﺍﯼ ﻣﯿﻞ ﺳﮯ ﻣﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
    ﻣﯿﻞ ﮨﺮ ﭼﻮﮎ ﭘﮧ ﻓﯽ ﻣﯿﻞ ﺳﮯ ﻣﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ

    ﻋﺸﻖ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻓﻘﻂ ﺁﮦ ﻭ ﻓﻐﺎﮞ ﺗﮭﺎ ﭘﮩﻠﮯ
    ﮈﺍﮎ ﺧﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺁﺭﺍﻡ ﮐﮩﺎﮞ ﺗﮭﺎ ﭘﮩﻠﮯ

    ﺁﺋﯽ ﮈﯼ ﺟﺐ ﺳﮯ ﻣﻠﯽ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮨﻤﺴﺎﺋﯽ ﮐﯽ
    ﺍﭼﮭﯽ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ ﻃﻮﺍﻟﺖ ﺷﺐ ﺗﻨﮩﺎﺉ ﮐﯽ

    ﻧﯿﭧ ﭘﮧ ﻟﻮﮒ ﺟﻮ ﻧﻮﮮ ﺳﮯ ﭘﻠﺲ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
    ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﭨﺲ ﮨﻮﺗﮯ ﻧﮧ ﻣﺲ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ

    ﻓﯿﺲ ﺑﮏ ﮐﻮچہء ﺟﺎﻧﺎﮞ ﺳﮯ ﮨﮯ ﻣﻠﺘﯽ ﺟﻠﺘﯽ
    ﮨﺮ ﺣﺴﯿﻨﮧ ﯾﮩﺎﮞ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﮨﻠﺘﯽ ﺟﻠﺘﯽ

    ﯾﮧ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﮐﺴﯽ ﻋﺎﺷﻖ ﻧﮯ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﻮﮔﺎ
    ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﮐﮯ ﺍﺑﺎ ﻧﮯ ﺳﺘﺎﯾﺎ ﮨﻮﮔﺎ

    ﭨﯿﮑﺴﭧ ﺟﺐ ﻋﺎﺷﻖ ﺑﺮﻗﯽ ﮐﺎ ﺍﭨﮏ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
    ﻃﺎﻟﺐ ﺷﻮﻕ ﺗﻮ ﺳﻮﻟﯽ ﭘﮧ ﻟﭩﮏ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ

    ﺁﻥ ﻻﺋﻦ ﺗﺮﮮ ﻋﺎﺷﻖ ﮐﺎ ﯾﮩﯽ ﻃﻮﺭ ﺳﮩﯽ
    ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﮩﯽ ، ﺍﻭﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﮩﯽ


    بقلم خود ۔ محمد حسن شہزادہ
     
  10. محمد حسن شہزادہ

    محمد حسن شہزادہ محفلین

    مراسلے:
    134
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    12/12/2018

    لیجے آج پھر پطرس بخاری حاضر ہیں۔ بر صغیر پاک و ھند میں دسمبر کی سرد راتیں عموماً پانچ چیزوں سے گرمائی جاتی ہیں۔ چائے اور رضائی کا ذکر تو خیر جانے دیجے کہ یہاں کا بچہ بچہ ان سے واقف ہے۔ اوپلے دیہاتوں میں سلگا کے اس کے گرد صبح کی جاتی اور سینہ در سینہ چلی آتی مٹیاروں کی دلدوذ کہانیوں سے سرور حاصل کیا جاتا ہے۔ شہروں میں دو ہی شوق ہیں۔ یا قوالی کروالیں یا مشاعرہ برپا ہو جائے۔
    پطرس ایک ایسے ہی مشاعرے کا حال بیان کرتے ہیں۔
    (کتوں سے معذرت کیساتھ)
    --------------------------------------------------------------------------
    "۔۔۔۔۔کہتے ہیں کتا وفادار جانور ہے۔ اب جناب وفاداری اگر اسی کا نام ہے کہ شام کے سات بجے سے جو بھونکنا شروع کیا تو لگاتار بغیر دَم ليے صبح کے چھ بجے تک بھونکتے چلے گئے۔تو ہم لنڈورے ہی بھلے۔
    ابھی کل ہی کی بات ہے کہ رات کے کوئی گیارہ بجے ایک کتے کی طبیعت جو ذرا گدگدائی تو انہوں نے باہر سڑک پر آکر طرح کا ایک مصرع دے دیا۔ ایک آدھ منٹ کے بعد سامنے کے بنگلے میں ایک کتے نے مَطلع عرض کردیا۔ اب جناب ایک کہنہ مشق استاد کو جو غصہ آیا، ایک حلوائی کے چولہے میں سے باہر لپکے اور بھنا کے پوری غزل مقطع تک کہہ گئے۔ اس پر شمال مشرق کی طرف ایک قدر شناس کتےنے زوروں کی داد دی۔ اب تو حضرت وہ مشاعرہ گرم ہواکہ کچھ نہ پوچھئے، کم بخت بعض تو دو غزلے سہ غزلے لکھ لائے تھے۔ کئی ایک نے فی البدیہہ قصیدے کے قصیدے پڑھ ڈالے، وہ ہنگامہ گرم ہوا کہ ٹھنڈا ہونے میں نہ آتا تھا۔ہم نے کھڑکی میں سے ہزاروں دفعہ "آرڈر آرڈر" پکارا لیکن کبھی ایسے موقعوں پر پردھان کی بھی کوئی نہیں سنتا۔
    اب ان سے کوئی پوچھے کہ میاں تمہیں کوئی ایسا ہی ضروری مشاعرہ کرنا تھا تو دریا کے کنارے کھلی ہوا میں جاکر طبع آزمائی کرتے یہ گھروں کے درمیان آکر سوتوں کو سَتانا کون سی شرافت ہے۔۔۔۔"
     

اس صفحے کی تشہیر