اداسی ۔ اشعار

پاکستانی

محفلین
گر مجھے اس کا یقین ھو مرے ھمدم ، مرے دوست
گر مجھے اس کا یقین ھو کہ ِترے دل کی تھکن
تیری آنکھوں کی اداسی ، ترے سینے کی جلن
میری دل جوئی ، مرے پیار سے مٹ جائے گی
گر مرا حرفِ تسلّی وہ دوا ھو جس سے
جی اٹھے پھر ترا اجڑا ھوا بے نور دماغ
تیری پیشانی سے دھل جائیں یہ تذلیل کے داغ
تیری بیمار جوانی کو شفا ھو جائے
گر مجھے اس کا یقین ھو مرے ھمدم ، مرے دوست
روز و شب ، شام و سحر میں تجھے بہلاتا رھوں
میں تجھے گیت سناتا رھوں ھلکے ، شیریں
آبشاروں کے بہاروں کے ، چمن زاروں کے گیت
آمدِ صبح کے ، مہتاب کے ، سیّاروں کے گیت
تجھ سے میں حسن و محبت کی حکایات کہوں
کیسے مغرور حسیناؤں کے برفاب سے جسم
گرم ھاتھوں کی حرارت میں پگھل جاتے ھیں
کیسے اک چہرے کے ٹھہرے ھوئے مانوس نقوش
دیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ھیں
کس طرح عارضِ محبوب کا شفّاف بلور
یک بیک بادہِ احمر سے دہک جاتا ھے
کیسے گلچیں کے لئے جھکتی ھے خود شاخِ گلاب
کس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ھے
یونہی گاتا رھوں ، گاتا رھوں تیری خاطر
گیت ُبنتا رھوں، بیٹھا رھوں تیری خاطر
پر مرے گیت ترے دکھ کا ُمداوا ھی نہیں
نغمہ جرّاح نہیں، مونس و غم خوار سہی
گیت نشتر تو نہیں ، مرھم ِ آزار سہی
تیرے آزار کا چارہ نہیں، نشتر کے سوا
اور یہ سفّاک مسیحا مرے قضے میں نہیں
اس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیں
ھاں مگر تیرے سوا ، تیرے سوا ، تیرے سوا



فیض احمد فیض
 

حجاب

محفلین
اداس موسم کے رتجگوں میں
ہر ایک لمحہ بکھر گیا ہے
ہر ایک راستہ بدل گیا ہے
پھر ایسے موسم میں کون آئے
کوئی تو جائے
تیرے نگر کی مسافتوں کو سمیٹ لائے
تیری گلی میں ہماری سوچیں بکھیر آئے
تجھے بتائے کہ کون کیسے
اچھالتا ہے وفا کے موتی
تمہاری جانب
کوئی تو جائے میری زبان میں تجھے بُلائے
ہماری حالت تجھے بتائے
تو اپنے دل کو بھی چین آئے۔
٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪
 

فرخ

محفلین
بہت خوب۔ یہ میری پسندیدہ نظموں میں سے ایک ہے۔

پاکستانی نے کہا:
گر مجھے اس کا یقین ھو مرے ھمدم ، مرے دوست
گر مجھے اس کا یقین ھو کہ ِترے دل کی تھکن
تیری آنکھوں کی اداسی ، ترے سینے کی جلن
میری دل جوئی ، مرے پیار سے مٹ جائے گی
گر مرا حرفِ تسلّی وہ دوا ھو جس سے
جی اٹھے پھر ترا اجڑا ھوا بے نور دماغ
تیری پیشانی سے دھل جائیں یہ تذلیل کے داغ
تیری بیمار جوانی کو شفا ھو جائے
گر مجھے اس کا یقین ھو مرے ھمدم ، مرے دوست
روز و شب ، شام و سحر میں تجھے بہلاتا رھوں
میں تجھے گیت سناتا رھوں ھلکے ، شیریں
آبشاروں کے بہاروں کے ، چمن زاروں کے گیت
آمدِ صبح کے ، مہتاب کے ، سیّاروں کے گیت
تجھ سے میں حسن و محبت کی حکایات کہوں
کیسے مغرور حسیناؤں کے برفاب سے جسم
گرم ھاتھوں کی حرارت میں پگھل جاتے ھیں
کیسے اک چہرے کے ٹھہرے ھوئے مانوس نقوش
دیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ھیں
کس طرح عارضِ محبوب کا شفّاف بلور
یک بیک بادہِ احمر سے دہک جاتا ھے
کیسے گلچیں کے لئے جھکتی ھے خود شاخِ گلاب
کس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ھے
یونہی گاتا رھوں ، گاتا رھوں تیری خاطر
گیت ُبنتا رھوں، بیٹھا رھوں تیری خاطر
پر مرے گیت ترے دکھ کا ُمداوا ھی نہیں
نغمہ جرّاح نہیں، مونس و غم خوار سہی
گیت نشتر تو نہیں ، مرھم ِ آزار سہی
تیرے آزار کا چارہ نہیں، نشتر کے سوا
اور یہ سفّاک مسیحا مرے قضے میں نہیں
اس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیں
ھاں مگر تیرے سوا ، تیرے سوا ، تیرے سوا



فیض احمد فیض
 

فرخ

محفلین
بہت خوب۔
تجھے بتائے کہ کون کیسے
اچھالتا ہے وفا کے موتی
تمہاری جانب


شاعر کا نام پتا چل سکتا ہے؟


حجاب نے کہا:
اداس موسم کے رتجگوں میں
ہر ایک لمحہ بکھر گیا ہے
ہر ایک راستہ بدل گیا ہے
پھر ایسے موسم میں کون آئے
کوئی تو جائے
تیرے نگر کی مسافتوں کو سمیٹ لائے
تیری گلی میں ہماری سوچیں بکھیر آئے
تجھے بتائے کہ کون کیسے
اچھالتا ہے وفا کے موتی
تمہاری جانب
کوئی تو جائے میری زبان میں تجھے بُلائے
ہماری حالت تجھے بتائے
تو اپنے دل کو بھی چین آئے۔
٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪
 

پاکستانی

محفلین
یہ شبِ فراق، یہ بے بسی، ہیں قدم قدم پہ اداسیاں
میرا ساتھ کوئی نہ دے سکا، میری حسرتیں ہیں دھواں دھواں

میں تڑپ تڑپ کے جیا تو کیا، میرے خواب مجھ سے بچھڑ گئے
میں اداس گھر کی صدا سہی، مجھے دے نہ کوئی تسلیاں

چلی ایسی درد کی آندھیاں، میرے دل کی بستی اجڑ گئی
یہ جو راکھ سی ہے بجھی بجھی، ہیں اسی میں میری نشانیاں

یہ فضا جو گرد و غبار ہے، میری بے کسی کا مزار ہے
میں وہ پھول ہوں جو نہ کھل سکا، میری زندگی میں وفا کہاں​
 

پاکستانی

محفلین
بہت گھٹن ہے


بہت گھٹن ہے کوئ صورتِ بیاں نکلے
اگر صدا نہ اٹھے، کم سے کم فغاں نکلے

فقیر شہر کے تن پر لباس باقی ہے
امیر ِشہر کے ارماں ابھی کہاں نکلے

حقیقتیں ہیں سلامت تو خواب بہتیرے
اداس کیوں ہو جو کچھ خواب رائگاں نکلے

وہ فلسفے جو ہر ایک آستاں کے دشمن تھے
عمل میں آئے تو خود وقفِ آستاں نکلے

ادھر بھی خاک اڑی ہے، اُدھر بھی زخم پڑے
جدھر سے ہو کے بہاروں کے کارواں نکلے

ستم کے دور میں ہم اہلِ دل ہی کام آئے
زباں پہ ناز تھا جن کو وہ بے زباں نکلے​
 

پاکستانی

محفلین
کہیں کہیں کوئی روشنی ہے
جو آتے جاتے سے پوچھتی ہے

کہاں ہے وہ اجنبی مسافر
کہاں گیا وہ اداس شاعر​
 

پاکستانی

محفلین
دونوں جہاں تيري محبت ميں ہار کے
وہ جا رہا ہے کوئي شب غم گزار کر


ويراں ہے ميکدہ، گم و ساغر اداس ہيں
تم کيا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے


اک فرصت گناہ ملئ، وہ بھي چار دن
ديکھے ہيں ہم نے حوصلے پروردگار کے


دنيا نے تيري ياد سے بيگانہ کرديا
تجھ سے بھي دلفريب ہيں غم روزگار کے


بھولے سے مسکرا تو ديے تھے وہ آج فيض
مت پوچھ ولولے دل کا ناکردہ کار کے


فيض احمد فيض​
 
زمانے والوں سے چھپ کے رونے کے دن نہیں ہیں
اسے یہ کہنا اداس ہونے کے دن نہیں ہیں
میں جان سکتی ہوں وصل میں اصل بھید کیا ہے
مگر حقیقت شناس ہونے کے دن نہیں ہیں
(نوشی گیلانی)
 

سارہ خان

محفلین
بے نور ہو چکی ہے بہت شہر کی فضا
تاریک راستوں میں کہیں کھو نہ جائیں ہم
اس کے بغیر آج بہت جی اداس ہے
جالب چلو کہیں سے اسے ڈھونڈ لائیں ہم
 

پاکستانی

محفلین
اداس راتيں

ميں اسکے احساس کو بلاتا ہو اداس راتوں ميں
دل حيران پريشان کيوں ہےان باتوں ميں

ہماري ذات تو پہلے سے ہي اندھيروں ميں
ميں کيوں گھبرائو آنے سے اداس راتوں ميں

يہ چاہتوں کے سفر بڑے پر خطر ہيں
اخر گئے ہيں کئي لوگ جذباتوں ميں

ہمارے ساتھ چلنا ہے تو زراہ سمجھ لو
ہم آغاز سفر کرتے ہيں اداس راتوں ميں​
 

پاکستانی

محفلین
اداس نظر آتا ہےوہ چشم نم کي طرح
بدلتا ہے اپنا رنگ موسم کي طرح

ملا تھا تو خوشيان ہزار ليکر آيا تھا
بچھڑا تو کر گيا مجھے ايک غم کي طرح

ساتھ چل کے وہ فخر يار ہوگيا
نظرين پھرايں اک بے شرم کي طرح​
 

پاکستانی

محفلین
اے دل رائیگاں اداس اداس

پھر رہے ہو کہاں اداس اداس

چاند اک عمر سے سفر میں ہے

آسماں آسماں اداس اداس

جب بھی دیکھا ہے جھانک کر دل میں

ہو گیا سب جہاں اداس اداس

زندگی کھیل ہے اداسی کا

ہم یہاں تم وہاں اداس اداس

پھرتے رہتے ہيں ہم محبت میں

مضمحل ناتوآں اداس اداس

سوچتا ہوں کہ میرے سینے میں

جانے کیا ہے نہاں اداس اداس


کیا اداسی سوا نہيں کچھ بھی

اے مرے لامکاں اداس اداس

رات بھر جاگتے ہو کیوں آخر

اس طرح میری جاں اداس اداس

اک طرف غم ہیں اک طرف خوشیاں

اور میں درمیاں اداس اداس

سارے کردار ہیں محبت کے

داستاں داستاں اداس اداس

یہ وہی ہیں ہمارے فرحت جی

شاعر بے کراں اداس اداس

ہم سے حساس لوگ فرحت جی

رہ رہے ہیں یہاں اداس اداس
 

پاکستانی

محفلین
یہ شبِ فراق، یہ بے بسی، ہیں قدم قدم پہ اداسیاں
میرا ساتھ کوئی نہ دے سکا، میری حسرتیں ہیں دھواں دھواں

میں تڑپ تڑپ کے جیا تو کیا، میرے خواب مجھ سے بچھڑ گئے
میں اداس گھر کی صدا سہی، مجھے دے نہ کوئی تسلیاں

چلی ایسی درد کی آندھیاں، میرے دل کی بستی اجڑ گئی
یہ جو راکھ سی ہے بجھی بجھی، ہیں اسی میں میری نشانیاں

یہ فضا جو گرد و غبار ہے، میری بے کسی کا مزار ہے
میں وہ پھول ہوں جو نہ کھل سکا، میری زندگی میں وفا کہاں
 

حجاب

محفلین
تیرے بغیر سرد موسموں کے خوشگوار دن اداس ہیں
فضا میں دکھ رچا ہوا ہے
ہوا کوئی اداس گیت گنگنا رہی ہے
پھولوں کے لبوں پہ پیاس ہے
ایسا لگتا ہے ہوا کی آنکھیں
روتے روتے خشک ہو گئیں ہیں
صبا کے دونوں ہاتھ خالی ہیں
کہ شہر میں تیرا کہیں پتہ نہیں
سانس لینا کس قدر محال ہے
اداسیاں اداسیاں
تیرے بغیر سرد موسموں کے خوشگوار دن اداس ہیں۔
٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪
 

عیشل

محفلین
کوئی دوست ایسا بھی بنایا جائے
جس کے آنسوؤں کو پلکوں میں چھپایا جائے
رہے اس کا اور میرا رشتہ کچھ اس طرح
اگررہے اداس تو ہم سے بھی نہ مسکرایا جائے
 

عیشل

محفلین
اداسیوں کا سبب جو لکھنا
تو یہ بھی لکھنا
کہ چاند چہرے،شہاب آنکھیں بدل گئے ہیں
وہ لمحے جو تیری راہوں میں
میرے آنے کے منتظر تھے
وہ تھک کے سایوں میں ڈھل گئے ہیں
وہ تیری یادیں،خیال تیرے
وہ تیری آنکھیں سوال تیرے
وہ تم سے میرے تمام رشتے
بچھڑ گئے ہیں اجڑ گئے ہیں
اداسیوں کا سبب جو لکھنا
تو یہ بھی لکھنا
کہ لڑکھڑاتے سے ہونٹوں پر
لڑکھڑاتے دعا کے سورج
پگل گئے ہیں
تمام سپنے ہی جل گئے ہیں۔۔۔۔۔
 
Top